آئین کی دفعہ 63-62 کی حفاظت کی جائے

بیس کروڑپاکستانیوں اور باقی دنیا میں پاکستان سے محبت کرنے اور یہاں کے معاملات میں دلچسپی رکھنے والے کئی کروڑ افراد کوایک سال سے زیادہ عرصے تک اضطرابی اور ہیجانی کیفیت میں رکھنے والا پانامہ کیس آخر کار اپنے انجام تک پہنچ گیا۔ ملکی معیشت کے علاوہ میڈیا اور عدلیہ کے اعصاب پرسوار اس کیس کا آخر کار فیصلہ آہی گیا۔ وزیراعظم نوازشریف نااہل ہوچکے ، اُن کی نااہلی اور قومی اسمبلی کی نشست سے محرومی کا الیکشن کمیشن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا۔
انہوں نے وزیراعظم ہاؤس بھی خالی کردیا ہے اور نئے عبوری وزیر اعظم نے اس اعلان کے ساتھ ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں کہ نواز شریف کو دوبارہ لائیں گے ۔ عدالتی فیصلہ سامنے دیوار پر لکھا ہوا تھا۔ حکمران بار بار خدشات کا اظہار کر رہے تھے ۔ سازشوں کا تذکرہ کر رہے تھے لیکن ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں تھے کہ آخر سیاسی لوگ تھے ۔ سیاسی رہنما اور میڈیا کے لوگ اس کیس پر اتنا کچھ کہہ چکے تھے اور اس کے اتنے پہلونکال لائے تھے کہ یہ کیس عام آدمی کو بھی پوری تفصیلات کے ساتھ ازبر ہو چکا تھا۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ اور سپریم کورٹ کی کارکردگی پر اتنا کچھ لکھا اور کہا جا چکا تھا کہ لوگوں کی ایک رائے بن چکی تھی۔ سارے تجزیے اور تبصرے حکمرانوں کے خلاف جا رہے تھے ، اس لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ اتنے ہنگامے اور اتنی بڑی رائے سازی کے بعد فیصلہ کچھ اور ہوتا۔ گویا عدالت کا حالیہ فیصلہ عملاً آوازِ خلق ہے ۔ خود راقم نے جن خدشات اور امکانات کا ذکر کیا تھا وہ سب کے سب اب کھل کرسامنے آ گئے ہیں۔

سابق وزیراعظم نا اہل کیوں ہوئے

اس دوران عدالت کے باہر لگی ہوئی میڈیا عدالت میں سب اپنی اپنی صفائیاں بھی دے رہے تھے اور مستقبل کے منصوبوں کا بھی تذکرہ کر رہے تھے ۔ چینلز ہر روز عدالتی کارروائی پر گھنٹوں ہر طرح کے ٹاک شوز کررہے تھے اور اخبارات اپنے تبصروں، کالموں، خبروں اور اداریوں میں اس کیس کے بخیے ادھیڑ رہے تھے لیکن عدلیہ انہیں روک نہیں رہی تھی نہ کسی اور جانب سے انہیں روکا جا رہا تھا۔ شاید منصوبہ ساز میڈیا ٹرائل چاہ رہے تھے اور عدلیہ عوام کی نفسیات، اُن کے خدشات اور اُن کے جذبات جاننے کے لیے میڈیا کو یہ سب کچھ کرنے دے رہی تھی، چنانچہ عدالتی کارروائی کے دوران فاضل جج صاحبان کے ریمارکس بتا رہے تھے کہ اُن کی تمام معاملات پر نظرہے ۔ جو کچھ سامنے ہے وہ بھی جو خواہشات کی شکل میں موجود ہے وہ بھی۔ یہ درست ہے کہ عدالت نے فیصلہ قانون اور آئین کے تحت کرنا ہوتا ہے ، لیکن عدلیہ عوام کی نفسیات اور اُن کے جذبات کو بھی نظر میں رکھتی ہے ۔
پانامہ کیس کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق اور
انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور اس میں اشرافیہ کے ساتھ ساتھ عوام کی نفسیات اور جذبات کو بھی نظرانداز نہیں کیا گیا۔ عوامی نمایندگی ایکٹ اور آئین کی دفعہ 63-62 کی جن دفعات کے تحت وزیراعظم کو نااہل قرار دیا گیا ہے وہ اسی مقصد کے لیے ہیں۔ جے آئی ٹی اور عدلیہ کے سامنے نوازشریف کے وکلا نے تسلیم کیا کہ نواز شریف کے پاس ‘کیپیٹل ایف زیڈای ’ نامی کمپنی کا اقامہ ہے ، جو اُن کے بیٹے کی ملکیت ہے ۔ وہ اس کمپنی کے چیئرمین کی حیثیت سے 10 ہزار ریال ماہانہ تنخواہ کے حق دار ہیں۔ یہ معاہدہ عدالت میں پیش بھی کیا گیا اور اس پر بیان حلفی بھی دیا گیا، تاہم وکلا نے اس بات پر اصرار کیا کہ نوازشریف نے کبھی یہ رقم وصول نہیں کی۔ عدالت نے اس پر بلیک ڈکشنری میں اثاثے کی جو تعریف کی گئی ہے اسے کارروائی کا حصہ بنایا ہے ۔ جس کے تحت کسی ادائیگی کا معاہدہ ہونا اثاثہ ہے ۔ وہ آپ کسی بھی وقت وصول کر سکتے ہیں اور وصول نہ بھی کریں تو آپ کا استحقاق موجود رہتا ہے ۔ اس اثاثے کو 2013؂ء کے انتخابات کے موقع پر کاغذاتِ نامزدگی جمع کراتے وقت ظاہر نہیں کیا گیا۔ گویا ایک حقیقت کو چھپایا گیا اور ایک جھوٹ بولا گیا۔ اس طرح کسی رکن اسمبلی کا یہ اقدام عوامی نمایندگی کے ایکٹ کے تحت اُسے دیانت دار اور آئین کی دفعہ 63-62 کے تحت اُسے صادق نہیں رہنے دیتا، اس لیے انہیں ان دفعات کے تحت نااہل قرار دیا جاتا ہے ۔ اس پر کسی تحقیق کی ضرورت اس لیے نہیں کہ نوازشریف اور اُن کے وکلا نے اسے خود تحریری اور اور زبانی طور پر تسلیم کر لیا ہے ۔ باقی معاملات پر چونکہ ٹرائل اور صفائی کا موقع دینے کی ضرورت ہے اس لیے انہیں احتساب عدالت کے سپرد کر دیا ہے اور انہیں چھ ہفتے میں عدالت میں پیش کرنے اور احتساب عدالت کو 6 ماہ میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔
پانامہ کیس جس نے ملکی سیاست کونئے راستوں پر ڈال دیا ہے اور اداروں کے لیے نئی راہیں متعین کر دی ہیں، اس کو یہاں تک لانے میں سب سے زیادہ اہم، لیکن خاموش کردار جماعت اسلامی نے ادا کیا ہے ۔ اگرچہ لوگ اب اس کا سارا کریڈٹ عمران خان کو دے رہے ہیں، لیکن اس میں بنیادی کردار جماعت اسلامی نے ادا کیا ہے ۔ چونکہ یہ کردار زیادہ تر خاموش کردار تھا اس لیے اس طرح لوگوں کے سامنے نہیں آ سکا جس طرح میڈیا نے عمران خان اور تحریک انصاف کے حوالے سے اسے پیش کیا ہے ۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ پانامہ کیس سے بہت پہلے غالباً ستمبر 2015ء میں جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے کرپشن کے خلاف مہم چلانے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے پشاور سے کراچی تک کرپشن کے خلاف ٹرین مارچ کیا اور کرپشن سے پاک خوشحال پاکستان کا نعرہ بھی دیا۔ کرپشن کے خلاف جماعت اسلامی نے ملک بھر میں ریلیاں، سیمینار اور مذاکرے بھی کرائے اور کرپشن کے خلاف مہم کے لیے لوگوں کو مالی اور اخلاقی حمایت پر بھی تیار کیا۔اپریل 2016ء میں پانامہ کیس آیا اور اُس میں حکمران خاندان سمیت ملک کے 936 مگرمچھوں کے نام آئے تو جماعت اسلامی نے بلاتفریق ان سب کا احتساب کرنے کی بات کی۔ جماعت اسلامی باربار یہ کہتی رہی کہ پانامہ میں جس جس کا نام آیا ہے اُس کا احتساب ہونا چاہیے ۔ اب تک جماعت کا یہی موقف ہے جبکہ امیر جماعت کا کہنا ہے کہ پانامہ کے تمام کرداروں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالیں گے ۔ کسی سیاسی وابستگی کی پروا کیے بغیر سب کا احتساب ہی ہمارے مسائل کا حل ہے۔ جماعت نے پانامہ فیصلے کے بعد ‘یومِ عزم’ بھی منایا اور اب پانامہ کے باقی کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے لائحہ عمل بھی بنا رہی ہے ۔
پانامہ فیصلے کے بعد ملک کو جن نئے چیلنجز کا سامنا ہوگا اُس میں جماعت اسلامی کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہو گا، اُسے ابھی سے اس کی تیاری کرنی چاہیے کیونکہ پانامہ کیس کو ہماری اطلاع کے مطابق سب سے پہلے سراج الحق ہی سپریم کورٹ لے کر گئے تھے ۔ انہیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ سپریم کورٹ کے ایک فاضل جج نے دورانِ سماعت یہ ریمارکس دیے تھے کہ اگر ’’آئین کی دفعہ 63-62 پر عمل ہوا تو سراج الحق کے سوا کوئی بھی نہیں بچ سکے گا۔‘‘ اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ مسلم لیگ نون اور اُن کے حلیف عدلیہ کے فیصلے کو متنازع بنائیں گے اور عدلیہ کی کردار کشی کریں گے ۔ اس موقع پر جب عدلیہ نے اتنا بڑا فیصلہ کسی خوف کے بغیر کیا ہے اس کی پشت پر کھڑے ہونے کی ضرورت ہے ۔ پوری قوم عدلیہ کے ساتھ کھڑی کرنے کا کام صرف جماعت اسلامی کرسکتی ہے کیونکہ اس کے کسی عہدے دار یا کارکن کا نام پانامہ میں ہے نہ کرپشن کا کوئی الزام۔
دوسرا اور اس سے بھی اہم چیلنج یہ ہے کہ اس فیصلے کے بعد نام نہاد لبرل اور ترقی پسند حلقے آئین کی دفعہ
63-62 کے پیچھے پڑ گئے ہیں جس کا اظہار اخبارات کے صفحات اورٹی وی سکرینوں پر ہو چکا ہے ۔ یہ بہت عرصے سے اس دفعہ کو آئین سے نکالنے کے درپے تھے ، اب اُن کو موقع مل گیا ہے ۔ یقینی طور پر اب مسلم لیگ نون بھی یہی چاہے گی جبکہ تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور دوسری جماعتوں کے لوگوں کے بھی نام پانامہ سیکنڈل میں موجود ہیں اور ان جماعتوں کی قیادتوں پر کرپشن کے دوسرے الزامات بھی موجود ہیں اس لیے وہ بھی آئین کی ان دفعات کوختم کرانا چاہیں گے ۔ یہ ایک تباہ کن کوشش ہوگی کہ ملک کا نظام چلانے والے افراد چاہے جتنے بدعنوان، بداخلاقی، بددیانت اور جھوٹے ہوں اگر انہیں ووٹ مل جائیں تو کوئی انہیں پوچھنے والا نہ ہو۔ اسی سوچ نے اب تک ملک کو تباہ کیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر اعلیٰ ترین عہدے دار سچے اور دیانت دار نہیں تو اُن کی باقی صلاحیتیں اور خصوصیات تو بے معنی ہو جاتی ہیں۔ جماعت اسلامی اس تباہ کن مہم کے خلاف سینہ سپر ہوجائے ۔ آئین کی ان دفعات کو بچانے کے لیے مہم چلائے ۔ ہم خیال جماعتوں کی کل جماعتی کانفرنس بلائے اور میڈیا پر آئین کی دفعہ 63-62 کو ختم ہونے سے معاشرے پر پڑنے والے برے اثرات کو نمایاں کرے ۔ یہ کام کوئی اور نہیں کرے گا۔ آئین کے لیے مر مٹنے کے سارے دعوے دار ان شقوں کوختم کرنا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ آئین کا حصہ نہیں۔ کیا ان دفعات کو منتخب اسمبلیوں نے آئین میں شامل نہیں کیا اور کیا قیادت کے لیے اس طرح کی پابندیاں ضروری نہیں ہیں، اس لیے جماعت اسلامی کسی تاخیر کے بغیر اس معاملے میں آگے بڑھے ۔
پانامہ کے باقی کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچانا جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے ۔ کوئی اور یہ نہیں چاہتا کیونکہ ان کے اپنے نام اس میں شامل ہیں۔ جماعت اسلامی ایک اور زوردار مہم چلا کر پانامہ کے باقی کرداروں کو بے نقاب بھی کرے اور حکومت اور اداروں کو مجبور بھی کرے کہ وہ پانامہ پیپرز کے 436 کرداروں کا بے رحم احتساب کریں اور لوٹی ہوئی دولت واپس پاکستان لائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں