پٹرول اورڈیزل پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح بڑھانے کافیصلہ

اوگرا کی طرف سے خام تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کے باعث یکم اگست سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کی بجائے وزارت خزانہ نے موجودہ سطح پرہی برقرار رکھنے کافیصلہ کیاہے جس کے نتیجے میں حکومت کوپٹرولیم اورہائی سپیڈڈیزل کی فروخت پر جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں 23.5فیصد اور40فیصد رقم حاصل ہوسکے گی۔اس طرح صرف اگست کے مہینے میں حکومتی ریونیو میں8ارب روپے کامزیداضافہ ہوجائے گا۔اسلام آباد میں وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق ملک میں وزیراعظم یاوفاقی کابینہ نہ ہونے کے باعث ہمارے پاس موجودہ قیمتوں میں ردوبدل کااختیار نہیں تھااس لیے پٹرول پمپوں پرموجود خوردہ قیمتیں ہی برقرار رکھی جائیں گی ۔20کروڑ عوام پرمشتمل پاکستان میں ہرماہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی کھپت 80ہزارٹن جبکہ پٹرولیم کی 70ہزارٹن ہے اس کے علاوہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی ڈیمانڈ10ہزارٹن ماہوارسے بھی کم ہے جس سے ظاہر ہوتاہے کہ ہائی سپیڈڈیزل اورپٹرولیم مصنوعات ہی بڑی سیلز آئٹمز ہیں جولائی کے آخر ی ہفتے میں اوگرا نے وفاقی حکومت کوجوسمری ارسال کی تھی،اس میں ڈیزل کی قیمت79روپے 90پیسے سے کم کرکے74روپے83 پیسے فی لٹرجبکہ پٹرولیم 71روپے30پیسے سے کم کرکے67روپے63پیسے فی لٹرکرنے کی سفارش کی گئی تھی تاکہ عالمی سطح پرخام تیل کی قیمتوں میں کمی کابراہ راست فائدہ عوام کو دیاجاسکے مگر28جولائی کوسپریم کورٹ کے فیصلے کے باعث میاں نواز شریف وزارت عظمیٰ کے لیے نااہل قرار دے کرگھربھجوا دئیے گئے جبکہ نئے وزیراعظم کاانتخاب یکم اگست کوعمل میں آیا۔پارلیمنٹ سے منتخب ہونے اوراپنے عہدے کاحلف اٹھانے کے بعد وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے اپنی جن ترجیحات کااعلان کیا ان میں خودکار اسلحہ کی واپسی،لائف سٹائل کے مطابق ہرپاکستانی سے ٹیکس وصولی،تعلیم ،صحت اورانتظامی معاملات میں بہتری لانے کے ساتھ فوج ،عدلیہ ،بیوروکریسی اورانٹیلی جنس اداروں کو ایک کشتی کے سوارقرارضرور دیاگیامگرمہنگائی میں کمی لانے کے بارے میں کوئی لائحہ عمل یاحکمت عملی ظاہرنہیں کی گئی البتہ بیروزگاری کے خاتمے کے لیے نئی سرمایہ کاری کی طرف ضروراشارہ کیاگیا۔

نظریاتی نواز شریف کیا کریں!

ملکی اقتصادیات اورمعاشرتی پہیہّ رواں دواں رکھنے میں پٹرولیم مصنوعات کی جواہمیت ہے،اس پرشاید نومنتخب وزیراعظم کی توجہ نہیں گئی یاعہدہ سنبھالنے کے بعد شایدوہ اس اہم ایشوپر بھی مناسب غورکریں گے ۔پاکستان میں درآمدات ہمیشہ امپورٹ ڈیوٹی یاجنرل سیلزٹیکس کی زد میں رہی ہیں اگرچہ ہربرسراقتدار حکومت اوراس کے سربراہ نے عصری تقاضوں ،ضروریات یاجائز مطالبات کی روشنی میں مختلف درآمدی اشیاء کوامپورٹ ڈیوٹی سے مستثنیٰ کرنے یاان میں رعائت دینا ضروری سمجھاہے۔پٹرولیم مصنوعات پرعالمی مالیاتی فنڈزسمیت امداداورقرضے دینے والے بیرونی اداروں نے مناسب ٹیکس لگانے کی تجاویز پیش کیں تاکہ حکومتی اخراجات کنٹرول اورتر قیاتی کاموں کے لیے معقول فنڈز میسر آسکیں ۔محترمہ بے نظیربھٹوکے دورحکومت میں بیرونی امدادی اداروں نے ہمیشہ جنرل سیلزٹیکس لگانے اورآٹے ،گھی،چینی،بجلی جیسی اشیائے ضروریہ پردی جانے والی سبسڈی بتدریج ختم کرنے کی جوتجویزدی ،اس کی روشنی میں گزشتہ 30برس سے ہرپاکستانی اضافی ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب گیا۔جنرل سیلز ٹیکس 7فیصد سے بڑھا کر15فیصداوربعض صورتوں میں 17فیصدتک وصول کیاجارہا ہے صرف یہی نہیں بلکہ موبائل فون سیٹ کی خریداری اوربیلنس ڈلوانے پر25فیصد تک جبری وصولی بھی کروڑوں صارفین کے کھاتے میں ڈال دی گئی ہے حالانکہ اربوں روپے کے ترقیاتی وتعمیراتی منصوبوں کے لیے درآمدی مشینری اورخام مال کوامپورٹ ڈیوٹیوں سے استثنیٰ مل جاتاہے۔ صدر،وزرائے اعظم ،وزراء، بیوروکریسی اوراسٹیبلشمنٹ کی گاڑیوں ،لگژری آئٹمز ،کٹلری،سرامکس یادیگر فٹنگز بھی امپورٹ فری لسٹ میں شامل ہوتی ہیں جبکہ پٹرولیم مصنوعات پربھاری درآمدی ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں ۔فلاحی ریاستوں میں برسراقتدار افراد یاجماعتیں نوپرافٹ نولاس کی بنیاد کواپنی پالیسیوں کاحصہ بناتی ہیں تاکہ مہنگائی وبیروزگاری میں کمی ہوسکے اگرچہ درآمدی اشیاء کے استعمال اوراس سے حاصل ہونے والی پیداوار پرٹیکس لگانے سے بالواسطہ طورپریہ اشیاء بھی ٹیکس وصولیوں کے زمرے میں آجاتی ہیں ۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہائی سپیڈ ڈیزل پرجنرل سیلز ٹیکس 35فیصد سے بڑھ کر40فیصد جبکہ پٹرولیم پر20.5فیصد سے بڑھ کر 23.5فیصد تک کردیاگیا ہے جبکہ چندبرس قبل جاری ایس آراوز(سٹیسٹری ریگولیٹری آرڈرز)کے تحت ہائی سپیڈ ڈیزل پر19.4جبکہ پٹرولیم مصنوعات پر14.63فیصد ٹیکس مقرر کیاگیاتھاتاکہ حکومت کو معقول ریونیو میّسر آنے کے ساتھ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی کنٹرول میں رکھی جاسکیں ۔سابق وزیرخزانہ اسحق ڈار نے 2015ء میں عالمی سطح پرخام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کے باعث جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں حکومتی وصولیاں کم ہونے کا جواز پیداکرکے اس کی شرح بتدریج بڑھاتے چلے جانے کاراستہ نکالا حالانکہ درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کافائدہ براہ راست عوام تک پہنچانا حکومتی ذمہ داری بلکہ فرض ہوتاہے۔ اب پوزیشن یہ ہے کہ ہر100روپے کے ڈیزل اورپٹرول پرحکومت 23سے40روپے وصول جبکہ مٹی کے تیل اورلائٹ ڈیزل پر25روپے تک وصول کیاجارہاہے۔ہائی سپیڈ ڈیزل خریدنے والوں سے جنوری2016ء میں 51فیصدتک جی ایس ٹی بھی وصول کیاجاتارہاہے جوکسی صورت احسن اقدام نہیں بلکہ ریاستی جبرتھا۔وقت آگیاہے کہ نومنتخب وزیراعظم شاہدخاقان عباسی پٹرولیم مصنوعات پرحکومتی ٹیکسوں میں کمی لائیں تاکہ قیمتوں میں کمی کا حقیقی فائدہ عوام تک بھی پہنچ سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں