میاں نوازشریف کاپھربطورپارٹی صدر انتخاب

قومی اسمبلی نے بالآخر انتخابی اصلاحات کے بارے بل مجریہ2017ء منظورکرلیا۔وزیرقانون زاہدحامد کی طرف سے پیش کیے جانے والے مسودہ قانون پرشق واربحث اورآخری خواندگی کے موقع پر اپوزیشن ارکان نے شدیداحتجاج کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑدیں اورسپیکر ڈائس کاگھیراؤ کرکے نئے بل کوکالاقانون اورآئین کی روح کے منافی قراردے دیا۔پیپلزپارٹی،تحریک انصاف اورجماعت اسلامی کے ساتھ عوامی مسلم لیگ نے مسودہ قانون کی کلاز203پرنظرثانی کامطالبہ کرتے ہوئے اسے حکومت کی بدنیتی اورمحض ایک نااہل شخص کوفائدہ پہنچانے کاذریعہ قرار دیتے ہوئے زبردست ہنگامہ آرائی کی ۔قائدحزب اختلاف سیدخورشیدشاہ کے علاوہ شاہ محمودقریشی اورشیخ رشیداحمدنے اپنی تقاریر میں بل پرکڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ شق 203پہلے پیش کیے جانے والے مسودے کے مطابق نہیں ۔آرٹیکل 5کی شق ون کوختم کرنے کافیصلہ دستوری روح سے متصادم اورمحض ایک ایسی شخصیت جوآرٹیکل62/63 پرپورانہیں اترتی کوسیاسی دھارے میں پھرشامل کرنے کے مترادف ہے ۔شاہ محمودقریشی نے سپیکرپرواضح کیاکہ اگرمتعلقہ شق کواکثریت کے بل بوتے پر منظورکیاگیا تواسے عدالتوں میں چیلنج کیاجائے گا۔انہوں نے الیکشنز ایکٹ کی نئی ترمیم کوکسی بھی نااہل شخص کے عوامی عہدہ رکھنے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کی بھی بنیاد قراردیاتاہم حکمران مسلم لیگ(ن)نے اپوزیشن کے شورشرابے میں نہ صرف یہ بل منظورکرلیا بلکہ عجلت میں اسے ایوان صدر بھجواکرصدرممنون حسین کے دستخط بھی کروالیے جس کے باعث یہ بل قانون کادرجہ اختیار کرگیا۔دریں اثناء گزشتہ رات ہی مسلم لیگ(ن)کی مرکزی مجلس عاملہ نے پارٹی آئین میں ترمیم کی بھی منظوری دے دی جس کے بعد میاں نوازشریف کو مسلم لیگ (ن) کاپھرصدرمنتخب کرلیاگیا۔

عالمی اقتصادی رینکنگ میں پاکستان کی بہترہوتی صورتحال

حکمران پارٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیرمشاہداللہ نے ایک قراردادکے ذریعے سابق وزیراعظم پربھرپوراعتماد کااظہارکرتے ہوئے بطورچیف ایگزیکٹو ان کی کارکردگی کوبھی زبردست خراج تحسین پیش کیا جس کی مرکزی مجلس عاملہ نے بھاری اکثریت سے منظوری دے دی۔وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی زیرصدارت مسلم لیگ(ن)کی پارلیمانی کمیٹی کا بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک غیرمعمولی اجلاس منعقد ہواجس میں پارٹی سے تعلق رکھنے والے151ارکان نے شرکت کی جس میں آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے کھل کراظہار خیال کے ذریعے اس بات پرمکمل اتفاق رائے پایاگیا کہ ملک کے اندرکسی بھی قسم کی سیاسی محاذ آرائی نہیں ہونی چاہیے۔جہاں تک مسلم لیگ (ن)کی مرکزی مجلس عاملہ،سینٹرل ورکنگ کمیٹی اورپارلیمانی کمیٹی کے اجلاسوں اورپیشرفت کاتعلق ہے تواس کامقصد میاں نوازشریف کوسرداریعقوب نا صرکی جگہ پھرسے پارٹی قائد منتخب کرناتھا ۔اگرچہ شیخ رشید نے مجوزہ ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کااعلان کردیاہے تاہم تحریک انصاف،متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اورایک تنظیم فکس اٹ کے بانی عالمگیرخاں ایک روز قبل ہی سندھ ہائیکورٹ پہنچ جاتے ہیں۔یہ درست ہے کہ جمہوریت اکثر یت کی قائل اورسیاسی وعوامی مشاورت کانام ہے مگردیکھنے کی بات یہ ہے کہ چندروزقبل سینٹ سے انتہائی پراسرار انداز میں اس بل کو کیوں منظورکروالیاگیا اورگزشتہ روزبھی حکمران مسلم لیگ نے اپوزیشن کانقطہ نظر بل میں شامل کرنے سے کیوں انکارکیا۔میاں نوازشریف برسوں سے مسلم لیگ (ن)کے سربراہ چلے آرہے تھے اور آئندہ بھی ان کی قیادت کوپارٹی کے اندر سے کوئی خطرہ نہیں تھا مگرپانامہ کیس میں عوامی عہدے سے نااہلی کے باعث سابق وزیراعظم کسی سیاسی پارٹی کی قیادت کے اہل بھی نہیں رہ گئے تھے ۔اپوزیشن کاشورشرابہ اپنی جگہ کتناہی بروقت اوروزنی کیوں نہ ہو،اکثریتی فیصلے کے سامنے دب کررہ جاتاہے۔عدالتیں کل کواس قانون کومعطل یامنسوخ بھی کرسکتی ہیں مگراتنے عرصے میں انتخابی اصلاحاتی قوانین معطل نہیں ہوسکتے ماضی میں بھی متعدد مواقع ایسے آچکے ہیں جب وقت کی حکومتوں نے اپنے مفادات ،ضروریات یاقانونی’’شیلٹر‘‘کے لیے اپنی پسندیدہ لائن کودستوری حیثیت دلوانے کے لیے اکثریت کاسہاراتلاش کیا۔ایک ایسے وقت میں جب نئے چیئرمین نیب کاتقرر بھی چندقدم کے فاصلے پررہ چکا اورقومی احتساب بیوروکی جگہ پارلیمنٹ کے ذریعے نیااحتساب کمیشن قائم کرنے کامسودہ منظوری کے آخری مراحل میں ہے تواپوزیشن کی بے بسی یاحکمران مسلم لیگ(ن)کی مصلحتیں وسیع تر قومی مفاد اوراتفاق رائے کونقصان پہنچاسکتی ہیں۔پارلیمانی جمہوریت کے خواص تواس طرح سامنے آتے ہیں کہ برطانیہ کاایک سابق وزیراعظم صرف ایک ووٹ کی اکثریت سے اپنی مخلوط حکومت قائم رکھتا رہا۔سازشی یامفاداتی عنصرسے ہٹ کروسیع ترملکی ،قومی دستوری مفادات کومقدم سمجھاجاتارہاہے۔میاں نوازشریف پارٹی کے صدر نہ بھی بنتے توعوامی اقتدار اعلیٰ کاحامل ہونے کے باعث ان کی سیاسی بالادستی اورفیصلہ کن حیثیت قائم رہتی۔اپوزیشن جماعتیں بھی محاذ آرائی کی بجائے اگرمفاہمت اورنوشتہ دیوارکے سامنے وقتی طورپر سرنگوں ہوجائیں توجمہوریت کوڈی ریل ہونے کے امکانات کم ہوسکتے ہیں البتہ اس کے مہیب اثرات مستقبل میں خودمسلم لیگ (ن) کے لیے سوہان روح یاگلے کاہار بن سکتے ہیں ۔

تشدد ہی دہشت گردی ہے

امریکہ کے شہر لاس ویگاس میں گزشتہ رات ہونے والی ہولناک فائرنگ میں آخری اطلاعات آنے تک 58 افراد ہلاک جبکہ 500 کے لگ بھگ زخمی ہوگئے ہیں۔ ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہونے والے ایک میوزک فیسٹیول کے شرکا پر مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے 32 ویں منزل سے فائرنگ کرکے یہ قیامت ڈھائی گئی ہے ۔ پولیس کی اطلاع کے مطابق 64 سالہ حملہ آور سٹیفن پیڈک ہلاک ہو چکا ہے ۔ اس بارے میں متضاد اطلاعات ملی ہیں کہ حملہ آور کو پولیس نے ہلاک کیا ہے یا اس نے خود کشی کی ہے ۔ ایف بی آئی اور امریکی تحقیقاتی
ادارے اس واقعہ کو دہشت گردی کی بجائے ایک افسوسناک سانحہ قرار دے رہے ہیں کیوں کہ انہیں ابھی تک کسی اسلامی دہشت گرد گروہ کے ساتھ حملہ آور کے تعلق یا رابطہ کے کوئی شواہد نہیں ملے ،تاہم داعش نے حسب دستور اس واقعہ کو اپنے گروہ کے بارے میں خوف اور دہشت پیدا کرنے کے لئے استعمال کرنے کی نیت سے فوری طور پر اعلان کیا ہے کہ سٹیفن پیڈک مسلمان ہو چکا تھا اور اس نے داعش کی ہدایت پر یہ حملہ کیا تھا۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس المناک سانحہ پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے شیطانی کارنامہ قرار دیا ہے اور وہ لاس ویگاس جاکر مرنے والوں سے تعزیت کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ بے دردی سے معصوم اور بے گناہ لوگوں کو ہلاک کرنے والے ایک شخص کو دہشت گرد قرار دینے سے پہلے اس بات کی یقین دہانی کی جارہی ہے کہ وہ مسلمان تو نہیں تھا اور اس کا کسی مسلمان دہشت گرد گروہ سے تعلق نہیں تھا۔ جب یہ تعلق ثابت نہیں ہوتا تو اسے معمول کا جرم قرار دے کر لوگوں کو صبر کی تلقین کی جاتی ہے ۔ گزشتہ چند برسوں سے بعض مسلمان گروہوں کی جنگ جوئی کی وجہ سے جو صورت حال پیدا ہوئی ہے اور انہوں نے جس طرح یورپ اور امریکہ میں ہلاکت خیزی کے لئے مختلف ہتھکنڈے اختیار کئے ہیں ، ان کی روشنی میں انسانوں کی ہلاکت کے کسی بھی واقعہ کے بعد یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ بھی کسی مسلمان کا ہی کیا دھرا ہوگا۔ اسی لئے دنیا کے کسی بھی ملک سے جب بھی دہشت اور ہلاکت خیزی کی کوئی خبر موصول ہوتی ہے تو امریکہ سے پاکستان اور انڈونیشیا تک کے مسلمان سانس روک کر یہ امید کرنے لگتے ہیں کہ اس سانحہ میں ملوث شخص کوئی مسلمان نہ ہو۔
مسلمانوں اور اسلام کے حوالے سے یہ ایک افسوسناک صورت حال ہے ۔ اس کی بھاری ذمہ داری ان گروہوں پر ہی عائد ہوتی ہے جو اسلام کا نام لے انسانوں کو ہلاک کرنے اور دہشت پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ بھی طے ہونا چاہئے کہ جرم مسلمان ہونا نہیں ہے بلکہ بلاوجہ انسانوں کو ہلاک کرنا اور خوں ریز تشدد میں ملوث ہونا قبیح فعل ہے ۔ اس کا ارتکاب کوئی مسلمان کرے یا یہ فعل کسی غیر مسلم سے سرزد ہو ، اسے بہر صورت دہشت گردی ہی شمار ہونا چاہئے ۔ اسی طرح یہ واضح کیا جا سکتا ہے کہ مغربی ممالک جب تشدد اور عسکری گروہوں یا اسلحہ بردار افراد کے ہاتھوں انسانوں کی ہلاکت پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہیں اور اس رجحان کی روک تھام کی بات کرتے ہیں تو وہ مسلمانوں کے عقیدہ کو نشانہ نہیں بنا تے اور نہ ہی بطور گروہ مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہوتے ہیں۔ کیوں کہ جس طرح یہ بات طے ہے کہ گزشتہ پندرہ برس کے دوران دہشت کے زیادہ واقعات میں ملوث مسلمان گروہ یا ان کے اکسائے ہوئے لوگ ہی تھے ، اسی طرح یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت نہ تو اس قسم کی دہشت گردی میں ملوث ہے اور نہ ہی اس کی حمایت کرتی ہے ۔
جو تشدد بھی بے گناہ انسانوں کو نشانہ بناتا ہے اور انہیں ہلاک کرنے کا سبب بنتا ہے ، اسے دہشت گردی ہی کہنا چاہئے مغربی لیڈروں اور حکومتوں کو انسانوں کی ہلاکت پر ایک ہی طرح غم و غصہ کا اظہار کرنے کا چلن اپنانا چاہئے ۔ اگرصرف مسلمانوں کی طرف سے سرزد ہونے والے سانحات پر ان کا رویہ مختلف اور ردعمل شدید ہوگا تو دنیا میں عقیدہ اور گروہی بنیادوں پر امتیازی سلوک اور تعصب میں اضافہ ہونا لازم ہے ۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ گزشتہ دہائی میں اگر مسلمان گروہوں نے دہشت گردی کا طریقہ اپنایا ہے تو ان کی ہلاکت خیزی کا نشانہ بننے والے بھی زیادہ تر مسلمان ہی تھے ۔ 9/11 حملوں کے بعد دہشت گردی میں جتنے مسلمانوں کا خون بہایا گیا ہے اور جتنی مسلمان آبادیاں اس تباہ کاری کا نشانہ بنی ہیں، دنیا کا کوئی ادارہ یا حکومت ان کا درست اندازہ لگانے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتی۔ مسلمان دہشت گردی کے نئے رجحان کی وجہ سے دو طرح سے نشانہ بنے ہیں۔ ایک طرف ان کے اپنے ہی ہم عقیدہ انہیں ہلاک کرنے کا قصد کئے رہتے ہیں تو دوسری طرف ان بد اندیش گروہوں کے سیاہ کارناموں کی وجہ سے مسلمانوں اور اسلام کو ہی اس دہشت گردی کا ذمہ دار بھی قرار دیا جاتا ہے ۔
صدر ٹرمپ خود مسلمان دہشت گردی کا خوف دلاتے ہوئے امریکی لوگوں کو تقسیم کرنے اور سیاسی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے ۔ وہ اب بھی اس قسم کے محاورہ اور الفاظ برتنے سے نہیں چوکتے ۔ اس کے برعکس وہ امریکہ میں گن کلچر Gun Culture کی حوصلہ افزائی کا سبب بنے ہیں ۔ اسی لئے ہتھیار رکھنے کی آزادی کے لئے کام کرنے والی طاقتور امریکی اسلحہ لابی نے ٹرمپ انتخابی مہم کی حمایت کی تھی۔ لاس ویگاس میں ہونے والا سانحہ اسی کلچر کا شاخسانہ ہے ۔ اس مزاج کو فروغ دینے والوں میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے امریکی لیڈر بھی شامل ہیں۔ امریکہ میں ہر سال 12 ہزار سے زیادہ لوگ اسی گن کلچر کا نشانہ بنتے ہیں لیکن اس کے خلاف پابندی کی کوششوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔
بے ساختہ اور منہ پھٹ ہونے کا دعویٰ کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ حوصلہ دکھانا چاہئے کہ وہ لاس ویگاس کے سانحہ کو بھی دہشت گردی قرار دیں اور اس مزاج کی حوصلہ افزائی کرنے پر شرمندگی محسوس کریں۔ امریکی حکومت پر لازم ہے کہ وہ ملک میں خطرناک ہتھیاروں کی بے روک ٹوک خرید و فروخت پر پابندی لگانے کے علاوہ اس کے خلاف بھی ویسا ہی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرے جو مسلمانوں کی دہشت گردی کے بارے میں سامنے لایا گیا ہے ۔ اسی طرح لوگوں میں تشدد اور بلا وجہ انسانوں کو ہلاک کرنے کے خلاف بیداری پیدا ہوگی ورنہ کثیر تعداد میں لوگوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے لوگ نفسیاتی مریض کہے جاتے رہیں گے لیکن اگر ایسے کسی فرد کا نام مسلمانوں جیسا ہو تو اسے دہشت گردی قرار دے کر اس کا سراغ مشرق وسطیٰ اور افغانستان یا پاکستان میں تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی رہے گی۔ یہ سیاسی رویہ نفرتوں اور دوریوں میں اضافہ کا سبب بنے گا۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
میاں نوازشریف کاپھربطورپارٹی صدر انتخاب
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں