سرکاری سکولوں میں شام کی کلاسز کا آغاز کتنا فائدہ مند ہو گا؟

حکومت پنجاب نے تعلیم کو عام کرنے کے لیے سکولوں میں شام کی کلاسز شروع کرنے کا منصوبہ تشکیل دیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت یکم اپریل سے ضلع چنیوٹ کے چھ سکولوں میں ڈبل شفٹ پروگرام شروع کر دیا جائے گا۔

محلہ قاضیاں کی رہائشی سولہ سالہ بشریٰ ناز کا کہنا ہے کہ گھریلو حالات کی وجہ سے وہ پانچویں جماعت سے آگے تعلیم حاصل نہیں کر سکی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ صبح کے اوقات میں انہیں گھر کے کام کاج کرنے پڑتے ہیں جو کہ دوپہر تک جاری رہتے ہیں۔

‘حکومت کی جانب سے شام کی کلاسز کا آغاز سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کیونکہ اب میں بھی اپنی تعلیم دوبارہ شروع کر سکوں گی اور مجھے کوئی دشواری بھی نہیں ہو گی۔’

واضح رہے کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں تحصیل چنیوٹ سے گورنمنٹ مدرستہ البنات ہائی سکول، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول، تحصیل لالیاں سے گورنمٹ نصرت گرلز ہائی سکول چناب نگر، گورنمنٹ تعلیم الاسلام ہائی سکول چناب نگر اور تحصیل بھوآنہ سے گورنمنٹ ہائی سکول چک نمبر 237، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول چک نمبر 240 کو شامل کیا گیا ہے۔ اس سکولوں میں شام کی کلاسز کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔

ضلعی صدر پنجاب ٹیچرز یونین صفدر سراج کالرو کا کہنا ہے کہ بے شک حکومت کا یہ اقدام قابل تحسین ہے۔ اس سے اساتذہ پر ذمہ داریاں بڑھ جائیں گی لیکن انہیں معاوضہ اس برابر نہیں دیا جائے گا۔

وہ بتاتے ہیں کہ اساتذۃ کو پارٹ ٹائم پڑھانے پر دو گنا تنخواہ دینی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہے۔

حکومت کے اس فعل سے تعلیمی اصلاحات میں اضافہ ہو گا اور جو طلبا صبح کے اوقات میں تعلیم حاصل نہیں کر سکتے وہ بھی علم کی شمع روشن کر سکیں گے۔’

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سکولوں میں شام کی کلاسز کے ساتھ ان کی تعداد میں بھی اضافہ کرنا چاہیے۔

سی او ایجوکیشن لیاقت علی کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب کی طرف سے ملنے والی فہرست کے مطابق تحصیل چنیوٹ کے دونوں سکول فی میل جبکہ باقی تحصیلوں میں ایک میل اور ایک فی میل سکول شامل ہے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ سکول کا سٹاف اور ہیڈ پارٹ ٹائم میں بھی اسی طرح ہی کام کریں گے۔ تاہم ابھی یہ منصوبہ آزمائشی طور پر شروع کیا گیا ہے۔ اگر طلبا کی تعداد میں اضافہ ہوا تو سکولوں میں اضافہ کر دیا جائے گا۔

ممبر صوبائی اسمبلی مولانا محمد الیاس چنیوٹی کا کہنا ہے کہ تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے جو ان تک پہنچانا ضروری ہے۔

‘سرکاری اداروں میں تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے عوام کا رجحان نجی اداروں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے طالب علم صرف اس وجہ سے تعلیم سے محروم ہیں کہ وہ صبح کے وقت کام کاج کرتے ہیں۔’

انہوں نے کہا ہے کہ حکومت نے زیادہ تعداد والے سکولوں میں ڈبل شفٹ پروگرام شروع کیا ہے جس سے طلبا کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں