سی پیک پر امریکی اعتراض کے پیچھے موجود حقائق

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس اور چیئر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل جوزف ڈالفورڈ نے امریکی سینٹ کی آرمڈ سروسز کمپنی میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی قانون سازوں کے سامنے عالمی سٹریٹجک اقتصادی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے جیمز میٹس نے کہا کہ دنیا بھرمیں کئی گزر گاہیں اور سٹرکیں موجود ہیں ، چنانچہ کسی ملک کو صرف ایک گزر گاہ اور ایک سٹرک کے ذریعے اپنی اجارہ داری قائم نہیں کرنی چاہیے۔ امریکہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی مخالفت اسلئے کرتا ہے کیونکہ پاکستان سے گزرنے والے اس پراجیکٹ کا ایک حصہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے جو مستقبل میں کسی تنازع کو جنم دے سکتا ہے لہٰذا بہتر صورتحال یہی ہے کہ ایسے منصوبے نہ بنائے جائیں۔ امریکی وزیر دفاع نے انسداد دہشتگردی کے نکتے پر البتہ چین کیساتھ مل کر افغانستان میں کام کرنیکی حمایت ضرور کی۔ جیمز میٹس نے خبردار کیا کہ بیجنگ کو امریکہ کے متعلق کسی ابہام میں نہیں رہنا چاہیے کیونکہ حکمت عملی کے تناظر میں ایک سمت ایسی ہے جہاں امریکہ اور چین ایک دوسرے کے مخالف ہیں ۔ چینی وزارت خارجہ نے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو اقوام متحدہ کی تائید و حمایت سے شروع کرنیکا تاثر دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ منصوبہ کسی تیسرے فریق کیخلاف ہے نہ ا س سے علاقائی خود مختاری کا کوئی تعلق ہے ۔ سی پیک کے باعث چین کا مسئلہ کشمیر بارے موقف متاثر ہو تا ہے نہ تبدیل ،بیجنگ شروع سے ہی مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کا حامی اور مقبوضہ کشمیر بارے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی حمایت کرتا رہا ہے ون بیلٹ ون روڈ کے ذریعے چین دنیا پر اجارہ داری قائم نہیں کرنا چاہتا۔ دنیا کے 70سے زیادہ ممالک اور عالمی تنظیموں نے سی پیک کی حمایت اور اس کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کی اور تعاون کے معاہدوں پر دستخط کئے جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے بھی اسے اپنی اہم قرار دادوں میں شامل کر رکھا ہے ۔ امریکی وزیر دفاع کے لا یعنی اور بے سروپا الزام کو پاکستان نے بھی مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اقتصادی راہداری خطے کی معاشی و اقتصادی ترقی کا حصہ ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیا ں کر رہا ہے جبکہ اس کی فوج بھی وہاں سنگین جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر بارے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد کرایا جائے۔ عالمی برادری کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتی چلی آئی ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے امریکی اعتراض پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے جیمز میٹس کے بیان کی ٹائمنگ کو فکر انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے الزامات اور لفظی جنگ کا مقصد صرف منصوبے پر اثر انداز ہونا ہے۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ آخر سی پیک دنیا کو ہضم کیوں نہیں ہو رہا سی پیک سے متعلق سینٹ کی پارلیمانی کمیٹی کے چیئر مین مشاہد حسین نے ون بیلٹ ون روڈ کی مخالفت کو امریکی اسٹیبلشمنٹ کی تاریخی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اعتراض اٹھانے والے امریکہ کے اپنے موقف میں ہی تضاد ہے ۔ اس پراجیکٹ کے آغاز پر چین میں ہونیوالی کانفرنس میں امریکہ نے خود شرکت کی تھی اسلئے اب منصوبے پر اعتراض یوٹرن کے مترادف ہے۔

افغانستان سے متعلق نئی امریکی پالیسی

امریکی کمپنیاں چین کیساتھ تجارت بڑھانے پر زور دے رہی ہیں مگر ٹرمپ انتظامیہ ون بیلٹ ون روڈ کو ختم کرانے کی طرف مائل نظر آتے ہیں ، جہاں تک امریکہ کی اس نئی مخالفانہ حکمت عملی کا تعلق ہے ، تو اسکے پیچھے بھارتی دباؤ اور عیارانہ ذہنیت کار فرمانظر آتی ہے ، گہرائی سے دیکھا جائے تو سی پیک دراصل ایشیا، افریقہ اور یورپ کو ایک سڑک کے ذریعے بڑے معاشی و اقتصادی منصوبے سے منسلک کرتا ہے ۔ 500ارب ڈالر کے اس منصوبے میں بنگلہ دیش کے علاوہ نیپال افغانستان اور ایران نے بھی شامل ہونے کی خواہش ظاہر کر کے بھارتی مفادات کے غبارے سے ہوا نکال دی ، اقتصادی راہداری کا مقصد ایک ایسا تجارتی راستہ قائم کرنا ہے جسکے ذریعے چاروں براعظموں کے ممالک ایک دوسرے کے رابطے میں آجائیں ۔اپنی مصنوعات کو کم خرچ اور تیز رفتاری کیساتھ دوسرے ممالک تک پہنچایا اور اپنی ضروریات کی اشیاء خریدی جا سکیں ، منصوبے میں پاکستان کا ایک معمول کا حصہ گلگت بلتستان سے ہو کر گزرتا ہے ، یہ علاقہ تاریخی طور پر بھی کبھی بھارتی حصہ رہا نہ اسکی عملدراری کے تحت آیا ، افغانستان اور پاکستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن بھی ماضی میں زیر بحث رہا ، مگر اس سے کبھی دونوں ہمسایہ ممالک میں اس حد تک بگاڑ پیدا نہیں ہو ا کہ عالمی سطح پر معاملہ اٹھایا یا ایک دوسرے کے معاشی و اقتصادی مفادات تک کو نقصان پہنچایا جائے ، نریندر مودی نے سی پیک منصوبے کو نا کام بنانے کیلئے ایران کے ساتھ 50ارب ڈالر سے بندرگاہ چابہار کو ترقی دینے کا جو منصوبہ بنایا تھا ، وہ دو آزاد خود مختار ممالک کے درمیان معاہدہ تھا جس کی پاکستان نے کبھی مخالفت کی نہ اسکی تکمیل میں کوئی رکاوٹ ڈالی تاہم ایرانی صدر حسن روحانی نے گزشتہ برس اپنے دورہ پاکستان کے دوران خود سی پیک میں شمولیت کی خواہش ظاہر کر دی تھی ، بھارتی وزیراعظم نے تاجکستان سے افغانستان اور پاکستان کے راستے گیس حاصل کرنے کے منصوبے تاپی پر دستخط کرتے وقت زیر زمین بچھائی جانیوالی پائپ لائن کے راستے پر ماضی میں اعتراض کیوں نہیں اٹھایا حالانکہ آجکل یہ منصوبہ تیزی سے زیر تکمیل اور 2019ء تک پاکستان اور بھارت کو بڑی مقدار میں گیس فراہمی کا باعث بننے والا ہے ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی نریندر مودی کو جنوبی ایشیا میں اپنے قریبی اتحادیوں اور با اعتماد سٹریٹجک و کاروباری شراکت داری والے ممالک میں شامل کرنے کا اعلان کر کے اپنی ترجیحات واضح کر دی تھیں ، چین اور پاکستان کے گرد محاصرہ قائم رکھنے کیلئے وائٹ ہاؤس کبھی افغانستان تو کبھی بھارت کے کندھے استعمال کر نیکی کوششیں کرتا رہا ہے ، سی پیک کے ایک حصے پر اعتراض اٹھانے والے ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں وائٹ ہاؤس کے دوہرے معیار اور پینٹا گون کے پراسرار رویے بارے غور کر یں تو بہت سے حقائق سامنے آ ئیں گے ، نائن الیون کو القاعدہ کی پلاننگ قرار دینے والا امریکہ آج 16برس بعد بھی اپنے الزام کو ثابت نہ کر سکا ۔افغانستان سے طالبانائزیشن کے خاتمے اور اسامہ بن لادن کے نیٹ ورک کو تباہ کر نے کیلئے 17ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد بنا کر کابل پر حملہ اور بعد ازاں قبضہ کر نیوالا امریکہ ملا عمر کی حکومت کے خاتمے اور اسامہ کی ہلاکت کے بعد یہاں بیٹھا کیا کر رہا ہے؟2003ء میں صدام حسین کو کیمیائی ہتھیار بنانے کا ملزم قرار دیکر عراق کو تاخت و تاراج کر نیوالا وائٹ ہاؤس بعد ازاں یہ کہنے پر مجبور کیوں ہوا کہ عراق سے مہلک ہتھیار نہیں برآمد ہو سکے ۔ کرنل قذافی کو ڈکٹیٹر اور لیبین عوام کی امنگوں کا قاتل قرار دیکر وہاں حملہ کرنیوالا امریکہ آج تک وہاں امن قائم نہ ہونے کی وجوہات کیوں دنیا کے سامنے نہیں لا سکا ، حد تو یہ ہے کہ لیبیا میں بحالی جمہوریت کی آڑ میں وحشت و بربریت کا بازار گرم کر نیوالے امریکی اتحاد میں شامل برطانیہ کے ساتھ وزیراعظم ٹونی بلیئر بعد ازاں خود لیبیا پر حملے کو اپنی غلطی اور کرنل قذافی کے قتل کے باوجود جمہوریت بحال نہ ہونے کو حماقت قرار دے چکے ہیں۔ مصر میں حسنی مبارک کیخلاف عوامی بغاوت کی حمایت کرنیوالا امریکہ مصری عوام کو متحد رکھنے میں کامیاب کیوں نہ ہو سکا ؟ اقتصادی راہداری کو متنازع قرار دینے والا امریکہ 2003ء سے آج تک یمن ، افغانستان اور پاکستان میں ڈرون حملے کر کے آزاد و خود مختار ممالک کی جغرافیائی سلامتی پامال نہیں کر تا رہا ؟ کیا مئی 2011ء کو افغانستان کے بگرام ائیر پورٹ سے اپنے جنگی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سرحد پار کر کے پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد پر حملہ کر نا امریکہ کیلئے جائز تھا ؟ ، نو مبر2011ء میں سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کر کے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے 24جوانوں کو شہید کر دینے کا کوئی جواز امریکہ کے پاس موجود تھا ؟ لاہور میں بلیک واٹر کے ایجنٹ ریمنڈڈیوس کے ذریعے دو پاکستانی شہریوں کو سر عام گولیوں سے چھلنی کرنا کس قاعدے قانون کے تحت جائز تھا ؟ پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ کو امریکی فوجیوں پر بندوق تاننے کے الزام میں 86برس قید با مشقت سنانے والا مریکہ ایک دہشت گرد امریکی باشندے کو واپس لینے کیلئے صدر آصف زرداری اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر دباؤ ڈال کر قانون و انصاف کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار نہیں ؟ اقوام متحدہ 2014ء میں امریکی ڈرون حملوں کو دوسرے ممالک کی آزادی و خود مختاری کے خلاف قرار دے چکی تھی مگر اسکے باوجود وائٹ ہاؤس اس ننگی جارحیت کے خاتمے پر آمادہ کیوں نہیں ہوا ؟ گوانتا ناموبے کی جیل میں آج بھی سینکڑوں کی تعداد میں غیر ملکی قیدی موجود ہیں ، حالانکہ 2008ء میں اقتدار سنبھالنے والے امریکی صدر بارک اوبامہ کیوبا کے جزیر ے میں قائم اس عقوبت خانے کو ختم کر نیکا اپنی انتخابی مہم میں وعدہ نہیں کر چکے تھے ؟ اصولوں اور اخلاقیات کا حوالہ دینے والے امریکہ کی اپنی غیر قانونی سرگرمیوں اور خلاف قانون کا رروائیوں کی داستان بجائے خود بین الاقوامی ضابطوں کیخلاف اور آزاد و خود مختار ممالک کے اندرونی ممالک میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے ، اقتصادی راہداری امریکہ اور بھارت کو محض اسلئے قابل قبول نہیں کیونکہ یہ منصوبہ امریکی بالا دستی کو ختم کر نیکاباعث بن سکتا ہے ؟ ڈونلڈ ٹرمپ اور انکی حکومت انٹر نیشنل لاء ، اخلاقی قواعد و ضوابط اور سیاسی آداب کا کتنا خیال رکھتی اور ان پر کتنا عمل کرتی ہے اسکی چند مثالیں تو ری پبلیکن صدر کے 20جنوری 2017ء کو اقتدار سنبھالنے کے بعدچھ مسلم ممالک کے شہریوں پر امریکہ کے دروازے بند کر نیکے احکامات کو مختلف امریکی عدالتوں کی طرف سے معطل کر نے سے ظاہر ہو چکا ۔ پاکستان نے 1949ء سے آج تک امریکی اتحاد ی ہونے کے باعث جس انداز میں واشنگٹن کیساتھ تعاون کیا ، اس کا جواب ہمیشہ عدم تعاون یا ڈومور کی شکل میں سامنے آیا ۔ واشنگٹن کے سفارتی حلقوں میں یہ بات بھی زیر بحث ہے کہ صدر ٹرمپ اکتوبر میں ہی اپنے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور وزیر دفاع جیمز میٹس کو انتہائی سخت پیغامات دے کر بھجوانے والے ہیں تا کہ خطے میں سر گرم عمل دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر کنٹرول کر نے کیلئے اسلام آباد پر دباؤ ڈالا جا سکے ، سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی وزراء ، اپنے دور ہ پاکستان میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، وزیر خارجہ خواجہ آصف اور وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر کو پاکستان اور افغانستان کے اندر متحرک جہادی گروپوں کی مکمل سرکوبی اور انہیں بے اثر بنانے کا کہیں گے۔ 21اگست کو امریکی افواج کیساتھ خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں طالبان کی جہادی کارروائیوں کو پاکستانی حمایت یا پشت پناہی حاصل ہونے کا جوالزام لگایا تھا ، وہ 21کروڑ پاکستانیوں کو مشتعل کرنیکا باعث ہی نہیں بنا بلکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی سفیر پر واضح کیا تھا کہ ڈومور کا امریکی مطالبہ اب اپنی افادیت کھو چکا بلکہ اب تو پاکستان دنیا کے امن پسند ممالک کو ڈومور کرنیکا کہے گا ۔ وقت آگیا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر امریکی دھمکیوں اور نا جائز مطالبات کیساتھ اقتصادی راہداری پر وائٹ ہاؤس کے بلا جواز الزامات پر متفقہ موقف اختیار کر یں ۔ صرف یہی نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی سیاسی و دینی جماعتوں کی مشاورت سے ایسا جراتمندانہ موقف اپنایا جائے جس سے ماضی میں امریکہ کی بے جا حمایت کو مسترد کر تے ہوئے امریکی لا قانونیت کیخلاف وائٹ پیپر تیار کر کے امریکہ کے حوالے کیا جائے ۔ افغانستان کے اندر طالبان کی جنگجویا نہ کارروائیوں پر پاکستان کو ذمہ دار قرار دینے کی بجائے صدر ٹرمپ کو پاک افغان بارڈر اور بگرام ائیر بیس میں بیٹھی نیٹو فورسز کو افغانستان کے 40فیصد حصے پر قابض جہادی تنظیموں اور گروپوں کیخلاف کارروائی کا حکم دینا ہوگا ۔ افغانستان میں اشرف غنی کی عملداری کی صورتحال یہ ہے کہ امریکی وزیر دفاع کے دورہ کا بل کے موقع پر طالبان جنگجوحملے کر کے ائیر پورٹ اور قریبی علاقے میں ہی تباہی مچا دیتے ہیں مگر وائٹ ہاؤس بے بسی کی تصویر بن جاتا ہے ، اقتصادی راہداری پر امریکی اعتراض دراصل پوری پاکستانی قوم کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی تبدیل اور امریکہ سمیت مغربی طاقتوں کیساتھ برابر ی کی بنیاد پر اپنے تعلقات استوار کر نے کیساتھ ڈومور کہنے والوں کو نومور کہہ دے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
سی پیک پر امریکی اعتراض کے پیچھے موجود حقائق
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں