تاریخ سے سبق سیکھناچاہیے

سابق وزیراعظم نوازشریف تبدیل شدہ شیڈول کے مطابق اب 9اگست کوجی روڈ کے ذریعے اسلام آبادسے لاہور پہنچیں گے۔راستے بھر میں جگہ جگہ ان کے استقبال کی تیاریاں عروج پرہیں جبکہ داتا دربار آمد کے لیے بھی استقبالیہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے ۔حمزہ شہباز کی زیرسربراہی قائم 8رکنی کمیٹی سکیورٹی انتظامات کاجائزہ لینے کے ساتھ مسلم لیگی ورکروں کے بڑے بڑے قافلوں کی آمدکی تیاریوں میں بھی مصروف ہے ۔چھ اگست کو بھی سابق وزیراعظم کی آمد کے لیے شاہدر ہ سے لے کربابوصابو پل اوروہاں سے مال روڈتک خیرمقدمی نعروں پرمشتمل جوفیلیکسز ،بینرزاورپوسٹرز لگائے گئے ،ان پرکروڑوں روپیہ خرچ کیاگیااور اب پھران کی جگہ نئی استقبالیہ فیلیکسز آویزاں کی جارہی ہیں اس انتظام واستقبال کاحقیقی مقصد سابق وزیراعظم کی عوامی مقبولیت اورمسلم لیگی وو ٹروں ،عہدیداروں ،ارکان پارلیمنٹ اوربلدیاتی نمائندوں میں ان کے احترام کو ثابت کرنے کے ساتھ پارٹی کی سٹریٹ پاورکامظاہرہ کرناہے ۔

سیاسی مفاہمت ضروری ہے !

اقتدار سے محرومی کے بعد ماضی میں بھی مختلف سیاستدانوں کی طرف سے اپنی عوامی مقبولیت ظاہرکرنے کے لیے جلوس اوراستقبالیہ تقریبات ہوتی رہی ہیں۔1967ء میں ذوالفقارعلی بھٹو کوایوب کابینہ سے الگ کیاگیاتوکراچی سے لاہورتک ان کے ٹرین مارچ کامقصد عوامی مقبولیت کااظہارتھا۔طویل جلاوطنی کے بعد1986ء میں محترمہ بے نظیربھٹو لاہورپہنچیں توبلاشبہ ملکی تاریخ کے سب سے بڑے اورطویل استقبال کی تاریخ رقم ہوگئی۔مئی 1988ء میں محمدخان جونیجو کووزارت عظمیٰ سے الگ کیاگیا توسندھ میں جگہ جگہ عوامی وزیراعظم کے بینرز لگے نظر آئے ۔90ء اور96ء میں محترمہ بے نظیربھٹو کوکرپشن الزامات پراقتدارسے نکالاگیا توپیپلزپارٹی نے جگہ جگہ ان کے لیے استقبالیہ تقریبات کااہتمام کرکے عوامی ہمدردی کونہ صرف کیش کروایابلکہ ان کی سیاسی مقبولیت بھی مقتدرحلقوں تک پہنچانے کی کوشش کی ۔میاں نوازشریف کو1993ء میں صدرغلام اسحق خان نے کرپشن الزامات پر وزارت عظمیٰ سے فارغ کیاتوعدالت عظمیٰ نے 58(2)B کے استعمال کوغلط قراردیا۔18اکتوبر2007ء کوبے نظیربھٹو خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے کراچی آئیں توائرپورٹ سے کارسازتک ان کافقیدالمثال استقبال بھی ان کی بھرپور عوامی مقبولیت کاکھلااظہار تھا۔میاں نوازشریف نے مشرف دور میں سعودی عرب میں 7سالہ جلاوطنی کے بعداسلام آباد اورلاہور کے ائرپورٹس پر دومرتبہ اترنے کی کوششیں کیں مگربرسراقتدار قائداعظم مسلم لیگ نے ان کے جہازکارخ واپس موڑدیا۔28جولائی کوعدالت عظمیٰ کی طرف سے میاں نوازشریف کی نااہلی البتہ ملکی تاریخ کاایساباب ہے جسے سیاسی رنگ د نیاغیرمناسب ہے ۔اگرچہ اقتدارسے محرومی کے فیصلے کوبرسراقتدار مسلم لیگ(ن)نے نہ صرف تسلیم کیابلکہ خود سابق وزیراعظم نے بھی پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم کردیاتھا۔یہ الگ بات ہے کہ 29/30جولائی کوپنجاب ہاؤس میں مسلم لیگ (ن)کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد سابق وزیراعظم عدالتی فیصلے کواپنے ساتھ سیاسی یایکطرفہ کارروائی قراردیتے رہے ۔گزشتہ روزبھی پنجاب ہاؤس میں تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے دبے لفظوں میں انتہائی معنی خیز گفتگوکے دوران الزام لگایاکہ احتساب کے نام پر شریف خاندان کونشانہ بنایاگیا۔انہوں نے کہا’’مجھے معلوم ہے میرے ساتھ آگے کیاہونے والاہے مگرمیں اداروں سے ٹکراؤ نہیں چاہتا۔‘‘انہوں نے کہا’’میرااحتساب نہیں بلکہ استحصال کیاگیا مگرمیں جھکوں گانہیں‘‘ انہوں نے کہاکہ’’سویلین بالادستی‘‘ کوتسلیم کیاجائے ۔مجھے نااہل کردیاگیا مگر عوام نے پانامہ فیصلہ تسلیم نہیں کیا۔انہوں نے کہااربوں روپے لوٹنے والے آج تک نہیں پکڑے گئے ۔آئین توڑنے والوں کوبھی سزانہیں دی گئی جوسازش تھی اسے بے نقاب کیاجائے گا۔جہاں تک مسلم لیگی رہبرکے تحفظات اوربیانات کاتعلق ہے تواسے نہ صرف قانونی وآئینی حلقوں میں گہری تشویش کی نظروں سے دیکھاجارہاہے بلکہ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے ملک میں سیاسی افراتفری اورانارکی پھیلانے کے مترادف قراردیاجارہاہے۔ سیاست قوم کوبہترمستقبل کی طرف لے جانے اورعوامی طاقت سے مسائل حل کروانے کی بنیاد ضرور ہے مگربدقسمتی سے اسے آج ایک منافع بخش کاروبار،مفادپرستی کاذریعہ بلکہ تجارت بناکررکھ دیاگیا ہے ۔ جولائی 1977ء کوذوالفقارعلی بھٹوکاتختہ الٹنے والے جنرل ضیاء الحق اپنے گیارہ سالہ دور میں سابق وزیراعظم یاان کے رفقائے کارپر کرپشن کے الزامات نہ لگاسکے مگرانکے دور میں سرمایہ دار،صنعتکار اورتاجرحکومتی چھتری تلے اکٹھے ہوگئے اورپیپلزپارٹی کی نیشنلائزیشن پالیسیوں کواپنے ساتھ انتقامی کارروائیاں قراردے کر مالی مفادات اٹھانے کی راہ پر گامزن رہے ۔قومی بنکوں سے بھاری قرضے لے کرمعاف کرنا،لاہور،اسلام آبادمیں سرکاری پلاٹوں کی الاٹمنٹ،معدنیات کے ٹھیکے لینا اورقیمتی اراضیوں کوانتہائی سستے داموں خریدنامعمول بن گیا۔بے نظیر بھٹو اورنوازشریف کے ادوار حکومت میں توسرکاری وسائل کی لوٹ مار عام ہوگئی،سفارتکاری ،وزارتیں ،بڑے بڑے آئینی وانتظامی اداروں کے سربراہ سیاسی نقطہ نظر سے مقررکیے جانے لگے ۔ریلوے ،پی آئی اے،قومی بنکوں اوردیگراداروں میں سیاسی بھرتیاں عام ہوگئیں۔انکم ٹیکس،ایکسائزڈیپارٹمنٹ ،واپڈا،سوئی گیس،پولیس ،محکمہ انہار،آبپاشی ،تعلیم اورصحت کے محکموں میں اقرباپروری عروج پرپہنچ گئی ۔میرٹ کی بجائے منظورنظر افرادکاتقرر اس حد تک عام ہوگیا کہ چندماہ قبل سپریم کورٹ کوایف بی آر میں ترقیوں اورتقرریوں میں 296بیوروکریٹس اوراعلیٰ افسروں کی اگلے عہدوں سے تنزلی کرنی پڑی۔ صرف یہی نہیں ریکوڈک،رینٹل پاورپلانٹس، وزارت حج اورمذہبی امور ،این آئی سی ایل،ریلوے،بیرونی تجارت حتیٰ کہ دفاعی معاہدوں تک میں کک بیکس،رشوت ،کمیشن اورلوٹ مارکے فسانے عام ہوئے ۔این آراو کے تحت 8041 لٹیروں کوعام معافی ملی جبکہ نیب خائن اورلٹیروں کے ساتھ پلی بارگین تک محدود ہوکررہ گئی ۔گزشتہ برس بلوچستان کے سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے گھرسے86کروڑ روپے برآمد اوراربوں کی پراپرٹی پکڑی گئی۔بلوچستان اسمبلی کے رکن خالدلانگو،سابق وفاقی وزیر ڈاکٹرعاصم پراربوں روپے لوٹنے کے الزامات لگے مگرآج تک کسی کوسزانہیں مل سکی۔میاں نوازشریف اس بات کوبھی نظرانداز نہیں کرسکتے کہ اپریل2016ء میں منظرعام پرآنے والے پانامہ پیپرز میں 436پاکستانیوں پربیرون ملک آف شورکمپنیاں بنانے اور200ارب ڈالر ان کمپنیوں میں انوسٹ کرنے کے انکشافات ہوئے ۔یہ بات بھی فراموش نہیں کی جاسکتی کہ صرف دبئی میں پانچ برس کے دوران پاکستان سے 450ارب ڈالرمنی لانڈرنگ اورسمگلنگ کے ذریعے منتقل کرکے جائیداد یں خریدی گئیں۔بحیثیت وزیراعظم پاکستان ایسے الزامات اورلوٹ مار کانوٹس لینا بھی ان کی ذمہ داری تھی۔اگرنیب ،سکیورٹی ایکسچینج کارپوریشن آف پاکستان،ایف آئی اے اورسٹیٹ بنک صورتحال کانوٹس لیتے توعدالتوں کومداخلت نہ کرنی پڑتی ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ سپریم کورٹ یاچاروں ہائیکورٹس میں ایسی لوٹ مار کوچیلنج کیاگیاتھا۔عوامی مقبولیت اپنی جگہ اہم ضرورہے مگرکریمنل کیس میں ملوث افرادکوعدالتی کٹہروں میں کھڑے ہوکراپنی بے گناہی ثابت کرنی پڑتی ہے
۔سیاسی مخالفین پرانتقامی کارروائی کے تحت مقدمات قائم کرنا جمہوری روایات سے انحراف اور ملک میں سیاسی یاضمیر کے قیدی پیداکرنے کے مترادف ہے ۔میاں نوازشریف گزشتہ33برس سے سیاسی میدان میں موجود اورتین مرتبہ ملک کے چیف ایگزیکٹو رہ چکے ہیں صرف یہی نہیں بلکہ1984ء سے1988 ء تک پنجاب کے وزیراعلیٰ کے طورپربھی فرائض سرانجام دیتے رہے اس لیے اصولی سیاست ،سیاسی انتقام اورعدالتی انصاف جیسے معاملات ان کی نظروں میں ہوں گے۔وزارت عظمیٰ سے علیحدگی کے بعد اپنی پارٹی کے پہلے اجلاس سے خطاب کے دوران انہوں نے گردش دوراں کی سختیاں جھیل کرنظریاتی بن جانے کا دعویٰ کیاتھاجس کے بعد امید تھی کہ وہ اقتدار سے علیحدگی کوجہاں سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست کے ذریعے تبدیل کروانے کی کوشش کریں گے،وہیں عوام میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے ساتھ سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنی عوامی مقبولیت کوبڑھائیں گے۔آئینی اداروں کے ساتھ ٹکراؤکاتاثر غلط ثابت کرنابھی ان کی سیاسی اہمیت ومقبولیت قا ئم رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ مگرنئی وفاقی کابینہ میں ایسے وزراء کوبھی شامل کیاگیا جوپانامہ فیصلے کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اگر اسلام آباد سے لاہورتک بذریعہ جی ٹی روڈسفر کامقصد تحریک انصاف،پیپلزپارٹی اورجماعت اسلامی کاسیاسی میدان میں مقابلہ کرناہے تواسے سراہاجائے گامگرسویلین بالادستی کی آڑ میں آئینی اداروں سے ٹکراؤ کے نتائج خودجمہوریت اوراستحکام جمہوریت کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں ۔سابق وزیرا عظم کو ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں ایسی راہ اختیار نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان کی سلامتی کونقصان پہنچانے کی تاک میں بیٹھے عناصر کوکھیل کھیلنے یااپنے گھناؤنے عزائم کی تکمیل کاموقع ملے ۔انہیں اپنی سیاسی حکمت عملیوں اورجدوجہد کافوکس جمہوریت کے تسلسل اورانصاف وقانون کی بالادستی مستحکم کرنے پررکھناہوگا۔جمہوریت ڈی ریل ہوجائے توپھر دستور کی سپرمیسی بحال کرنے میں طویل جدوجہد اورعرصہ درکارہوتاہے ۔چوہدری نثارانہیں جس راستے پرچلنے کامشورہ دیتے رہے ہیں ،وہ مشکلات ،رکاوٹوں اورسیاسی مخالفین کے بچھائے گئے سازشی جال سے بچ بچاکر گزرجانے کاانتہائی جامع راستہ ہے امید کرنی چاہیے کہ میاں نوازشریف اپنے اندرچھپے کرب اوربے چینی کے باوجود اعتدال کاراستہ اپنائیں گے تاکہ پاکستان کے خلاف سازشیں کامیاب نہ ہوسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں