سی ای او آف ویپ ایکس انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ سولیوشن پرووائیڈر

آئی ٹی ایک ایساشعبہ ہے جہاں جاب خودچل کرانسان کے پاس آتی ہے اس شعبہ سے منسلک افراد گھر بیٹھے پیسے کما سکتے ہیں ۔ان کے ادارے ’’ویپ ایکس انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈسولیوشن پرووائیڈر ‘‘سے ہرماہ 500سے700بچہ ڈویلپربن کرنکلتاہے ۔ادارے کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ بچوں کی ذہنی صلاحیت کواجاگر کیاجائے اوران میںیہ احساس پیداکیاجائے کہ انسان کو اپنے لیے ہنرسیکھنا چاہیے نہ کہ جاب کے لیے۔آج جب ہم’’انفارمیشن ٹیکنالوجی ‘‘کالفظ استعمال کرتے ہیں توہمارے ذہن میں فوراََہی کمپیوٹر اورانٹرنیٹ کاخیال آتاہے ۔یہ بات غلط نہیں لیکن اسے مکمل درست بھی نہیں کہاجاسکتا۔ان باتوں کااظہار ویپ ایکس کے سی ای اواینڈ ڈائریکٹر ’’احمدرضامغل‘‘ نے ’’البیان پاکستان‘‘سے خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔

ان کاکہناتھا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے مراد وہ ٹیکنالوجی ہے جوکمپیوٹر ٹیکنالوجی (جس میں سافٹ ویئر اورہارڈویئر دونوں شامل )ہے۔جب ہم انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بات کرتے ہیں توہمارے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ سننے والے اورپڑھنے والے کوکمپیوٹر کے بارے میں معلوم ہوگالیکن ایساہوناضروری نہیں ہے کیونکہ ہمارے دیہاتی بھائیوں کولفظ ’’کمپیوٹر‘‘تک نہیں بولناآتااس لیے ہماری اوّلین ضرورت یہ ہے کہ تمام تعلیمی ا دا رے گورنمنٹ کے ساتھ منسلک ہواوران میں ہرماہ میں زیادہ سے زیادہ 2ورکشاپس انفارمیشن ٹیکنالوجی پرہونی چاہیے تاکہ طلباء وطالبات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق آگاہی پیداہو۔ان کامزید کہناتھا کہ والدین پرانحصار ہے کہ وہ شروع سے ہی اپنے بچوں کاانفارمیشن ٹیکنالوجی کی طرف رحجان کریں کیونکہ یہ ایساشعبہ ہے جوزندگی کے ہرمیدان میں انسان کے کام آتاہے اوربچوں میں شروع سے یہ شوق منفی ذہنیت کوختم کرنے میں اہم کرداراداکرتاہے ۔ایک سوال کے جواب میں احمدرضامغل کاکہناتھا کہ پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی میں کسی سے کم نہیں ۔ہمارے بچوں میں اتنا ٹیلنٹ ہے کہ ہم دنیا کامقابلہ کرسکیں بس اس صلاحیت کاصحیح استعمال اورمواقع فراہم کرنے ہیں کیونکہ ہمارے بچے 10سے15سال کی عمر میں ہی سافٹ ویئر اورایتھیکل ہیکرز کے ایوارڈز لے چکے ہیں ہمیں فخر ہے ان بچوں پر،اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کومزیدپھیلانے کی کاوشیں جاری ہیں

۔انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک میں آئی ٹی کاشعبہ ابھی تک زوال پذیر ہے اورحکومت اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے کیونکہ دنیافری لانسنگ میں کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے اور2015ء سے پہلے پاکستان فری لانسنگ میں کہیں بھی نہیں تھامگراب 2017ء میں جاکرپاکستان فری لانسنگ میں شامل ہواہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے اندر ای ۔کامرس کاوجود ہی نہیں ہے اوریہ لمحہ فکریہ ہے ۔جدیدٹیکنالوجی کے دور میں اب پاکستان کے مختلف شہروں سمیت فیصل آباد میں بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کوجانچاجارہاہے ۔مختلف آئی ٹی انسٹیٹیوٹ بنائے جارہے ہیں جوجدیدٹیکنالوجی کے حوالے سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں احمدرضامغل کاکہناتھا کہ بچے آئی ٹی میں صرف ڈگری لینے کے لیے آتے ہیں ۔ان کابنیادی مقصدجاب حاصل کرناہوتاہے جو کہ سراسر غلط ہے۔ایک سوال کے جواب میں اُن کاکہناتھا کہ پوری دنیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی پر3.2ٹریلین ڈالرزکاکام ہورہاہے جبکہ پاکستان میں اس شعبہ میں صرف2.3بلین ڈ الرز کاکام ہورہاہے اس سے پاکستان میں آئی ٹی کے معیار کاپتہ چلتاہے۔ سوفٹ وئیر اپ ڈیشن کے حوالے سے بھی پاکستان میں صرف 1.6بلین ڈالرزکاکام ہورہاہے۔آخر میں ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے احمدرضا مغل نے کہا ہے کہ وہ ا رادہ رکھتے ہیں کہ محکمہ پولیس اورمحکمہ صحت کے نظام کو بھی اینڈرائیڈ کرناچاہیے جس کے لیے انہوں نے مکمل طورپر پلان مرتب کرلیاہے اورمختلف پراجیکٹس پرانہوں نے ڈیڑھ سال سے یکٹیکل بھی جاری رکھاہواہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ حکو مت ان کے اس اہم مشن میں نہ صرف اُن کی مد د کرے بلکہ حکومتی سطحُ پراُن کے ساتھ تعاون بھی کرے۔ان کامزید کہناتھا کہ محکمہ پولیس کواینڈرائیڈ کرنے سے جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوگی ،اوراس سے ایک ایساسسٹم بنایاجاسکے گاجس سے واردات ہونے سے پہلے متعلقہ محکمہ کوخبردارکیاجاسکے ۔جبکہ محکمہ صحت اینڈرائیڈ کرنے سے ڈاکٹرز ،ہسپتال یہاں تک کہ میڈیکل سٹورز بھی رجسٹرڈ ہوجائیں گے جس کافائدہ یہ ہوگا کہ نیم حکیموں سے جان چھوٹ جائے گی اوررجسٹرڈ ڈاکٹر کے تجویز کردہ نسخے کے بغیر دوائی نہیں مل سکے گی اور خود کشی کے واقعات میں روک تھام ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں