افراد نہیں ادارے بالاتر ہونے چاہئیں

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل آصف غفورنے سیاسی وعسکری اداروں کے درمیان عدم استحکام کاتاثرردکرتے ہوئے کہاکہ ان کے درمیان تصادم جیسی کوئی صورتحال نہیں۔پاکستان کے استحکام اورترقی وخوشحالی کے لیے سب کومل جل کرکام کرنا ہوگا۔ چندروزقبل احتساب عدالت کے باہررینجرز کی تعیناتی میں مقامی طورپر غلط فہمی پیداہوئی تاہم سکیورٹی قوانین کے مطابق سپیشل کارڈ کے بغیرآرمی چیف کوبھی ڈیوٹی پرموجودسپاہی روک سکتاہے۔اپنی بریفنگ کے دوران میجر جنرل آصف غفورنے ملکی سیاسی وعسکری صورتحال کے بارے میں جوباتیں کیں ،اسے اندرونی معاملات اورسرحدی کشیدگی کے تناظر میں دیکھناچاہیے ۔آرمی ترجمان نے کہاکہ سرحدوں پرخطرات منڈلارہے ہیں ۔بدقسمتی سے بھارت کارویہ درست نہیں ،اگروہ بازنہ آیاتواسے قیمت چکانی پڑے گی۔پاکستان کسی قسم کی جنگ نہیں چاہتالیکن ایساہونے پربھرپورجواب دیاجائے گا۔انہوں نے پاکستان کے اندرکسی بھی دہشتگرد تنظیم کاٹھکانہ موجود ہونے سے انکارکرتے ہوئے کہاکہ ہمیں ایران اورافغانستان سے نہیں بلکہ سرحد پر موجودغیرریاستی عناصرسے خطرات ہیں مگر بیرون ملک بیٹھ کرپاکستان توڑنے کی باتیں کرنے اورگالیاں نکالنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔میجرجنرل آصف غفورنے کہاکہ افغان سرحد پرپاکستان کی دولاکھ جبکہ مشرقی سرحد پرایک لاکھ افراد پرمشتمل فوج فرائض سنبھالے بیٹھی ہے ۔راسمیت بھارت کی چارخفیہ ایجنسیاں پاکستان کے اندردہشتگردیوں کے منصوبے بنارہی ہیں،خطرے سے وزارت خارجہ کوآگاہ کردیاگیا۔ترجمان پاک فوج نے کنٹرول لائن اوراندرون ملک لاء اینڈآرڈر کی صورتحال کے بارے میں کہا کہ جے آئی ٹی کے بعدایک معاملہ چل رہاہے جس سے ہم بخوبی آگاہ ہیں مگرمسلح افواج آئین کے اندررہ کر کام کریں گی۔جہاں تک گزشتہ روز کی بریفنگ کاتعلق ہے تواسے انتہائی معنی خیز،بروقت انتباہ اوردبے لفظوں میں پاک فوج پرہونے والی بالواسطہ تنقید کاردعمل قراردیاجاسکتاہے۔پانامہ کیس کی سماعت شرو ع ہونے سے لے کر2اکتوبر کواحتساب عدالت اسلام آباد میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی پیشی کے موقع پرفرائض سرانجام دینے والے رینجرز دستوں کے مطابق وزیرداخلہ احسن اقبال کی انگشت نمائی تک پاک فوج کے کردارکے بارے میں ہرمحب وطن پاکستانی بخوبی آگاہ ہے۔عدالتی وقارقائم کرنادرحقیقت حکومت اورمقامی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے ۔26ستمبر کواحتساب عدالت کے اندراورباہر جوافراتفری دیکھی گئی اس کاازالہ اسلام آباد پولیس اوروفاقی حکومت کے دیگراداروں کوکرناتھالیکن کمرہ عدالت میں نعرے بازی ،بعض وکلاء کی طرف سے بیرونی دیواریں پھلانگ کروہاں پہنچ جانے کے باعث ہی سابق وزیراعظم سے حفاظتی مچلکے لیے جاسکے نہ ان پرفردجرم عائدہوسکی۔دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ ایک چھوٹاساعدالتی کمرہ جس میں 35سے زائدافراد سماہی نہیں سکتے ،وفاقی وزراء کی فوج کو وہاں پہنچنے کی کیاضرورت تھی؟رینجرز وزارتِ داخلہ کے ماتحت ضرور ہیں مگر ان کے حفاظتی ذمہ داریاں سنبھالنے کامقصدبھی صرف امن وامان کی صورتحال کنٹرول میں رکھناتھا۔ایک ایسے وقت میں جب کنٹرول لائن پربھارت مسلسل سرحد ی خلاف ورزیوں میں مصروف اورسینکڑوں خلاف ورزیوں کے ساتھ بڑی تعداد میں پاکستانی شہریوں کوشہیدکرچکاہے تووزارت داخلہ کووزارت دفاع کے ساتھ مل کراندرونی وسرحدی حالات موثربنانے پرفوج کے ساتھ سرجوڑکربیٹھناچاہیے ۔ احسن اقبال،خواجہ سعدرفیق ،مشاہداللہ خاں سمیت12/13وفاقی وزراء کوخودعدالتی ا حکامات کی روشنی میں عدالت تک پہنچنے کی بجائے مسلم لیگی عہدیداروں ،ارکان پارلیمنٹ اورمیاں نوازشریف کے ’’جان نثاروں‘‘کو عدالت کے باہر رہنے کاپابند کرناچاہیے تھا۔اسی طرح بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے خلاف گزشتہ دنوں عالمی عدالت انصاف میں ہونے والی کارروائی کے بارے میں قوم کوآگاہ کرناوزارت خارجہ کی ذمہ داری تھی تاکہ میجر جنرل آصف غفور کوگزشتہ روز اس معاملے پرکچھ کہنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔آئین بالاتر اورآئینی ریاستی ادارے اس کی روح اورقواعدکے اندررہ کر خدمات سرانجام دیں توشاید افراتفری،انارکی بلکہ کنفیوژن جیسی صورتحال پیدانہ ہوتی ۔چندروز قبل منعقد ہونے والی کورکمانڈرز کی سپیشل کانفرنس کے بارے میں ترجمان پاک فوج نے’’ خاموشی کی بھی اپنی زبان ہوتی ہے‘‘کہہ کرلاء اینڈآرڈر اورپاکستان کولاحق خطرات کے بارے میں بہت کچھ واضح کردیا۔پاکستان میں سیاسی حکومت کی بساط لپیٹے جانے اورمارشل لاء کے نفاذ کوفضول بات کہہ کرمیجر جنرل آصف غفور نے بعض سیاسی وعوامی حلقوں کی الزام تراشیوں اورخدشات کے آگے بندباندھ دیا۔آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کاگزشتہ ہفتے افغانستان کادورہ اورافغان صدراشرف غنی سے ملاقات اورآئندہ چندروز تک ایران جانے کااعلان دراصل وزار ت خارجہ جبکہ پاکستان کی مغربی سرحدوں پرپیداشدہ کشیدگی کے بارے میں قوم کوآگاہ کرناوزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے ۔وزیراعظم شاہدخاقان عباسی سمیت پوری کابینہ انتخابی اصلاحاتی بل کی منظوری میں اتنی مصروف رہی کہ دفاع پاکستان جیسے نازک ایشو پرتوجہ دینے کے لیے سول حکومت کے پاس فرصت تک نہ رہی۔ترجمان پاک فوج کایہ کہناکہ بھارت کی ایک گولی کاجواب پانچ گولیوں سے دیاجائے گا،دراصل وزیردفاع انجینئر خرم دستگیر کادائرہ کارتھا۔پاکستان کے اندردہشتگردوں کے خفیہ ٹھکانوں سے انکارکرنے کامعاملہ بھی وزارت داخلہ کومیڈیاکے سامنے لاناچاہیے تھا۔گہرائی سے دیکھاجائے توجب سے پاکستان کے اندر دہشتگردی اورتخریبی سرگرمیاں شروع ہوئی ہیں ،پاک فوج ،نیوی اورفضائیہ پورے انہماک اورجانفشانی سے حالات کامقابلہ کررہی ہیں۔شمالی وزیرستان ،خیبراورمہمندایجنسی میں پاک فضائیہ کے جنگی طیارے
اورہیلی کاپٹر دہشتگردوں کے خفیہ ٹھکانوں کوملیامیٹ کرنے میں آج تک مصروف نظرآتے ہیں جبکہ بحیرہ عرب کے پانیوں میں بھارتی آبدوز کی نشاندہی بھی پاکستانی نیوی نے بروقت کرکے اس کی سرگرمیوں اوراسے گھیر کراس کی تصاویر عالمی میڈیاکے سامنے پیش کرکے مستعدی کاثبوت دیا ہے۔یہ درست ہے کہ ایک سپرپاورکے جائزوناجائز مطالبات کاجواب دینے کی بجائے مصلحت آمیز خاموشی ہی بہترین حکمت عملی ہے مگرایران اورشمالی کوریاجیسے ممالک کی اینٹی امریکہ پالیسیوں کے باوجود تہران اورپیانگ یانگ نے اپنے موقف سے دست برداری اختیارنہیں کی۔وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کوآئی ایس پی آرکی میڈیا بریفنگ کے بعد ترجیحی بنیادوں پر وفاقی کابینہ اوروزراء کی کارکردگی کوموثر بنانے اورتمام آئینی اداروں کے ساتھ آئیڈیل ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنے پرتوجہ دینی پڑے گی۔شدیدعوامی ردعمل پر حلف نامے کی فوری بحالی عمل میں آسکتی ہے توتمام اداروں کوایک پیچ پر لانے کے لیے آگے کیوں نہیں بڑھایاجاسکتا؟
بلوچستان کی درگاہ پرخودکش حملہ
عاشورہ محرم الحرام کے خیروخیریت سے گزرجانے پرچاروں صوبوں میں سجدہ شکر بجالانے والے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے گزشتہ روز بلوچستان کے علاقے جھل مگسی کی ایک درگاہ پرہونے والا خودکش حملہ ایک مرتبہ پھرخفیہ ایجنسیوں اورپولیس ڈیپارٹمنٹ کی ناقص کارکردگی کا واضح ثبوت بن کرسامنے آیاہے۔ڈیرہ مرادجمالی کے ایک دوردراز علاقے فتح پور کی ایک درگاہ پرپندرہویں محرم کااجتماع جاری تھاکہ خودکش جیکٹ پہنے ایک شخص نے مرکزی دروازے پرتلاشی کے دوران روکے جانے کے ساتھ ہی خود کو دھماکے سے اڑالیا جس پروہاں قیامت صغریٰ برپاہوگئی اورسالانہ عرس مبارک کی تقریب میں شریک 22انسانوں کے جسمانی اعضاء دوردورتک بکھرگئے 50کے قریب شدیدزخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں طبی امداد دینے کے لیے ایمرجنسی نافذکرنی پڑی مگر کافی مقدار میں خون نہ ہونے کے باعث کوئٹہ منتقل کرناپڑا۔2017ء کونسبتاََ محفوظ سال قراردینے اوردہشتگردوں کے خفیہ ٹھکانے ،نیٹ ورکس اوراسلحہ کے ذخائر تباہ کردینے کے دعویدار حساس اداروں کی کارکردگی میں نقائص کی نشاندہی بھی ہوگئی رواں برس خیبرپختونخواہ ،بلوچستان،سندھ اورپنجاب میں 12بڑے خودکش دھماکے یاریموٹ کنٹرول حملے ہوچکے ہیں۔چندماہ پیشترلاہور میں ہونے والے لگاتاردوخودکش حملوں کے باعث قانون نافذکرنے والے اداروں اورپاکستان کی گیارہ خفیہ ایجنسیوں کوہائی الرٹ کی جس پوزیشن پررکھاگیاتھا،شاید ان میں کوئی جھول یاLack of Coordination کی صورتحال پیداہوچکی ہے۔بلوچستان اورخیبرپختونخواہ ایسے صوبے ہیں جہاں بھارتی اوراسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ بڑی تعداد میں سرگرم عمل ہیں ۔کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد اس کی نشاندہی پربلوچستان اورسندھ میں بھارتی خفیہ ایجنسی راکی سرگرمیوں کے بارے میں جوہولناک انکشافات سامنے آئے اور20کے قریب سماج دشمن حراست میں لیے گئے تھے وہ اس بات کے غماز تھے کہ’’ابھی تو پکچرباقی ہے‘‘ ۔بلوچستان کے ساتھ افغانستان اورایران کی طویل مشترکہ سرحدیں ہی نہیں بلکہ گوادربندرگاہ اورسی پیک منصوبے کے متعدد پراجیکٹس بھی زیرتعمیر وزیرتکمیل ہیں ۔صدرمملکت ،وزیراعظم ،وزیراعلیٰ بلوچستان کے علاوہ دیگرقومی قائدین واکابرین کی طرف سے سوگوارخاندان کے ساتھ اظہارتعزیت اور’’ذمہ داروں‘‘کی جلدگرفتاری جیسے بیانات زخم خوردہ اہل خانہ کی وقتی تشفی کاباعث توضرور بن سکتے ہیں ،ملک وقوم کودرپیش خطرات کاموثر انسداد یقینی بنانے میں کارآمد نہیں ہوسکتے ۔خاص طورپر بلوچستان کے وزیرداخلہ سرفرازبگٹی کاسانحے کو خودکش یاپلانٹڈ حملہ تک قراردینے کے بارے میں تذبذب اورترجمان صوبائی حکومت انوارالحق کاکڑکارات کے اندھیرے کے باعث حساس اداروں یاقانون نافذ کرنے والے افراد کو مشکلات درپیش آنے کا بھونڈا جوازپیش کرنا دراصل انتظامی وریاستی اداروں ،ان کے ذمہ داروں اورمتعلقین کی بے حسی وبے بسی ہے۔وزیرمملکت برائے اطلاعات محترمہ مریم اورنگزیب کاحملہ آور یادہشتگردی کے منصوبہ سازوں کومسلمان تسلیم کرنے سے انکار اورملکی ترقی کاراستہ روکنے والے قراردے کرخاموش ہوجانالمحہ فکریہ ہے ۔وقت آگیاہے کہ پاکستان کومعاشی طورپر مستحکم وخوشحال بنانے کے لیے اہمیت کے حامل بلوچستان کے علاوہ پاک افغان سرحدپر خصوصی سکیورٹی دستے تعینات کرکے زیرزمین سرگرم پاکستان دشمن عناصر کی نشاندہی کرنے والوں کے لیے10سے25لاکھ روپے تک کے نقدانعام کااعلان کیاجائے ۔نہ صرف انتظامی اداروں بلکہ سویلین آبادی اوربلوچستان کے نوجوانوں کواپنے محفوظ وتابناک مستقبل کے لیے دشمنوں کی نشاندہی کے لیے خصوصی ٹاسک سونپاجائے ۔آئرلینڈمیں علیحدگی پسندوں اورباغیوں کوکنٹرول کرنے اورڈھونڈ نکالنے کے لیے برطانوی حکومت یاسری لنکا میں تامل ٹائیگرز کوبے اثربنانے کے لیے اختیارکی جانے والی پالیسیوں کی طرز پرپاکستان میں بھی غیرمعمولی پالیسیاں متعارف کروانی پڑیں گی۔حالیہ تاریخ پرنظرڈالی جائے توشمالی کوریا نے گزشتہ ماہ امریکی دھمکیوں کے بعد ملک میں عام لام بندی اورنوجوانوں کی رجسٹریشن کے جس پروگرام کااعلان کیا،اسی طرز پر پورے پاکستان میں بھی دم توڑتی دہشتگردی اورہماری صفوں میں چھپے را کے ایجنٹوں کی سرکوبی کے لیے کوئی’’والینٹری پروگرام‘‘کااعلان کیاجائے ۔جاں بحق افراد کے لواحقین اورزخمیوں کے لیے محض امدادی رقوم کااعلان کافی نہیں ۔’’بلوچستان ہے توپاکستان ہے ‘‘کانعرہ لگانے والے آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کے سوزوفکر میں اداکیے جانے والے الفاظ کے پیچھے بھی دراصل وزیراعظم شاہدخاقان عباسی سمیت پوری قوم کے لیے ایک پیغام ہے جسے نہ صرف سمجھنابلکہ اندرونی سلامتی کومزید موثربنانا وقت کی اہم ضرورت بھی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں