افغانستان سے متعلق نئی امریکی پالیسی

وزیرخارجہ خواجہ آصف نے افغانستان کے بارے میں نئی امریکی پالیسی پرگہری تشویش ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا سے متعلق نئے امریکی منصوبے کااعلان سامنے آتے ہی پاک امریکہ تعلقات نیاموڑلے چکے ہیں۔ اگرامریکہ کو افغانستان کے مستقبل کے بارے میں تحفظات وخدشات ہیں توپاکستان بھی انتہائی مضطرب ہے ۔امریکی میڈیا سے گفتگو کے دوران خواجہ آصف نے انتہائی محتاط مگرمدلل انداز میں پاکستانی نقطہ نظر واضح کرتے ہوئے ڈونلڈٹرمپ کی نئی حکمت عملی کے جنوبی ایشیا سمیت خطے میں اثرات کے بارے میں جوکچھ کہا،وہ وائٹ ہاؤس کے لیے لمحہ فکریہ بلکہ نوشتہ دیوارہوناچاہیے۔پاکستانی وزیرخارجہ نے واضح کیاکہ پاکستان کی اصل تشویش افغانستان کے متعلق امریکی پالیسی یعنی جنوبی ایشیا میں نئی دہلی کے نئے کردار سے ہے ۔خطے میں امن کے لیے اسلام آباد اورواشنگٹن کومل کرکام کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان نے اپنی ریاستی حدود کے اندر موجود غیرریاستی عناصر کے ٹھکانے تباہ کردیئے جبکہ ہماری سکیورٹی فورسز اورانٹیلی جنس ایجنسیاں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔پاکستان کے اندر دہشتگردوں کے ٹھکانے موجود ہونے کے امریکی الزام کاجواب دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاایسی کوئی صورتحال وائٹ ہاؤس کے علم میں ہوتونشاندہی کی جائے ہم وہاں بمباری کرکے وہ علاقے کلیئر کریں گے انہوں نے پاکستان کے اندر ہونے والی دہشتگردیوں کی منصوبہ بندی افغانستان کے اندر سے ہونے کاالزام دہراتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے اپنے حالیہ دورہ کابل کے موقع پر افغان صدراشرف غنی اورچیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ پرواضح کیا کہ افغانستان کے اندردہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے آج بھی مو جود ہیں ۔پاکستان پرکوئی الزام لگانے یاشبہ ظاہرکرنے کی بجائے افغان کمانڈر ہمارے ساتھ مل کردہشتگردیوں کے خلاف مشترکہ آپریشن کرناچاہیں توہم تیار ہیں۔طالبان پرپاکستان کے کم ہوتے اثرورسوخ کوبھی خواجہ آصف نے امریکہ کے کھاتے میں ڈالتے ہوئے کہا کہ مری میں سابق افغان حکمران جماعت کے لیڈرامن مذاکرات کے لیے اکٹھے ہورہے تھے کہ ملاعمر کے انتقال کی خبرامریکی میڈیا میں چلادی گئی۔

افراد نہیں ادارے بالاتر ہونے چاہئیں

ملّااخترمنصور پرحملے کے بعد مذاکراتی میز پرتمام افغان سٹیک ہولڈرز کو بٹھاناممکن نہ رہا اوریہ غلطی بھی امریکہ نے کی ۔ملّااخترمنصور کی ڈرون حملے میں موت کے بعد طالبان پاکستان سے کٹتے چلے گئے اس کے باوجود ہم امریکہ کے ساتھ باہمی احترام پرمبنی تعلقات چاہتے ہیں تاکہ خطے میں امن واستحکام اورخوشحالی آسکے۔خواجہ آصف نے بعدازاں امریکی نشریاتی ادارے کے ساتھ ایک انٹرویو میں بھی اس بات کودہرایا کہ طالبان پرپاکستان کااثرورسوخ بتدریج کم جبکہ روس سمیت خطے کے دیگرممالک کازیادہ ہے۔پاکستان طالبان کومذاکراتی میز پرلانے کی ایک اورکوشش کررہاہے۔اس مقصد کے لیے16اکتوبر کومسقط میں چارفریقی مذاکرات شروع ہونے والے ہیں۔جہاں تک پاکستانی وزیرخارجہ کی امریکی دورے کے دوران سرگرمیوں ،مذاکرات ،ملاقاتوں اورمیڈیا ٹاک کاتعلق ہے تو اسے پاکستانی نقطہ نظر سے دنیا کی واحدسپرپاور کے علم میں لانے کی ڈپلومیٹ کوشش قراردیاجاسکتاہے۔پاکستان گزشتہ 15برس سے امریکی اتحادی کے طورپرجس سنجیدگی کے ساتھ دہشتگردگروپوں کے خلاف نبردآزما ہے اس سے پوری دنیا آگاہ ہے ۔ملّاعمر سمیت طالبان کی بہت بڑی اکثریت پاکستان کواپنامحسن ومربی سمجھتی تھی۔روس ،چین ،پاکستان ،ایران اوروسط ایشیائی مسلم ممالک میں گھرے افغانستان کودنیا سے ملانے اوراس کی تجارتی وغذائی ضروریات پوری کرنے کاواحد ذریعہ پاکستان ہی رہاہے۔1979میں روس نے افغانستان پر قبضہ کیا تو30لاکھ کے قریب پناہ گزین یہاں موجود رہے ہیں۔القاعدہ کے عسکری ونگ میں دنیا کے جنگجو موجود جبکہ ان کا اصل ٹارگٹ بھی امریکہ ہی تھا۔نائن الیون کے بعد بھی لاکھوں افغان پناہ گزین پاکستان آئے جوہماری معیشت،اقتصادیات،معاشرت اورتجارت پربوجھ بن کررہ گئے ۔سردارداؤد سے لے کر اشرف غنی تک اورملّاعمرسے لے کر ملّااخترمنصور تک سب براہ راست یابالواسطہ طورپرپاکستان کے شرف میزبانی سے مستفید ہوچکے۔افغانستان کے اندرپاکستان کے کوئی مفادات ہیں نہ ہماری درآمدات وبرآمدات کابل کی رہن منت ہیں بلکہ گہرائی سے دیکھاجائے توافغانستان صدیوں سے پاکستان کے لیے ایک دفاعی حصاربنا رہا۔افغانستان پراتحادی افواج کے قبضے کے بعد اگراسامہ بن لادن یاطالبان کمانڈو پاک افغان بارڈرکراس کرکے خیبرپختونخواہ اوربلوچستان میں روپوش ہوگئے تواس کی وجہ بھی خودامریکہ ہی تھاجس کی تباہ کن بمباری اورزمینی عسکری کارروائیاں ہمارے لیے خطرات کاگورکھ دھند ہ بن گئیں۔طالبان کے ساتھ شامل ہونے والے چندپاکستانی جہادی کمانڈربعدازا ں تحریک طالبان پاکستا ن کے نام سے منظم ہوئے توان کی پیٹھ ٹھونکنے والا بھی امریکہ،اسرائیل اوربھارت ہی تھا۔اسلحے اورڈالروں کے بغیریہ گروپ نہ تومنظم ہوسکتے تھے نہ اپنی دہشتگردانہ کارروائیاں کرسکتے تھے ۔آج خطے میں خودکش حملے ،بم دھماکے اوردیگرتخریبی سرگرمیاں خطے کا امن تباہ کیے ہوئے ہیں تواس کی بڑی وجہ افغانستان میں امریکی حمایت یافتہ افراد کواقتدارکے ایوانوں میں پہنچانے کی امریکی کوششیں ہیں جبکہ بھارت پاک افغان بارڈر سے ملحقہ علاقے کے ذریعے پاکستان غیرمستحکم کرنے کی پلاننگ جاری رکھے ہوئے ہے صرف یہی نہیں بلکہ فلسطین کی تحریک آزادی کی غیرمشروط حمایت اورمسلم ممالک پرمشتمل بلاک بناکر اسلام دشمن قوتوں کے خلاف ایک چٹان کاکردار اداکرنے والاپاکستان اسرائیل کوبھی کھٹکتاہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی خفیہ تنظیم موساد کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کرنے والے گروپوں کومالی امداد دے کر مضبوط متحرک کیے ہوئے ہیں ۔کولیشن سپورٹ کے نام پرپاکستان کو اڑھائی ارب ڈالرسالانہ دینے والاامریکہ اب تک پاکستانی معیشت کوٹی ٹی پی کے دہشتگردوں سمیت مختلف جہادی تنظیموں ،فرقہ وارانہ گروپوں اورانتہاپسندجماعتوں کی ریشہ دوانیوں ،تخریب کاریوں کوکچلنے کے لیے خرچ ہونے والے120ارب ڈالر کے نقصان پرخاموش کیوں ہے؟آج ہمارے دولاکھ کے قریب فوجی پاک افغان بارڈرپرفرائض سنبھالنے پرمجبور ہیں،جن کی نقل وحرکت پراٹھنے والے سالانہ80ارب روپے کے قریب اخراجات کی ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے؟اکتوبر2001ء کے بعدپاکستان میں ہونے والے خودکش حملوں ،بم دھماکوں میں ہمارے45ہزارسے زائد سویلین جبکہ چارہزارفوجی شہیداور80 ہزار کے قریب ہمیشہ کے لیے معذور ہوچکے ،ہماری تجارت ،معیشت تباہ ہوکررہ گئی۔چاروں صوبوں میں عوام کوتعلیم ،صحت ،سماجی بہبود،مواصلات اورانفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ترقیاتی منصوبے محض اس لیے نہ مل سکے کہ ہمارے محصولات کاایک تہائی صرف لاء اینڈآرڈر کی سہولت بہتر بنانے پرخرچ ہورہے ہیں۔ڈومور کانعرہ جارج بش جونیئرنے لگایاجوباراک اوبامہ کے دور میں بھی سنائی دیتارہا اور20جنوری2017ء کووائٹ ہاؤس میں قدم رکھنے والے ڈونلڈٹرمپ کی زبان پربھی آگیا۔آپریشن ضرب عضب سے لے کرآپریشن رد الفساد تک پاک فوج نے فضائیہ کی مدد سے جس مجاہدانہ انداز میں دہشتگردی پرقابو پایا اورشمالی وزیرستان سے لے کرچمن تک کاسرحدی علاقہ سرحد پارکرکے آرپارجانے والے دہشتگرد گروہوں کے لیے نوگوایریاز بنائے ،اسے برطانیہ ،ترکی،سعودی عرب ،روس،چین سمیت دنیا کے متعدد مہذب وجمہوری ملک تسلیم کرتے ہیں ۔ وزیرخارجہ کاامریکہ کو پاکستان کے اندردہشتگرد گروپوں کی نشاندہی کرنے کی جوفیاضانہ پیش کش کی ہے،اسے نہ صرف قبول کرلیناوائٹ ہاؤس کے مفاد میں ہے بلکہ آئے روز پاکستانی سرحدوں اورسرزمین پراس کے غیرقانونی وغیراخلاقی ڈرون حملوں کو ختم کرنے کا باعث بھی بنیں گے ۔دہشتگردی اوربدامنی کو طاقت کے ذریعے روکناکبھی ماضی میں موثر ثابت ہوسکا نہ آئندہ ایساممکن ہوسکے گا۔مذاکرات اورایک دوسرے کی جائز شکایات کوسمجھ کر درمیانی راستہ نکالنا ہی مسائل کاحل ہے ۔ماضی میں ویتنام پرحملوں کانتیجہ کیانکلا؟امریکہ کو آٹھ سال کے بعد وہاں سے شکست کھاکرنکلنا پڑا۔سوویت یونین بھی افغانستان میں اپنے مفادات توحاصل نہ کرسکامگر خودٹوٹ گیا۔عراق کو بھی بالآخر کردباغیوں سے مذاکرات کرنے پڑے جبکہ مشرق وسطیٰ میں برسوں چھاپہ مار کارروائیوں اورتحریک انتفادہ کے بعد بالآخر اسرائیل کو بھی یاسرعرفات سے مذاکرات کرنے پڑے تھے ۔امریکہ گزشتہ12برس سے طالبان کومذاکرات کی میز پرلانے کی کوششیں کررہاہے۔ایران کی اقتصادی ناکہ بندی کرنے والے وائٹ ہاؤس کوبالآخر تہران کے ساتھ جوہری روک تھام کامعاہدہ کرناپڑا جبکہ شمالی کوریا کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دینے والے ڈونلڈٹرمپ پیانگ یانگ کے ساتھ بھی بات چیت کی طرف پلٹ رہے ہیں ۔وقت آگیاہے کہ پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی تکمیل کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی میں روس اورچین کوبنیادی اہمیت دے ۔ طالبان سے مذاکرات کاحقیقی مقصد بھی افغانستا ن سے امریکہ کے بچ نکلنے کاکوئی راستہ نکالنا اورفریم ورک طے کرناہے۔یہ بات طے ہے کہ امریکہ افغانستان میں جنگ ہارچکا اوراب وہاں سے باعزت انخلاء کاراستہ چاہتاہے جوپاکستان کے سواکوئی علاقائی ملک نہیں دے سکے گا۔بھارت کوخطے کی تھانیداری دینے کے خواہشمند ڈونلڈٹرمپ نے اگراپنی پالیسی تبدیل نہ کی توخودامریکہ میں ان کی بڑھتی ہوئی عدم مقبولیت حکمران ری پبلکن پارٹی کے لیے کسی بڑے سیاسی نقصان کی بنیاد بن سکتی ہے۔

جوہری ہتھیاروں کے خلاف نوبل کمیٹی کا انتباہ

ناروے کی نوبل امن کمیٹی نے جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے لئے کام کرنے والی عالمی تنظیم ایکان ICAN کو 2017ء کا امن انعام دینے کا اعلان کرکے دراصل دنیا میں جوہری تصادم کے بڑھتے ہوئے اندیشوں کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی ہے ۔گزشتہ روزصبح 11بجے اوسلو میں نوبل امن کمیٹی کی سربراہ بیرت رائیس آندرسن نے سال رواں کا انعام جیتنے والی تنظیم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا کو جوہری تنازعہ کا جس قدر خطرہ لاحق ہے ، وہ اس سے پہلے کبھی نہیں تھا، اس لئے جوہری ہتھیاروں کے خلاف کام دراصل دنیا میں امن کے فروغ کے لئے کام کا اہم ترین حصہ ہے ۔ اس انعام کے اعلان سے دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے خلاف متحرک افراد اور تنظیموں کی حوصلہ افزائی ہوگی لیکن اس کے ساتھ ہی امریکہ سمیت تمام جوہری طاقتوں کو بھی یہ پیغام دیا گیا ہے کہ عالمی رائے عامہ جوہری ہتھیاروں کی تباہ کاریوں اور خطرات سے باخبر ہے ۔ ان ہتھیاروں کو ختم کرنا ہی بنی نوع انسان کی حفاظت اور امن کے لئے اہم ہے ۔جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے لئے بین الاقوامی تنظیم ایکان (ICAN) دو ہزار سات میں آسٹریلیا میں قائم کی گئی تھی تاہم اس وقت یہ دنیا کے 101ممالک میں موجود ہے اور 468 عالمی تنظیموں کے تعاون سے ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی کوششیں کررہی ہے ۔
یہ تنظیم محدود وسائل کے ساتھ یہ پیغام سامنے لانا چاہتی ہے کہ ایٹمی ہتھیار دنیا میں زندگی کی نمو کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں اور انسانوں کے مستقبل میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ اس وقت اس تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بیاترس فین Beatrice Fihn ہیں جو 2006سے دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے خلاف کام کررہی ہیں۔ ایکان کا پیغام بہت سادہ ہے کہ جوہری ہتھیار مہلک ہیں اور ان کی موجودگی ہر وقت انسانی زندگیوں کے لئے سب سے بڑے خطرے کی حیثیت رکھتی ہے،اس لئے نہ صرف مزید ملکوں کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکا جائے بلکہ دنیا کی جوہری طاقتوں کو بھی مجبور کیاجائے کہ وہ ہتھیاروں کا ذخیرہ تلف کرنے اور دنیا کو ایٹم فری بنانے کے مقصد کے لئے کام کریں۔ ایکان اس مقصد کے لئے عوامی رابطہ مہم کو منظم کرتی ہے اور دنیا بھر میں مختلف قومی تنظیموں کے ذریعے ان ملکوں کے عوام کو اس بات آمادہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے خلاف اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں۔گزشتہ ایک دہائی میں ایکان کی رابطہ مہم کے نتیجے میں اس سال جولائی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 122ارکان کی حمایت سے جوہری ہتھیاروں پر مکمل پابندی کے بارے میں ایک قرار داد منظور کی تھی۔ کسی جوہری طاقت یا نیٹو کے کسی رکن نے اس قرارداد کی حمایت نہیں کی لیکن ایک ملک کے علاوہ کسی نے قرار داد کی مخالفت بھی نہیں کی تھی۔ اس کی ایک واضح وجہ یہ بھی ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور ہونے والی قراردادوں کی حیثیت محض علامتی ہوتی ہے ۔ کوئی ملک ان پر عمل کرنے کا پابند نہیں ہوتا۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ناروے بھی اس قرارداد کی حمایت نہ کرنے والے ممالک میں شامل تھا لیکن اب اسی ملک میں قائم نوبل امن کمیٹی نے جوہری ہتھیاروں کے خلاف کام کرنے والی عالمی تنظیم کو نوبل امن انعام دے کر یہ واضح کیا ہے کہ دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف رائے محض جنرل اسمبلی کی قرار داد تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا کے سوچنے سمجھنے والے اہم حلقے ان ہتھیاروں کی ہولناکی اور خطرات سے آگاہ ہیں اور انہیں ختم کرنے کے کام کو بے حد اہمیت دیتے ہیں۔ایکان کو نوبل امن انعام ملنے سے جوہری ہتھیاروں کے خلاف کام کی حوصلہ افزائی ہوگی اور یہ تنظیم اور اس کے کام سے متفق ادارے اور تنظیمیں زیادہ قوت سے لوگوں کو یہ بتانے میں کامیاب ہو سکیں گے کہ جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کیوں اہم ہے ۔ نوبل کمیٹی کا یہ فیصلہ گزشتہ دنوں امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان سخت بیانات کے تبادلے کی روشنی میں بھی اہمیت رکھتا ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے شمالی کوریا کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی دی تھی جبکہ اس کے جواب میں شمالی کوریا نے امریکہ کو ایٹمی میزائلوں سے نشانہ بنانے کی وارننگ دی تھی۔ شمالی کوریا عالمی پابندیوں اور اپنے قریب ترین حلیف چین کے مشورہ کے باوجود جوہری ہتھیار بنانے اور ان کے تجربات کرنے میں مصروف ہے جس کی وجہ سے دنیا میں یہ خطرہ محسوس کیا جارہاہے کہ شمالی کوریا کی اشتعال انگیزی کی وجہ سے کوئی بھی انہونی ممکن ہے ۔ خاص طور سے جب امریکہ میں ٹرمپ جیسا جذباتی اور بیان بازی پر یقین رکھنے والا کوتاہ نظر صدر بھی موجود ہو۔ اس طرح نوبل کمیٹی نے ایکان کو سال رواں کا نوبل انعام دے کر شمالی کوریا کے علاوہ امریکہ کو بھی یہ پیغام دیاہے کہ جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے لئے جوش کی بجائے ہوش سے کام لینے اور سفارت کاری کے ذریعے معاملات طے کرنے کی ضرورت ہے ۔نوبل کمیٹی کا یہ فیصلہ ایران کے ساتھ دنیا کی چھ اہم طاقتوں کے ساتھ 2015ء ہونے والے معاہدے کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتا ہے ۔ امریکہ کے صدر اس معاہدہ کو امریکی مفادات کے خلاف قرار دیتے ہیں جبکہ دیگر ممالک جن میں روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں ، اس معاہدہ کو جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے حوالے سے اہم پیش رفت سمجھتے ہیں۔ اب یہ اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں کہ صدر ٹرمپ 12اکتوبر کو یہ تصدیق کرنے سے انکار کردیں گے کہ ایران اس معاہدہ پر اطمینان بخش طریقے سے عمل کررہا ہے ۔ اس کے بعد امریکی کانگرس ایران پر پھر سے پابندیاں عائد کرسکتی ہے ۔ ایران متنبہ کرچکا ہے کہ اگر امریکہ نے اس معاہدہ کو ختم کیا تو وہ جوہری ٹیکنالوجی پر کام کرنے میں آزاد ہوگا۔شمالی کوریا اور ایران کے علاوہ بر صغیر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری تصادم کی صورت حال بھی جوہری جنگ کے لئے اہم ترین خطرہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اس تنازعہ پر دنیا کی زیادہ توجہ مبذول نہیں ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ دونوں ملکوں میں ذمہ دار حکومتیں قائم ہیں، اس لئے پاکستان اور بھارت میں ایٹمی ہتھیاروں کا تبادلہ نہیں ہوگالیکن یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ دونوں ملک نہ صرف اپنی جوہری صلاحیت بڑھانے کی تگ و دو کرتے رہتے ہیں بلکہ ان کے لیڈر ایک دوسرے کے خلاف ایٹم بم استعمال کرنے کی دھمکیاں بھی دیتے رہتے ہیں۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
افغانستان سے متعلق نئی امریکی پالیسی
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں