دورہ کابل، امریکی اشارے اور پاکستان

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ افغانستان کے بعد پاک فوج کے کور کمانڈرز کا ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا ہے جو 7 گھنٹے تک جاری رہا۔ خلاف معمول اس اجلاس کے بارے میں فوج کے دفترتعلقات عامہ نے کوئی پریس ریلیز جاری کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اخبار نویسوں کے سوالوں کا جواب دینے سے بھی گریز کیا ہے ۔ ملک کو درپیش موجودہ حالات میں اس غیر معمولی کور کمانڈر کانفرنس پر ملک میں چہ میگوئیوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس تشویش کی ایک وجہ امریکہ سے موصول ہونے والے ملے جلے اشارے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ملک کے اندر سامنے آنے والی صورت حال بھی ملک کے سیاسی حلقوں میں بے چینی پیدا کرنے کا سبب بنی ہے ۔ کور کمانڈر کانفرنس کے بارے میں جو خبریں موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق پاک فوج کی قیادت نے ملک میں امن و امان کی صورت حال کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر ہونے والی خلاف ورزیوں پر غور کیا۔
اس سے ایک روز پہلے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ کابل کے دورہ سے واپس آئے تھے ۔ اس دورہ میں اعلیٰ فوجی قائدین کے علاوہ سیکرٹری امور خارجہ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ آرمی چیف نے افغان صدر اشرف غنی اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں سے باہمی اشتراک کے موضوع پر تفصیل سے بات چیت کی اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے پاکستان کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ ان ملاقاتوں کو دونوں ہمسایہ ملکوں کے تعلقات پر جمی برف کی وجہ سے خوش آئیند اور حوصلہ افزا سمجھا جارہا ہے ۔ صدر اشرف غنی گزشتہ کچھ عرصہ سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے اور تعلقات کو بہتر بنانے کی بات کرتے رہے ہیں لیکن اس حوالے سے کوئی عملی قدم دیکھنے میں نہیں آیا ہے ۔ تاہم پاک فوج کے سربراہ کے دورہ کابل سے اس سلسلہ میں اہم پیش رفت ہوئی ہے ۔

کیااقتدارکی چابی واقعی عوام کے پاس ہے؟

اسلام آباد اور کابل کے تعلقات میں بحالی محض دو ملکوں کے درمیان تعلقات کا معاملہ نہیں ہے ۔ ان حوالے سے بھارت اور امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اور رویہ بھی اہم کردار ادا کرے گا،لیکن نئی دہلی سے آنے والے اشارے اور پاک فوج کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات کی روشنی میں یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تصادم کی موجودہ صورت حال فوری طور پر کم ہونے کا امکان نہیں ہے ۔ اس کی جزوی وجہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی پاکستان کے ساتھ بات چیت نہ کرنے کی پالیسی ہے لیکن پاکستان بھی نئی دہلی کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے کسی جلدی کا شکار نظر نہیں آتا۔ اس طرح لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزیوں اور ایک دوسرے کا نقصان کرنے کے دعوؤں اور دھمکیاں دینے کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ نریندر مودی حکومت نے پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لئے مذاکرات شروع کرنے سے گریز کیا ہے لیکن اب وہ اندرون ملک سیاسی عدم مقبولیت کا سامنا کررہے ہیں۔ ایک بھارتی مقبولیت پسند لیڈر کے لئے پاکستان کے خلاف نعرہ زنی سے زیادہ تیر بہدف کوئی نسخہ نہیں ہو سکتا۔ مودی سرکار اسی طریقے پر عمل کررہی ہے ۔
پاکستان ، بھارت کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا اعلان تو کرتا ہے لیکن وہ بھی کشمیر کے بارے میں اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ بلکہ عالمی سطح پر جب بھی موقع ملتا ہے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے یہ جتایا جاتا ہے کہ بھارت اس خطے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ظلم و استبداد کی نئی مثالیں قائم کررہا ہے ۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے کردار کو واضح کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے خصوصی ایلچی بھیجنے کی درخواست کی تھی۔ اس کے جواب میں بھارت نے پاکستان کو دہشت گردوں کا سرپرست قرار دیا اور دونوں طرف سے الزام عائد کرنے کے اس سلسلہ کی وجہ سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دینے اور کامیابیاں حاصل کرنے میں پوری دنیا میں سر فہرست ہے لیکن بھارت ، امریکہ اور افغانستان اس کے برعکس مؤقف اختیار کرتے ہیں۔ واشنگٹن میں سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے واضح کیا ہے کہ امریکہ ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی بنانے کی کوشش کرے گا اور اس مقصد کے لئے وہ خود جلد ہی پاکستان کا دورہ کریں گے ،لیکن اسی کمیٹی کے ایک دوسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی افواج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جوزف ڈنفورڈ نے ایک بار پھر کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی دہشت گردوں کے ساتھ رابطے میں ہے ۔ اس طرح واشنگٹن سے بھی اگر تعاون کی کوشش کرنے کی بات کی جارہی ہے تو دوسری طرف پاکستان کے ساتھ دھمکی آمیز رویہ بھی اختیار کیا جارہا ہے ۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے اس علاقے میں دہشت گردی کے فروغ کے لئے پاکستان کے کردار پر نکتہ چینی کی تھی۔ وزیر دفاع جم میٹس بظاہر پاکستان کے ساتھ تعاون کی بات کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان نے اپنا رویہ نہ بدلا تو امریکہ ہر ممکنہ کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ بڑھنے سے امریکہ پاکستانی علاقوں پر دوبارہ ڈرون حملے شروع کرنے کے علاوہ نان نیٹو حلیف کے طور پر پاکستان کی حیثیت بھی تبدیل کرسکتا ہے ۔یہ صورت حال پاکستان کے لئے شدید پریشانی کا سبب ہونی چاہئے ۔ اگرچہ صدر ٹرمپ کی تقریر کے بعد پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا اور امریکی حکام نے بھی اس تنقید کو خوشنما شکل دینے کی کوشش کی تھی لیکن یہ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد کی طرف سے کسی بڑی پالیسی تبدیلی کے بغیر امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات میں خلیج حائل ہو سکتی ہے جو ملک کے سفارتی اور معاشی مستقبل کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا سبب ہوگی، تاہم پاکستان کی طرف سے امریکہ کے ساتھ تعاون کی بات کرنے کے باوجود یہی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے بہت کام کیا ہے ، اب دنیا کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس دلیل کی تکرار وزیر خارجہ کی باتوں میں بھی سنی جا سکتی ہے جو اس وقت امریکہ میں ہیں اور گزشتہ روزکسی وقت امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن سے ملاقات بھی کرنے والے تھے ۔خارجی سطح پر ان اندیشوں کے علاوہ کل اسلام آباد احتساب عدالت میں مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت اور وزیر داخلہ کے ساتھ رینجرز کے سلوک نے داخلی طور پر بھی کشیدگی اور بے یقینی میں اضافہ کیا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) نے انتخابی اصلاحات کا نیا قانون منظور کروانے کے بعد فوری طور پر نواز شریف کو ایک بار پھر اپنا صدر منتخب کرلیا ہے ۔ اس انتخاب کو تصادم کا راستہ اور حکومت ، حکمران پارٹی اور فوج کے درمیان اختلافات کا مظہر سمجھا جارہا ہے ۔ ان حالات میں کور کمانڈر کی خصوصی نشست اور اس کے بارے میں پر اسرار خاموشی نئی قیاس آرائیوں کو جنم دینے کا سبب بنے گی۔ پاکستان کو موجودہ بحران سے نکلنے کے لئے فوری اور واضح اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان میں افغانستان کے ساتھ مفاہمت کے علاوہ بھارت کے ساتھ تصادم کی صورت حال ختم کرنا بے حد اہم ہے ۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ داخلی طور پر منتخب حکومت کے بے اختیار ہونے کے بارے میں شبہات کو ختم کیا جائے ۔روز مرہ کی بنیاد پر یہ افواہیں کہ فوج کسی وقت بھی سیاسی حکومت کا خاتمہ کرسکتی ہے ، حکومت سے زیادہ ملک کی شہرت اور اعتبار کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہی ہیں۔
پاک امریکہ وزرائے خارجہ کی ملاقات اورعلاقائی امن
پاکستان کے وزیرخارجہ خواجہ محمدآصف نے گزشتہ روز واشنگٹن کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور،علاقائی صورتحال اورعالمی امن سمیت دہشتگرد تنظیم داعش کی عملداری محدودکرنے کے معاملے پربڑی تفصیل کے ساتھ دونوں ملکوں نے اپناموقف واضح کیا۔امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن نے جنوبی ایشیا میں پائیدارقیام امن کے لیے پاکستانی اہمیت کوتسلیم کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ افغانستان کوپرامن بنانے کے لیے اسلام آباد ہی فیصلہ کن کرداراداکرسکتاہے۔انہوں نے پاکستان کی داخلی وسیاسی صورتحال پربھی وائٹ ہاؤس کی ترجیحات وخدشات کے تناظر میں اظہارخیال کیا۔پاکستان کے وزیرخارجہ نے افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے کردارکامعاملہ اٹھایا اورکنٹرول لائن پربڑھتی کشیدگی کی وجوہات کے بارے میں اپنے امریکی ہم منصب کواعتماد میں لیا۔جہاں تک دونوں ملکوں کے درمیان اس اعلیٰ سطحی رابطوں کاتعلق ہے تودو ماہ قبل پاکستان کے بارے میں صدرڈونلڈٹرمپ کے بگڑتے تیوراورافغانستان میں موجوداپنے فوجیوں کے تحفظ کے تناظر میں اسلام آباد کوڈومورپرمجبور کرنے کے تقاضے پینٹاگون اورجی ایچ کیو میں غلط فہمیوں کاباعث بن گئے تھے۔ پاکستان کی فوجی اور اقتصادی امدادبند کرنے کے ساتھ اس کے خلاف اقتصادی پابندیاں لگانے کاجوتاثروائٹ ہاؤس نے دیا،وہ پاکستان کے لیے ناقابل برداشت تھایہی وجہ ہے کہ وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے وزیرخارجہ خواجہ محمدآصف کو شیڈولڈ دورہ امریکہ موخر کرکے روس اورچین کے ساتھ مفاہمت بڑھانے کی ہدایت کردی تھی۔کشیدگی اورعدم اعتماد کی فضا اس حدتک پریشان کن تھی کہ21ستمبر کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے نیویارک پہنچنے والے پاکستانی وزیراعظم نے صدرڈونلڈسے رسمی ملاقات کے لیے بھی اپنی مصروفیات میں گنجائش نہ رکھی حالانکہ وہ متعددعالمی لیڈروں ،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اوربالخصوص مسلم ممالک کے وفود سے طے شدہ شیڈول سے ہٹ کربھی ملاقاتیں کرتے رہے ،امریکی صدرکے ساتھ ناشتے کی میزپرملاقات تومحض ایک سفارتی واخلاقی تقریب تھی۔امریکی وزیرخارجہ کے ساتھ ملاقات کے دوران یہ بات بھی کھل کرسامنے آئی کہ پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن اورمقبوضہ وادی سے پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں کارخ موڑنے کے بارے میں نریندرمودی کی جنونی پالیسیوں پرکوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا حالانکہ شاہدخاقان عباسی عالمی ادارے میں اپنی تقریر کے دوران بھارتی جارحیت پر کھل کراظہار خیال کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اورکنٹرول لائن پربڑھتی مداخلت کے بارے میں ڈوزئیراقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گیٹریس کودے چکے تھے۔عراق اورشام میں داعش کے خلاف امریکی کارروائیوں کامقصدعالم اسلام کے ساتھ اظہاریکجہتی یادہشتگردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد سے کہیں آگے بڑھ کرانتہاپسند جنگجوتنظیموں کو کمزورکرکے اسرائیلی وامریکی سلامتی کودرپیش خطرات کوکم کرناہے۔یہ درست ہے کہ عراق اورشام سمیت مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک سے پسپاہونے والی داعش پاکستان اورافغانستان میں اپنے پاؤں جمانے کی کوشش کررہی ہے،مگرہرملک اپنی داخلی سلامتی وخودمختاری کے تقاضوں کے پیش نظر احتیاطی وانسدادی اقدامات ضرور اٹھارہاہے۔پاک فوج جہاں طالبان اوردیگرجہادی تنظیموں کے خاتمے کے لیے آپریشن ردالفساد جاری رکھے ہوئے ہے ،وہیں داعش جیسی انتہاپسند تنظیم سے نمٹنے کے لیے بھی آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ انتہائی سنجیدگی کے ساتھ متحرک وفعال نظر آتے ہیں ۔پاک امریکہ وزرائے خارجہ ملاقات میں شمالی کوریا کی بڑھتی سرگرمیوں اورجوہری تجربات پروائٹ ہاؤس نے مسلم ممالک کاتعاون طلب کرکے افغانستان پراکتوبر2001ء کی جارحیت کی طرز پرنئی جنگی حکمت عملی مرتب کرنے کااشارہ دے دیا ۔اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ پیانگ یانگ کے بڑھتے ہوئے ایٹمی تجربات مشرق بعید سمیت جزیرہ نمائے کوریا کے امن کے لیے خطرہ ہیں ،مگراس سے پہلے امریکہ کو وادی کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خاتمے اورفلسطین کی 68سالہ جدوجہدآزادی کے زمرے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا یقین دلاناپڑے گا۔دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی اورایڈولف ہٹلر سے نمٹنے کے لیے اپنے اتحادیوں کی امداد کے بدلے تا ج برطانیہ نے بھی ہندوستان سمیت اپنی متعدد کالونیوں کوآزاد کرنے کااعلان کیاتھا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم ممالک بھی شمالی کوریا کے خلاف امریکی مفادات کے لیے اپناکندھا پیش کرنے کے لیے عراق ،لیبیا اورمصر میں امریکی جارحیت اورالقاعدہ کوتباہ کرنے کی آڑ میں افغانستان کوکھنڈرات میں تبدیل کرنے والے وائٹ ہاؤس کے مکین سے مستقبل قریب میں مسلم ممالک کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل اورعالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے جگہ جگہ ڈرون حملے جاری رکھنے کاسلسلہ بندجبکہ مظلوم اقوام کواپنا پیدائشی حق آزادی لے کر دینے کی یقین دہانی حاصل کریں کیونکہ یہی مفاہمت اورکچھ لوکچھ دو کی بنیادی شرط بن سکتی ہے۔
چیئرمین نیب کی تقرری پرپی ٹی آئی کامعاندانہ روّیہ
نئے چیئرمین نیب کے لیے حکمران مسلم لیگ(ن)اوراپوزیشن جماعت پیپلزپارٹی نے تین تین نام ایک دوسرے کوفراہم کردیئے جن پرغوروفکر کے بعد شایدفریقین میں اتفاق رائے سے جلد کوئی نام فائنل ہوجائے ۔آئی بی کے سابق ڈائریکٹر جنرل آفتاب سلطان پرپیپلزپارٹی ہی نہیں،تحریک انصاف ،قائداعظم لیگ اورعوامی نیشنل پارٹی کوبھی شدیدتحفظات ہیں جبکہ جماعت اسلامی الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری اشتیاق احمد کانام تجویرکرچکی تاہم سپریم کورٹ کے سابق سینئرجج جسٹس(ر)جاویداقبال ایسانام ہے جوشایدحکمران مسلم لیگ(ن)کی بھی ضرورت یاخواہش بن جائے مگر تحریک انصاف ابھی تک اپنے پسندیدہ امیدوارکانام دینے کی بجائے محض حکومت اورپیپلزپارٹی پرمک مکا کے الزامات ہی لگارہی ہے اپوزیشن لیڈرخورشیدشاہ پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈرشاہ محمود سے پہلے شفقت محمود،شیریں مزاری اورعارف علوی کوبھی کوئی نام تجویز کرنے کاکہہ چکے جبکہ ایم کیوایم کی طرف سے محمودرضوی کانام سامنے لایاگیاہے۔شاہ محمود قریشی نے 10روزقبل اپوزیشن لیڈر کے لیے اپنا امیدوارسامنے لانے کااعلان کرکے خورشیدشاہ پرجوعدم اعتماد کیا،اس نے حکومت کو حزب اختلاف میں دراڑیں ہونے یا تقسیم کاواضح ثبوت فراہم کردیا۔پیپلزپارٹی اورحکمران مسلم لیگ(ن) کے اندر’’خاموش مفاہمت‘‘کے نتیجے میں اگرآصف زرداری یانوازشریف کی مرضی کاکوئی نیاچیئرمین آگیاتو تحریک انصاف کے لیے اسے برداشت کرنامشکل ہوگا۔ویسے بھی عمران خان کوقومی اسمبلی میں اپنی پارلیمانی طاقت دیکھ کر مفاہمت کی راہ اپنانی چاہیے۔ اگرپیپلزپارٹی ،ایم کیوایم اورتحریک انصاف وسیع ترملکی مفاداورکرپشن کے خاتمے کے لیے خلوص نیت کے ساتھ کوئی متفقہ امیدوار سامنے لے آتے توحکومت کے لیے اسے نظرانداز کرناممکن نہ رہتا۔وقت آگیاہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں اب بھی ذاتی مفادات یاانا کی بجائے ملک سے لوٹ مارکے کلچر کے خاتمے کے لیے قابل قبول اورفرض شناس شخص پر اتفاق کرلیں ورنہ حکومت کوفری ہینڈمل جائے گا۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
دورہ کابل، امریکی اشارے اور پاکستان
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں