پاکستان میں آئین سازی اور ترامیم کی افسوسناک تاریخ

پاکستان 1947ء میں معرض وجود میں آیا۔ پہلا متفقہ آئین 1973میں بنا یعنی کہ آزادی کے 26 سال بعد قوم کو باقاعدہ آئین دیا گیا دوسری طرف بھارت میں آئین جنوری 1949ہی میں تیار کر لیا گیا تھا اور برطانیہ کی بالا دستی کا طوق اتار پھینکا گیا تھا۔ جب کہ پاکستان میں ایسا نہ ہو سکا۔ اس کے پس پردہ سازشوں کی عجیب و غریب داستانیں موجود ہیں۔ وہ سب کہانیاں اتنی ہی پراسرار بھی ہیں جتنی کہ شرمناک۔
1956 تک برطانوی آئین سے ہی کام چلایا جاتا رہا ۔ 1956میں پہلی بار دستور کی تشکیل ہوئی تاہم دستور میں حقوق اور طاقت کا توازن نہ تھا جس کے باعث مشرقی اور مغربی پاکستان کی سیاسی طاقتوں میں اختلاف بڑھ جانے کی وجہ سے اکتوبر 1958 میں جنرل ایوب خان نے بطور کمانڈر انچیف آئین کو روندتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ 1962 میں جنرل ایوب خان نے اپنا تیار کردہ ایک آئین نافذ کیا جس میں خود ان کے لئے بہت کچھ تھا جس کا خلاصہ یہی تھا کہ ان کی اپنی حکومت کو تحفظ ملے جب کہ دوسری طرف عوام کو ان کے بنیادی حق رائے دہی سے محروم کردیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں لوگ مشتعل ہونے لگے لہذا سیاسی حالات بگڑنے لگے ۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ جنرل ایوب کو اپنا ہی بنایا ہوا آئین توڑنا پڑا اور اقتدار جنرل یحٰیی کے سپرد کردیا۔ گویا اقتدار ایک فوجی حکومت سے دوسری فوجی حکومت کو منتقل ہو گیا ۔ چونکہ ملک میں کوئی باقاعدہ آئین موجود نہ تھا لہذا جنرل یحیی نے لیگل فریم آرڈر کا سہارا لیا اور ایک عبوری آئین کی شکل اختیار کرتے ہوئے ریاستی معاملات چلانے شروع کئے ۔ اس دور میں کیا کچھ ہوا وہ ایک سیاہ ترین باب ہے ۔

آئین کی دفعہ 63-62 کی حفاظت کی جائے

1970میں پہلی بار جنرل الیکشن ہوئے ۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کو ووٹ ملے ۔ مشرقی پاکستان میں اکثریتی جماعت کا مینڈیٹ تسلیم نہ کیا گیا جس کے نتیجہ میں سیاسی کشیدگی اور فوجی مداخلت بڑھتی گئی۔ بدقسمتی سے پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔ آج بھی اس سانحہ سے کسی نے سبق نہیں سیکھا ہے ۔ 1973 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے فوجی مداخلت کے بغیر پہلا متفقہ دستور ملک کو دیا جو 14اگست کو نافذ ہوا تھا۔ اب تک یہی آئین ہے جس کے سہارے فوجی ، نگران اور سول حکومتوں نے اپنی اپنی رنگ بازیاں دکھائی ہیں ۔ کبھی مذہب کے نام پر اور کبھی روشن خیالی کے نام پر اور ہر بار اپنی ذات کو ہی دوام بخشا ۔ ہر فوجی حکومت نے اپنے مفادات کو مدنظر رکھا جب کہ سول حکومتوں نے جمہوریت اور صوبائی اختیارات اور حقوق کے نام پر آئینی ترامیم کیں۔ چونکہ مقصد مفادات کا حصول تھا نہ کہ عوامی فلاح و ترقی، لہذا انجام بھی برا ہی ہوا ۔
1973 کے آئین کے بعد سے اب تک آئین کے ساتھ اور اس کے اندر جو کچھ ہوا وہ بھی الگ داستان ہے ایسی داستان جو اپنے اندرنفرت ، تعصب، مفاد پرستی سمیٹے ہوئے ہے ۔ آئین کے خالق کے دور ہی میں سات ترامیم کی گئیں۔ سب سے پہلی ترمیم بھٹو کے دور میں 1974 ہی میں ہوئی جس میں مشرقی پاکستان کو تسلیم کیا گیا جب کہ چند ماہ بعد ہی دوسری ترمیم کے ذریعے احمدیوں کو سرکاری طور پر غیر مسلم قرار دیا گیاتھا۔ پانچویں ترمیم کے ذریعے سندھ اور بلوچستان کی ہائی کورٹس کو الگ الگ کیا گیا وہاں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے عہدوں کی میعاد پانچ اور چار سال مقرر کی گئی۔ ساتویں ترمیم بھٹو کی آخری ترمیم ثابت ہوئی۔ اس میں ریفرنڈم کے ذریعے عوام سے رجوع کرنے کا اختیار حاصل کیا گیا تھا۔ ضیاء الحق کے اقتدار پر قبضہ کے بعد 1985 میں پارلیمان نے معمولی ترمیم کے ساتھ آٹھویں ترمیم کو آئین کا حصہ بنا دیا۔ جنرل ضیاء کا نام آئین میں داخل کیا گیا اور حکومتوں کو ختم کرنے کا اختیار حاصل کیا گیا ۔ اس ناجائز طاقت کا استعمال کرتے ہوئے بعد میں چار حکومتوں کو ان کی آئینی مدت مکمل کرنے سے قبل ہی تحلیل کردیا گیا تھا۔
پاکستان کی سیاست اور آئین کی داستان کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو کے دونوں ادوار میں ایک بھی آئینی ترمیم ممکن نہ ہو سکی جب کہ نواز شریف کے دوپہلے ادوار میں جتنی بھی اہم ترین آئینی ترامیم ہوئیں، ان میں محترمہ نے نواز شریف کا بھرپور ساتھ دیا۔ یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ اگر محترمہ ساتھ نہ دیتیں تو نواز شریف کے لئے ترامیم کرنا ممکن نہ ہوتا لیکن بینظیر بھٹو ایک باعمل اور حقیقی معنوں میں جمہوری قائد اور سیاسی لیڈر تھیں لہذا انہوں نے جمہوریت کے استحکام کے لئے نواز شریف کا ساتھ دیا۔ بعد کی تاریخ اور وقت نے ثابت کیا کہ نواز شریف نہ صرف مفاد پرست سیاست دان کے طور پر سامنے آیا بلکہ اس کے اندرکی ضیائی ڈکٹیٹرشپ بھی ابھر کر باہر آنے لگی۔ نواز شریف کے دوسرے دور میں کی جانے والی تیرھویں ترمیم کے ذریعے اسمبلی ختم کرنے اور عسکری قیادت کے چناؤ کے اختیارات ختم کردئے تھے جوصدر کو حاصل تھے ۔ اسی دور میں جب کہ ارکان اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل کرنے کا کاروبار عروج پر تھا، اس کے سامنے بند باندھنے کے لئے چودھویں ترمیم منظور کرائی گئی اور ہارس ٹریڈنگ روکنے کی کوشش کی گئی۔ ان دونوں ترامیم کی منظوری میں محترمہ بینظیر بھٹو نے جمہوریت کے مفاد میں نواز شریف کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔
طاقت کا نشہ ہمیشہ ہی سے نواز شریف سمیت ہر ڈکٹیٹرشب کی کمزوری اور خواہش رہی ہے ۔ اہم ترین ترامیم کے بعد ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے نواز شریف نے پندرھویں ترمیم کے ذریعے اسلام کے نام پر مزید اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کی اور مجوزہ بل قومی اسمبلی سے منظور بھی ہوچکا تھا۔ سینٹ میں اکثریت نہ تھی لیکن اسی دوران حالات نے پلٹا کھایا اور پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ اس عرصہ کے دوران ایک بار پھر وقت کا پہیہ الٹا گھوما اور پرویز مشرف نے 2002 میں معطل شدہ آئین کو بحال کرنے کے بعد لیگل فریم آرڈر کے ذریعے اسمبلیوں کو تحلیل کرنے اور فوجی سربراہوں کی تقرری کے اختیارات واپس لے لئے اور قومی کونسل بھی دوبارہ قائم کردی۔ اسی سال معرض وجود میں آنے والی قومی اسمبلی نے متحدہ مجلس عمل کے تعاون سے ایف ایل او کو سترھویں ترمیم کے ذریعے آئین کا حصہ بنا دیا تھا۔
اب تک کی جانے والی آئینی ترامیم میں تیرھویں اور چودھویں ترامیم کے ذریعے حکومتوں کے احتساب کو مزید کمزور کردیا گیا جس سے من مانی کرنے کی نئی راہیں کھلتی گئیں اور آج پاناما کیس سمیت کرپشن اور بدعنوانی کے سب ریکارڈ انہی من پسند آئینی ترامیم کا شاخسانہ ہے ۔ اٹھارویں ترمیم ایک اہم ترین ترمیم ہے جس کے باعث اب تک کی آنکھ مچولی فوجی اور سول حکومتوں کے درمیان کھیلی جاتی رہی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے دور میں منظور ہونے والی اس آئینی ترمیم میں اپوزیشن کے دیرینہ مطالبات بھی شامل تھے اور اس میں صوبوں کو بہت سے اختیارات دیئے گئے ۔ اس ترمیم کے ذریعے قومی اسمبلی توڑنے کا صدارتی اختیار ایک بار پھر ختم کردیا گیا۔ صوبہ سرحد کا نام تبدیل کیا گیا، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کا اختیار پارلیمانی کمیٹی کو دیا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری قائد حزب اختلاف کے مشورہ سے مشروط ہے ۔ گورنر کے بہت سے اختیارات وزرائے اعلی کو مل گئے اور گورنر وزیر اعلی کے مشورے کا پابند کردیا گیا۔ سب سے اہم بات یہ کہ صوبوں کو مزید قانون سازی کے اختیارت بھی مل گئے ۔ میٹرک تک مفت تعلیم دینا صوبے کی ذمہ داری قرار پائی۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہے ۔
جنوری2015 میں اکیسویں ترمیم منظور ہوئی اوریہ دور بھی نواز شریف کا ہی تھا اور اس ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی گئی تھی۔ یہ بل بھی نواز شریف کی حکومت میں منظور ہوا۔ جمہوری سول حکومت میں ایسے بل کی منظوری افسوسناک امر ہے ۔ 24 ویں ترمیم لانے کا حکومتی فیصلہ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے بعد موجودہ حکومت کی طرف سے موخر کردیا گیا ہے اس بل کی وجہ سپریم کورٹ کی طرف سے ازخود نوٹس لینا اور کابینہ کی منظوری کے بغیر وزیراعظم کا فیصلوں کی منظوری کو کالعدم قرار دینا تھا۔
آئین اور ترامیم پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں حالیہ اٹھارویں ترمیم کے علاوہ کہیں بھی عام شہری کی ترقی اور اس کا مفاد نظر نہیں آتا، بلکہ اختیارات کی جنگ ہے جو ان آئینی ترامیم کے ذریعے لڑی گئی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کو ووٹ دینے والا ہر ووٹر آج بھی ایک وقت کی عزت کی روٹی کو ترستا ہے ۔ کوئی ایک ترمیم بھی اندھیروں میں ڈوبے گھروں میں اجالا نہیں کر سکی۔ مظلوم کو انصاف نہ دلا سکی۔ ڈگری ہولڈر آج بھی بیروز گار ہے ، بیمار کو آج بھی علاج میسر نہ آسکا ہے ۔ کہیں بھی اور کبھی بھی نہ تو اداروں کی اصلاح کے لئے کوئی مربوط منصوبہ بندی کی گئی اور نہ کہیں دانشمندانہ و پائیدار فیصلہ کیا گیا۔ ہر ترمیم کے پیچھے ذاتی اقتدار اور مفاد کا حصول ہی سر فہرست رہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں