نظریاتی نواز شریف کیا کریں!

سابق وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی گروپ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 20 سال پہلے نظریاتی نہیں تھے لیکن اب وہ نظریاتی ہو چکے ہیں۔ سیاسی زندگی میں پیش آنے والی مشکلوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ 7 سال کی جلا وطنی انسان کو بدل دیتی ہے ۔ میں بھی صرف آئین کی بالا دستی اور ملک کی ترقی و فلاح کے لئے کام کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اس مقصد کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ وہ اقتدار نہیں چاہتے اور نہ ہی انہیں کسی عہدہ کی خواہش ہے ۔ وہ صرف پاکستان کا بھلا چاہتے ہیں۔ ملک کی ترقی کے لئے کئے جانے والے کام کو بارآور دیکھنا چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر ایک ناقص بنیاد پر نااہل ہونے والے وزیراعظم کی یہ باتیں جذباتی بھی ہیں اور انہیں ان کے ماضی کے اقدامات اور فیصلوں کے تناظر میں بھی دیکھا جائے گا۔ لوگ، مبصر اور تجزیہ نگار ان کو یاد دلائیں گے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران صرف عمران خان نے ہی ان سے استعفیٰ کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ ان سے ہمدردی رکھنے والوں نے بھی انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ وزارت عظمیٰ سے علیحدہ ہو کر مقدمات کا سامنا کریں اور الزامات کو غلط ثابت کرنے کے بعد دوبارہ اپنے عہدے پر فائز ہو جائیں۔ ایسی صورت میں انہیں نااہلی کے بوجھ اور سیاسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور یہ بات بھی سچ ثابت ہو جاتی کہ انہیں اقتدار کی خواہش نہیں ہے ،تاہم ماضی کے ان جاہ پسندانہ فیصلوں کو فراموش کرکے اگر دیکھا جائے کہ ایک نظریاتی نواز شریف ملک کے لئے کیا کر سکتے ہیں تو ان کے کرنے کے کئی کام ہیں، جو سرانجام دے کر وہ ملک کی سیاسی تاریخ میں اپنا نام بلند کر سکتے ہیں۔
یہ بات اس لئے بھی اہم ہے کہ اگرچہ نواز شریف کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل کیا گیا ہے لیکن مرکز اور صوبہ پنجاب میں بدستور ان ہی کی پارٹی حکمران ہے ۔ وہ اب بھی مسلم لیگ (ن) کے سب سے طاقتور لیڈر ہیں اور مستقبل قریب میں پارٹی کے اہم سیاسی فیصلے ان کی مرضی اور ہدایات کے مطابق ہی ہوں گے ۔پارٹی اجلاس میں شہباز شریف کو اپنا جانشین مقرر کرنے کا فیصلہ ان کی ہی تجویز پر کیا گیا تھا۔ اسی طرح نواز شریف کی مرضی سے ہی شاہد خاقان عباسی عبوری مدت کے لئے وزیراعظم منتخب ہوں گے ۔ اسی طرح پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا فیصلہ بھی ان کی ہدایت سے ہی کیا جائے گا۔ جو لوگ نواز شریف کو ملک کی سیاست میں غیر متعلق سمجھ رہے ہیں، وہ فی الوقت غلطی پر ہیں، تاہم اگر نواز شریف کا ایجنڈا اور کوششوں کا محور اب بھی ایک بار پھر وزیراعظم کے عہدہ تک پہنچنا ہی ٹھہرا اور ان کی جدوجہد اسی دائرے میں گھومتی رہی تو وہ خود دیکھیں گے کہ وقت کے ساتھ اور یہ وقت بہت طویل نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔ ان کی جگہ لینے والے شہباز شریف پارٹی اور اختیار کی سیاست میں اپنی جگہ بنانے لگیں گے اور نواز شریف بتدریج غیر متعلق ہوتے چلے جائیں گے ۔ خاص طور سے نیب کو روانہ کئے گئے ریفرنسز اور دیگر مقدمات میں سے اگر انہیں اور مریم نواز و دیگر کو سزائیں ہو جاتی ہیں تو ان کی سیاسی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
تاہم اگر وہ عہدہ کا لالچ دل سے نکال دیں اور وزارت عظمیٰ کو گزرا ہوا کل سمجھنے پر اکتفا کر لیں اور مستقبل میں ایک محب وطن نظریاتی شخص کے طور پر ملک کی تعمیر کے مقصد کے لئے ارادہ باندھ لیں تو عہدہ نہ ہونے کے باوجود ان کی سیاسی قوت میں اضافہ ہونے لگے گا۔ خواہ کوئی عدالت انہیں سزا دے دے اور کوئی بھی وزارت عظمیٰ پر متمکن ہو لیکن سیاسی قوت کے لئے وہ نواز شریف کی سرپرستی اور رہنمائی کا محتاج ہوگا،تاہم اس مقصد کے لئے انہیں فوری طور سے اپنے عمل کے ذریعے ان لوگوں کا منہ بند کرنا ہوگا جو نواز شریف کی اس بات کو یا تو اہمیت نہیں دیتے کہ وہ نظریاتی شخص ہیں یا اس کا ٹھٹھہ اڑا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہیں اپنا سیاسی نظریہ اور جدوجہد کا مقصد واضح کرنا ہوگا۔پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں کی جانے والی تقریر میں انہوں نے اپنے نظریات کے حوالے سے جو اشارے دیئے ہیں وہ غیر واضح اور عمومی سی باتیں ہیں۔ اس ملک کے عام و خاص اب کسی بھی لیڈر کی ان باتوں کو اہمیت نہیں دیتے کہ وہ آئین کی بالا دستی، قانون کی حکمرانی اور ملک کے روشن مستقبل کے لئے کام کرنا چاہتا ہے ۔ عام تاثر یہ ہے کہ یہ باتیں تقریر میں گرمی اور گفتگو میں زور پیدا کرنے کے لئے کی جاتی ہیں۔ درحقیقت اس طرح کوئی بھی لیڈر عوام کی حمایت حاصل کرنے اور اس طرح اقتدار تک پہنچنے کے ایجنڈے کا اعلان کر رہا ہوتا ہے ۔ اس لئے نواز شریف کے لئے اہم ہوگا کہ وہ پہلے تو اس تاثر کو ختم کرنے کے لئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیں کہ وہ آئندہ وزیراعظم یا کسی بھی سرکاری عہدہ کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے ۔ اب وہ ملک میں ایسی سیاسی تنظیم استوار کرنے کے لئے کام کریں گے جو ان کی ذات یا ان کے خاندان کی ملکیت تصور نہ کی جائے بلکہ حقیقی معنوں میں جمہوری معاشروں میں کام کرنے والی سیاسی پارٹیوں کی طرح ایک ادارہ ہو۔ چونکہ یہ پارٹی یعنی مسلم لیگ (ن) مرکز اور ملک کے سب سے بڑے صوبے میں حکمران ہے ، اس لئے یہ بات اہم ہے کہ پارٹی کو نچلی سطح سے لے کر مرکز تک جمہوری ادارہ کے طور پر منظم کرنے کے کام کا آغاز کیا جائے ۔ ہر سطح پر پارٹی کارکنوں کو تیار کیا جائے انہیں سیاسی عمل کا حصہ بنایا جائے ۔ مقامی مسائل سے لے کر ضلعی، صوبائی، قومی اور پھر بین الاقوامی مسائل پر مباحث ، مذاکرہ ، ورکشاپ اور لیکچرز کے سلسلہ کے ذریعے ان کارکنوں کی ذہنی اور سیاسی تربیت کی جائے ۔اس مقصد کے لئے ضروری ہوگا کہ مسلم لیگ (ن) اپنی ذاتی حیثیت میں منتخب ہونے والے لوگوں کو ساتھ ملائے رکھنے کی پالیسی جاری رکھنے کی بجائے سیاسی عمل سے سامنے آنے والے لوگوں کو منتخب ہونے اور جمہوری اداروں کا حصہ بننے میں مدد دے ۔ ملک کو جمہوری انداز میں چلانے کے لئے ضروری ہوگا کہ پارٹی کا جمہوری ڈھانچہ ٹھوس اور مضبوط بنیادوں پر استوار ہو۔ نواز شریف چونکہ کسی سرکاری عہدہ کے امیدوار نہیں ہوں گے تو ان کے لئے پارٹی کو زوردار اور زور آور کی دسترس سے نکال کر جمہوری طریقہ سے آگے بڑھنے والے لوگوں کے حوالے کرنے کے عمل کی نگرانی کرنا آسان ہوگا۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے انہیں مشکلات اور مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑے گا،لیکن ایک تو ان کا سیاسی قد بڑا ہے اور دوسرا وہ سیاست کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں لہٰذا وہ اگر چاہیں تو اس مشکل کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں۔پھر وہ دیکھیں گے کہ اس عظیم سیاسی کام کے ثمرات صرف مسلم لیگ (ن) کے
ایک موثر اور طاقتور سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے کی صورت میں ہی سامنے نہیں آئیں گے بلکہ دوسری پارٹیاں بھی ان کی تقلید کرنے پر مجبور ہوں گی اور آئین کی بالا دستی کا حوالہ دیتے ہوئے وہ اور ان کے ساتھی جن اندیشوں اور جن درپردہ قوتوں کی طرف اشارہ کرتے رہتے ہیں، وہ بھی ایک منظم ، نظریاتی اور خاص سیاسی مقاصد کے لئے کام کرنے والی ایک جمہوری پارٹی کو چیلنج کرنے کا حوصلہ نہیں کر سکیں گی۔ اسٹیبلشمنٹ یا دیگر غیر جمہوری قوتیں اسی لئے سیاسی لیڈروں کو کٹھ پتلی کی طرح ہلاتی رہی ہیں کیونکہ وہ خود کسی ٹھوس سیاسی تنظیم کی بنیاد پر کھڑے نہیں ہوتے ۔ اب نواز شریف بار حکومت سے نجات پا کر اپنے نظریاتی ہونے کے دعویٰ کو سچ ثابت کرنے کے لئے کام کا آغاز کر سکتے ہیں۔ اس عمل کا آغاز ہوتے ہی بلدیاتی ادارے مضبوط ہوں گے اور ہر گھر اور فرد تک پارٹی کو دسترس حاصل ہو جائے گی۔ صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے ارکان بھی فنڈز مانگنے ، مراعات حاصل کرنے اور ساتھ دینے کی قیمت طلب کرنے کی بجائے قانون سازی کی طرف توجہ دیں گے اور اپنے اپنے شعبوں میں مہارت حاصل کرکے اسمبلیوں کی کارروائی کو بامقصد و معیاری بناتے ہوئے رہنمائی کا حق ادا کرنے لگیں گے ۔نظریاتی نواز شریف کو اب اس الجھن سے بھی باہر نکلنا ہوگا کہ ان کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں یا اسٹیبلشمنٹ انہیں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ وہ اپنے عمل اور کام سے یہ واضح کریں کہ انہیں ایسی غیر جمہوری قوتوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے جو سازشوں کے ذریعے ملک کی جمہوری حکومتوں کو اشاروں پر نچاتی رہی ہیں کیونکہ نواز شریف جب عوام کے ساتھ براہ راست رابطہ رکھنے والے باشعور سیاسی کارکنوں کے گروہ کی قیادت کر رہے ہوں گے تو کوئی بھی طاقت انہیں چیلنج کرنے اور نیچا دکھانے کی کوشش نہیں کر سکے گی۔ اس طرح یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ نواز شریف کا نظریہ سیاست کیا ہے کہ وہ گٹھ جوڑ، خاندان اور طاقتور گروہوں اور حکومت کی انتظامی مشینری کے ذریعے نہیں بلکہ عوام کی رائے ، حمایت اور شرکت سے تیار ہونے والی ایک پارٹی کے قائد ہوں گے ۔یہ کام کر دکھانے والا نواز شریف نظریاتی ہوگا اور ناقابل تسخیر بھی۔ وہ کسی عہدے کے بغیر عام و خاص کی توجہ اور محبت کا مستحق ٹھہرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں