’’میاں دے نعرے۔۔۔‘‘

میاں نواز شریف 1983ء میں خارزار سیاست میں نمودار ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ترقی کی منازل طے کرتے کرتے ملک کے سب سے اعلی عہدے تک جا پہنچے،اس میں ان کی سیاسی قابلیت یا اہلیت سے قطع نظر یہ حقیقت عیاں ہے کہ اس اونچی پروان میں صاحب حیثیت لوگوں کے سامنے ان کی تابعداری و فرمانبرداری کا ہاتھ کہیں زیادہ رہا۔ دوسری طرف یہ حقیقت بھی کسی صاحب فہم سے چھپی ہوئی نہیں کہ اس وقت کے معروضی حالات نے میاں نواز شریف کی اس خصوصیت کو مقتدرہ حلقوں کی واحد آپشن بنا دیا اور وہ مجبور ہو گئے کہ ایک ایسے تابعدار و فرمانبردار کے سر پر ہاتھ رکھ کر پس پردہ اپنے کھیل کو جاری رکھ سکیں۔ اس وقت کی سب سے بڑی اور اہم حقیقت عوامی طاقت کی حامل سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت تھی ،جو ببانگ دہل مقتدرہ حلقوں کے سیاسی کردار پر نہ صرف تنقید کرتی بلکہ قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتی تھی اور آج بھی اگر غیر متعصبانہ رائے سے دیکھا جائے ،تو تمام تر استحصال اور نا انصافی کے باوجود پیپلز پارٹی ہی وہ سیاسی جماعت ہے جو نہ صرف اعلی عدلیہ کے فیصلوں کو تسلیم کرتی آئی ہے اور کسی بھی موقع پر لسانیت کی بات کرنے سے حتی المقدورگریز کرتی ہے،جبکہ دوسری طرف جب اس سیاسی جماعت کو دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش ہوتی ہے تو بہ امر مجبوری اسے ’’سندھ کارڈ‘‘ کا نعرہ لگانا پڑتا ہے لیکن 1990ء کے انتخابات میں ،جب محترمہ کی حکومت کو برطرف کیا گیا،اور مقتدرہ حلقوں کی جانب سے براہ راست سیاسی عمل میں دخل اندازی کرتے ہوئے میاں نواز شریف کے لئے زمین ہموار کی جا رہی تھی تب مرحوم جنرل حمید گل اور ان کے ساتھیوں نے ،ایک سیاسی نعرہ دیا،جس کا مقصد فقط پنجاب کو قیادت کے لئے تیار کرنا تھا اور انہیں یہ باور کرانا تھا کہ پنجابی عوام اس قابل ہیں کہ قیادت انہی میں سے ابھرے مگر افسوس عمر رفتہ میں جنرل صاحب کو قلق رہا کہ جس قیادت کے لئے انہوں نے کوششیں کی تھی وہ کما حقہ بار آور نہ ہوسکی اور پنجاب کی قیادت وہ نتائج نہ دے سکی ،جس کے مقتدر حلقے خواہشمند تھے۔ ہوس اقتدار کے مارے آمر ضیاء الحق نے جو زہر ملکی سیاست کی برداشت اور رواداری میں گھولا وہ آج تک سر چڑھ کر بول رہا ہے ، بھٹو صاحب کی مضبوط شخصیت کے خوف نے آمر کو مجبور کردیا کہ وہ انہیں پھانسی کے تختے پر چڑھا دے وگرنہ یہ اظہرمن الشمس تھا کہ ضیاء الحق خود کورٹ مارشل کا  سزاوارٹھہرتا،ضیاء کے اس ایک غلط قدم نے ملک کو کئی صدیاں پیچھے دھکیل دیا اور آج جمہوریت کے خودساختہ چمپئن ،جمہوریت کی دھائیاں دینے والے اسی مارشل لاء میں ایک آمر کے ہمرکاب تھے۔ پیپلز پارٹی کے خوف نے ضیاء سے کیا کچھ نہیں کروایا،نوزائیدہ پاکستان کو اپنا خون جگر دے کر پروان چڑھانے والی اردو سپیکنگ کی نئی نسل کے ہاتھوں میں آتشیں اسلحہ صرف پیپلز پارٹی کی مقبولیت کو گہنانے کی خاطر دیا گیا، پرتشدد کارورائیوں کا مقصد معصوم عوام کو خوف زدہ کرکے مطلوبہ نتائج کا حصول تھا،باہمی ہم آہنگی،اخوت بھائی چارے کا قتل عام کیا گیافقط دوام اقتدار کی خاطر کہ کسی طرح مرتے دم تک اقتدار ہاتھ سے نہ جائے وگرنہ عوامی غیظ و غضب کا شدید ترین سامنا ہو سکتا ہے۔ اس ساری مشق میں اردو بولنے والوں کی ایسی نسل تیار ہو گئی،جس کا دین ،مذہب فقط غنڈہ گردی ،تشدداور پیسے کا حصول تھا اور وہ اس حد تک اپنی حدود کو پار کر گئی کہ اپنی تمام تر محرومیوں کا ذمہ دار ہی تقسیم ہند کو قرار دیتی،پاکستان کے قیام کو بابائے قوم کی شدید ترین غلطی قرار دینے سے بھی باز نہ آئی۔

جمہوریت خاندانی ملکیت نہیں

اس ضمن میں اس کے قائد کا کردار انتہائی سے زیادہ مشکوک ہوتا چلا گیا ،اس کے ہندوستان ،برطانیہ ،امریکہ اور ان تمام ممالک کے ساتھ رابطے کی باتیں ہونی لگی جو درپردہ پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے تھے،اس کے قائد کی تمام سر گرمیاں مشکوک ہوتی گئی اور بالآخر اس نے وہ الفاظ بھی کہہ ڈالے جس کے متعلق کوئی محب وطن سوچ بھی نہیں سکتا تھااور یوں اردو بولنے والوں پر ’’فرد واحدکی بلاشرکت غیرے‘‘ حکمرانی ختم ہو گئی اور آج وہ شخص قطعی غیر متعلق ہو چکا ہے جبکہ کراچی میں اردو بوانے والے ایک نئے عزم،ہمت ،جذبے اور حوصلے کے ساتھ ’’پاکستانی‘‘بن کر ملک وقوم کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے خواہشمند نظر آتے ہیں۔
پانامہ مقدمے کے فیصلے میں نااہل ہونے کے بعد،پاکستان مسلم لیگ ن کے اکابرین کا لب و لہجہ بعینہ وہی نظر آ رہا ہے جو کسی زمانے میں اردو بولنے والوں کے قائد کا تھا کہ جہاں اسے اقتدار سے باہر کیا گیا وہ نہ صرف پاکستان کے وجود سے منکر ہوتا بلکہ ہر اثاثے کو تہس نہس کرنے کے درپے ہو جاتا۔ مسلم لیگ ن کی صف اول کی قیادت کو اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے ہوشمندی اور احتیاط کا ثبوت دینا چاہئے کہ انکا خلوص وطن سے زیادہ ایک شخص سے نظر آ رہا ہے ،کہیں سابق وفاقی وزراء ہیں تو کہیں موجودوزراء اعلی اداروں اور مخالفین پر زہر افشانی کرتے نظر آ رہے ہیں ۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ مسلم لیگ ن ،اس کے ووٹر اور اس کے سپورٹرز کو یہ گوارا ہی نہیں کہ کوئی بھی عدالت یا قانون نافذ کرنے والا کوئی ادارہ ان کو من مانی سے روک سکے،سپورٹرز کے نزدیک یہ ممکن ہی نہیں کہ ان کا قائد کوئی لاقانونیت کر سکتا ہے ،وہ آنکھیں بند کر کے اپنے قائدین اور ان کے ارشادات کو ہی قانون کا درجہ دیتے ہیں اور دلیل کی کوئی بات سننے کے لئے تیار ہی نہیں۔
خیر وقت بہت بڑا مرہم ہے اور یقیناً ان کے زخموں کا مداوا صرف وقت ہی ہے یا پھر ۱۰ نمبر ڈبے میں بند وہ حقائق جو میاں نواز شریف اور ان کے خاندان سے متعلق ہوشربا تفصیلات چھپائے ہوئے ہیں۔ ایک اندازہ اور ’’باخبر‘‘ لوگوں کی اشاروں کنایوں میں جاری باتوں سے لگایا جا رہا ہے کہ کہیں نہ کہیں میاں نواز شریف اوران کا خاندان بھی اسی ڈگر پر چل رہا تھا،جس راستے پرکرائے کا ’’مہاجر‘‘گامزن تھا،اگر ان ’’با خبروں‘‘ کی باتوں میں صداقت ہے تو خوف گھیر لیتا ہے کہ خدایا کیا اسی لئے ہمارے بڑے بوڑھوں نے ہندو بنئے سے ایک آزاد ریاست حاصل کی تھی؟اس اندازے کو مزید تقویت ہندوستانی سیاستدانوں کے بیانات ،جس میں وہ ببانگ دہل’’ میاں نواز شریف کی حکومت گرانے کو ہندوستان کا نقصان ‘‘کہتے رہے کہ انہوں نے میاں نواز شریف پر سرمایہ کاری کر رکھی تھی، میاں نواز شریف کی نااہلی پر ہندوستانی میڈیا کا واویلا کیوں ہے؟ کیا میاں نواز شریف پاکستان میں ہندوستان کے نمائندے تھے یا پاکستانی عوام کے منتخب وزیر اعظم؟ہندوستان کے ایسے ماتم کا واضح مطلب تویہ ہے کہ میاں نواز شریف کسی نہ کسی حوالے سے ہندوستانی مفادات اور ان کے ایجنڈے پر کام کر رہے تھے،کیا یہی وجہ تھی کہ ایک طویل عرصے تک میاں نواز شریف نے ہندوستانی جاسوس’’کلبھوشن یادیو‘‘ کے متعلق لب کشائی نہ کی اور نہ ہی اس سے متعلق دستاویزات عالمی اداروں تک پہنچائی؟ شنید تو یہ بھی ہے کہ سجن جندال کا دورہ بھی کلبھوشن کے حوالے سے ہی تھا اور اس کے بعد ہی عالمی عدالت میں نہ صرف کلبھوشن کا مقدمہ درج کروایا گیا بلکہ عالمی عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں اس کی پھانسی کی سزا بھی رکوا دی گئی۔ کیا یہ عمل پاکستان کو مضبوط کرنے کے لئے کیا گیا یا بھارت کی بالا دستی کو تسلیم کرنے یا پھر اس سرمایہ کاری کا عوضانہ جس کا ذکر بھارتی سورما ببانگ دہل کر رہے ہیں؟مسلم لیگ ن کے ووٹرز کو ان حقائق کے متعلق بھی سوچنا چاہئے کہ ان کے آباؤ اجداد نے بھی اس ملک کے لئے قربانیاں دی ہیں،کیا وہ قربانیاں فقط اس لئے دی گئی تھی کہ ایک تاجر فقط اپنی تجوریوں کو بھرنے کے لئے کسی بھی اقدام کو کر گذرے؟پیپلز پارٹی (محترمہ بے نظیر بھٹو کی موجودگی تک) ایسے الزامات سے مبرا رہی کہ یہ الزامات بھی مسلم لیگ ن کی طرف سے اس تواتر کے ساتھ لگائے گئے ۔
عام آدمی ان کی حقیقت کو سمجھ ہی نہ سکااور محترمہ کو سیکورٹی رسک تک قرار دیا گیا۔آج یہی الزامات (اندازہ)۱۰ نمبر ڈبے میں بند ہیں اور کوئی وقت جاتا ہے جب یہ الزامات حقیقت بن کر سامنے بھی آئیں گے،تب مسلم لیگ ن کے ووٹرز کیا کریں گے؟مقتدر حلقوں نے ایک انجانے خوف میں جو ہوا کھڑا کر رکھا تھا اور طاقت کے نشے میں اس کاجو علاج سوچا تھا،وہ اپنی موت آپ مرنے کے قریب ہے مگر دشت سیاست میں ان کی بے جا دخل اندازی کے جو نتائج سامنے آ رہے ہیں،ان سے مقتدر حلقوں کو احساس ہو رہا ہو گا کہ ان کے پیشروؤں نے اس ملک اور قوم کے ساتھ کتنی بڑی زیادتی کی ہے۔
کسی نا اہل شخص کو ایک لسانی نعرہ ’’جاگ پنجابی جاگ‘‘ یا ’’مہاجر‘‘دے کر قائد نہیں بنایا جا سکتا ،قائد پیدائشی ہوتے ہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجابی حقیقت میں جاگ کر اپنے ملک کے دشمنوں کو پہنچانے نہ کہ اندھی تقلید میں اندھے کنویں میں جا گریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں