’’آئیے پاکستان کی مخالفت کریں‘‘

سر آپ پاکستان کے مخالف کیوں ہیں؟”ارے ، آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں؟”سر ہم یہ اس لیے کہتے ہیں کہ آپ ہر وقت پاکستان میں خرابیوں اور مسائل کی باتیں کرتے رہتے ہیں’۔جب میں طلبہ کو پاکستانی تاریخ پڑھاتا ہوں تو اکثر اوقات ان سے میری کچھ ایسی ہی بحث ہو جاتی ہے ۔ عموماً اس موقع پر میں ان سے پوچھتا ہوں ‘کیا آپ پاکستان کے موجودہ حالات سے مطمئن ہیں؟’بیشتر طلبہ اس کا جواب نفی میں دیتے ہیں جس کے بعد میں کہتا ہوں کہ ‘اگر آپ ملکی صورتحال سے مطمئن نہیں ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے ہاں کوئی نہ کوئی خرابی ضرور ہے ۔ ایسا ہی ہے ناں؟’اس موقع پر بیشتر طلبہ مزید پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں اور عام طور پر وہی باتیں دہرانے لگتے ہیں جو انہیں ایک دہائی سے پڑھائی سکھائی جا رہی ہوتی ہیں۔ ایسے میں عمومی جواب یہ ہوتا ہے کہ ‘ہاں میں پاکستان کے حالات سے مطمئن نہیں ہوں مگر اس میں ملک کا کوئی قصور نہیں’۔یہاں ہمارا یہ مکالمہ ختم ہو جاتا ہے ۔

’’میاں دے نعرے۔۔۔‘‘

مجھے پاکستان میں پڑھاتے پانچ برس سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے اور اس دوران میں نے تمام صوبوں اور علاقوں کے قریباً 60 اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو تعلیم دی ہے ، اس سے مجھے طلبہ کی سوچ کا خاصا اندازہ ہو چکا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے بیشتر طلبہ کے ذہن میں مخصوص نظریات اس قدر شدت سے راسخ کر دیے جاتے ہیں کہ جب وہ یونیورسٹی میں پہنچتے ہیں تو ا نہیں ان مخصوص باتوں سے ہٹ کر کچھ سمجھانا بہت مشکل ہو جاتا ہے ۔ تاریخ پاکستان میں ہم جن شخصیات کا سب سے زیادہ احترام کرتے ہیں انہوں نے ہی اپنے ملک اور سماج پر کڑی تنقید کی تھی ان طلبہ کو دس سال سے زیادہ عرصے تک یہ بتایا جاتا ہے کہ جب کوئی شخص پاکستان پر کسی حوالے سے تنقید کرے تو سمجھ لیں کہ وہ پاکستان کا مخالف ہے ۔ یوں طلبہ میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے اور وہ سوال اٹھانے کے قابل نہیں رہتے ۔آخر ایسی سوچ سماج اور شہری افعال پر منفی طور سے اثرانداز ہوتی ہے اور بہت کم لوگ ہی اپنے گردوپیش میں بہتری لانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ جب کسی کو یہ بتایا جائے کہ سب اچھا ہے اور تنقید کرنے والے غیرملکی ایجنٹ ہیں تو پھر سماج سدھار کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ تاریخ پاکستان میں ہم جن شخصیات کا سب سے زیادہ احترام کرتے ہیں انہوں نے ہی اپنے ملک اور سماج پر کڑی تنقید کی تھی۔ سرسید سے علامہ اقبال اور محمد علی جناح تک ان تمام لوگوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت پر تنقید اور ان کی زندگی میں بہتری لانے کی کوشش کی۔سرسید نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو تنقید کا نشانہ بنایا تو ان کے خلاف فتوے جاری ہوئے ۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کی ذہنی پسماندگی پر ایسی ہی تنقید کی۔ ہم یہ بات بھی بھول جاتے ہیں کہ جناح کی 11 اگست 1947ء والی تقریر پاکستان میں کون سے مسائل کی نشاندہی کرتی ہے جن سے آگاہ رہنا ہمارے لیے ازحد ضروری ہے
۔اس تقریر کی ابتدا میں بانی پاکستان رشوت، بدعنوانی، ذخیرہ اندوزی، اقربا پروری اور بددیانتی جیسی سماجی برائیوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔ یہ نئے ملک کی تخلیق کے موقع پر کوئی ایسی جذباتی تقریر نہیں ہے جس میں خوابوں کی کسی دنیا کا تذکرہ ہو بلکہ قائداعظم حقیقت پسندانہ انداز میں عوام کو تلخ حقائق اور مستقبل کے مشکل راستے کی بابت آگاہ کرتے ہیں۔ طلبہ کو دس سال سے زیادہ عرصے تک یہ بتایا جاتا ہے کہ جب کوئی پاکستان پر کسی حوالے سے تنقید کرے تو سمجھ جائیں کہ وہ پاکستان کا مخالف ہے ہم اس لیے بھی جناح کو اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہیں کہ ہم نے ابھی تک انہیں سمجھنے اور ان کی باتوں سے سیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ تخلیق پاکستان سے قبل جہاں ان کی بہت سے تقاریر امید اور ولولے سے بھرپور ہیں تو وہیں بہت سے ایسے خطبات بھی ہیں جن میں وہ بدعنوانی، جرائم اور ناانصافی کے خلاف بات کرتے ہیں۔
انہیں علم تھا کہ پاکستانی قوم جب تک ان برائیوں کو حقیقت سمجھ کر قبول نہیں کرے گی اور جب تک ان کے خاتمے کی کوششیں نہیں کی جائیں گی اس وقت تک ملک ترقی نہیں کر سکتا۔قائداعظم کو یہ باتیں کہے قریباً 70 برس ہو چکے ہیں اور آج ہماری یہ حالت ہے کہ ہر دفتر میں ان کی تصویر تو ضرور آویزاں ہے جبکہ ان کے اقوال پر کہیں عمل نہیں ہوتا۔آج کے پاکستان میں قائداعظم اور ان کی تقاریر کو بھی ‘پاکستان مخالف’ قرار دیا جاتا کیونکہ ان میں اتنی ‘ہمت’ تھی کہ وہ ملکی حالات پر تنقید کر سکتے تھے ۔
چنانچہ طلبہ کے سوال کے جواب میں مجھے یہ کہنا ہے ‘ہاں مجھے خوشی ہے کہ میں پاکستان کا ‘مخالف’ ہوں اور مجھے امید ہے کہ دوسرے لوگ بھی قائداعظم کی بات دہراتے ہوئے میرا ساتھ دیں گے یہاں تک کہ ہم خواب غفلت سے جاگ کر حالات کو بہتر نہیں بنا لیتے ۔آئیے قائداعظم کی طرز پر ہم سب پاکستان کے ‘مخالف’ ہو جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں