عالمی اقتصادی رینکنگ میں پاکستان کی بہترہوتی صورتحال

عالمی اقتصادی فورم فوربز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی معیشت عالمی مسابقتی رینکنگ میں رواں سال 7درجے بہتری کے ساتھ137 ممالک کی فہرست میں 115ویں نمبرپرآگئی۔ عالمی جریدے کی گزشتہ برس کی تجزیاتی رپورٹ میں یہ122ویں نمبرپرتھا جبکہ2014ء میں اس کی پوزیشن 133ویں ریکارڈ کی گئی تھی۔حالیہ رپورٹ ظاہرکرتی ہے کہ معاشی واقتصادی شعبے میں پاکستان نمایاں بہتری کی طرف گامزن ہوچکاہے اورصرف یہی نہیں بلکہ اس سے یہ بھی پتہ چلتاہے کہ پاکستان تیزی کے ساتھ ترقی کررہاہے۔فوربزکی رپورٹ میں چین27ویں جبکہ بھارت 40 ویں نمبرپرقراردیاگیا۔عالمی اقتصادی فورم ہرسال اس بات کاجائزہ لیتاہے کہ کسی ملک میں وہاں کے شہریوں کوترقی وخوشحالی کے کتنے مواقع دستیاب ہیں۔جہاں تک تازہ ترین عالمی اعدادوشمار کاتعلق ہے تواس میں تین عناصر نے انتہائی اہم کردار اداکیاہے۔پاک چین اقتصادی راہداری کے آغاز ،بجلی کی پیداوار میں بتدریج بہتری اورخودپاکستان کے اندردہشتگردی کی شرح میں نمایاں کمی نے اندرون ملک تجارتی،کاروباری وپیداواری سرگرمیوں پرمثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔2013ء میں موجود ہ حکومت نے اقتدارسنبھالا توپاکستان معاشی دیوالیہ پن کے انتہائی قریب پہنچ چکا تھا۔زرمبادلہ کے ذخائر بارہ ارب ڈالرکے قریب رہ گئے تھے جبکہ بدترین لوڈشیڈنگ کے باعث ہماری ٹیکسٹائل برآمدات 23ارب ڈالر سے بتدریج کم ہورہی تھیں۔مہنگائی وبیروزگاری اپنی بلندترین سطح پرجبکہ آئے روزملک کے مختلف حصوں میں خودکش حملوں ،بم دھماکوں اورکراچی میں بھتہ خوری ،ٹارگٹ کلنگ اورجانی ومالی عدم تحفظ کے باعث غیرملکی سرمایہ کاری ہی نہیں ،مقامی لوگوں کی طرف سے نئی انڈسٹری قائم کرنے سے ہاتھ کھینچ لینے کے سبب پیداواری عمل میں تنزل وبے یقینی کے باعث انوسٹمنٹ 40فیصد کے قریب رہ گئی تھی اور غربت کی لکیر اوپرجارہی تھی

لاالہ الااللہ کی تہہ کے نیچے خون ہے شبیرؓ کا

سابق وزیراعظم نوازشریف کاروباری طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود انوسٹروں کوکھل کرکاروبارکی طرف راغب کرنے میں بے بس نظرآتے تھے ۔امریکہ کے افغانستان سے نکل جانے کے اعلان نے جنوبی ایشیا میں طالبان کی انتہاپسندانہ کارروائیوں میں اضافے اورخطے میں امن وامان کی صورتحال مزید خراب ہونے کے پیش نظرپاکستان کونظراندازکرناشروع کردیاتھایہی وجہ تھی کہ گارمنٹس کاامپورٹرادھر کارخ کرنے کی بجائے بھارت ،بنگلہ دیش اورملائشیا کی طرف چلا گیااورانجام کارہماری ٹاول ،بیڈشیٹ اورویلیو ایڈڈ گارمنٹس کی ایکسپورٹ نیچے کی طرف آنے لگی۔اقتصادی راہداری اگرچہ تاحال زیرتکمیل ہے مگرچین کے معاشی مفادات سے کہیں آگے بڑھ کریہ پاکستان کی معیشت کو بہت بلندی واستحکام کی طرف لے جانے کا ذریعہ بن جائے گی۔کراچی کے بعدگوادر کی بندرگاہ آپریشنل ہونے سے سمندری تجارت میں پاکستان اہم کرداراداکرنے کی پوزیشن میں آچکاہے۔افغانستان،وسط ایشیائی ممالک ازبکستان،تاجکستان،قزاقستان ،کرغزستان جیسیس گیارہ کے قریب ریاستیں نہ صرف خشکی اورسمندر کے ذریعے درآمدات بڑھاسکیں گی بلکہ چین کے تجارتی سامان سمیت پاکستان کی پیداواری وبرآمدی کمپنیوں کے لیے سی پیک نہ صر ف معاشی خوشحالی اورکاروباری سرگرمیوں کوفروغ دینے کاذریعہ بننے لگاہے بلکہ راہداری کی مد میں ہی افغانستان اورچین سمیت پاکستان کی درآمدات کے ذریعے یہاں سے اربوں ڈالرسالانہ آمدنی ہوسکے گی۔گوادر میں تیزی سے جاری تعمیراتی سرگرمیاں جن میں نئے ائرپورٹ کی تعمیر ،درجنوں رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز کے تعمیراتی پراجیکٹس جن میں رہائشی پلاٹ اوربنے بنائے بنگلے شامل ہیں،اس بات کے عکاس ہیں کہ آنے والے چندبرسوں میں پاکستان انتہائی خوشحال ومعاشی طورپر مستحکم ملک بن کرعالمی معیشت میں اہم کردار اداکرنے لگے گا۔بلوچستان اورخیبرپختونخواہ کے معدنیات اورزیرزمین آئل اینڈگیس کے ذخائر اب دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کی نظروں میں ہیں جنہیں ایکسپلورکرکے نہ صرف فی کس آمدنی ،معیارزندگی اورآسائشات میں اضافہ کیا جاسکے گا بلکہ بیروزگاری میں بہت حدتک کمی بھی آجائے گی۔آج شاہدخاقا ن عباسی اپنی پارٹی کے شروع کردہ تعمیراتی منصوبو ں کوتیزی سے مکمل کرنے پرتوجہ دے رہے ہیں تومیاں شہبازشریف توانائی کے زیرتکمیل منصوبوں کومارچ2018ء تک زیادہ سے زیادہ آپریشنل کرنے پردن رات ایک کیے ہوئے ہیں ۔حکمران مسلم لیگ(ن)آئندہ سال کے انتخابی معرکے میں اپناترقیاتی نامہ اعمال لے کر اترناچاہتی ہے تومیاں نوازشریف اپنے سیاسی مستقبل کے لیے بھی سی پیک
اورلوڈشیڈنگ کے خاتمے کوکیش کروانے کی کوشش کریں گے۔29ستمبر کوجھنگ میں 1263میگاواٹ کے ایک اورگیس پاور پراجیکٹ پرچین کی معروف توانائی کمپنی چائنہ مشینری انجینئرنگ کارپوریشن سے طے پانے والے معاہدے کی 18ماہ میں تکمیل لوڈشیڈنگ کے جن کوبہرحال بوتل میں بند کردے گی جبکہ داسواوربھاشاڈیم کی تعمیرسے2019ء میں پاکستان وافروسستی بجلی کے باعث دنیا کی10بڑی معیشتوں میں سے ایک بن کرابھرسکتاہے جس سے ہماری اقتصادی رینکنگ مزیدبہتر جبکہ معاشی استحکام مثبت اشارئیے ظاہرکرسکے گا۔
پاکستانی روئی کی برآمدات میں خطرناک اضافہ
ادارہ برائے شماریات پاکستان کے جاری اعدادوشمار کے مطابق اگست2017ء کے دوران پاکستانی روئی کی بیرون ملک ایکسپورٹ بڑھ کر7.7ملین ڈالر تک جاپہنچی جوگزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں 11فیصد زائدہے ۔ ریکارڈ کے مطابق اگست2016ء میں بدترین ٹیکسٹائل بحران کے باوجودکاٹن ایکسپورٹ6.9ملین ڈالرریکارڈکی گئی تھیں۔پاکستانی برآمدات کاواحدذریعہ اس وقت ٹیکسٹائل اینڈگارمنٹس کی ایکسپورٹ ہے۔ ماضی میں پاکستان اس مد میں سالانہ23ارب ڈالر تک کماتاتھامگر2008ء سے کپاس کے زیرکاشت رقبے میں کمی اورسیلابوں کے باعث تیار فصل کی تباہیوں کے ساتھ توانائی بحران کے باعث ہماری ایکسپورٹ بری طرح متاثرہونے لگی۔عالمی کسادبازاری کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی بہت زیادہ ہوچکی تھیں مگراندرون ملک کام کرنے والے ہزاروں کاٹن جننگ،سپنگ اورویونگ کھاتے کام کرتے رہے ۔اڑھائی لاکھ کے قریب کاٹن پولیسٹر فائبراورریشم کی پاورلومز مصروف عمل رہیں ۔یہی نہیں بلکہ تولیہ بنانے والی فیکٹریاں ،بیڈشیٹس اورہوزری مینوفیکچرنگ یونٹ پوری یاآدھی گنجائش کے مطابق کام کرتے رہے۔ایسے میں ہمارے کاٹن اورکاٹن یارن ایکسپورٹرزحب الوطنی کی بجائے ذاتی اورمالی مفادات دیکھتے رہے اورہماری روئی بڑی تعداد میں ایکسپورٹ ہوتی رہی، اس کے باوجود حکومت نے ریگولیٹرکاکردارکچھ حدتک اداضرورکیا۔اب جبکہ گزشتہ ڈیڑھ برس سے ایل این جی بڑی مقدار میں آنے لگی ہے جبکہ بجلی کی پیداوارمیں بھی آٹھ سے 9ہزارمیگاواٹ اضافہ ہوچکا ہے تولاکھوں مزدوروں اورمحنت کشوں کے مفادات ،ملکی ضروریات اورمعاشی استحکام کی بجائے چندکاٹن ایکسپورٹرزاپنے مفادات کو مدنظررکھے ہوئے ہیں۔بڑھتی آبادی اورمعیارزندگی میں اضافے کے باعث نہ صرف ملکی ضروریات میں بتدریج اضافہ ہورہاہے بلکہ افغانستان اورملحقہ ایشیائی ریاستوں کوپاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآ مد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ضرورت تواس بات کی تھی کہ بھارتی روئی کی پاکستان میں امپورٹ آسان بنانے کے لیے درآمدی ڈیوٹی کم یاختم کی جاتی ،ہمارے اپنے برآمدکنندگان خام مال یعنی روئی اوردھاگہ تک ایکسپورٹ کیے جارہے ہیں ۔اس سے جہاں لاکھوں پاورلومز،ہزاروں ڈائننگ یونٹ ،سائزنگ ادارے ،ہوزری مینوفیکچررز متاثرہوں گے ،وہیں ایکسپورٹ کوالٹی اورمقامی ضروریات کے لیے گارمنٹس مہنگے یانایاب ہوتے چلے جائیں گے ۔وزیرمملکت برائے ٹیکسٹائل اکرم انصاری سمیت ملک بھر کے گارمنٹس یونٹ مالکان،پاورلوم اونرز کواس پریشان کن صورتحال کی روک تھام کے لیے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی ،وزیرتجارت پرویز ملک کے ساتھ فوری طورپررابطے کرکے ا صلاح احوال کی طرف مائل کرنا ہوگا۔ملک بھر کے ایوان ہائے صنعت وتجارت میں بیٹھے ایسوسی ایٹ کلاس کے ممبران کوکارپوریٹ ممبران کی مصلحت آمیز خاموشی کے خلاف حرکت میں آناچاہیے۔ سمال چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹریز کوبھی کاٹن ایکسپورٹ کے خطرناک وتباہ کن نتائج کی روک تھام کے لیے فوری طورپرمتحرک وفعال ہوناپڑے گا۔فی ایکڑپیداوار میں اضافے کے باعث پاکستان کی اندرونی ضروریات42لاکھ بیلز جبکہ پیداوار51لاکھ بیلز کے تناظر میں کاٹن اورکاٹن پاورلومز کے برآمدی سودوں کی ایک حدمقرر کرنے کے بعداضافی برآمدات پرپابندی یابھاری ایکسپورٹ ڈیوٹی لگانی چاہیے تاکہ ٹیکسٹائل سیکٹرسے وابستہ لاکھوں یونٹس کو سستاخام مال میسّرآسکے جس سے وہ بھارت ،ملائشیا،بنگلہ دیش ،چائنہ اوردیگرملکوں کے مقابلے میں اپنی گارمنٹس اورٹیکسٹائل ایکسپورٹ کومقابلے کی سطح پرلاکربڑھاسکتے ہیں ۔ایل این جی کی موجودگی اورٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے باعث آنے والے دنوں میں پیداواری وتجارتی سرگرمیوں کوبڑھانے کے لیے ایسے اقدامات نہ صرف ضروری بلکہ ناگزیر ہیں وگرنہ معاشی خوشحالی اوربیروزگاری کے خاتمے کی خواہشات کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکیں گی۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
عالمی اقتصادی رینکنگ میں پاکستان کی بہترہوتی صورتحال
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں