سیاسی مفاہمت ضروری ہے !

سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے خلاف عدالتی فیصلہ کا جواب دینے کے لئے سیاسی جدوجہد شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس نتیجہ پر پہنچ چکی ہے کہ نواز شریف اور ان کا خاندان شاید عدالتوں میں نہ تو اپنی بے گناہی ثابت کر سکے اور عدالتیں بھی اب ان کے ساتھ رعایت کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ کیونکہ تحریک انصاف اور بعض دیگر سیاسی جماعتوں نے نواز شریف کی حکومت کے خلاف طویل عرصہ تک عوامی رابطہ مہم کے ذریعے ایک خاص ماحول بنایا ہے ۔ عدالتیں بھی اس دباؤ کو محسوس کر رہی ہیں۔ ایک غیر متعلقہ اور بے ضرر معاملہ میں منتخب وزیراعظم کی نااہلی یہ ظاہر کرتی ہے کہ سپریم کورٹ کے جج بھی عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز پر سماعت کی نگرانی کے لئے سپریم کورٹ کے جج کی تقرری اور 6 ماہ کے اندر ان مقدمات کا فیصلہ کرنے کا حکم بھی یہ نشاندہی کرتا ہے کہ شریف خاندان اور ملک کی عدالتوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت بدل رہی ہے ۔ نواز شریف بھی جانتے ہیں کہ احتساب عدالت میں بھی وہی سوال کئے جائیں گے جو 8 ماہ سے سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی میں کئے جاتے رہے ہیں۔ ان سوالوں کے وہ جواب شریف خاندان کے پاس دستیاب نہیں ہیں جو عدالتوں کو درکار ہیں۔ اور عدالت ان جوابات سے مطمئن ہونے کے لئے آمادہ نہیں جو نواز شریف اور ان کے بچے فراہم کرتے ہیں۔

نئی وفاقی کابینہ کی تشکیل میں تاخیر

اس پس منظر میں نواز شریف کی طرف سے جی ٹی روڈ کے ذریعے سیاسی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے لاہور جانے اور وہاں استقبال اور جلسے کی تیاریوں کا مقصد یہ اعلان ہی ہے کہ اب مسلم لیگ (ن) اپنی قیادت کی سرخروئی کے لئے سیاسی جہدوجہد کا آغاز کر رہی ہے ۔ نواز شریف نے وزارت عظمیٰ سے نااہل قرار پانے کے بعد ہفتہ بھر مری میں آرام کیا ہے اور ملک میں نئی حکومت کی تشکیل کے علاوہ پارٹی کی حکمت عملی تیار کی ہے ۔ ایک شاطر سیاستدان کی طرح وہ اپنی اگلی چال کا اعلان کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ تاہم آج انہوں نے اسلام آباد پہنچ کر اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ اپنی نااہلی کے معاملہ پر بہت کچھ کہہ سکتے ہیں لیکن وہ فی الوقت خاموش رہنا چاہتے ہیں۔ خاموشی کا اعلان کرتے ہوئے مرضی کی باتیں کہنا اور عدالت کے فیصلہ کو بالواسطہ سازش سے تعبیر کرنے کی کوشش کرنا ہی دراصل نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی حکمت عملی ہے ۔ ان کے پاس اس سے زیادہ کہنے کے لئے کچھ نہیں ہے ۔ لیکن وہ جب بھی میڈیا یا عوامی جلسہ سے بات کریں گے تو بہت کچھ کہنے کے بعد خاموش رہنے کا اعلان کرتے رہیں گے تا کہ سسپنس برقرار رہے ۔ اس دوران اگر نااہلی کے علاوہ کسی معاملہ میں نواز شریف کو گرفتار بھی کر لیا جاتا ہے یا سپریم کورٹ سرگرمی سے احتساب عدالت کی نگرانی کرتے ہوئے ان کے خلاف کوئی فیصلہ کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو نواز شریف کی سیاسی مہم کو مہمیز ملے گی۔ 28 جولائی کو نااہلی کا اعلان ہونے کے بعد سے نواز شریف کے لئے سیاسی ہمدردیوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ اگرچہ ان کے مخالفین بھی صف بندی کر رہے ہیں اور اس فیصلہ کو سیاسی کامیابی کے لئے استعمال کرنے کے جتن کر رہے ہیں۔ لیکن وزیراعظم ہاؤس میں مقیم نواز شریف کے مقابلے میں آزاد نواز شریف سیاسی لحاظ سے مظلوم کا بھیس بدل کر عوام کی زیادہ حمایت سمیٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔
پاناما کیس اور نواز شریف کی نااہلی سے پیدا ہونے والی صورتحال میں دو سوال بے حد اہمیت حاصل کر لئے گئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ عدالتیں کو کس حد تک سیاسی دباؤ میں فیصلے کرنے چاہئیں۔ اور کیا وہ ایک مقبول لیڈر کی گرفت کرکے ایک اچھی روایت قائم کر رہی ہیں۔ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ کیا عوام سے ووٹ حاصل کر کے کوئی بھی شخص اپنے گناہوں سے نجات حاصل کر لیتا ہے ۔ کیا منتخب ارکان اسمبلی اور خاص طور سے حکمرانی کرنے والے لوگوں کی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا احتساب ہونا چاہئے یا نہیں۔ بیک وقت دونوں سوالوں کے جواب تلاش کرتے ہوئے اس ملک کے لوگ عام طور سے تقسیم ہو جاتے ہیں۔ بعض کے نزدیک عدالتی اختیار بالاتر ہے اور سب سے پہلے صاحبان اقتدار پر ہی اس کا اطلاق ہونا چاہئے جبکہ دوسری رائے کے مطابق منتخب رہنماؤں کا احتساب صرف الیکشن کے ذریعے عوام ہی کر سکتے ہیں۔ حالانکہ سچائی ان کے بیچ کہیں موجود ہے ۔ بلاشبہ حکمرانوں کا احتساب ہونا چاہئے اور انہیں اور ان کے خاندانوں سے مالی لین دین کا جواب طلب کیا جانا چاہئے لیکن اسے کسی ایک ادارے کی خواہ وہ ملک کی اعلیٰ عدالت ہی کیوں نہ ہو ، یک طرفہ اور انتقامی کارروائی کے طور پر سامنے نہیں آنا چاہئے ۔ پاناما پیپرز میں نواز شریف کے بیٹوں کے علاوہ بھی سینکڑوں پاکستانیوں کے نام موجود تھے لیکن ان کے خلاف کارروائی کا ذکر تفنن طبع کے لئے ہی ہوتا ہے ۔ اور حقیقی معنوں میں عدالتوں یا اداروں نے ان لوگوں کی گرفت کرنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے ۔ اس صورت میں نواز شریف کے لئے سیاسی کارڈ کھیلنا آسان ہو جاتا ہے ۔ اسی لئے سپریم کورٹ سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ سیاستدانوں کے معاملات پر غور کرتے ہوئے اسی معیار پر عمل کرے جو وہ دوسرے لوگوں کے لئے اختیار کرتی ہے اور اس کے فیصلے بھی قانون کی حدود کے مطابق ہونے چاہئیں تا کہ انہیں سیاسی فیصلہ قرار دینے کی کوشش کامیاب نہ ہو سکے ۔

پٹرول اورڈیزل پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح بڑھانے کافیصلہ

اس حوالے سے یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ نواز شریف یا ان کے خاندان کے مالی معاملات کی گرفت کرتے ہوئے صادق اور امین کا معیار بروئے کار لا کر اس مسئلہ کو سیاسی رنگ دینا غلط طریقہ ہے۔28جولائی کے فیصلہ میں سیاسی عہدیدار کے لئے امانت اور دیانت کا جو معیار مقرر کیا گیا ہے ، یا تو سپریم کورٹ اسے ملک کے تمام سیاستدانوں، عہدیداروں، سرکاری افسروں اور دیگر شعبوں سے متعلق لوگوں پر نافذ کرنے کا اہتمام کرے یا یہ تسلیم کرے کہ آئین کی یہ شقات غیر حقیقی اور انسانی جبلت اور نفسیات سے متصادم ہیں۔ چونکہ فی الوقت یہ کام ممکن نہیں ہے ، اس لئے صرف ایک شخص کے معاملہ میں صداقت کا مختلف پیمانہ استعمال کرنے پر سپریم کورٹ کو ہی مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس معاملہ پر فل کورٹ میں غور کرتے ہوئے آئین کی شقات 62 اور 63 کے حوالے سے ایک متوازن اور قابل قبول تشریح سامنے لائیں تاکہ عام اخلاقیات پر عمل کرنے والے لوگ بھی اس پر پورا اتر سکیں۔ بصورت دیگر یہ قانونی بحران، سیاسی انتشار اور تصادم کی صورت میں زیادہ مشکل و پیچیدگی پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔
اسی طرح نواز شریف کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد سیاسی جدوجہد کے ذریعے سہولت حاصل کرنے کی کوشش کریں لیکن ملک کی سب سے بڑی اور مرکز اور پنجاب میں حکمران پارٹی کے لیڈر کے طور پر انہیں ذاتی رنجش کو ملک میں سیاسی تصادم کے لئے استعمال کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔ انہوں نے دانشمندی سے سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول کیا ہے ۔ اب سازش کا سہارا لے کر خود کو مظلوم ثابت کرنے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی بجائے ملک میں سیاسی مفاہمت کے لئے کام کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے ۔ نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلہ سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ آئین کی شقات 62 اور 63 کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ تا کہ اخلاقیات کے وہ معیار ملک کے سیاستدانوں کے خلاف استعمال نہ ہوں جو ایک فوجی آمر کی سیاسی ضرورت کی وجہ سے آئین کا حصہ بنائے گئے تھے ۔ اگر سپریم کورٹ اس حوالے سے ان شقات کی تشریح کرنے میں ناکام ہو رہی ہے تو مسلم لیگ (ن) کو اس مقصد کے لئے آئینی ترمیم کا اہتمام کرنا چاہئے ۔ اسی طرح ماضی میں سیاست میں فوج کی مداخلت کی وجہ سے سیاستدانوں کے خلاف بدعنوانی کے جو مقدمات بنائے گئے ہیں، انہیں کسی پارٹی تعلق سے قطع نظر ختم کرنے کے لئے ضروری قانونی اقدامات کئے جائیں۔ اس مقصد کے لئے پارلیمنٹ میں کوئی ایسا قانون منظور کروایا جا سکتا ہے جو سیاستدانوں کو ماضی میں عائد الزامات سے بری الذمہ قرار دینے کے کام آ سکے ۔ اسی طرح تمام پارٹیاں بدعنوانی کی حوصلہ شکنی کرنے کے لئے اقدامات کریں اور یہ تاثر ختم کرنے کی کوشش کی جائے کہ سیاسی قوت کے ذریعے قومی دولت لوٹنے اور اس لوٹ مار کا تحفظ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
یہ مشکل فیصلے ہیں۔ لیکن ملک کے بہتر مستقبل کے لئے سب سیاستدانوں کو اس بارے میں غور کرنا ہ گا۔ سیاسی معاملات پر بات کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کو مورد الزام ٹھہرا کر اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوششوں کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اگر سیاستدان یہ سمجھتے ہیں کہ بعض خفیہ قوتیں ان کے خلاف سرگرم ہیں تو پارلیمنٹ میں قانون سازی اور باہمی اشتراک سے انہیں ناکام بنانے کے لئے کام کیا جائے ۔ اس حوالے سے میثاق جمہوریت کو ایک رہنما دستاویز اور اصول کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ سیاستدان اگر اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہو سکیں اور اصولوں پر آگے بڑھنے کا تہیہ کر لیں، تب ہی ملک کے ادارے موثر اور طاقتور ہوں گے ، اسٹیبلشمنٹ کی قوت کم ہوگی، پارلیمنٹ مضبوط ہوگی اور عوام میں تلخیوں اور بدگمانیوں کو ختم کرنے کے لئے کام کیا جا سکے گا۔ اس کے برعکس اگر ذاتی مفاد اور فائدے کے لئے سیاسی قوت حاصل کرنے اور استعمال کرنے کا رویہ برقرار رہے گا تو ملک بدستور انتشار کا شکار رہے گا اور وہ قوتیں مضبوط ہوتی رہیں گی جن کی طاقت محدود کرکے ہی جمہوریت پروان چڑھ سکتی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں