سیاسی اورقومی مفاد میں فرق ہوناچاہیے

وزارت عظمیٰ سے علیحدگی کے بعد شہراقتدار سے اپنے آبائی گھرلاہور کی طرف ایک بڑے ہجوم کی صورت میں شروع کیے جانے والے سفرکے تیسرے روز سابق و زیراعظم نوازشریف گوجرانوالہ پہنچ گئے ،9اگست کوپنجاب ہاؤس اسلام آباد سے ایک بڑی ریلی کی قیادت کرتے ہوئے میاں نوازشریف 17کلومیٹر کاسفر12گھنٹے میں طے کرکے رات 2بجے راولپنڈی کے کمیٹی چوک میں پہنچے جبکہ اگلے روز راولپنڈی سے جہلم تک بڑے کارواں کی شکل میں مسلم لیگ(ن)نے اپنی سٹریٹ پاورکامظاہرہ کیا۔دینہ،سوہاوا،گوجرخان میں بھی سابق وزیراعظم کازبردست استقبال کیاگیا۔جہلم میں بڑے استقبالیہ ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے میاں نوازشریف نے ایک مرتبہ پھرسپریم کورٹ کے فیصلے پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’کروڑوں عوام اپنے ووٹ سے جسے اسلام آباد بھیجتے ہیں،اسے کبھی ڈکٹیٹر توکبھی جج گھربھیج دیتے ہیں۔

آرٹیکل62,63کے خلاف ن لیگ اورپیپلزپارٹی کااتحاد؟

‘‘انہوں نے کہا کیاپانچ ججوں کی طرف سے منتخب وزیراعظم کوفارغ کرنامینڈیٹ کی توہین نہیں ؟میاں نوازشریف نے اپنے استقبال کے لیے آئے لوگوں سے کہاکہ یہ روایت بدلنے کے لیے ان کاساتھ دیاجائے ۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں گزشتہ تین چارروز سے جاری سیاسی پاورشو کامظاہرہ بظاہرایک منتخب اورکروڑوں پاکستانیوں کے حمایت یافتہ شخص کی طرف سے عدلیہ ،جرنیلوں اوربیوروکریسی پرتنقید کے زمرے میں آتاہے مگر سنجیدگی سے دیکھاجائے تواسے برسراقتدار پارٹی کااحتجاج قراردیاجاسکتاہے۔وفا ق اورپنجاب میں حکمرانی کرنے والی مسلم لیگ(ن)کارہبر دراصل ملک میں نئے سوشل کنٹریکٹ اورنئے این آراوکے لیے جدوجہد میں مصروف نظر آتاہے،اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ گزشتہ چاربرس کے دوران حکمران مسلم لیگ(ن)نے مختلف بحرانوں اورخطرات میں گھرے پاکستان کوبہتری کی طرف گامزن کیا۔آج بجلی کابحران ختم ہونے کے آثارنظر آنے لگے ہیں۔معاشی ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچارپاکستان کی معیشت کو دنیا کی تیزی کے ساتھ ترقی کرتی معیشتوں میں شمارکیاجانے لگاہے۔دہشتگردی ،بھتہ خوری اورٹارگٹ کلنگ کافی حد تک کم ہوگئی۔مہنگائی کے آگے معاشی استحکام کے بندباندھ دیئے گئے ہیں ۔اقتصادی راہداری کے باعث آنے والے برسوں کے لیے پاکستانی معیشت انتہائی مستحکم بنیادوں پراستوارہونے لگی ہے جبکہ بھارتی جارحیت کامقابلہ کرنے کے لیے حربی صلاحیت بھی ماضی کی نسبت کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے مگرگہرائی سے دیکھاجائے توگزشتہ40/45برس سے ملکی وسائل لوٹنے ،رشوت ،کمیشن ،کک بیکس اورپاکستانی سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے کی شرمناک کوششیں بھی اپنے عروج پرپہنچ چکی ہیں ۔محترمہ بے نظربھٹو کے اوّلین دور1988ء میں شروع ہونے والی لوٹ مار آنے والے برسوں میں ایک کینسر کی طرح پاکستانی معاشرے میں سرایت کرگئی۔ سرکاری وعوامی عہدوں پربیٹھے95فیصد افراد مفادپرستی،کھینچاتانی اورقومی وسائل کوشیرمادر سمجھ کرپینے لگے ۔1979ء میں افغانستان پرروسی قبضے کے بعد ملک میں عام نظر آنے والے خطرناک اسلحہ کے انباراورامریکی ڈالروں کی ریل پیل نے لاکھوں کروڑوں پاکستانیوں کے لیے دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹنے اورمالی مفادات کواپنامشغلہ بنالیا۔بے نظیربھٹو ،میاں نوازشریف ،جنرل پرویز مشرف ،آصف زرداری اور2013ء میں تیسری مرتبہ اقتدارسنبھالنے والی مسلم لیگ(ن)کے دور میں آئے روزمیگا کرپشن کے ہوشرباسکینڈل سامنے آتے رہے ۔حب الوطنی،فرض شناسی،ایمانداری،دیانتداری کاصرف ایک ہی معیار بن کررہ گیاکہ جس کے پاس جتنی زیادہ دولت ہے،وہ اتناہی محب وطن اورفرض شناس ہے۔مہذب ممالک میں کرپشن ،لوٹ ماراورچھیناجھپٹی کی روک تھام کے لیے حکمرانوں کے کنٹرول سے آزاد ادارے قائم کیے جاتے ہیں مگریہاں معاملہ اس کے برعکس رہا۔سیف الرحمن کے زیرقیاد ت قائم احتساب کمیشن پیپلزپارٹی سمیت سیاسی مخالفین کی فائلیں بناکرانہیں انتقامی کارروائی کانشانہ بناتارہا توجنرل پرویز مشرف کے دوراقتدار میں سامنے آنے والے نیب نے بھی کرپشن کے بڑے بڑے مقدمات کی انکوائریاں مکمل کرکے فائلیں دباکررکھیں یاعدالتوں کوکیس بھجوانے کی آڑ میں سیاسی مخالفین کو’’خاموش ‘‘کیے رکھا۔ کرپشن پرمجرمانہ خاموشی اورتحقیقاتی ریکارڈ کوتلف کرنے کااس سے شرمناک ثبوت کیاہوگا کہ سوئزرلینڈ کے پاکستانی سفارتخانے سے دن کی روشنی میں انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر سیدواجد شمس الحسن آصف زرداری کے کرپشن مقدمات کاریکارڈ غائب کرتارہا،پاکستان میں جرنیلوں کی کرپشن ،لوٹ مار بھی سانحہ اوراوجڑی کیمپ کے ذمہ دارلیفٹیننٹ جنرل اخترعبدالرحمن سے شروع ہوکرجنرل راحیل شریف کے دور تک جاری رہی تاہم اپنی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل سابق آرمی چیف نے چھ حاضر سروس سٹارجرنیلوں سمیت13فوجیوں کومعطل یابرطرف کرکے ان کی انکوائریوں کاحکم دیاتھا۔انکے پیشروپرویز کیانی کے بھائی پربھی آرمی کے تعمیراتی کاموں اوراین ایل سی کوسامان فراہم کرنے جیسے ٹھیکوں میں فراڈ ،جعلسازی اورکرپشن میں ملوث ہونے کے الزام لگے۔ ۔حاضرسروس یاریٹائرججز کی کرپشن کے درجنوں معاملات بھی قوم ابھی تک نہیں بھولی۔جسٹس (ر)عبدالقیوم کی میاں شہبازشریف سے گفتگو کی ٹیپ اورجسٹس رفیق تارڑ پرنوٹوں سے بھرے اٹیچی کیس دکھاکرججوں کی وفاداریاں خریدنے کی داستانیں آج بھی عام ہیں جبکہ ائیرمارشل (ر)اصغر خان کیس میں سیاستدانوں کوبھاری رقوم دے کرانتخابی نتائج تبدیل کرنے کامقدمہ آج بھی سپریم کورٹ میں عملدرآمد کامنتظر ہے جس میں سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ سمیت مختلف جرنیل اورججز بھی ملوث ہیں ۔میاں نوازشریف جس قسم کی جمہوریت کی بات کررہے ہیں ،وہ شاید آزاد عدلیہ،عوامی نمائندگی کے ایکٹ اورآئین کے آرٹیکل چھ کے تحت قابل گرفت بھی ہوسکتی ہے۔عوام کوسٹرکوں پرلاکرعدالتی فیصلے تبدیل یاججز پر دباؤ بڑھانے کی بجائے اگرمسلم لیگ(ن) کے ارکان پارلیمنٹ اورمرکزی مجلس عاملہ کے ارکان پرمشتمل کمیٹی بناکرپارلیمنٹ کے اندراور عوا می سطح پراپناموقف قوم کے سامنے لایاجاتاتوبہتر تھا۔وزارت عظمیٰ پرفائز شاہدخاقان عباسی کے علاوہ وفاقی کابینہ کے ارکان خواجہ سعدرفیق،خواجہ آصف ،دانیال عزیز ،عابدشیرعلی،طارق فضل چوہدری اورطلال چوہدری کاعدالتی فیصلوں کاتمسخر اڑانا اورعوامی عدالتوں کو آرٹیکل62,63 پرفیصلے کی درست جگہ قرار دیناملکی سیاست کولاقانونیت کی طرف مائل کرنے کے ساتھ عدالتوں اوراسٹیبلشمنٹ کوانڈرپریشر لانے کی کوشش ہے ۔

For more : latest international urdu news

وزیراعظم اوروفاقی وپنجاب حکومت ملک میں قانون کی عملداری یقینی بنانے کی بجائے اگروائلیشن پراترآئیں توانارکی یاجس کی لاٹھی اس کی بھینس جیسی صورتحال پیداہوسکتی ہے ۔طاقتور اورکمزور کے لیے الگ الگ قانون کی آبیاری آئین ،جمہوریت ،انصاف اوراخلاقیات کی تباہی کی بنیادبنے گی۔محترم نوازشریف کوبھی یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ’’جوکچھ مسلم لیگ(ن) کے لیے بہترہے‘‘ ضروری نہیں وہ ملک وقوم کے لیے بھی بہترہو،مثال کے طورپرجب سے سابق وزیراعظم کی گھرواپسی کے لیے ریلی کاآغاز ہواہے،گورننس نام کی کوئی چیز ملک میں دکھائی نہیں دے رہی۔سابق وزیراعظم یہ مت بھولیں کہ ریلیاں اورہزاروں یالاکھوں افرادکااجتماع عوامی فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ عام الیکشن کے نتائج کوقومی امنگوں کاعکاس سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک طرف تو وہ چاہتے ہیں کہ موجودہ پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرے اوردوسری طرف وہ اپوزیشن کاکردار بھی اداکرناچاہتے ہیں ۔اسلام آباد سے لاہور تک سفر کے دوران عوامی قوت کامظاہرہ کرنے کی بجائے اگروہ موجودہ اسمبلیاں توڑکرعوام سے نیامینڈیٹ لینے کافیصلہ کرتے تو زیادہ بہترتھا۔اسی طرح وفاقی وپنجاب حکومت کے ریاستی وسائل استعمال کرنے کی بجائے مسلم لیگ(ن)ان کی پاورشو کاانتظام کرتی تومستقبل قریب میں توہین عدالت کاانداز بھی مختلف ہوتا۔امید ہے نااہل قراردیئے جانے والے وزیراعظم عنقریب اپنے خلاف زیرتفتیش آنے والے نیب مقدمات کاسامناکرنے کے ساتھ ملک میں قانون کی عملداری اورآئینی بالادستی کااحترام یقینی بنانے پرتوجہ دیں گے وگرنہ تاریخ ،قانون اورعوامی عدالت کابے رحم پہیہّ ان کے عوامی مینڈیٹ کے دعوؤں کوکچلتا ہواآگے نکل جائے گا جس کی ذمہ داری بھی خودان کی اپنی غیرحقیقت پسندانہ پالیسیوں پرہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں