تعلیم کا میعار

تحریر:نصرت جمیل
سائنس نے آج کے تیزترین دور میں اتنی ترقی کرلی ہے کہ ہر چیز کو جانچنے کاآلہ تیار کرلیاگیاہے زمانہ کتناہی ترقی کیوں نہ کرلے لیکن تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کی حامل ہے ۔حالانکہ آج کادورجدید ٹیکنالوجی کاایٹمی ترقی کا ،سائنس اورصنعتی وتجارت کادورہے مگرسکولوں میں بنیادی عنصرتعلیم ٹیکنیکل تعلیم ،انجینئرنگ ،وکالت ،ڈاکٹری اورمختلف جدید علوم حاصل کرناآج کے دور کالازمی تقاضاہے ۔پاکستان میں ہورہے حالیہ شماریات میں ایسامعلوم ہوتاہے کہ آبادی میں بڑھتے ہوئے اضافے کے مطابق پاکستان دنیا کے نقشے پرپانچویں نمبرپرآجائیگا لیکن ہمارے پاکستان کے صوبہ پنجاب کاآج بھی نعرہ پڑھو پنجاب پڑھو پنجاب،لیکن جس طرح تعلیم کامعیار بڑھے گا اسی طرح فیس کی مد میں بھی اضافہ ہوتاچلاجائے گا۔ہمار ے تعلیمی نجی ادارے جوفاؤنڈیشن سسٹم کے تحت کام کرتے ہیں ان اداروں کی فیس اس حدتک زیادہ ہوتی ہے کہ پاکستان کاعام شہری اپنے بچوں کوایسی تعلیم دینے سے قاصر ہے ۔یقینی پاکستان کے بے شمار ذہین بچے پستی کی طرف جانے پرمجبور ہوجاتے ہیں ۔2018ء تک شرح خواندگی بڑھاکر 100فیصد کرنے اورپاکستان کے ہرصوبہ میں تعلیم کوعام کرنے کے لیے صبح شام کی شفٹ میں تعلیم وتدریس کاسلسلہ زوروں پرہے ہرجگہ اورمقام پرتعلیم کوفروغ دینے کی بات کی جارہی ہوتی ہے جگہ جگہ کوچنگ سینٹر کاٹرینڈ چل پڑاہے جس سے یہ بات واضح ہے ہمارے تعلیمی اداروں میں تعلیم دینے کافقدان ہے کوچنگ سینٹر زاورنام نہاد تعلیمی ادارے بھاری فیسیں وصول کرتے ہیں اوروالدین بچوں کے روشن مستقبل کے لیے بھاری بھرکم فیس بھی جھیلنے کوتیاررہتے ہیں تاکہ مستقبل کے معماروں کواچھی اورمعیاری تعلیم مہیاہوسکے ۔تعلیمی اداروں میں تعلیم کے بہترحصول کے لیے قابل اساتذہ بھی بے حدضروری ہیں ۔استاد وہ نہیں جوکلاس میں آئے چارکتابیں پڑھائے اورچلاجائے بلکہ استاد وہ ہے جوطلباء وطالبات کی خفیہ صلاحیتوں کواُجاگر کرے اورانہیں علم وشعور کی دولت سے مالامال کرے ۔جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کواحسن طریقے سے پوراکیا،اُن کے شاگرد آخری سانس تک ان کے احسان مندرہتے ہیں ۔آج کے دور میں اگرحالات کاجائزہ لیاجائے توواضح ہوگاکہ پیشہ تدریس کوبھی آلودہ کردیاگیاہے ۔محکمہ تعلیم ،سکول انتظامیہ اورمعاشرہ بھی چندکتابوں پرمنحصر ہوکررہ گیا ہے کل تک حصول علم کامقصد تعمیرانسانی تھامگرآج نمبروں اورمارک شیٹ پرہے ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک کے تعلیمی اداروں پرمفاد پرست ٹولہ قصرِشاہی کی طرح قابض بن کررہاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں