نئی وفاقی کابینہ کی تشکیل میں تاخیر

28جولائی کومیاں نوازشریف کے نااہل قرار دیئے جانے کے باعث وزارت عظمیٰ کے خالی عہدے پریکم اگست کوقومی اسمبلی نے حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) کے شاہدخاقان عباسی کوبھاری اکثریت سے وزیراعظم منتخب کرلیا اورامید تھی کہ نئی وفاقی کابینہ کلی یاجزوی طورپر بھی جلدسامنے آجائے گی، تاہم چوہدری نثارعلی خان اورچنددیگر اہم پارٹی عہدیداروں اورمسلم لیگ(ن)میں گہرااثرورسوخ رکھنے والوں کی مشاورت سے نئے وزراء کے انتخاب میں تاخیرہوگئی۔ نئے وزیراعظم کوجن مشکلات کاسامناہے،ان میں مریم نواز اورمیاں شہبازشریف کے نقطہ نظر میں اختلاف کے باعث مشکلات نظر آنے لگی ہیں ۔عام تاثر یہی تھا کہ نئی کابینہ میں چوہدری نثارعلی خان ،اسحق ڈار ،ریاض پیرزادہ ،میرحاصل بزنجو سمیت چھ موجودہ وزراء شامل نہیں ہوں گے جبکہ نئی کابینہ بھی24سے زائد وزراء پرمشتمل نہیں ہوگی۔اس بات پربھی مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی بضد ہے کہ نئی کابینہ میں وزیرخارجہ ضرور مقرر کیاجائے ۔وزیراعظم شاہدخاقان عباسی دوروز قبل مری پہنچے جہاں مقیم سابق وزیراعظم میاں نوازشریف سمیت مسلم لیگ(ن)کے سینئررہنماؤں کے ساتھ چھ گھنٹے طویل مشاورت کے دورا ن حتمی فہرست پرتبادلہ خیال کیاگیا۔تحلیل ہونے والی وفاقی کابینہ میں شامل کم از کم 10وزراء یاوزرائے مملکت کے متعلق حکمران حلقوں میں شدیدتحفظات کے ساتھ ان کی کارکردگی کے بارے میں بھی عدم اطمینان پایاگیا جبکہ نئی کابینہ میں چندنئے چہرے شامل کرنے پربھی شاہدخاقان عباسی نے میاں نوازشریف کے ساتھ مشاورت کی ۔امکان ہے کہ جمعۃ المبارک تک نئی کابینہ یاکم از کم 12وزیر اپنے عہدوں کاحلف ضروراٹھالیں گے ۔پاکستان کے معروضی حالات ،حکمران مسلم لیگ(ن) کی آئینی مدت ختم ہونے میں صرف10ماہ باقی رہنے کے باعث باقیماندہ عرصے میں تیزی کے ساتھ پارٹی منشور اورجاری ترقیاتی منصوبوں پرعملدرآمد مکمل کرنے کی خواہش پائی جاتی ہے ۔اقتدارسنبھالنے والے ہرشخص کے ذہن میں ریاستی پالیسیوں ،سیاسی پارٹی کے منشور اورعصری تقاضوں کے ساتھ کچھ ذاتی ترجیحات بھی ہوتی ہیں جس کے تحت چندمخصوص افراد کے متعلق یقین کے ساتھ کہاجاسکتاہے کہ وہ نئی کابینہ کاحصہ ہوں گے تاہم موجودہ کابینہ کے لیے وزراء کاانتخاب کرتے وقت میاں نوازشریف کے ساتھ ذاتی وابستگی اورگہری وفاداری بنیادی اہمیت کی حامل شرط ہوگی تاکہ اپنے مخالفین کے لیے موثر پیغام جانے کے ساتھ پارٹی کے اندربھی دھڑے بند ی یاگروپ بندی پیدانہ ہو۔مسلم لیگ(ن)کے مرکزی قائدین اورخاص طورپر میاں نوازشریف کے فیملی ممبرز کے خلاف مستقبل قریب میں نیب کی طرف سے کرپشن ریفرنس دائرہونے کے امکانات کے باعث دراصل انتظامیہ بھی دوتین گروپوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ایک گروہ جواحتسابی عمل تیز کرنے کاحامی جبکہ دوسراگروپ اس کامخالف ہے بیوروکریٹس کاتیسراگروپ غیرجانبدار اورہرقسم کے حالات میں محض اپنی ملازمت پرتوجہ دیتاہے۔نئی وفاقی کابینہ میں زیادہ ترتوموجودہ وزراء ہی شامل ہوں گے تاہم تین چارنئے چہرے بھی شامل کیے جانے کی خبریں گرم ہیں مگردیکھنے کی چیز یہ ہے کہ مختلف وزارتوں اوراہم انتظامی اداروں پرکنٹرول کیسے کیاجائے گا؟فیڈرل بورڈ آف ریونیو،سکیورٹی ایکس چینج کارپوریشن ،ایف آئی اے،سٹیٹ بنک،نیب جیسے اداروں کوحکومتی پالیسیوں اورخواہشات کے مطابق چلانے کے لیے انتہائی طاقتور،باصلاحیت اورتجربہ کارافراد کی ضرورت ہوگی۔ایسے امکانات کوبھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کہ مسلم لیگ (ن)کے دور میں شروع کیے جانے والے توانائی کے منصوبوں سمیت سی پیک کے پراجیکٹس،موٹرویز،ہائی ویزاوردیگرحکومتی پالیسیوں میں رکاوٹ ڈالنے یاانہیں روکنے کی کوششیں کی جائیں ۔ایسے حالات میں نئی کابینہ نہ صرف مختصر،باصلاحیت اورانتہائی پرعزم ہونی چاہیے تاکہ45روز میں 45ماہ کاکام ہوتانظر آنے لگے ۔تحریک انصاف اورعوامی مسلم لیگ(ن) نئے وزیراعظم پرایل این جی کاریفرنس لانے سمیت اسحق ڈار ،میاں شہبازشریف اورخواجہ آصف کے لیے مشکلات پیداکرنے کی کوششیں بھی کریں گی جبکہ پیپلزپارٹی آئندہ الیکشن میں اپنی تباہ شدہ سیاسی ساکھ بحال کرنے کے لیے مسلم لیگ(ن) کے ساتھ محاذ آرائی کاراستہ اختیار کرتی نظر آتی ہے ۔سپریم کورٹ میں عمران خان پرغیرملکی فنڈنگ لینے کے زیرسماعت کیس کے باعث تحریک انصاف کے حلقے بھی جس دفاعی پوزیشن پرپہنچ چکے ہیں،اسے زائل کرنے کی کوشش میں حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) پرمزید الزاماتی گولہ باری کرسکتے ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ پارلیمنٹ کے اندراورباہر موجودسیاسی ودینی حلقے وسیع ترملکی مفادات اورجمہوری روایات کااحساس کرتے ہوئے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اورالزام تراشیوں کی بجائے شاہدخاقان عباسی کومشکلات سے پاک ماحول فراہم کرنے کے ساتھ الیکشن 2018ء میں خم ٹھونک کرمیدان میں آنے کی تیاریاں کریں۔لاہور کاحلقہ این اے 120ہویاکوئی اورقومی یاصوبائی نشست،کسی پارٹی کی ہارجیت وفاق کے علاوہ پنجاب ،سندھ،خیبرپختونخواہ یابلوچستان میں قائم صوبائی حکومتوں کے لیے خطرات پیدانہیں کرسکے گی۔سینٹ کی چندنشستوں پرنئے چہروں کی آمد سے بھی کسی پارٹی کوکوئی نقصان نہیں ہوگا۔بابراعوان کی جگہ آصف کرمانی بھی آجائیں تومختصر مدت کے لیے ہی ہوں گے ضرورت اس بات کی ہے کہ گھات میں بیٹھے دشمن کوایساکوئی موقع نہیں ملناچاہیے کہ غزوہ احد کی طرح اسے کوئی گھاٹی خالی نظر آئے ۔امید ہے نئی وفاقی کابینہ جلد ازجلد ذمہ داریاں سنبھال سکے گی۔ 
امریکہ، شمالی کوریا کے نشانے پر 
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے شمالی کوریا کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ امریکہ نہ تو وہاں کم جونگ کا اقتدار ختم کرنے کا خواہاں ہے اور نہ ہی اس ملک کے لئے خطرہ ہے لیکن اس کے برعکس شمالی کوریا حالیہ میزائل تجربات کے ذریعے امریکہ کی سلامتی کے لئے اندیشوں میں اضافہ کا سبب بنا ہے ۔ ریکس ٹلرسن نے یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں کسی وقت دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کا آغاز بھی کرسکتے ہیں۔ یہ مثبت اور سمجھداری کی باتیں ہیں اور عالمی سفارت کاری میں اس قسم کے رویہ کو عام کرنے کی ضرورت ہے ۔ لیکن ایک طرف امریکی وزیر خارجہ امن اور مفاہمت کا پیغام دینے کی کوشش کررہے ہیں تو دوسری طرف ری پبلیکن پارٹی کے ذرائع یہ بتا رہے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کا میزائل پروگرام روکنے کے لئے شمالی کوریا پر حملہ کا ارادہ رکھتے ہیں۔ امریکہ جیسی سپر پاور کی طرف سے اس قسم کے ملے جلے اشارے عالمی امن اور بین الملکی تعلقات کے حوالے سے اندیشوں کو جنم دیتے ہیں۔ری پبلیکن پارٹی کے ایک لیڈر گراہم لنڈ نے میڈیا کو بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ان سے کہا ہے کہ شمالی کوریا کو روکنے کے لئے اگر جنگ ہوگی تو وہ وہاں ہوگی اور اگر ہزاروں لوگ مریں گے تو وہاں مریں گے ، وہ یہاں نہیں مریں گے ۔ دنیا کی سب سے طاقتور فوج کے کمانڈر انچیف کے حوالے سے سامنے آنے والی اس قسم کی اشتعال انگیز اور انسان دشمن باتوں سے مفاہمت کا راستہ ہموار نہیں ہو سکتا۔ امریکہ اگر شمالی کوریا کے میزائل پروگرام کے بارے میں اندیشوں کا شکار ہے تو اسے اسی حکمت عملی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے جس کا اشارہ وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے دیا ہے ۔ امریکہ شمالی کوریا کا میزائل پروگرام رکوانے کے لئے ہمیشہ سے عالمی دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور دھمکیوں کا سہارا لیتا رہا ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے برسر اقتدار آنے کے بعد زیادہ سخت لب و لہجہ اختیار کیا ہے، تاہم اب اسے سفارتی طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔گزشتہ ہفتہ کے دوران پیونگ یانگ سے یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں شمالی کوریا یہ صلاحیت حاصل کرچکا ہے کہ وہ امریکہ کے مغربی حصوں اور اس سے بھی آگے مار کرسکتا ہے ۔ اس خبر نے صدر 
ٹرمپ کو اتنا بدحواس کیا کہ انہوں نے شمالی کوریا کے ساتھ چین کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ صدر ژی جن پنگ شمالی کوریا کو روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ دعویٰ کیا جانے لگا کہ اگر ضرورت پڑی تو شمالی کوریا پر حملہ کیا جاسکتا ہے ۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکی صدر کو انسانی جانوں کے ضیاع کی تو فکر نہیں ہے لیکن وہ امریکہ کی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے بے چین ہیں۔ صدر ٹرمپ کو یہ بیان دیتے ہوئے اس بات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ شمالی کوریا جیسے دور دراز اور بے وسیلہ ملک نے اگر دور تک مار کرنے والے میزائل تیار کر بھی لئے ہیں تو بھی وہ امریکہ کی فوجی طاقت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔شمالی کوریا کے میزائل امریکہ کے لئے خطرہ نہیں ہیں لیکن امریکی صدر کی عجلت، غیر ذمہ داری اور غیر سفارتی رویہ ضرور امریکہ کو نئی مشکل میں گرفتار کروا سکتا ہے ۔ امریکہ کو اندازہ ہونا چاہئے کہ شمالی کوریا پر حملہ کے ذریعے امریکہ کو محفوظ بنانے کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد خود حفاظتی کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکہ لاتعداد جنگیں کر چکا ہے ، جن میں مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے لیکن ان تباہ کن جنگوں میں ویت نام سے لے کر افغانستان تک لاکھوں معصوم لوگوں کو بھی ہلاک کیا گیا ہے ۔ اس خون ناحق کی ذمہ داری سو فیصد امریکہ کی سامراجی جارحیت پر ہی عائد ہوگی۔ افغانستان اور عراق کی جنگ امریکی جارحیت کی تازہ ترین مثالیں ہیں۔ اگر اس نے شمالی کوریا یا دنیا کے کسی دوسرے خطے میں پھر سے جنگ جوئی کرنے کی کوشش کی تو اس کا نتیجہ بھی پہلے کی جانے والی جنگوں کی طرح امریکہ کے لئے عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ کا باعث ہی بنے گا۔اس پس منظر میں وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کا بیان خوش آئندہ اور مصالحانہ ہے لیکن اس رویہ کو امریکی پالیسی کا حصہ بنانے کے لئے موجودہ حکومت میں شامل متوازن رائے رکھنے والے لوگوں اور ری پبلیکن پارٹی کے بااثر سیاستدانوں کو صدر ٹرمپ کو اشتعال انگیز بیان دینے سے باز رکھنے کی ضرورت ہے اسی طرح بہتر سفارت کاری اور مفاہمت کا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ شمالی کوریا کے قائد کم جونگ امریکی دھمکیوں اور جنوبی کوریا میں امریکی فوج کی موجودگی کی وجہ سے جائز طور سے تشویش اور اندیشے کا شکار ہیں۔ اگر امریکہ شمالی کوریا کے میزائل پروگرام سے پریشان ہے تو اسے کم جونگ کی پریشانی اور تشویش ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ 
این اے120 میں بائیومیٹرک مشینیں استعمال کرنے کافیصلہ 
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے میاں نوازشریف کووزارت عظمیٰ سے نااہل قراردیئے جانے سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے120کی خالی نشست پرضمنی الیکشن کے دوران بائیومیٹرک مشینوں کا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیاہے تاکہ صاف شفاف اور غیرجانبدار انہ انتخابی عمل رائج اورجعلی ووٹنگ کوروکاجاسکے ۔سپریم کورٹ کی تفصیلی ججمنٹ سامنے آنے کے باعث 17ستمبر کووہاں ہونے والے انتخابی دنگل کاشیڈول بھی جاری کردیاگیا ہے اس مقصد کے لیے مسلم لیگ (ن)نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف جبکہ تحریک انصاف اورپیپلزپارٹی نے بالترتیب ڈاکٹریاسمین راشد اورمحمدزبیر کاردارمیدان میں اتارنے کااعلان بھی کردیاہے ۔لاہورکے شہری علاقوں پرمشتمل قومی اسمبلی کے اس حلقے میں وال چاکنگ،بینرز اورفلیکسز آویزاں کرنے کے ساتھ متحارب پارٹیوں نے عوامی رابطے بھی شروع کردئیے ہیں ۔28جولائی کوپانامہ کیس کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی خصوصی بنچ نے وزیراعظم نوازشریف کوآئین کے آرٹیکل 62/1کے تحت نااہل قراردیاتوملک بھر میں عموماََ جبکہ پنجاب میں خصوصاََ سیاسی ہلچل مچ گئی۔مسلم لیگ(ن)اس وقت وفاق اورپنجاب میں بھاری اکثریت رکھنے کے ساتھ مئی 2013ء کے الیکشن میں پنجاب سے صوبائی اسمبلی کی 297 جنرل نشستوں میں سے دوتہائی اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوئی تھی قومی اسمبلی کی کل342نشستوں میں سے اس کے آج بھی188سے زائدارکان موجود ہیں جبکہ اتحادی جماعتوں اورفاٹا کے ارکان ملاکر شاہدخاقان عباسی کوایوان میں221 ووٹ حاصل ہوئے حالانکہ اس کے 12 ممبران نے ووٹ بھی کاسٹ نہیں کیاایسی ہی صورتحال پنجاب اسمبلی میں ہے اگرمیاں شہبازشریف وزیراعظم منتخب ہوجاتے ہیں توصوبے کانیا وزیراعلیٰ منتخب کروانامسلم لیگ(ن) کے لیے کوئی مشکل نہیں ہوگا۔وقت اورتاریخ کاپہیہّ آگے کی طرف رواں دواں رہتاہے جبکہ ادارہ جاتی کارکردگی مزیدموثر بنانے کے ساتھ جدید سائنسی وعصری تقاضے بھی پورے کیے جانے چاہیءں۔آج کے جدیددور میں انتخابی فہرستیں نہ صرف کمپیوٹرائزڈ بنائی جارہی ہیں بلکہ مردوخواتین ووٹروں کی تصاویر بھی الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں موجود ہیں جبکہ نادرا جیسے محکمہ کے وجود میںآنے کے باعث ہرشناختی کارڈہولڈرکامکمل ڈیٹااورنشان انگوٹھا تک سرکاری ریکارڈ میں موجود ہے۔2015ء میں ملک بھر میں موبائل ٹیلی فون کی سمیں رکھنے والوں کوان کی بائیومیٹرک تصدیق کے جس مرحلے سے گزاراگیاتھا،اس کے باعث بڑی حدتک ہرپاکستانی کامکمل کمپیوٹرائزڈ اورڈیجیٹل ریکارڈ نادراکے پاس محفوظ ہو چکاہے ۔یورپ میں بھی جدیدسائنسی والیکٹرانک سسٹم کافی عرصے سے کام کررہاہے جس کے باعث تما م معلومات تک آن لائن دستیاب ہیں ۔پاکستان میں انتخابی سرگرمیاں 1970ء سے پورے سیاسی واخلاقی ضابطوں کے ساتھ جاری وساری رہی ہیں مگربائیومیٹرک شناخت نہ ہونے کے باعث اصلی ونقلی ووٹر کی شناخت ناممکن ہوتی تھی مگراب ایسانہیں ہے خاص طورپر 2013ء کے عام انتخابات کے بعد تحریک انصاف کے عمران خان نے انتخابی دھاندلی کاالزام لگایاتو الیکشن کمیشن سمیت متعدد قومی ادارے اصلاح احوال کی طرف مائل ہوگئے ۔دوبرس قبل انتخابی عمل کوبائیومیٹرک سسٹم پرمنتقل کرنے کاآغاز ہوگیاتھا جس کے باعث کافی ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ بھی ہونے لگاہے جس کے نتیجے میں شفافیت یابہترجانچ پڑتال کے امکانات بہت بہترہوچکے ہیں۔اگرچہ اکتوبر2015ء سے دسمبر2015ء کے دوران پنجاب اورسندھ میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں بھی بائیومیٹرک سسٹم لانے کی کوششیں کی گئیں مگرالیکشن کمیشن مطلوبہ مقدار میں بائیومیٹرک مشین ارینج نہ کرسکاتاہم گزشتہ ماہ سندھ اسمبلی کی خالی نشست پی ایس114کراچی میں پیپلزپارٹی کے سعیدغنی اورمتحدہ کے کامران ٹیسوری سمیت 12 امیدوار میدان میں تھے جن میں تحریک انصاف اورجماعت اسلامی کے علاوہ کچھ آزاد امیدوار بھی شامل تھے ۔12جولائی کوہونے والے اس معرکے میں پیپلزپارٹی کے نامزد امیدوار نے 24ہزارووٹ حاصل کرکے کامیابی سمیٹی جبکہ ایم کیوایم کو18ہزار سے کچھ زائد ووٹ ملے مگر شکست تسلیم کرنے کی بجائے ڈاکٹرفارو ق ستار دھاندلی کاا لزام لگاتے ہوئے الیکشن کمیشن میں چلے گئے اورایک ہفتے تک انتخابی نتیجے کا سرکاری اعلان رکوائے رکھاگیا۔اگرچہ یہاں بھی جعلی بیلٹ پیپرز اورجعلی ووٹنگ کے الزامات سامنے آئے مگر ایک ووٹر پردرجنوں بیلٹ پیپرز پرنشان انگوٹھا لگانے کاالزام کافی سنگین تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایک گھر سے بیلٹ باکس برآمدہونے اوربڑی تعداد میں بیلٹ پیپر زکی موجودگی کے ساتھ امیدواروں کی انفرادی حیثیت میں دھاندلی کی کوششیں بھی محسوس کی گئیں ا گرچہ پیپلزپارٹی نے سندھ میں حکمران ہونے کے باعث اپنے امیدوار کوکامیاب کروانے کی کوششیں ضرور کی گئی ہوں گی مگرتمام پولنگ اسٹیشنوں کے اندراورباہر سندھ رینجرز کی موجودگی بڑی حدتک دھاندلی کی کوششوں کوناکام بنانے کی علامت بن گئی تھی۔اب جبکہ الیکشن کمیشن نے این اے 120کے ضمنی انتخاب سے قبل150بائیومیٹرک مشینیں ادارہ کے پاس ہونے کااعلان کردیا ہے اورانتخابی شیڈول جاری ہونے سے قبل نادراسے ووٹرز ڈیٹابھی حاصل کرناشروع کردیا توامید ہے کہ ملکی سیاست پراثرانداز ہونے والے اس ضمنی الیکشن کے لیے شفافیت ،غیرجانبداری اورآزادانہ فضا میں دھا ندلی سے پاک انتخابی عمل یقینی بنایاجائے گا۔صرف یہی نہیں بلکہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر)سرداررضاخان نے گزشتہ برس سویڈن سمیت چندممالک سے بائیومیٹرک مشینیں خریدنے کاجواعلان کیاتھا ،اس پرتیزی سے عملدرآمدکے لیے وزارت خزانہ سے مزیدفنڈز حاصل کرکے مطلوبہ تعداد میں بائیومیٹرک مشینیں مارچ 2018ء سے قبل یقینی حاصل کرلی جائیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں