فرد نہیں، اداروں کو مضبوط کرنا ضروری ہے

نومنتخب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سابق وزیراعظم اور پارٹی لیڈر نواز شریف سے ملاقات کے بعد بھی کابینہ کے ارکان اور ان کے مجوزہ محکموں کے بارے میں کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکے،اس لئے نئی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب ملتوی کر دی گئی ہے ۔ ملک کے اصل حکمران یعنی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں آنے والے سیاستدان اور پارٹیوں کے لیڈران چونکہ فی الوقت حکومت گرانے ، بنانے یا ایک دوسرے کو مطعون کرنے میں مصروف ہیں، اس لئے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ بتانا ضروری سمجھا ہے کہ فوج ملک کی حفاظت کے لئے کسی بھی حد تک جائے گی۔ اس دوران تحریک انصاف کی مخالفانہ مہم سے تنگ آئی ہوئی مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو عائشہ گلالئی کی صورت میں ایک نیا ہتھکنڈہ ہاتھ لگا ہے اور وہ پوری قوت سے اس کارڈ کو عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف استعمال کرنا چاہتی ہے ۔ اسی لئے گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں عمران خان کو آئین کی شق 62 و 63 کے تحت نااہل قرار دینے کی قرارداد پیش کی گئی اور راجہ بشارت ایڈووکیٹ نے اس بارے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان میں درخواست دائر کی ہے ۔ تحریک انصاف نے عائشہ گلالئی کو ہتک عزت کا نوٹس جاری کرنے کا اعلان کیا ہے اور مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ان الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ اس سیاسی شعبدہ بازی میں ملک و قوم کو درپیش کئی اہم معاملات نظر انداز ہو رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ طاقتور ہو رہی ہے اور سیاستدان جمہوریت کے علاوہ بنیادی اخلاقی اقدار کے حوالے سے بھی مضحکہ خیز کردار کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ 
عائشہ گلالئی کے الزامات افسوسناک اور تکلیف دہ ہیں۔ ان کی سچائی فی الوقت ان کے سوا کوئی دوسرا نہیں جانتانہ انہوں نے ان ٹیکسٹ پیغامات کی نقل دکھائی ہے جو بقول ان کے عمران خان 2013 ء سے انہیں بھیجتے رہے تھے اور جو بداخلاقی کا مظہر تھے اور نہ اس بارے میں باقاعدہ تحقیقات کے ذریعے حقائق منظر عام پر آنے کا امکان ہے ۔ البتہ تحریک انصاف چھوڑنے والی یا اس میں موجود متعدد خاتون اراکین نے اس پارٹی کلچر کی تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے جس کا الزام عائشہ گلالئی نے عمران خان اور تحریک انصاف پر عائد کیا ہے ۔ اس صورتحال میں ملک کا کمرشل میڈیا اور سوشل میڈیا کے ایکٹوسٹ کسی بھی حد تک جانے اور دور کی کوڑی تلاش کرنے کے لئے ہر قسم کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ یہ بحث کی جا رہی ہے کہ یہ اسکینڈل سامنے لانے کے لئے مسلم لیگ (ن) نے کیا کردار ادا کیا ہے ۔ یہ معاملہ بھی شاید الزامات تک ہی محدود رہے اور ان درپردہ عناصر یا عوامل کے
بارے میں کبھی معلوم نہ ہو سکے جو پاکستانی معاشرہ کی ایک عزت دار خاتون کو اپنی سیاسی قیادت پر بداخلاقی کا الزام عائد کرنے پر مجبور کرنے کا سبب بنے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے اس بیان میں تو وزن ہے کہ اس معاشرہ کی کوئی خاتون خود اپنے حوالے سے بات کرتے ہوئے الزام تراشی میں ملوث نہیں ہو سکتی۔ البتہ اس کے ساتھ ہی یہ سوال بہرحال سامنے آتا ہے کہ عائشہ گلالئی کو اگر 2013 ء سے قابل اعتراض پیغامات مل رہے تھے تو وہ مسلسل اس پارٹی کے ساتھ کیوں وابستہ رہیں بلکہ عمران خان کے قریبی لوگوں میں بھی شامل تھیں۔ اس کے علاوہ ان پیغامات کو سامنے لانے سے کیوں گریز کیا جا رہا ہے جو قابل اعتراض ہیں اور عمران خان اور ان کے دیگر ساتھیوں کے ’’مخفی‘‘کردار کی نشاندہی کر سکتے ہیں اور آخری بات یہ کہ یہ انکشافات کرتے ہوئے نواز شریف کو اچھے کردار کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے اور عمران خان کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی ہے ۔پاکستانی معاشرہ میں اخلاقی اور سماجی برائیاں موجود ہیں۔ یہ کسی نہ کسی طرح سیاسی پارٹیوں میں بھی ضرور شامل ہو جاتی ہوں گی۔ ہر پارٹی میں ہر مزاج اور کردار کے لوگ موجود ہو سکتے ہیں۔ جب بھی اخلاقی اور سماجی برائیوں کے حوالے سے بات کی جائے گی تو ایک شخص ، ایک پارٹی یا ایک گروہ کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا بلکہ یہ بحث ہونا ضروری ہے کہ معاشرہ کے دیگر شعبہ کی طرح سیاست میں بھی کیوں خواتین کے لئے مواقع محدود کئے جاتے ہیں۔ 
آئین میں چونکہ ایک خاص تعداد میں خواتین کو نمائندگی دینے کا تقاضا کیا گیا ہے اس لئے انتہائی کٹر مذہبی جماعتیں بھی خواتین کو اسمبلیوں میں لے آتی ہیں، لیکن سماج سدھار اور حقوق نسواں کے حوالے سے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی جائے تو یہ مذہبی لیڈر ملک میں سعودی عرب کی طرح سخت قوانین نافذ کرنے اور عورتوں کو گھروں میں بند کرنے کے حامی نکلیں گے ۔ عائشہ گلالئی نے اچانک عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف جو مہم جوئی شروع کی ہے ، اس کا ان دونوں کو تو شاید کوئی خاص نقصان نہ پہنچے لیکن ملک کی سیاست میں خواتین کی شرکت کے حوالے سے مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ گھروں، خاندانوں اور برادریوں میں یہ بحث زیادہ شدت اختیار کرے گی کہ مردوں کی سربراہی میں چلنے والے اس سماج میں عورتوں کو گھروں تک محدود رکھنا ہی مناسب ترین رویہ ہے ۔ اس حوالے سے عائشہ گلالئی نے ملک میں اصلاح احوال اور سیاسی جماعتوں میں خواتین کے کردار کو مضبوط کرنے کے لئے افسوسناک طور پر منفی کردار ادا کیا ہے ۔ 
عائشہ گلالئی پڑھی لکھی باشعور خاتون ہیں۔ اگر وہ کسی کے بہکاوے میں نہیں آئی ہیں اور ان کا کوئی ذاتی سیاسی ایجنڈا بھی نہیں ہے اور وہ صرف سیاسی جماعتوں میں خواتین کو مناسب وقار اور عزت و احترام دلوانے کے لئے ہی کام کرنا چاہتی ہیں تو انہیں پریس کانفرنس میں الزام تراشی کے ذریعے ہی یہ کام کرنا کیوں مناسب لگا۔ کیا بہتر نہ ہوتا کہ وہ تحریک انصاف میں رہتے ہوئے ہم خیال لوگوں کو ساتھ ملانے اور ناجائز رویہ رکھنے والے مردوں کو ان کے عیوب کے بارے میں بتانے کی مہم کا آغاز کرتیں۔ عمران خان کے جن اخلاق سے گرے ہوئے پیغامات کا شکوہ وہ اب برسر عام کر رہی ہیں، انہوں نے کسی پارٹی میٹنگ میں عمران خان کو مخاطب کرکے ان کی اس کمزوری سے آگاہ کرنے کی کوشش کیوں نہ کی۔ وہ خود کہتی ہیں کہ انہیں کسی سیاسی عہدہ کی خواہش نہیں ہے بلکہ وہ تو صرف اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتی ہیں تو خود ہی اپنے گرد یہ سنسنی خیز ہنگامہ کھڑا کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی۔ اگر انہیں سیاسی ترقی کی خواہش نہیں تھی تو وہ زیادہ جراتمندی سے پارٹی کے اندر رہتے ہوئے عمران خان اور دیگر مرد لیڈروں کے کمزور پہلوؤں کی نشاندہی کرنے کا کام خوش اسلوبی سے انجام دے سکتی تھیں کیونکہ آواز اٹھانے سے تو صرف وہی لوگ خوف کھاتے ہیں جو پارٹی قیادت کو خوش رکھ کر کوئی بڑا عہدہ یا حیثیت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ 
ان سب کے باوجود عائشہ گلالئی کے الزامات پر کوئی رائے دینا مناسب نہیں ہے ۔ انہوں نے ایک الزام عائد کیا ہے ، اب یا تو اس ملک کے ادارے ان کی چھان بین کر لیں گے یا وہ خود یہ معاملہ عدالت میں لے جا سکتی ہیں،لیکن سیاسی لیڈر ہوں یا میڈیا کے صاحبان کرامت و فراست، ان سے دست بستہ یہی گزارش کی جا سکتی ہے کہ ایک خاتون کی شکایت کو’’قابل فروخت کاموڈیٹی‘‘ بنانے کی بجائے اس اصول پر بات آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے کہ معاشرہ کے دیگر شعبوں کی طرح سیاسی جماعتوں میں خواتین کو کیوں گھٹن اور تنہائی کا گمان ہوتا ہے ۔ کیا وجہ ہے کہ سیاسی جماعتیں آئینی تقاضے پورے کرنے یا نمائشی طور پر ہی خواتین کو آگے لاتی ہیں اور انہیں بصورت دیگر مساوی مواقع اور عزت و احترام فراہم کرنے سے گریز کیا جاتا ہے ۔ ملک کے دیگر اداروں کی طرح تمام سیاسی پارٹیوں کو خواتین کے لئے حالات کار کو خوشگوار اور آرام دہ بنانے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ عائشہ گلالئی کے سانحہ سے فائدہ اٹھا کر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنے کی بجائے اس بنیاد پر ہر پارٹی اپنے تنظیمی ڈھانچہ میں عورتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کا جائزہ لے ۔ خصوصی کمیٹیاں بنا کر کارکنوں کی تربیت اور خواتین کو برابری کی سطح پر کام کرنے کا موقع دینے کے لئے بہتر ماحول فراہم کرنے کے مقصد سے ٹھوس اقدام کئے جائیں تاکہ مستقبل میں اس ملک کی عورتیں بھی مردوں کے شانہ بشانہ تعمیر و ترقی کے کام میں حصہ لے سکیں۔ جمہوریت کے چند بنیادی تقاضوں میں معاشرہ کے سب طبقوں اور خاص طور سے خواتین اور دیگر کمزور اور محروم طبقوں کو مساوی مواقع فراہم کرنا بھی اہم ہے ۔ مساوی حقوق، آزادی اظہار اور باہمی احترام کے بنیادی اصولوں کو درگزر کرتے ہوئے کوئی معاشرہ جمہوریت کا سفر طے نہیں کر سکتا۔ 
اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کی طرف سے آئین کی متنازعہ شقات 62 اور 63 کے تحت مخالفین کو نااہل قرار دلوانے کی کوششیں افسوسناک ہیں۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ میں دیانتداری اور راست گوئی کا تقاضا کرنے والی شق 62 کا حوالہ دیتے ہوئے ہی نواز شریف کو نااہل کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد تو ملک کی سب سیاسی قوتوں کو ایک دوسرے کے خلاف زور آزمائی کرنے کی بجائے ایسی شقات کے خاتمہ کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے جو غیر منتخب اداروں کے ہاتھوں میں ہتھیار کا کام کر رہی ہیں۔ اسی طرح سیاسی اختلاف کے لئے پریس کانفرنسوں ، جلسوں اور بیان بازی کا سہارا لینے کی بجائے اسمبلیوں کو استعمال کرنے اور منتخب اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ۔اب بھی اگر اس ضرورت کو محسوس نہ کیا گیا اور اداروں کی بجائے افراد کو ہیرو بنانے اور مضبوط کرنے کا کام جاری رہا تو ملک کے جمہوری ادارے کمزور، عوامی نمائندگی بے معنی اور غیر منتخب ادارے خواہ وہ اسٹیبلشمنٹ ہو یا عدالتیں، مضبوط ہوں گے ۔ سیاستدان عوامی تائید حاصل کرنے کے باوجود محتاج رہیں گے اور عوام ووٹ کا حق استعمال کرنے کے باوجود اس کی قوت اور معنویت سے آگاہ نہیں ہو سکیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں