ڈیجیٹل یاکرپٹو کرنسی کی قانونی حیثیت نہیں : ایف پی سی سی آئی

کراچی:ڈیجیٹل کرنسی یا کرپٹو کرنسی کی خریدوفروخت اوراس سے منسلک کاروبار میں سرمایہ کاری کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور فی الوقت اس سے وابستہ تجارتی لین دین کو دنیا کا کوئی بھی ملک کسی قسم کا کوئی قانونی تحفظ فراہم نہیں کرتا ہے ، یہ ایک مجازی پیسے کی قسم ہے اور بینکاری نظام کے تحت اسکی کوئی ٹھوس یا تسلیم شدہ حیثیت نہیں ہے ، اس بات کا اعلان وفاق ایوانہائے تجارت و صنعت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) کی قائمہ کمیٹی برائے ڈائریکٹ سیلنگ کے گذشتہ روز منعقد ہونے والے اجلاس سے کمیٹی کے چیئرمین شیخ راشد عالم نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈائریکٹ سیلنگ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس فیڈریشن ہاؤ س کراچی میں منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شیخ راشد عالم نے شرکاء کو بتایا کہ ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ پاکستان میں ڈائریکٹ سیلنگ بزنس کے نام پہ کچھ غیر ملکی ادارے نہ صرف کرپٹو کرنسی کے غیر قانونی کاروبار میں سرگرم عمل ہیں بلکہ وہ ناقابل یقین منافع حاصل کرنے کا لالچ اور جھانسہ دے کر اس کاروبارمیں سرمایہ کاری کرنے کیلئے سادہ لوح لوگوں کو آمادہ کر رہے ہیں ، انھوں نے ڈائریکٹ سیلنگ بزنس سے وابستہ نیٹ ورکرز اور صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی کرپٹو کرنسی کی خریدوفروخت اور اس میں سرمایہ کاری سے اجتناب کریں کیونکہ یہ تجارتی نظام زمینی حقائق کے منافی اور غیر قانونی ہے ۔

مزید پڑھیں :سیاسی ہلچل:سٹاک ایکسچینج میں مندی، 65 ارب ڈوب گئے

 انھوں نے کہا کہ ہمارے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کرپٹو کرنسی میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے حوالے سے صوبہ پنجاب ، خیبر پختونخواہ اور نادرن ایریاز میں یہ کمپنیاں زیادہ متحرک ہیں ، انھوں نے حکومت پاکستان کے متعلقہ اداروں اور بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فی الفور اس سنگین مسئلے کی جانب توجہ دیں اور اس ضمن میں ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے بصورت دیگر اس شعبے میں بڑے پیمانے پہ دھوکہ دہی ہونے کا خدشہ موجود ہے ۔

latest pakistani news in urdu:read more

اپنا تبصرہ بھیجیں