کیااقتدارکی چابی واقعی عوام کے پاس ہے؟

عدلیہ کے ہاتھوں اقتدارسے محروم میاں نوازشریف کوحکمران مسلم لیگ (ن)کی مجلس عاملہ نے گزشتہ روزآئندہ چارسال کے لیے پھرپارٹی قائدمنتخب کرلیاجس کی جنرل کونسل نے توثیق بھی کردی۔اس موقع پر کنونشن سینٹراسلام آباد میں موجودچاروں صوبوں ،آزادکشمیر ،گلگت بلتستان سے آنے والے پارٹی عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہاکہ زمین پر حق حاکمیت عوام کے پاس ہے ،حکومت وہی کرے جسے عوام ووٹ دیں۔اقتدار کے ایوانوں میں داخل کرنے یاباہرنکالنے کی کنجی20کروڑ لوگوں کے پاس ہونی چاہیے یہی وہ حق یعنی امانت ہے جس میں خیانت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں انہیں سیاست سے بے دخل کرنے کی باربارکوشش ہوتی رہی لیکن مسلم لیگی کارکن اورعوام مجھے دوبارہ سیاست میں داخل کرواتے رہے۔سابق صدر پرویز مشرف نے میراراستہ روکنے کے لیے کالاقانون بنایاجسے آج اس کے منہ پر ماردیاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ بطوروزیراعظم انہوں نے خلوص کے ساتھ قوم کی خدمت کی۔کوئی لالچ یاذاتی مفاد مدنظررکھانہ کوئی غلط کام کیا۔میرے خلاف کوئی کرپشن سامنے نہیں آئی صرف اقامہ ملاجس کی بنیاد پر مجھے نااہل کردیاگیا۔70سالہ سیاسی تاریخ بتارہی ہے کہ ہمارامسئلہ کیاہے، انہوں نے کہاکہ سیاستدانوں سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں جنہیں نظرانداز کرکے آگے دیکھنا چاہیے۔ قانونی موشگافیوں کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کی توہین نہ کی جائے ۔سابق وزیراعظم نے انتہائی معنی خیزانداز میں کہا’’خبردارکررہاہوں حالات بدلنے کی کوشش نہ کی گئی توپاکستان ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا‘‘جہاں تک سابق وزیراعظم کے اس انتہائی جذباتی خطاب کاتعلق ہے توبلاشبہ اس میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کے تمام نشیب وفراز ،ریشہ دوانیاں ،اقتدارکے لیے چھیناجھپٹی حتیٰ کہ چیف ایگزیکٹو کے ناپسندیدہ فیصلوں کے خلاف ردعمل کی متعدد مثالیں بھی موجودتھیں۔مولوی تمیزالدین سے لے کرپانامہ تک کی تاریخ بتانے والے میاں نوازشریف نے ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی تابے نظیربھٹوقتل کیس حقائق کا حوالہ بھی دیا اورفیلڈمارشل ایوب خان سے لے کرجنرل پرویز مشرف تک چارمرتبہ آئین شکنی اور33سالہ آمرانہ دور میں آرٹیکل(3)184پرعدالتی خاموشی کی طرف بھی اشارہ کیا۔اس بات میں بھی کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ سقوط ڈھاکہ جیسے سانحات قوم کوہلاکر رکھ دیتے ہیں مگروہ یہ بتانابھول گئے کہ وہ کونسے اسباب تھے جس کے باعث پاکستان دولخت یابحرانوں کاشکار ہوا۔میاں نوازشریف کایہ فرمان بھی درست ہے کہ غلط فیصلوں کی ملک وقوم کوبھاری قیمت چکانی پڑتی ہے ۔28جولائی کوسپریم کورٹ کے پانچ ججز نے جوفیصلہ دیا،اس کی گہرائی میں اترکردیکھاجائے اورسابق وزیراعظم کے اظہارخیال کودیکھاجائے توبہت سے جھول،آئینی و قانونی خلاف ورزیاں بلکہ مفادپرستیاں سامنے آتی ہیں ۔قیام پاکستان کے بعدقائداعظم محمدعلی جناح کی زیرصدارت ملک کی پہلی کابینہ کے پالیسی سازاجلاس کے موقع پر گورنرجنرل ہاؤس کے پروٹوکول آفیسرنے بانی پاکستان سے پوچھاکہ وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت تمام وزراء شرکت کررہے ہیں ،چائے یاکھانے کاانتظام ہوناچاہیے توانہوں نے جواباََ کہا اجلاس اہم امورپرغورکے لیے ہورہاہے کھلانے پلانے کے لیے نہیں ۔کابینہ ارکان اپنے گھروں سے چائے توپی کر ہی آئیں گے اس لیے کسی غیرمعمولی اہتمام کی کوئی ضرورت نہیں۔

میاں نوازشریف کاپھربطورپارٹی صدر انتخاب

جنرل ایوب خان نے ایبڈو کے نام سے سیاستدانوں کوکنٹرول کرنے کے لیے کالاقانون نافذ کیا تومسلم لیگ کے آدھے سے زیادہ عہدیدار ان کے ساتھ کیوں جاکربیٹھ گئے تھے؟آج مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے 46برس بعدمحترم نوازشریف سیاسی غلطیوں کاحوالہ دیتے وقت یہ بھی یادرکھیں کہ جنرل یحیٰ خان کواپناآئین نافذکرنے کامشورہ دینے والے بھی توسیاستدان تھے ۔5جولائی 1977ء کوذوالفقارعلی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا گیاتوجنرل ضیاء الحق کومبارکباد یں دینے والے نوابزادہ نصراللہ،ائرمارشل اصغرخان ،مولانامفتی محمود،مولاناشاہ احمدنورانی،پروفیسرعبدالغفور بھی توسیاستدان ہی تھے ۔ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی پرمٹھائیاں بانٹنے اوردیگیں پکوانے والے میاں نوازشریف کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوئے ہوں گے؟جنرل پرویز مشرف نے دوتہائی اکثریت رکھنے والی مسلم لیگ(ن)کی حکومت کاتختہ الٹاتووزیراعظم نوازشریف کی کابینہ کے وزیرداخلہ چوہدری شجاعت حسین آمرکے کیمپ میں کیوں چلے گئے؟1973ء کے آئین کاآرٹیکل 6کسی بھی طالع آزما آرمی چیف کواقتدارپرقبضہ کرنے سے روکنے کے لیے بنایاگیاتھا مگر ضیائی مارشل لاء کی حمایت کی غلطی بھی تومیاں نوازشریف نے کی تھی۔محترمہ بے نظیربھٹو کے ساتھ عوام کے بنیادی حقوق کی بحالی کے لیے لندن میں میثاق جمہوریت پردستخط کرنے والے مسلم لیگ(ن)کے نومنتخب صدریہ بھی یادرکھیں کہ اسی بے نظیربھٹو کووہ خودچندبرس قبل تک پاکستان کے لیے سکیورٹی رسک قراردیتے رہے ہیں۔ذوالفقارعلی بھٹو کوایٹمی طاقت کاخالق قراردینے والے میاں نوازشریف اوران کے ساتھی چیئرمین پیپلزپارٹی کو پاکستانی معیشت تباہ کرنے کاذمہ داربھی قراردیتے رہے اورحدتویہ ہے کہ جنرل مشرف کوپانچ سینئرجرنیلوں کے مقابلے میں سپرسیڈ کرکے آرمی چیف بنانے والے بھی تومیاں نوازشریف خود ہی تھے۔تاریخ وہ آئینہ ہے جس میں سیاستدان اپناماضی اورحال دیکھ سکتے ہیں نفرتوں اورتصادم کاکلچرختم اوراقوام عالم میں پاکستان کو سربلند کرنے کے خواہشمند سابق وزیراعظم آزادی کی قیمت چکانے کامطلب اگرقومی وسائل لوٹنے والوں کو قانونی شکنجے سے باہررکھناسمجھتے ہیں تو انہیں کنونشن سینٹر میں موجود مسلم لیگ(ن)کی جنرل کونسل کے1800سے زائد مندوبین کے روبرو’’اپناگھرٹھیک‘‘کرنے کے لیے کوئی لائحہ عمل بھی سامنے لاناچاہیے تھا۔لاکھوں ووٹوں سے کامیاب ہونے والے کسی رکن قومی یاصوبائی اسمبلی کی بعدازاں بی اے کی ڈگری جعلی نکلے تواس کاحل صرف نیاالیکشن یاعوام سے دوبارہ فیصلہ لینانہیں بلکہ عوام کے اعتماد کودھوکہ دینے یاغلط بیانی کرنے پراحتسابی شکنجے میں گزارناہے۔گزشتہ برس کوئٹہ کی شاہراہ پرایک پولیس کانسٹیبل کواپنی تیزرفتارگاڑی کے نیچے دے کرکچل دینے والے بلوچستان اسمبلی کے رکن مجیداچکزئی کوپھر سے عوامی عدالت میں پیش اورفریش مینڈیٹ لینے کانہیں کہاجائے گابلکہ قانون کے کٹہرے میں ہی کھڑا ہوناپڑے گا۔آج آزاد میڈیا کے باعث پوری دنیا سمٹ کرگلوبل ویلج بن چکی ۔آئس لینڈ سے لے کرآسٹریلیا اورنیوزی لینڈ تک اگرکسی عوامی نمائندے ،بادشاہ
،ملکہ ،صدر،وزیراعظم یااہم عہدہ رکھنے والے شخص کے خلاف کرپشن ،اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھانے یاکک بیکس یاکمیشن لینے کاالزام ہے تواسے شفاف ٹرائل کے مرحلے سے گزارنابھی ریاستی ذمہ داری اورقانونی واخلاقی تقاضاسمجھاجاتاہے۔نیب میں زیرسماعت تین ریفرنسز درست ہیں یاغلط،اس کافیصلہ عوامی عدالت نہیں قانون کی عدالتوں میں ہی ہوناچاہیے۔ایک روزقبل ہی اخبارات کی زینت بننے والی ایک ایکسکلوسو خبر کے مطابق مسلم لیگ(ن)کی حکومت میں گزشتہ چار برس کے دوران پاکستان کے ایک قومی بنک میں 100سے زائدسینئرعہدوں پرآؤٹ آف رولز سیاسی بھرتیاں کی گئیں جن میں چھ سینئرایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ 20سینئروائس پریذیڈنٹ ،31وائس پریذیڈنٹ ،50اسسٹنٹ وائس پریذیڈنٹ کے علاوہ گروپ چیف اورونگ ہیڈزشامل ہیں۔کنٹریکٹ پرکی جانے والی ان بھرتیوں کے لیے کوئی اشتہاردیاگیانہ قواعدوضوابط کاخیال رکھاگیا۔لطف کی بات یہ ہے کہ انتہائی پرکشش تنخواہوں اورمراعات سے فائدہ اٹھانے والے ان افسروں کو تین سالہ کنٹریکٹ کی میعادپوری ہونے کے بعدتوسیع بھی دی جاتی رہی۔ایسی خبریں جہاں حکومتی کارکردگی اورمیرٹ کے بارے میں غلط فہمیاں پیداکرتی ہیں وہیں بڑی تعداد میں حقداروں اورترقی کے منتظر محنتی وفرض شناس افسروں کاحق بھی ماراجاتاہے۔میاں نوازشریف تین مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم رہے جبکہ چوتھی مرتبہ بھی اس اہم عوامی عہدے کے خواہشمند نظرآتے ہیں بظاہر عوا م کی حمایت سے اقتدار میں آناکوئی غلط یاغیرقانونی کام نہیں مگرآئین،قانون اوراخلاقیات کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔امریکی صدردویادوسے زیادہ مرتبہ منتخب ہوناچاہے توآئین میں کوئی پابندی نہیں مگراخلاقی روایات کے تحت وہ تیسری مرتبہ الیکشن نہیں لڑتا۔برطانوی وزیراعظم تیسری مدت کے لیے کبھی اقتدارنہیں سنبھالتا۔حالیہ تاریخ میں نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کاہیروتھامگر دومرتبہ صدرمنتخب ہونے کے بعد اس نے خود یہ منصب چھوڑدیاحالانکہ اپنی مقبولیت اوراحترام کے باعث وہ جتنی مرتبہ چاہتاصدارت کامنصب حاصل کرسکتاتھا۔آئین پاکستان میں بارباروزیراعظم بننے پرکوئی پابندی نہیں مگرکوئی شخص اتناناگزیربھی نہیں ہوتاکہ اس کا متبادل ہی سامنے نہ آسکے۔نوازشریف کے انتخاب کے بعد میاں شہبازشریف نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیرجوتلخ وشیریں الفاظ اداکیے،وہ سابق وزیراعظم کے لیے مستقبل کی سیاسی حکمت عملیوں کے لیے گائیڈلائن ہونی چاہیے .آج آئینی اقتداراعلیٰ ممنون حسین جبکہ حقیقی اقتداراعلیٰ شاہدخاقان عباسی کے پاس ضرورہے مگرعوامی اقتداراعلیٰ بدستورمیاں نواز شریف کی جیب میں ہے۔جمہوریت میں عوام جس شخصیت کواپنے اعتماد کے قابل سمجھیں ،اسے اقتدار میں آنے سے روکنا درست نہیں مگر گزشتہ33برس سے اقتدار کی غلام گردشوں میں سفرکرنے والے میاں نوازشریف کوآئینی اداروں کے احترام،آئینی حدوداورعدلیہ ،انتظامیہ اورحکومت میں توازن قائم رکھنے کے ساتھ ریاست کے چوتھے ستون میڈیا کے ساتھ اپنی کوآرڈی نیشن اورجائز تنقیدی والزاماتی امورکاحضرت عمرفاروقؓ کے انداز میں جواب دینے کے لیے تیاررہنا چاہیے تاکہ مال غنیمت سے ملنے والے کپڑے سے قمیض کیسے بنی جیسے سوالات کاٹھنڈے دل ودماغ سے مقابلہ کرناپھر ہماری روایت بن سکے۔

نئے چیئرمین نیب کے لیے حکومت اپوزیشن رابطے

جیسے جیسے قمرالزمان چوہدری کی ریٹائرمنٹ کاوقت قریب آتاجارہاہے،نیشنل اکاؤنٹبلٹی بیوروکے نئے چیئرمین کے تقرر کے لیے حکومت اوراپوزیشن انتہائی متحرک نظرآ نے لگے ہیں ۔حکومت نے حسب توقع انٹیلی جنس بیوروکے سابق ڈائریکٹر جنرل آفتاب سلطان کے علاوہ جسٹس (ر)رحمت جعفری اورجسٹس(ر)اعجازچوہدری جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے جسٹس(ر)جاویداقبال،جسٹس(ر)فقیرمحمداوراشتیاق احمد کے نام فائنل کرلیے ہیں ۔امید ہے آئندہ ایک دوروز میں وزیراعظم شاہدخاقان عباسی اورقائدحزب اختلاف خورشید شاہ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران کوئی اتفاق رائے ہوجائے گاوگرنہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی طے کرے گی۔اپوزیشن کی طرف سے سامنے آنے والے دونام یعنی سپریم کورٹ کے سابق جسٹس جاویداقبال اورسابق رجسٹرار سپریم کورٹ جسٹس(ر) فقیرمحمد کے علاوہ اشتیاق احمدخان الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری رہ چکے ہیں ان کانام جماعت اسلامی نے تجویز کیاالبتہ تحریک انصاف اورایم کیوایم کے تحفظات یاترجیحات ابھی تک اس لیے واضح نہ ہوسکیں کہ وہ قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف کے خلاف عدم اعتماد لانے اوراس عہدہ پر نیاچہرہ دیکھناچاہتی ہیں۔جنر ل پرویز مشرف کے دور حکومت میں قائم ہونے والے ا حتسابی ادارہ کاکام کرپشن میں ملوث افراد کواحتساب کے عمل سے گزارنے کے ساتھ لوٹی گئی دولت اگلواناتھامگر بدقسمتی سے پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ(ن)نے اس اہم ادارہ کی سربراہی پربھی ایساشخص بٹھانے کواپنی خواہش بنالیاجودونوں جماعتوں میں شامل بااثرافراد کے خلاف نرم گوشہ رکھے یعنی بے رحمانہ وشفاف احتساب کی بجائے محض رسمی کارروائی ہی دونوں جماعتوں کامطمح نظررہا۔حدیہ کہ اس عہدے کے لیے ’’موزوں‘‘ شخص کااختیارحاصل کرنے کے لیے آئینی ترمیم کرنے تک کی راہ اختیارکی گئی۔موجودہ چیئرمین 17اکتوبر کو عہدہ چھوڑرہے ہیں اس لیے15تاریخ تک ان کے جانشین کاانتخاب لازمی ہے۔ آفتاب سلطان غیرجانبدار رہیں گے یامسلم لیگ (ن)کے مفادات کے امین ثابت ہوں گے ،چندایسے خدشات عام ہیں تاہم جسٹس(ر) جاویداقبال ماضی میں ایبٹ آباد تحقیقاتی ٹربیونل کی سربراہی کرچکے ہیں ۔جسٹس(ر)فقیر محمدکوجسٹس افتخار محمدچوہدری کے دور میں رجسٹرار سپریم کورٹ مقررکیاگیا تھا۔ایسا لگتاہے آصف زرداری آنے والے وقتوں میں اپنے خلاف احتسابی شکنجہ کسے جانے کے خوف میں مبتلا جبکہ میاں نوازشریف اپنے خلاف زیرسماعت یازیرالتواء ریفرنسز کی روشنی میں قابل قبول چیئرمین نیب کوہی اپنے لیے’’تازہ ہواکاجھونکا‘‘بنانے کی حکمت عملی پرعمل پیراہیں ۔حکمران مسلم لیگ (ن)موجودہ احتسابی عمل کی جگہ نیااحتساب کمیشن بنانے کی قانون سازی میں بھی مصروف ہے ۔وقت آگیاہے کہ 73ء کے حقیقی آئین کی روشی اورسیاسی جماعتوں کی کشمکش وخواہش کے برعکس اس ادارہ کی قیادت مقررکرنے کااختیار سپریم کورٹ کودے دیاجائے تاکہ وہ ارسال کردہ لسٹ میں سے بہترین وموزوں چیئرمین کاانتخاب خودکردیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں