ایک منشور اور سیاسی پروگرام لازمی ہے

مسلم لیگ (ن ) نے نواز شریف کی نااہلی کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ طے کیا جائے کہ ملک میں حکمرانی کون کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پارٹی کے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مورچے پر کھڑے سپاہی کی طرح ملک کے مفادات کے لئے لڑتے رہنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں کسی وزیر اعظم کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی ۔ اگر حالات اسی طرح چلتے رہے تو ملک کسی حادثہ کا شکار ہو سکتا ہے ۔ نواز شریف نے واضح کیا ہے کہ وہ سیاسی محاذ پر ڈٹ کر کھڑے ہوں گے اور اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا سامنا کریں گے ۔ مسلم لیگ (ن) یا نواز شریف نے ابھی تک اپنی حکومت کے خاتمہ کا الزام براہ راست اسٹیبلشمنٹ پر عائد نہیں کیا ہے، لیکن اگر پارٹی اور نواز شریف واقعی ملک میں سویلین حکمرانی کا دوٹوک حق حاصل کرنے کی جد و جہد کرنا چاہتے ہیں تو انہیں واضح مؤقف بھی اختیار کرنا پڑے گا۔

نواز شریف نااہل: اب آگے دیکھنے کی ضرورت ہے

پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے اجلاس میں شہباز شریف کو نواز شریف کی جگہ وزیر اعظم بنوانے پر اتفاق کیا گیا۔ عبوری طور پر سابقہ کابینہ میں وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم نامزد کیا گیا ہے ۔ اس وقت نواز شریف کے لئے پارٹی کو متحد رکھنا بے حد ضروری ہے ۔ اسی لئے پارٹی میں مختلف گروہوں کے تصادم کو روکنے کے لئے شہباز شریف کو آگے لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کو اپنے جانشین کے طور پر تیار کررہے تھے لیکن ان کے خلاف بھی جعل سازی اور دھوکہ دہی کے الزامات کے باعث ، ابھی ان کا سیاسی مستقبل شبہات کا شکار ہے ۔ اس لئے شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ ہؤا ہے ۔ وہی پارٹی کے سربراہ بھی بنیں گے کیوں کہ نا اہل قرار دیا جانے والا سیاسی لیڈر کسی پارٹی کی قیادت نہیں کر سکتا۔ نواز شریف کے سیاسی مستقبل کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ 2018ء کے انتخاب تک پارٹی کو کتنا متحد رکھ سکتے ہیں اور ان انتخابات میں پارٹی کی کارکردگی کیسی ہوگی۔ اس کے علاوہ انہیں موجودہ فیصلہ کو تبدیل کروانے اور ریلیف حاصل کرنے کے لئے عدالتوں کے پاس ہی جانا پڑے گا۔ اس حوالے سے ابھی تک نواز شریف کی حکمت عملی واضح نہیں ہے ۔
مسلم لیگ (ن) کے اس مؤقف سے انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ ملک میں منتخب حکومت کو ہی فیصلے کرنے اور پالیسیاں بنانے کا اختیار حاصل ہونا چاہئے ۔ اب تک سیاسی حکومتیں یہ حق حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں ۔ اسے مسلسل فوج کے دباؤ کا سامنا رہا ہے اور وہ خارجہ اور سلامتی امور پر فوج کی شرائط ماننے پر مجبور رہی ہیں، لیکن اس حوالے سے اصلاح اور تبدیلی صرف نعرے لگانے اور حکومت سے نکلنے کے بعد ناراضگی کا اظہار کرنے سے رونما نہیں ہو سکتی۔ اس مقصد کے لئے نواز شریف کو اپنے ماضی کے رویہ پر غور کرنے اور اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف میمو گیٹ کیس میں مدعی بن کر وہی کردار ادا کیا تھا جو اب تحریک انصاف نے ان کے خلاف پاناما کیس میں کیا ہے ۔ اگر ملک میں طویل عرصہ تک برسر اقتدار رہنے کے بعد بھی وہ اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار بننے کے لئے تیار ہوگئے تھے تو اقتدار میں آنے کے لئے دو دہائیوں سے کوشش کرنے والے سیاسی لیڈر سے کیسے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ بھی اسی روایت پر عمل نہیں کرے گا جس پر اپوزیشن سے پوزیشن میں آنے کی حرص میں اس ملک کا ہر سیاست دان اور سیاسی پارٹی عمل کرتی رہی ہے ۔ نواز شریف کو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرکے اس رویہ کو ترک کرنے کا اعلان کرنا پڑے گا تاکہ دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر بہتر سیاسی ماحول کے لئے فضا سازگار بنائی جا سکے ۔
پیپلز پارٹی نے گزشتہ دور میں آئین کی شق باسٹھ اور تریسٹھ کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن نواز شریف نے اس کا ساتھ دینے سے انکار کیا تھا۔ آج ایک غیر ضروری معاملہ میں ان شقات کے تحت نا اہل ہونے کے بعد انہیں احساس ہوجانا چاہئے کہ یہ شقات جب تک آئین کا حصہ رہیں گی، اس وقت تک اختیار پارلیمنٹ کی بجائے غیر منتخب اداروں کے ہی ہاتھ میں رہے گا۔ اس آئینی اقدام کے لئے انہیں فوری طور پر کام کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے ۔ پیپلز پارٹی کے علاوہ دیگر پارٹیوں کو ایسی آئینی ترمیم کے لئے تیار کیا جائے جو ضیا ء الحق کے عہد میں شامل کی گئی غیر جمہوری ترامیم کو آئین سے خارج کرکے اسے 1973ء کی اصل شکل میں واپس لا سکے ۔ اس حوالے سے انہیں ملک کے مذہبی گروہوں کی مخالفت کا سامنا کرنا ہوگا لیکن اگر وہ واقعی اپنی نااہلی سے کوئی سبق سیکھ چکے ہیں اور سچے دل سے ملک کی بھلائی چاہتے ہیں تو انہیں اصولی مؤقف اختیار کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔
موجودہ بحرانی وقت میں پارٹی کو متحد رکھنے کے لئے شاید اپنے بھائی کو پارٹی کی رسمی قیادت دینا اور وزیر اعظم بنوانا مجبوری ہو لیکن نواز شریف کو یہ بھی جان لینا چاہئے کہ وہ آج جس ہزیمت اور مشکل کا سامنا کررہے ہیں ، اس کی بنیادی وجہ پارٹی کو فرد اور خاندان کے ساتھ منسلک کرنا ہے ۔ انہیں ایک منشور اور سیاسی پروگرام کے تحت پارٹی کا ڈھانچہ بنانے کے لئے کام کا آغاز کرنا چاہئے جہاں صرف شریف خاندان کی اجارہ داری نہ ہو بلکہ سیاسی کام کرنے والے اور صلاحیت کا مظاہرہ کرنے والے کسی بھی شخص کے لئے اعلیٰ ترین عہدہ حاصل کرنا ممکن ہو۔ اگر وہ اب بھی مسلم لیگ (ن ) کو فیملی انٹر پرائز بنانے کے لئے کام کرتے رہیں گے تو انہیں نہ تو ملک میں مقتدر سویلین حکومت کا خواب دیکھنا چاہئے اور نہ ہی یہ توقع رکھنی چاہئے کی بحران کی صورت میں پارٹی ایک اکائی کی طرح مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں