انٹرویو:پروفیسر چوہدری طارق جاوید

اللہ تعالیٰ نے انسان کواشرف المخلوقات کادرجہ اس کے علم وعقل وشعور زبان وبیان ،رہن سہن اوراپنی عبادت کے لیے افضل ترین مخلوق ہونے کی بناء پردیاہے ۔کہتے ہیں کہ حضرت آدم ؑ کے اس دنیا میں اترنے کی وجوہات بھی علم کاحصول تھاکہ انہوں نے پابندی کے باوجود اس خدشہ کے متعلق جانکاری کے لیے پھل حاصل کیاتو اللہ تعا لیٰ وحدہ لاشریک کی طرف سے سزا کے طورپر زمین پربھجوایاگیا چنانچہ ظاہرہواکہ انسان اپنے ارتقاء سے ہی علم کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ اللہ نے ا نسان کو بناتے وقت علم حاصل کرنے کی ایسی جستجواس کے دل ودماغ میں ڈال دی کہ وہ تادمِِ آخر کسی نہ کسی طریقہ اوروسیلہ سے علم حاصل کرتاہے۔

پیغمبر آخرالزمان حضرت محمدمصطفیؐ نے علم کی اہمیت وافادیت پراس قدرزوردیا کہ علم حاصل کرنے کے متعلق کی احادیث بھی موجود ہیں خوداللہ تعالیٰ نے جبرائیل ؑ کے ذریعے اپنے پیارے محبوبؐ کوعلم سکھایا تواقرابااسم ربک الذی سور ۃ نازل فرمادی گئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہرزمانے میں مختلف انواع واقسام کی تحقیقات ہونے پرعلم ومحورکے حصول کے دستور بنتے گئے توعلم کی شاخوں میں ایک نام تعلیم کابھی ایجاد ہوگیا موجودہ دور میں تعلیم اورعلم دوالگ الگ شعبے بن گئے ہیں علم شعور کی منزلوں پررواں دواں ہیں توتعلیم ڈگریوں واسناد کی مرہون منت بن گئی ہے توآگہی شعورِعلم کے علم بلند کرنیو الے بڑے بڑے نا م اس دنیا میں گزرے ہیں جوتاریخ میں امرہوگئے لیکن دنیاوی تعلیم کے لیے پرائیویٹ یونیورسٹیز کالجز نما ڈگریوں کے کارخانے جابجاکھل گئے ہیں جہاں علم اورعقل وشعور کی بجائے نمبروں میں اضافے پہلے نمبرپرآنے کی دوڑ اورانعامات کاحصول مقابل طالب علم کونیچا دکھانے کی کوششیں سکھائی جاتی ہیں کفِ افسوس ہے کہ ایسے تعلیمی مراکز کے خلاف کارروائیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حکومت نے گریجوایشن کی سطح پر دوسالہ تعلیمی پروگرامز بی ایس سی کوختم کرکے چارسالہ پروگرام بی ایس آنرز وغیرہ شروع کرکے طلباء کااستحقاق اوروالدین سے زیادتی کی ہے۔دوسالہ تعلیمی پروگرامز میں سرکاری کالجز میں طلباء معقول فیس جمع کرواکے باآسانی گریجوایشن کرلیتے تھے اورانہیں صرف سالانہ بنیاد پرہی نہیں جمع کروانا پڑتی تھی جبکہ اب صورتحال یہ ہے کہ 4سالہ پروگرام شروع ہونے کے بعد نہ صرف طلباء وطالبات کوہر6ماہ بعد سمیسٹر فیس جمع کروانے کے لالے پڑجاتے ہیں بلکہ اس کے علاوہ امتحانی فیس کے ساتھ ساتھ دیگر مختلف اقسام کے جائز اخراجات فیسوں کی ماند میں اداکرنے پڑتے ہیں

ان خیالات کااظہار پنجاب پروفیسر اینڈلیکچرار ایسوسی ایشن فیصل آباد ڈویژن کے نائب صدر گورنمنٹ ڈگری کالج شعبہ انگریزی کے سنہرے معلم پروفیسر چوہدری طارق جاوید نے کیاجو’’روزنامہ الیبان‘‘ پاکستان کوخصوصی انٹرویو دے رہے تھے ۔علم ،تعلیم اورموجودہ دور کے تقاضوں کے عنوان پرہونے والی اس خصوصی نشست میں پروفیسر چوہدری طارق جاوید نے تفصیلاََ اظہارخیال کرتے ہوئے مزید کہا کہ علم سیکھنا اورسکھانا پیغمبرانہ شعبہ عہدہے۔ عہدِرسالت مآب ؐ میں اس وقت کے مشہور صحابی حضرت ارقمؓ کے گھر کوعلم کامرکز بنایاگیا تواسے دارارقم کادرجہ نام دیاگیاتھا جہاں مسلمانوں کے بچوں کوعلم سکھایاجاتاتھااسی سے ظاہرہوتا ہے کہ اسلام میں علم کی کسی قدراہمیت ہے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ ایسوسی ایشنز اورتنظیمیں بلاشبہ سیاسی ،سماجی ومعاشرتی معاملات کے لیے بنائی جاتی ہیں لیکن موجودہ دور میں طلباء کوعلم سکھا نے، تعلیم دینے والے اساتذہ کرام بھی بے شمار مسائل سے دوچار ہیں اور حکومت وقت سے جب تک اپنے مسائل کے حل کے لیے گروہ میں رجوع نہ کیاجائے تب تک مسائل کاازالہ ممکن نہیں ہوتالہٰذا پروفیسر نے بھی آپس میں اتحاد ق ائم کرکے ہرخاص وعام کے مسائل کے ازالہ کے لیے ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی ہے جواپنے ممبران کے حقوق کاتحفظ کرتی ہے اورمسائل میں الجھے اساتذہ کرام کے مسائل حل کرتی ہیں پروفیسر چوہدری طارق جاوید نے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ڈگریوں کی بندربانٹ کے متعلق سوال کے جواب میں کہاکہ بلاشبہ یہ النباتی افسوس کامقام ہے کہ کچھ مفاد پرست عناصر نے تعلیم دینے کے مقدس عمل کوروزگار بنالیاہے اورنوجوان نسل کے مستقبل سے کھیلتے ہوئے سہولیات کے نام پربھاری فیسیں وصول کرکے تعلیم کے نام پرڈگریاں تقسیم کی جاتی ہیں اورایسے ادارے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں ڈگریوں پرڈگریاں دیتے جارہے ہیں لیکن اصل میں طلباء وطالبات کوعلم سکھایاہی نہیں جاتاتعلیم دی ہی نہیں جاتی جس کانقصان یہ ہوتاہے کہ ایسے تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل طلباء طالبات عملی میدان میں خالی ذہن کے ساتھ ماسٹرزلیول کی ڈگریاں بھی لے کر پہنچتے ہیں توناکامیاں ان کااستقبال کرتی ہیں ۔جس کی وجہ سے انہیں بے شمارمعاشرتی مسائل کاسامناکرناپڑتاہے پروفیسرطارق جاوید نے کہا کہ اس سلسلہ میں سرکاری جامعات ومادرعلمی میں اپنے قیام سے اب تک طلباء طالبات کونہ صرف کتابوں کی تعلیم دی جاتی ہے بلکہ عملی زندگی ہی کامیابی کے لیے عقل وشعوردی جاتی ہے اصل میں علم سے روشن سی کروایاجاتاہے لیکن المیہ ہے کہ ملک کاحکمران طبقہ تعلیمی نظام میں جدت اورتعلیم عام کرنے ،تلیاں نظام کرنے کے بلند وبانگ دعوے کرتاہے تاہم یہ دعوے آج تک حقیقت کارویہ ا ختیار کرتے نظر نہیں آئے جس کی بہترین مثال یہ ہے کہ ایم پی اے سے لے کروزیراعلیٰ تک ا ورایم این اے سے لے کروزیراعظم تک سب کے بچوں کوغیرممالک بالخصوص مغربی ممالک سے تعلیم دلواتی جارہی ہے اوران حکمرانوں نے اپنے ملک کے تعلیمی نظام کو پس پشت کررہاہے اسی کے باوجود ہم ٹیچرز دن رات انتھک محنت کرکے اپنے شعبے سے زائدذمہ داری اداکرتے ہوئے نوجوانوں کوباشعور بنانے میں مگن رہتے ہیں کہ آئندہ آنے والی نوجوان نسل ملک کے معمار بن کرابھر ے اوراس ملک سے جہالت کے اندھیروں کاخاتمہ ہوکر علم کی شمع اپنی پوری آب وتاب سے روشن ہوجائے پروفیسر چوہدری طارق جاوید نے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ 80ء اور90ء کی دہائی تک ٹیوشن کارواج نہیں تھا سرکاری اداروں میں تعلیم کاگراف اس قدربلند تھا کہ ہائی سکول سے فارغ التحصیل میٹرک کاطالب علم ہی اپنے پورے علاقے میں اپنی تعلیم اپنے عقل وشعور اورعلم کی بناء پر پورے علاقہ ہی اہمیت کاحامل اورملکی اداروں میں اعلیٰ عہدہ پاتاتھا ایساصرف اورصرف طالب علم اپنی محنت اورمادرِ علمی کے اساتذہ کرام کی عظمت ومحنت کی بدولت پاتاتھا کسی کے پاس ٹیوشن نہیں پڑھتاھتا جبکہ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کاتعلیمی گراف بھی تھوڑاکمزور پڑالیکن پرائیویٹ مافیا نے نوعلم اورتعلیم کابیٹرہ ہی غرق کردیاہے اب نرسری سے میٹرک اوراساتذہ لیول کے بچوں کوصرف ٹیوشن ہی سہارادئییکھڑی ہے اورایسے حالات میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء وطالبات کی زیادہ تعداد اعلیٰ تعلمی ڈگریاں جیساکہ ایم بی بی ایس،ایم بی اے اورایم فل وغیرہ کی ڈگریاں ہاتھوں میں تھامے نوکریوں کے لیے رشوت دینے کے باوجود اداروں میں ذلیل و رسوا ہوکرنکل رہے ہیں اورایسے اعلیٰ تعلیم یافتہ بے روزگا ر نوجوانوں کے ان حالات کے ذمہ دار بھی پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہوتے ہیں جوان کو ڈگریاں تودے دیتے ہیں لیکن تعلیم اورعلم سے ناآشنا رکھتے ہیں تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں لے کردفاترچکرلگاتے ہیں تونوکری نہ ملنے پران کے اہلخانہ پرجوقیامت ٹوٹتی ہے وہ بھی ناقابل بیان ہے جس کی عکاسی ایک معروف پنجابی شاعر ’’محبوب سرمد‘‘ نے اس انداز میں کی ہے کہ’’گھروچ مرگئی آساں کتن والی ماں میں تے ڈگری دفترکول کھلوتے رہے ‘‘پروفیسرچوہدری طارق جاوید نے ایک سوال کے جواب میں اپنی کتاب کے متعلق کہاکہ میں نے اپنیhe Pace Tطالب علموں کی آسان فہم رہنمائی کے لیے لکھی ہے جس سے ہزاروں طالب علم مستفید ہورہے ہیں تاہم گیس پیپرز اورایم سی کیوز کی کتابوں سے طلباء کواجتناب کرناچاہیے ایسی کتابیں نقصان دہ ہیں انہوں نے کہاکہ یہ شکایت ضرورعام ہوگئی ہے کہ سرکاری کالجز کے اساتذہ نے ڈاکٹرز کی طرز پراپنی نجی اکیڈمیاں بنا رکھی ہیں جہاں طلباء کوٹیوشن دی جاتی ہے لیکن اس بات کومنفی کی بجائے اگر مثبت طریقہ سے دیکھاجائے تواسی میں طلباء کاہی فائدہ ہے کیونکہ تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے نصاب کومتعلقہ اساتذہ کرام ہی بہترطریقہ سے سمجھ اورسمجھاسکتے ہیں اساتذہ پرائیویٹ کی بجائے ان کی فیسوں کاضیاع روکنے کے لیے یہ بیڑاٹھا یاہے جوکہ خوش آئند ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں