آرٹیکل62,63کے خلاف ن لیگ اورپیپلزپارٹی کااتحاد؟

وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے کہاہے کہ پارلیمنٹ میں وزیراعظم کی کہی ہوئی کوئی بات غلط نکلنے پرنااہلی کی سزادرست نہیں ۔آئین پاکستان میں شامل آرٹیکل 62,63تبدیل کرنے کے لیے پارلیمان میں موجود جماعتوں سے رابطہ کروں گا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ایوان موجودہ حالات اورصورتحال کاجائزہ لے کر آئین میں بہتری لائے ۔بطورچیف ایگزیکٹو سیاسی ،انتظامی،عدالتی ودستوری مسائل پر پہلی مرتبہ کھل کراظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آرٹیکل 62,63 توکلیریکل غلطی پر بھی لگ جاتاہے ۔انہوں نے اس بات کااعادہ کیاکہ میاں نوازشریف آج بھی’’ ان کے وزیراعظم‘‘ ہیں ۔ایم کیوایم کی طرف سے وزارت عظمیٰ کے لیے انہیں ووٹ دینے کے سوال پر شاہدخاقان عباسی نے واضح کیا کہ ایساکسی ڈیل کانتیجہ نہیں .

پاک فوج اور آئین کی بالا دستی

ہم نے فاروق ستار اوران کے ساتھیوں کی شکایات سنی ہیں ،وہ ہماری حمایت نہ بھی کرتے توبھی ان کی جائز شکایات کی کاازالہ ہماری ترجیح بلکہ ذمہ داری ہوتی۔کراچی میں امن وامان کے لیے حکمران مسلم لیگ(ن) کی خدمات کاحوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا جوکچھ ہم نے شہرقائد کی رونقیں بحال کرنے کے لیے کیا،شاید ہی کسی اورجماعت نے کیاہو۔کابینہ کے موجودہ حجم کادفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک میں49ڈویژن ہیں،ہرڈویژن سے کم ازکم ایک وزیرتوضرور ہوناچاہیے بلکہ بعض گنجان آباد ڈویژنوں سے 2/2 وزیرہونے چاہئیں۔فاٹاکوخیبرپختونخواہ میں شامل کرنے اوریہاں کے حقوق کاتحفظ یقینی بنانے کے لیے مسلم لیگ(ن)کلید ی کرداراداکرے گی ۔جہاں تک وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کاآرٹیکل 62/63 کے متعلق رویے کاتعلق ہے تواسے درست نہیں کہاجاسکتا۔آئین میں صادق اورامین ہونے کی شق نہ ہوتو اچھے برے،کھوٹے کھرے اورجھوٹے سچے کے لیے کونسا معیار باقی رہ جائے گا؟آئین بنانے والوں نے وقتی مصلحتوں اورعصری تقاضوں سے بہت آگے جاکر انتظامی عدالتی،قانونی ،معاشرتی ،معاشی ومذہبی باریکیوں کے تناظر میں عوامی خواہشات کے مدنظر جومقدس دستاویز تیار کی،وہ ہمارے ریاستی ڈھانچے ،انتظامی اختیارات اور قومی فرائض کی بجاآوری کے لیے نشان منزل ہے ۔اگرچہ اگست1973ء میں نافذ ہونیوالے آئین میں چاربرس کے دوران پانچ ترامیم کی گئیں جن میں سے چند توانتہائی ناگزیر بلکہ جذباتی حدتک ضروری تھیں یعنی مزرائیوں کوغیرمسلم قرار دینے کافیصلہ، مسلمان کی تعریف کے تناظر میں وقت کی اہم ضرورت تھا۔اگرچہ صدارتی اختیارات کومزید کم کرنے یاوزیراعظم کواضافی اختیار دینے جیسی آئینی ترامیم بھی لائی گئیں تاہم مجموعی طورپر اسلامی،وفاقی،جمہوری اورپارلیمانی طرز حکومت کوہی مرکزی حیثیت حاصل رہی۔جنرل ضیاء الحق نے جولائی1977ء میں اقتدار پرقبضہ کیاتوآئین کاحلیہ اورنوعیت ہی تبدیل کرنے کی افسوسناک کوششیں کی گئیں اوراُ سے پارلیمانی کی بجائے صدارتی بناکر رکھ دیاگیا۔آئین میں قرارداد مقاصد کوشامل کرنے کے ساتھ آرٹیکل62,63 میں بھی تبدیلیاں کی گئیں۔فوجی آمرنے58(2)Bکے ذریعے اسمبلیاں معطل وتحلیل کرنے کے ساتھ وزرائے اعظم کوبلاسوچے سمجھے گھر بھیجنے کاراستہ ہموارکردیاتھا۔یہی دفعات بعدازاں سابق صدور غلام اسحق خان اورفارو ق لغاری نے بھی استعمال کیں جبکہ اکتوبر1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے بھی آئین کے ساتھ چھیڑچھاڑ کاسلسلہ جاری رکھااورمنتخب ارکان پارلیمنٹ کی بجائے ایک فرد واحد من مانیاں کرتارہا۔غیرجماعتی انتخابات اورپارلیمنٹ کے اندرسیاسی جماعت بناکرمحمدخان جونیجو جیسے منتخب عوامی نمائندے کووزارت عظمیٰ پربٹھانے اورفارغ کرنے کی آمرانہ روش 2002ء سے 2008ء تک بھی جاری رکھی گئی۔میرظفراللہ جمالی ،چوہدری شجاعت حسین اورشوکت عزیز بااختیار وزرائے اعظم نہیں بلکہ کٹھ پتلی چیف ایگزیکٹو کے طورپرکام کرتے رہے۔تاہم2008ء میں اختیارسنبھالنے والی پیپلزپارٹی نے نہ صرف صدارتی اختیارات کم کیے بلکہ وزیراعظم کوملک کاحقیقی چیف ایگزیکٹو بنانے کی راہ ہموار کی گئی۔اگرچہ وفاقی پارلیمانی نظام میں و زیراعظم کووسیع انتظامی،مالیاتی وقانونی اختیارات کاحامل قراردیاجاتاہے مگرآئین میں صدرمملکت ،آرمی چیف ،چیف جسٹس آف پاکستان ،آڈیٹر جنرل اورخودمختاراداروں کے سربراہوں کے اپنے اختیارات بھی ہوتے ہیں ۔اگروزیراعظم ،آرمی چیف،عدلیہ اوردیگرآئینی وانتظامی سربراہ اپنی ڈومین(DOMAIN)میں رہیں توادارو ں میں ٹکراؤہوتاہے نہ جمہوریت ڈی ریل ہوتی ہے۔آئین صدرمملکت اورگورنرز کوبعض معاملات میں عدالتی استثنیٰ دیتاہے لیکن وزیراعظم کوبوقت ضرورت عدالتوں میں طلب کیاجاسکتاہے ۔یہی صورتحال وزرائے اعلیٰ کی ہے اس کی ایک مثال وزیراعظم یوسف رضاگیلانی اوروفاقی وزیر حامدسعید کاظمی کو عدالت عظمیٰ سے ملنے والی سزاجبکہ راجہ پرویزاشرف کی باربارطلبی تھی۔پانامہ کیس پرچیف جسٹس آف پاکستان سوموٹونوٹس بھی لے سکتے تھے مگر معاملے کوپارلیمنٹ میں حل کرنے کی بجائے عدالت تک لے جانے کے ذمہ داربھی بہرصورت سیاستدان اورپارلیمنٹرین ہی ہیں ۔میاں نوازشریف کی نااہلیکے بارے میں اختلافی آراء یاکوئی قانونی سقم بھی ہوسکتا ہے مگرصادق اورامین کامطلب تبدیل کرنے یااس شق کوہی آئین سے نوچ کرباہرنکالنا شایددرست رویہ نہیں۔افراد،جماعتیں اورنظریات بدلتے رہتے مگرریاستیں ،ادارے اورآئین قائم رہتے ہیں ۔اکثریت کے زورپرآئین کوتبدیل یا اپنے خلاف جانے والے ضابطے تبدیل کرنا جمہوریت ہے نہ اخلاقی وقانونی طورپردرست سوچ ہے۔2002ء اور2008ء میں منتخب ہونے والی قومی وصوبائی اسمبلیوں کے30فیصد کے قریب منتخب ارکان بی اے کی جعلی ڈگریوں ،اپنے حقیقی اثاثے ظاہرنہ کرنے یابوگس گوشوارے داخل کروانے پرنااہل ہوئے جبکہ بڑی تعداد میں قومی وصوبائی اسمبلیوں کے امیدوار سزایافتہ یاصادق وامین نہ ہونے پر انتخابی دنگل کے لیے نااہل قرار دیئے گئے تھے ۔سنجیدگی کے ساتھ دیکھاجائے تو آرٹیکل62,63کے علاوہ آرٹیکل 184(3)عوامی نمائندگی ایکٹ1976ء اورالیکشن کمیشن کے قواعدوضوابط ایسی چھلنیاں ہیں جو غیرمستحق افراد کاراستہ روکتی ہیں ،دوہری شہریت کے حامل افراد کے لیے بھی پارلیمنٹ کے دروازے اوراقتدار واختیار کی راہداریاں اسی لیے بند ہیں تاکہ دوریاستوں میں بٹی حب الوطنی کے حامل افراد کاراستہ روکا جاسکے ۔سپریم کورٹ میں پا نامہ تحقیقات کے دوران منی لانڈرنگ اوراپنی حیثیت سے بڑھ کراثاثے رکھنے والوں کی نشاندہی کی گئی اور62(1)F کااطلاق بھی سابق وزیراعظم کے خلاف حقیقی آمدنی ظاہرنہ کرنے کے باعث کیاگیا۔جس ملک کاوزیراعظم،وفاقی وزراء ،گورنر ،وزرائے اعلیٰ اورارکان پارلیمنٹ اقامے رکھتے ،دوسرے ملکوں میں بھی ملازمتیں کرتے اوربھاری اثاثوں کے ساتھ قیمتی جائیدادیں رکھتے ہوں ،اپنی دوہری شہریت چھپاکررکھتے ہوں وہاں خیرخواہ ،بدخواہ،دوست ،دشمن،حب الوطن اورغیرملکی ایجنٹ کی شناخت کاکیامعیار رہ جائے گا!وزیراعظم شاہدخاقان عباسی سے ایک روز قبل جہاں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی آرٹیکل 62/63 کوختم کرنے کامطالبہ کرچکے ہوں ،وہاں قانونی وآئینی ماہرین کیساتھ محب وطن شہریوں کواپنانقطہ نظر قوم کے سامنے لاناضروری محسوس ہوتاہے ۔لندن میں بیٹھے بانی ایم کیوایم سمیت بھارت سے فنڈنگ لینے یابیرونی وسائل پر پاکستان میں سرگرم عمل افراد کوقومی سیاست سے نکال باہرکرنے کیلیے حکمرا ن مسلم لیگ(ن)سمیت پارلیمنٹ میں موجود تما م محب وطن سیاسی قوتوں کووقتی مصلحتوں کی بجائے وسیع تر قومی مفاد مقدم
رکھناہوگا۔کالعدم تحریک طالبان کے ملافضل اللہ یا97پاکستانیوں کے قاتل عزیربلوچ،پاکستان کی اوپن مارکیٹ سے امریکی ڈالراوربرٹش پاؤنڈخریدکر بیرون ملک سمگل کرنے والی ایان علی جیسے ہزاروں افراد کے لیے صادق اورامین ہونے کامعیار کیاہوگا۔میاں نوازشریف اورآصف علی زرداری جیسے سیاستدان کل بھی قابل احترا م پاکستانی سیاستدان تھے اورآئندہ کی سیاست میں بھی اہم کردارادا کرتے نظر آتے رہیں گے لہٰذا عدالتی وآئینی طریقہ کار کودل وجان سے تسلیم اورقانون کی بالادستی کومقدم سمجھنا ان کے اوران کے حامیوں کے لیے ناگزیر ہے ورنہ آئین موم کی ناک بن جائے گا۔ ماضی میں وزرائے اعظم کوسکیورٹی رسک یاایوان صدر کو سازشوں کاگڑھ قراردینے والے سیاستدانوں کووقتی مصلحتوں کی بجائے وسیع ترقومی مفاد مدنظررکھناپڑے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں