جدید ٹیکنالوجی کا دور

تحریر:نصرت جمیل
دورِحاضر کوہم جدیدٹیکنالوجی کا دورکہیں توبے جانہ ہوگا-ٹیکنالوجی ہماری زندگی کے ہرپہلو میں اپناکردار اداکررہی ہے چاہے وہ میلوں دوربیٹھے دوست سے سکائپ پربات ہویاآپ کے موبائل فون پرآپ کے گھر اورآفس کاسکیورٹی سسٹم ہو،لیکن اگرہم انسانی تاریخ پرنظردوڑائیں تویہ امرلازمی ہے کہ جن چیزوں نے انسان کی زندگی کوآسان بنایااس کاغلط استعمال انسان کے لیے خطرے کاباعث بنا۔انسان نے اپناپیٹ بھرنے کے لیے شکارکاسوچا توتیراورتلواربنائے لیکن وہی تیراورتلوار انسان کومارنے کے لیے بھی استعمال ہوئے ۔اٹومک انرجی نے جہاں انسان کی توانائی کی ضروریات کوپوراکیا وہاں ایک ہی پل میں 2لاکھ انسانوں کی موت کاباعث بنا۔کیمیکل ادویات نے جہاں زراعت کوفروغ دیاوہی کیمیائی ہتھیارانسان کے لیے موت کاایک نیاطریقہ لے کے آئے،توہم بات کررہے تھے ٹیکنالوجی کی ،آج ہرکوئی کسی نہ کسی طرح ٹیکنالوجی کے ساتھ جڑاہواہے چاہے ایک موبائل فون ہویاایک نیٹ ورک کمپنی ،لیکن اگر ہم غورکریں توجہاں ٹیکنالوجی نے ہمارے لیے آسانیاں پیداکی ہیں ہماری ذاتی زندگی بھی ذاتی نہیں رہی۔آج سوشل میڈیا پرہرکسی کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے بارے میں زیادہ سے زیادہ بات کرے ۔آج ہماراسارا ریکارڈ آن لائن ہے چاہے وہ کسی تعلیمی ادارے میں ہے یابنک میں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وہاں یہ ڈیٹا ایک لمبے سکیورٹی پروسیس کے تحت رکھاجاتاہے جہاں سے اس تک رسائی عام لوگوں کے بس کی بات نہیں لیکن ہرکوئی عام نہیں ہوتا۔ٹیکنالوجی کی دنیا میں کسی ریکارڈ یاپرسنل ڈیٹا تک بلااجازت رسائی کرنے کوسائبرکرائم کانام دیاگیاہے۔اب سوال یہ ہے کہ سائبرکرائم کیاہے؟پچھلے کچھ سالوں میں ہمارے ملک میں اتنااہم موضوع کیوں بناہواہے ؟سائبرکرائم قانون کی روسے کمپیوٹر یاانٹرنیٹ کے ذریعے کسی دوسرے کی ذاتی زندگی کے بارے میں موادبانٹنا،کسی کے ریکارڈ کونقصان پہنچانا اوربلااجازت کسی کے کمپیوٹر یاڈوائس تک رسائی حاصل کرناسائبرکرائم کہلاتاہے۔
سائبرکرائم کو3حصوں میں تقیسم کیاجاتاہے۔
1:حملہ :کسی دوسرے کے کمپیوٹر کووائرس یامال ویئر کے ذریعے نقصان پہنچانا یارسائی حاصل کرنا۔
2:جعل سازی اوردھوکہ دہی :دھوکے سے کسی کومالی یاذاتی نقصان پہنچانا،بنک اکاؤنٹ ہیک کرناوغیرہ
3:غیرقانونی مواد:اپنے کمپیوٹر میں غیرقانونی مواد رکھنا یادوسروں سے بانٹنا 
پاکستان میں سائبرکرائم کے 80فیصد کیس حراساں کرنے کے ،10فیصدجعل سازی کے ،5فیصد سسٹم کونقصان پہنچانے کے ہیں ۔اگرغورکیاجائے توسب سے زیادہ حراسانی کے کیس ہیں اورایساکیوں ہیں ؟ہماری نوجوان نسل سوشل میڈیا کی خطرناک حد تک عادی ہوچکی ہے وہاں کسی کی ذاتی زندگی اب ذاتی نہیں رہی۔اگرریکارڈ دیکھاجائے توپچھلے 5سالوں میں سب سے زیادہ خودکشی کے واقعات نوجوانوں میں سوشل میڈیا کی بدولت ہیں لیکن سوشل میڈیا کوقصوروار نہیں ٹھہراسکتے کیونکہ خنجربنانے والی کمپنیاں اس بات کی ذمہ دار نہیں ہوتیں کہ اس سے سبزی کاٹی جائے یاکسی کی گردن۔عام طو رپرحراسائی کے کیس میں لڑکی نے یالڑکے نے خود اپنی تصاویر یاویڈیوز دی ہوتی ہے اوروہ ڈرسے بلیک میل ہوتاہے یاہوتی ہے کیونکہ وہ خود ملوث ہوتاہے لیکن اس میں اصل میں ہیکنک کو جدید طریقے آلات سے بدل دیاہے ۔آج ایک معمولی وائرس یوایس بی یاتصویر کے ذریعے کسی کے موبائل یاکمپیوٹر میں ڈال دیاجاتاہے جس کے بعد اس کمپیوٹر یاڈیوائس تک پوری رسائی وائرس بھیجنے والے کے پاس ہوتی ہے کہ وہ جب چاہے اس کاکیمرہ آن کرلے ،مائیک آن کرے یاکریڈٹ کارڈ تک رسائی حاصل کرے ۔اینٹی وائرس کسی حدتک اس کوروک پاتاہے لیکن جب ہیکرز وائرس کوسوفٹ وئیرکااصلی سگینچردے دیتے ہیں اس کے بعد اینٹی وائرس بھی انہیں نہیں روک پاتے ۔اس کامطلب یہ ہے کہ آپ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے موبائل فون پربھروسہ نہیں کرسکتے۔یہ وہ ہیکنگ ہے جولوکل سطح پرہوتی ہے اس کے بعد آتی ہے پروفیشنل ہیکنگ ۔اس میں براہ راست سروس کونشانہ بنایاجاتاہے جہاں آپ کی ویب سائٹس ریکارڈ ہوتی ہیں ۔اس وقت ہرادارے کاریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہے ۔تصور کریں کہ آپ کے پولیس اسٹیشن تک کوئی رسائی حاصل کررہا ہو،اپنی مرضی سے وہاں تبدیلیاں کررہاہوتو سوچیں کتنا نقصان ہوسکتاہے؟پروفیشنل ہیکرز عام طورپرلنکس آپریٹنگ سسٹم استعمال ہیں جوہیکنگ کے لیے کافی فائدہ مند ہے جو کہ آن لائین دستیاب ہوتے ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا جاتا۔اب سوال یہ ہے کہ اس سب سے بچا کیسے جا سکتا ہے؟سب سے پہلے تو بلاوجہ کسی کی یو ایس بی یا فائل نہ کھولیں اگر کھولیں تو پہلے کسی paidاینٹی وائرس سے scanکر لیں۔آج کل ونڈو8اور بعدمیںآنے والے آپریٹنگ سسٹم میں ونڈوڈیفنڈر اینٹی وائرس کافی بہتر کام کر رہے ہیں۔اسے اپ ڈیٹ کرتے رہیں۔اگرآپ کو شک ہے کہ آپ کاسسٹم ہیک ہے یا کوئی آپ تک رسائی کر رہا ہے توفوراََ اپنے شہر میں موجود سائبر کرائم کے ادارے سے رابطہ کریں۔اگر کوئی آپ کو بلیک میل کر رہا ہے توسوچے بغیر کہ وہ آپ کاکتنا نقصان کر سکتا ہے،کسی اپنے کو بتائیں اور سائبر کرائم سے رابطہ کریں۔کوئی آپ کو بلاوجہ کوئی تصویر یا فائل sendکرے تواسے مت کھولیں اپنا پاسپورڈ کم از کم 10اسپیشل کریکٹر یا ڈیجیٹ میں رکھیں-گورنمنٹ کو چاہیے کہ یونیورسٹی لیول پر سائبر کرائم سیمینار ز منعقد کروائے۔پاکستان میں جو لوگ ہیکنگ کی روک تھام کے لیے کام کررہے ہیں ان کو ethicateہیکرز کہاجاتا ہے لیکن ایسے سائبر سکیورٹی ایکسپرٹ بہت کم ہیں۔ان میں دونام سرفہرست ہیں رافع بلوچ اورچوہدری منصب علی۔یہ لو گ پاکستان میں سائبرسکیورٹی آگاہی پربہت کام کررہے ہیں ۔سب سے اہم اقدام انسٹیٹیوٹ آف سائبرسکیورٹی کاقیام ہے جوکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں موجود ہے ۔وہاں Ethicalہیکرز کی تربیت بھی کروائی جارہی ہے اورلوگوں کوسائبر سکیورٹی سے متعلق مسئلے بھی حل کیے جاتے ہیں۔آخر میں سب سے اہم بات زیادتی کسی بھی چیز کی ہونقصان دیتی ہے ۔انٹرنیٹ اورٹیکنالوجی کوضرورت کے تحت استعمال کریں تووہ ٹیکنالوجی رہے گی ورنہ آپ کے لیے خطرناک ہوجاتی ہے ۔لاکھ کوشش کریں آپ کے ہاتھوں کسی کابرانہ ہواوریہ امید بھی رکھ سکتے ہیں کہ کسی کے ہاتھوں آپ کابرانہ ہو۔جزاک اللہ 

اپنا تبصرہ بھیجیں