بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سےمتعلق پہلی مشترکہ رپورٹ جاری

اسلام آباد: ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے) اور پاکستان چائنہ انسٹیٹیوٹ (پی سی آئی) نے پاکستان میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سے متعلق پہلی مشترکہ رپورٹ ’’جدید شاہراہ ریشم ۔ سی پیک کے معاشی فوائد‘‘ جاری کر دی۔ اے سی سی اے کیلئے پالیسی کے ریجنل ہیڈ عارف مسعود مرزا نے کہا کہ ہم سب سی پیک کے مختلف منصوبوں جیسے کہ گوادر بندرگاہ، قراقرم ہائی وے کی توسیع، نئے موٹر ویز، ریلویز جس میں بلٹ ٹرینز بھی شامل ہو سکتی ہیں، اقتصادی زونز اور بجلی کے منصوبوں سے آگاہ ہیں۔ یہ رپورٹ ملک کے صف اول کے تھنک ٹینک، پاکستان چائنہ انسٹیٹیوٹ (پی سی آئی) کا مشترکہ اقدام ہے۔ پی سی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید کے مطابق یہ رپورٹ لوگوں میں سرمایہ کاری کو ظاہر کرتی ہے، مثال کے طور پر چین کے کاروباری کلچر کو سمجھنا اور نیٹ ورکنگ بڑھانا، عوامی رابطے جو سی پیک کے ستونوں میں سے ایک ہیں، کو نجی و سرکاری شعبوں کے طویل المدتی مشن میں شامل ہونا چاہئے۔

مزید پڑھیں :اربوں روپے کی بھاری مشینری سمگل کرنے کی کوشش ناکام

پاکستان کی افرادی قوت، پروفیشنل، ہنرمند، نیم ہنرمند اور غیر ہنرمند کو چینی افرادی قوت کے برابر یا اس سے بہتر ہونا چاہئے تاکہ سی پیک کے طویل المدتی فوائد سے استفادہ کیا جا سکے۔ اے سی سی اے پاکستان کے سربراہ سجید اسلم نے کہا کہ اے سی سی اے پاکستان کی رپورٹ میں 500 فنانس پروفیشنلز اور کاروباری شراکت داروں کے سروے کے نتائج کے ساتھ ساتھ بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور اسلام آباد کی 5 ایس ڈبلیو او ٹی ورکشاپس کے نتائج شامل ہیں۔ رپورٹ کے مصنف ملک مرزا جنہوں نے تحقیق اور مختلف شراکت داروں کے انٹرویو کے لئے کئی مہینے کام کیا، نے کہا کہ ایس ڈبلیو او ٹیز لوگوں کو تذویراتی انداز میں سوچنے کا بہترین راستہ فراہم کرتی ہیں۔ مستقبل کی تیاری کے لئے درکار مہارتوں کو رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے۔ تقریباً 70 فیصد نے رضامندی ظاہر کی کہ نئی مہارتیں مستقبل میں درکار ہوں گی اور 74.4 فیصد نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ چین اور پاکستان کے کاروباری انداز میں واضح فرق ہے۔ حیران کن طور پر 80 فیصد سے زیادہ نے رضامندی ظاہر کی کہ چینی زبان میں سرمایا کاری مطلوب تھی لیکن درحقیقت یہ سرمایا کاری نظر نہیں آ رہی۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سےمتعلق پہلی مشترکہ رپورٹ جاری
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں