ہمارا نظریاتی یوٹوپیا

پاکستان کا مطلب کیا
لا الہ الاللہ
جی ہاں ، بلندو بانگ دعوے اور نعرے ایجاد کرنا ، خواب دیکھنا اور تاریخ کی کتابوں میں اپنے دینی و نظریاتی آباؤاجداد کے قصے دہرانا اور اُن کی عظمت کی قسم کھا کر سر دھننا ، ہمارا پُرانا رویہ ہے ۔ نعروں کی جگالی کرتے کرتے ستر برس ہونے کو آئے مگر اس قوم کی حالت عموداً نہیں بدلی ۔ ہم نے لا الہ کے رستے پر اعلیٰ روحانی اور اخلاقی اقدار کا سفر طے نہیں کیا ، کیونکہ یہ ہم سے ہو ہی نہیں پایا تاہم برساتی مینڈکوں کی طرح شور بہت مچایا گیا ہے ۔
ہم جو زمین پر ایک جنتِ ارضی بنانے چلے تھے کہ ایک ایسا ملک ہوگا جہاں ہم مکمل آزادی کے ساتھ رہیں گے اور اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے ، وہ ہم سے بن نہیں پایا ۔ کتاب اللہ میں تو لکھا ہے کہ جو دین میں پورا داخل ہوگیا ، وہ جنت میں داخل ہو گیا ، جس سے بعض صوفیا نے استنباط یہ کیا کہ اللہ اور رسول ﷺ کے قوانین کی بالادستی اُس معاشرے کی اساس ہے جو زمین پر جنت کی مثال ہوگا اور پھر یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ جو یہاں اندھا ہے ، وہ آگے بھی اندھا اُٹھایا جائے گا ۔ یعنی جس نے زمین پر جنت نہیں دیکھی وہ آگے بھی نہیں دیکھ پائے گا اور وہ جنت دین میں پورے داخلے کا نام ہے ۔
ہمارے اداروں کی بد قسمتی ہے کہ وہ نہایت فرسودہ تصورات کے امین ہیں ۔ حکمران جب کسی مشکل ، کٹھن یا غیر معمولی صورتِ حال سے دو چار ہوتے ہیں تو وہ مسائل کے حل کے لیے قانون سازی کی بات کرتے ہیں۔ یہ وہ باسی اور فضول بیانیہ ہے جس کا کوئی حقیقی مطلب نہیں کیونکہ جب پہلے سے موجود قوانین پر عمل نہیں ہوتا تو کوئی نیا قانون بنا کر کس کو دھوکا دینا ہوتا ہے ۔

جی ٹی روڈ کا سفر اور عمران خان کی پریشانی

اب پھر یہ چلا ہوا لفظی کارتوس نظریاتی بندوق میں بھرا جا رہا ہے کہ فرد کو نہیں ادارے کو مضبوط کرنا ہے ۔ اس بیان کے اصل تناظر کو سمجھنے کے لیے فرد اور ادارہ دونوں کی از سرِ نو تفہیم اور اُن کے وجودی تعین کی ضرورت ہے کہ فرد کون ہے اور نا فرد کون ، اور ادارہ کیا ہے اور نا ادارہ کیا ہے ۔ سب سے بڑا مرکزی اور معاشرتی ادارہ قوم ہے جو انتظامی اصطلاح میں ریاست ہے ۔ ریاست ایک نظام ( سسٹم) کی مرہونِ منت ہے ۔ گویا قوم ، ریاست اور سسٹم لازم و ملزوم ہیں اور کسی ایک کی عدم موجودگی میں تینوں مفقود ہو جاتے ہیں ۔ ریاست کے ذیلی اداروں میں انتظامیہ ہے جو اسمبلیوں ، سینیٹ ، سیاسی جماعتوں اور قانون نافذ کرنے والی مشینری پر مشتمل ہے جبکہ معاشرتی اصطلاح میں وہ طبقات ہیں جو مل کر قوم بناتے ہیں ۔
یوں تو سماجی طبقات کی تقسیم در تقسیم کی بنا پر طبقات کے ان گنت نام ہیں مگر بنیادی طور پر اقتصادی درجہ بندی کے اعتبار سے قوم اعلیٰ ، درمیانہ ، نچلے درمیانہ اور نچلے طبقات میں تقسیم ہے ۔ ریاست کا کام یہ ہے کہ وہ ان طبقات کو بنیادی حقوق کی فراہمی کی ضمانت دے ، لیکن جب حکمران اور اعلیٰ طبقات صرف اپنے طبقے کو ترجیحی بنیادوں پر سہولتیں فراہم کریں تو ریاست حقیقی معنوں میں ریاست نہیں رہتی بلکہ طبقاتی نراجیت کا شکار ہو جاتی ہے ۔ اعلیٰ طبقہ طاقت کا سر چشمہ ہوتا ہے اور اُس کی طاقت اقتدار اور وہ مال و دولت اور املاک کے اثاثے ہوتے ہیں ۔ وہ طبقہ اور اُس کے طفیلیے ملکی وسائل اور حکومتی اختیارات کو اپنی نجی ملکیت اور ذاتی مراعات کے طور پر اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں اور ملک کے بلا شرکتِ غیرے مالک بن بیٹھتے ہیں۔ جیسا کہ پاکستان میں ہوتا رہا ہے اور ہو رہا ہے ۔
طبقاتی نراجیت میں قانون کی طاقت تو مفقود ہو جاتی ہے لیکن اس کی جگہ لاقانونیت لے لیتی ہے کیونکہ قانون کی اصل صورت قانونی دستاویزات نہیں ، قانون پر عمل درآمد ہے اور یہی اصل ریاستی طاقت ہوا کرتی ہے جس کی عدم موجودگی میں پاکستان ایک کمزور ترین ریاست بن گیا ہے جہاں قانون کی حکمرانی کے بجائے جہالت ، لا قانونیت ، ہٹ دھرمی ، دھونس ، دھاندلی اور کرپشن کی ریل پیل ہے اور وہ اس لیے ہے ,کیونکہ اداروں کو بنانے اور چلانے والے افراد قانون کی پاسداری اور اخلاقی اقدار سے محرومی کے باعث کمزور ہو چکے ہیں اور یہ کمزور لوگ اپنی نا اہلی کے باعث اداروں کو کھنڈرات میں تبدیل کر چکے ہیں جس کی وجہ سے پوری معاشرتی عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی ہے ۔
ادارے اور فرد کے بارے میں قرآنِ حکیم کا ایک بہت واضح بلکہ واشگاف بیان ہے کہ :کہ فرد کو بدلے بغیر قوم کو نہیں بدلا جا سکتا جس کا مطلب ہے کہ فرد کو بدلے بغیر ادارہ نہیں بدل سکتا ۔
فرد قومی عمارت کی اینٹ کی طرح ہے اور اگر قومی عمارت کی اینٹیں ٹیڑھی ہوں تو اس کی بنیاد ٹیرھی ہو جاتی ہے جس سے پورا آوا ہی بگڑ جاتا ہے ۔ حضرت رومی علیہ رحمت گواہ ہیں :
خشتِ اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج
( اگر معمار پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھے تو دیوار بلندی تک ٹیڑھی ہی تعمیر ہوتی ہے ۔)
فرد ، معاشرے کی اساس ہے ۔ فرد کی تبدیلی قوم ، معاشرت اور سسٹم کی تبدیلی کی بنیاد ہے اور فرد کو تبدیل کیے بغیر معاشرتی انقلاب کی باتیں کرنے والے خام خیالی کے مریض ہیں جنہیں تبدیلی کے ہجے تک نہیں آتے ۔
اِس کا نتیجہ یہ ہے کہ نظریہ پاکستان ایک ایسا اسلامی یوٹوپیا بن چکا ہے جس میں حقیقی مسلمان تو موجود نہیں مگر تبلیغ اور پراپیگنڈہ بہت ہے اور یہاں لوگ عمل کے بجائے تحریرو تقریر کو حتمی سچائی سمجھتے ہیں:
رومی نے فرمایا:
زیں ہمرہانِ سست عناصر دلم گرفت
شیرِ خُدا و رستمِ دستانم آرزوست
مگر ہم چاروں طرف سے سست عناصرمیں گھرے ہیں جہاں کوئی اللہ کا شیر اور کوئی ہاتھ کا رستم دکھائی نہیں دیتا ، تاہم پاکستانیوں کو اُن کا یوٹوپیا مبارک ہو!

اپنا تبصرہ بھیجیں