احتساب بیورو کے نئے چیئرمین کاتقرر

وزیراعظم شاہدخاقان عباسی اوراپوزیشن لیڈرخورشیدشاہ میں نیب کے نئے سربراہ کے لیے12ستمبرسے جاری مشاورت کے نتیجے میں سپریم کورٹ کے سابق سینئرجسٹس (ر)جاویداقبال کے نام پراتفاق رائے ہوگیاجس کے بعدصدرمملکت ممنون حسین نے آئندہ چاربرس کے لیے ان کی تقرری کانوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔نئے چیئرمین نیب کل اپناعہدہ سنبھالیں گے۔قومی وسائل لوٹنے والوں کے لیے پرویز مشرف کے دور میں قومی احتساب بیوروقائم کیاگیاتھا۔جوآج تک نہ صرف کام کررہاہے بلکہ اپنی کارکردگی کے لحاظ سے ماضی میں بیوروکریٹس،جرنیلوں کے علاوہ صنعتی وتجارتی شعبوں کے نمایاں افراد کو بھی اپنے شکنجے میں لاتارہا۔نیب کااصل کام نہ صرف لوٹی گئی رقم نکلوانا بلکہ ہڑپ کیے گئے اربوں کھربوں روپے کاسراغ لگاکرذمہ داروں کوعدالتی مراحل سے گزاراجاناہے۔سابق صدرآصف زرداری سے لے کرسینکڑوں عوامی نمائندے بھی نیب عدالتوں میں پیش ہوتے اوراپنے خلاف درج مقدمات میں صفائیاں پیش کرنے یاثابت شدہ کرپشن کامال واپس خزانے میں جمع کروانے پرمجبور ہوئے ۔قمرزمان چوہدری کی چارسالہ کارکردگی کیسی رہی،اس پرسیاسی حلقوں ،کرپٹ عناصر،پارلیمنٹ کے ایوانوں اورقانونی حلقوں میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں ،نیب کیطریقہ کار کے مطابق شکایات والزامات سامنے آنے پرتفتیش کاعمل شروع اورٹھوس شواہدملنے پرملزموں کوگرفتار کرکے ان کواعتراف جرم کی روشنی میں رضاکارانہ طورپرلوٹاہوامال واپس کرنے کی سہولت دی جاتی تھی۔

سی پیک پر امریکی اعتراض کے پیچھے موجود حقائق

پلی بارگین کے لیے رضامند نہ ہونے پرملزموں کے خلاف مقدمات چلاکرسزائیں دی جاتی ہیں ۔موجودہ چیئرمین نیب بھی دراصل پیپلزپارٹی کے تجویز کردہ تھے ،جن کی نواز شریف حکومت نے منظوری دی تھی۔ چار سالہ عرصہ اختیارات کے دوران انہوں نے اگرچہ 60فیصد مقدمات میں ریکوریاں یقینی بنائیں تاہم پانامہ کیس کے دوران سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے نیب کو مردہ قراردے کر قمرزمان چوہدری کی کارکردگی کے گرد سرخ دائرہ کھینچ دیا۔سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف حدیبیہ پیپرملز کیس سمیت 12سے زائد کرپشن الزامات تھے جویاتودبادیئے گئے یاان کی تفتیش نہیں کی گئی۔28جولائی کے عدا لتی فیصلے میں شریف خاندان ہی نہیں بلکہ اسحق ڈار سمیت بڑی تعداد میں وی آئی پیز کے خلاف زیرالتواء مقدمات دوبارہ کھولنے کاحکم دیاگیا جس کی روشنی میں 8ستمبر تک میاں نوازشریف ان کے بیٹوں حسن نواز،حسین نواز،دامادکیپٹن (ر)صفدر اوربیٹی مریم نواز کے خلاف تین نئے ریفرنسز احتساب عدالتوں میں لائے گئے صرف یہی نہیں بلکہ اسحق ڈار پربھی آمدنی سے زائداثاثے بنانے کاریفرنس کھولاگیا جس میں ان کے خلاف فردجرم بھی عائدہوچکی ہے ۔سابق وزیراعظم کے کزن طارق شفیع ،نیشنل بنک اورحبیب بنک کے اعلیٰ افسروں سمیت ایک درجن کے قریب دیگر شخصیات بھی نئے ریفرنسز میں طلب کیے جاسکتے ہیں جبکہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی طرف سے جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں قائم خصوصی بنچ میں جمع کروائے گئے اہم تفتیشی مواد کی موجودگی میں حکمران خاندان جن مشکلات سے دوچارہے،اپوزیشن جماعتیں نہ صرف ان کا انجام دیکھناچاہتی ہیں بلکہ سابق صدراورپیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے چیئرمین آصف زرداری ،سابق وفاقی وزیرڈاکٹرعاصم حسین،سندھ کے مستعفی وزیرشرجیل میمن،بلوچستان کے سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی، مشیرخزانہ خالدلانگو بھی ان اہم شخصیات میں شامل ہیں ،جنہیں نیب میں اپنی بے گناہی ثابت یااحتساب عدالتوں کاسامنا کرناپڑے گا۔جسٹس (ر)جاویداقبال بھی پیپلزپارٹی کے تجویز کردہ ضرور ہیں مگراپنی کارکردگی کے آئینے میں اس اہم منصب کے حقیقی اہل قراردئیے جاسکتے ہیں ۔بلوچستان ہائی کورٹ سے اپناسفرشروع کرنے والے جسٹس جاوید اقبال کوفروری 2000ء میں بلوچستان ہائیکورٹ کاچیف جسٹس مقررکیاگیا جس کے صرف دوماہ بعدانہیں سپریم کورٹ کاجج مقرر کردیاگیا۔نئے چیئرمین نیب اعلیٰ عدلیہ کے ان ججز میں شامل تھے جنہوں نے صدرجنرل پرویز مشرف کے پہلے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اٹھایا تھا۔مارچ2007ء میں چیف جسٹس افتخارچوہدری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائرہونے کے بعد پاکستان کاقائمقام چیف جسٹس بنایاگیا۔جسٹس(ر)جاویداقبال سپریم کورٹ کے اس بنچ کے بعد سربراہ رہے جس نے پرویزمشرف کوفوجی یونیفارم میں صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کے خلاف زیرسماعت درخواستوں پرحکم دیاکہ وردی اتارنے تک الیکشن کمیشن انتخابی نتائج کااعلان نہیں کرسکتا۔3نومبر2007ء کوجب صدرمشرف نے ایمرجنسی لگائی توجسٹس جاویداقبال نے آئینی وقانونی اداروں کو غیرقانونی احکامات تسلیم نہ کرنے کے ساتھ عبوری حکمنامے کے باعث ہائیکورٹس اورسپریم کورٹ کے ججز کوبھی حلف اٹھانے سے روک دیاتھا۔اس فیصلے کے بعدجسٹس جاویداقبال سمیت متعددججز کوان کے گھروں پر نظربند کردیاگیاتھا۔2008ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے اقتدارسنبھالا تو2009ء میں جسٹس افتخار محمدچوہدری کوپھرچیف جسٹس آف پاکستان مقررکرنے کے ساتھ جسٹس جاوید اقبال کوبھی بحال کردیا۔وہ 2011ء میں سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے ۔یہ امربھی قابل ذکرہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے مئی2011ء کوایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پرامریکی حملے کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کاسربراہ بھی انہیں ہی بنایا۔تحریک انصاف،جماعت اسلامی اورایم کیوایم نے بھی اگرچہ چیئرمین نیب کے لیے نام پیش کیے جن میں اچھی شہرت رکھنے والے سابق جج ،بیوروکریٹ اورالیکشن کمیشن میں فرائض سرانجام دینے والے نیک نام شامل تھے مگرحکومت اوراپوزیشن میں جسٹس جاویداقبال کے نام پراتفاق رائے ثابت کرتاہے کہ شاندارماضی اورانتہائی فہم وفراست رکھنے والے نئے چیئرمین نیب سیاست سے بالاتر ہوکرنہ صرف بہترین قومی وعوامی مفاد میں فیصلے کریں گے بلکہ پاکستان سے لوٹ مار کے کلچر کے خاتمے اوراثرورسوخ کے باعث قانونی شکنجوں سے بچ نکلنے کی کوششوں میں مصروف خائنوں کوکیفرکردار تک پہنچانے میں وہ قائداعظم کی خواہشات ونظریات کی روشنی میں اس ادارے کو قومی امنگوں کاعکاس بنانے میں بھی کوئی کسراٹھا نہ رکھیں گے۔جسٹس(ر)جاوید اقبال اس وقت بھی جبری لاپتہ افراد کے متعلق قائم کمیشنکی سربراہی کررہے ہیں جوسکیورٹی اداروں ،خفیہ ایجنسیوں اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پرعقابی نظررکھے ہوئیہے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی وفاقی حکومت نیب کوختم کرکے اس کی جگہ قومی احتساب کمیشن قائم کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے اندرکی قانون سازی میں مصروف ہے ۔نیب قوانین کے تحت اعتراف جرم یااثاثوں کی ملکیت تسلیم کرنے کے بعد بار ثبوت ملزم کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے جبکہ نئے احتساب کمیشن کے طریقہ کار کے مطابق یہ ذمہ د اری پراسیکیوشن کے ذمے ہوگی ۔گہرائی سے دیکھاجائے تو موجودہطریقہ کار ملزموں کواپنے اوپرعائد ذمہ داریاں پوری اوراپنی بے گناہی ثابت کرنے کاپابندکرتاہے حالانکہ یہاں بھی گواہوں اورشہادتوں کے منحرف ہونے یابیٹھ جانے کے امکانات کافی ہوتے ہیں لیکن اگریہ سارامعاملہ نیب پرڈال دیاجائے گاتوآئندہ 95فیصد ملزمو ں کے لیے ذاتی تعلقات ،اثرورسوخ یاپس پردہ دباؤ کے ذریعے خود کواحتسابی شکنجے سے بچا لینے یعنی گواہوں کو ’’خاموش‘‘یاغیرموثر کرنے کاراستہ ہموار ہوجائے گا۔یہ بھی ممکن ہے کہ شریف فیملی اوراسحق ڈار جیسے ہائی پروفائل ملزم پارلیمنٹ میں اپنے اثرورسوخ کے باعث نیاقانون جلدازجلد منظور کرواکرخود کوسزاسے محفوظ کروانے کاکوئی راستہ نکالنے کی کوشش کریں مگر مارچ2018ء تک توسینٹ میں عددی اکثریت رکھنے کے باعث پیپلزپارٹی ،تحریک انصاف،ایم کیوایم اورجماعت اسلامی حکومت کومن مانی سے روک سکتی ہیں۔اگرچہ12 اکتوبرکوانتخابی اصلاحاتی بل کی منظوری کے وقت حکومت کو میاں عتیق جیسے ارکا ن پارلیمنٹ مل سکتے ہیں مگر امکان ہے احتساب کمیشن کابل منظورکروانے کی بجائے اس وقت زیرسماعت 1200کے قریب مقدمات جسٹس(ر)جاویداقبال کے ذریعے سپیڈی ٹرائل کے ذریعے منطقی انجام تک پہنچانے میں بھرپورتعاون کرے گی۔

کیپٹن صفدرکی گرفتاری اوررہائی

سابق وزیراعظم نوازشریف کے داماد کیپٹن (ر)صفدر اوربیٹی مریم نوازجو8اکتوبر کی رات لندن سے پاکستان پہنچے تھے ،بالآخرگزشتہ روزاسلام آباد کی احتساب عدالت کے سامنے پیش ہوگئے جنہیں آئندہ حاضر ی کاپابندکرکے ضمانت پر رہائی مل گئی ۔کیپٹن صفدر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باعث بے نظیربھٹو انٹرنیشنل ائرپورٹ سے پرسوں رات پونے دوبجے نیب نے انہیں باقاعدہ گرفتارکرکے ہیڈکوارٹر منتقل کردیاتھاجبکہ مریم نواز سے ہوائی اڈے پرہی حفاظتی مچلکے حاصل کرلیے گئے تھے ۔اس طرح سابق حکمران خاندان کے خلاف 8ستمبر کودائرہونے والے تین ریفرنسز کی قانونی کارروائی نئے اوردلچسپ مرحلے میں داخل ہوگئی ۔22ستمبر کو احتساب عدالت نے میاں نوازشریف ،ان کے بیٹوں حسن نواز،حسین نواز ،بیٹی مریم نواز اوردامادکیپٹن (ر)صفدر کوطلبی کے جوسمن جاری کیے تھے اس کی روشنی میں سابق وزیراعظم 25ستمبر کو برطانیہ سے پاکستان پہنچ کر اگلے روز پیش ہوگئے جس پر2اکتوبر کے روز ان کے خلاف فردجرم عائد کیے جانے کاکہاگیا۔اس کے ساتھ ہی ان کے بچوں کو2اکتوبر تک حاضرہونے کاآخری موقع دیاگیامگربیگم کلثوم نواز کی بیماری اورآپریشن کے باعث بچے حاضر نہ ہوسکے۔احتساب عدالت نے حسن،حسین اورکیپٹن صفدر کے ناقابل ضمانت جبکہ مریم کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے۔ میاں نوازشریف نے5اکتوبر کو لندن جانے سے پہلے واضح کیاتھا کہ بیماروالدہ کی عیادت کے باعث بچے پیش نہیں ہورہے تاہم جیسے ہی کلثوم نواز کی حالت بہتر ہوئی توحسن اورحسین بھی احتساب عدالت میں پیش ہوجائیں گے۔پاکستان روانگی سے پہلے مریم نواز نے لندن ائرپورٹ پرمیڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاتھا کہ ہم احتساب عدالت میں پیش ہوکرنظام عدل کوآزمائیں گے ۔انہوں نے وطن واپسی کوآئین وقانون کااحترام قراردیتے ہوئے کہا کہ جن کادامن صاف ہو،وہ عدالتوں سے نہیں گھبراتے البتہ انہوں نے اپنے بھائیوں کی وطن واپسی کوان کی صوابدید اورمعروضی حالات سے مشروط قراردینے کے باوجود عدالتی احترام کاعنصرواضح کردیا۔سابق وزیراعظم کی طرف سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی ثابت کرتی ہے شریف فیملی نیب تحقیقات اورپانامہ پرعدالتی فیصلے کو تسلیم نہ کرنے کے باوجودقانون کی بالادستی پریقین رکھتی ہے۔پاکستان میں احتساب کی جونئی لہر شروع ہوئی ہے ،اسے تحریک انصاف ،پیپلزپارٹی ،جماعت اسلامی ودیگرجماعتوں کوبھی خالصتاََقانون کی بالادستی کے ساتھ ملزموں کے بنیادی حقوق کے تناظر میں دیکھناچاہیے۔ستمبر2014ء میں عمران خان اورڈاکٹرطاہرالقادری کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس اورپاکستان ٹیلی ویژن اسٹیشن پرحملے کے الزام میں جومقدمات درج ہوئے تھے ،ان میں دونوں قائدین کے نہ صرف وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے بلکہ بعدازاں انہیں اشتہاری قراردے کر جائیدادیں ضبط کرنے تک نوبت پہنچ چکی ہے ۔ایسی ہی صو رتحال عمران خان اورجہانگیر ترین کے خلاف چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل بنچ میں بنی گالہ جائیدادکے بارے میں زیرسماعت مقدمہ میں ہے۔امیدہے حزب اختلاف اورخاص کرشریف فیملی کے شدیدمخالفین وناقدین میانہ روی اوربرابری کے قانون جیسے ماحول کے تناظر میں الزام تراشیوں کاسلسلہ بند کرکے صرف عدالتی کارروائیوں پر توجہ مرکوز کریں گے یہی میانہ روی بلکہ جیواورجینے دوکی حقیقی روح ہے۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
احتساب بیورو کے نئے چیئرمین کاتقرر
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں