لاہور: ڈیفنس میں بم دھماکہ، 8 افراد جاں بحق، 30 زخمی

لاہور: لاہور کے علاقے ڈیفنس کی کمرشل مارکیٹ میں خوفناک دھماکے میں 8افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہو گئے ، زخمیوں کو فوری طور پر جنرل ہسپتال سمیت قریبی ہسپتالوں میں پہنچ دیا گیا ، پانچ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے ، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے ،4گاڑیاں اور 12موٹرسائیکلیں تباہ ہو گئیں ، دھماکے میں 20سے25کلودھماکاخیزمواداستعمال کیاگیااور بم عمارت میں نصب کیا گیا،ٹائم ڈیوائس سے دھماکاکیا گیا۔پاک فوج ،رینجرز اور کوئیک رسپانس فورس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ۔ ڈیفنس میں سکول اور دکانیں بند کرا دی گئیں، بچوں کو گھر بھیج دیا گیا جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی۔
صدر مملکت ممنون حسین ،وزیراعظم نوازشریف ،وزراء اعلیٰ سمیت سیاسی شخصیات نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس کی کمرشل مارکیٹ میں زیر تعمیر عمارت میں رکھا گیا دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ہر طرف تباہی پھیل گئی ، دھماکے کے نتیجے میں 8افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے ۔واقعہ کے فوری بعد پاک فوج ، رینجرز ، کوئیک رسپانس فورس اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں جنہوں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہوئے لاشوں اور زخمیوں کو جنرل ہسپتال سمیت دیگر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا جہاں پر پانچ زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ۔دھماکے سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور چار گاڑیاں اور 12موٹرسائیکلیں تباہ ہو گئیں ۔عینی شاہدین کے مطابق زوردار دھماکے سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ کر کئی کئی فٹ دور جاگرے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکے کے بعد پولیس کی بھاری نفری اور ریسکیواہلکار دھماکے کی جگہ پہنچ گئے،علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔کچھ دن پہلے یہاں انتباہ بھی جاری کی گئی تھی۔عینی شاہدین کے مطابق عمارت کے باہر پارکنگ میں ہونے والا دھماکا اس قدر شدید تھا کہ قریبی عمارتوں اور دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور پارکنگ میں کھڑی متعدد گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔
دوسری جانب دھماکے کے بعد پاک فوج کے جوانوں نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جب کہ پولیس نے قریبی علاقوں کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ دھماکہ تخریب کاری کی کارروائی تھی یا حادثاتی طور پر ہوا تاہم بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ جائے وقوعہ پر پہنچ چکا ہے اور قریبی عمارتوں کو خالی کرا کے اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ کہیں مزید بارودی مواد تو موجود نہیں ہے۔
رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا زیر تعمیر عمارت میں ہوا، دھماکے میں کچھ افرادکے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔انہوں نے بتایا کہ دھماکہ ڈیفنس کے فیز فور میں واقع کمرشل مارکیٹ میں ہوا ہے۔ زخمیوں کو جنرل اسپتال منتقل کردیا گیا ہے ۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے ۔دھماکے کے بعد پاک فوج کے دستوں نے جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے اور علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے ۔پاک فوج اور دیگر سکیورٹی فورسز نے موقع پر پہنچ کر تحقیقات شروع کردی ہے اور سکیورٹی فورسز جائے وقوعہ سے شواہد بھی اکھٹے کر رہے ہیں ۔
صوبائی وزیر سلمان رفیق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کی وجہ سے زیر تعمیر عمارت کی چھت گر گئی جس کے باعث جانی نقصان ہوا۔ عمارت کا ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن بھی شروع کردیا ہے اور علاقے میں سکولوں کو بند کرکے بچوں کو گھر بھیج دیا گیا تاکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جاسکے۔
بم ڈسپوزل سکواڈ ذرائع کے مطابق دھماکے میں 20سے25کلودھماکاخیزمواداستعمال کیاگیا اور بم عمارت میں نصب کیا گیا،ٹائم ڈیوائس سے دھماکہ کیا گیا پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی دھماکے کی حتمی نوعیت کے بارے میں نہیں بتاسکتے۔
دریں اثنا وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے واقعہ میں قیمتی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے اور ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے ۔ڈی پی او امین وینس بھی دھماکے کی جگہ پر پہنچ گئے۔
دوسری جانب صدر مملکت ممنون حسین ، وزیراعظم نوازشریف ، وزراء اعلیٰ، مولانا فضل الرحمن ، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ، پیپلزپارٹی کی قیادت آصف علی زرداری ، بلاول بھٹو ، امیرجماعت اسلامی سراج الحق ، چوہدری شجاعت حسین سمیت سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس ضائع ہونیوالی قیمتی جانوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں