مریخ تک سفر کے لیے خلانوردوں کے ڈی این اے تبدیل کرنے پر غور

ایسٹ لندن ۔ ناسا کے مطابق 2030 کے عشرے میں انسانوں کو مریخ پر بھیجا جاسکے گا لیکن اس کے لیے ناسا کے ماہرین دواؤں کے ذریعے خلائی عملے کا ڈی این اے بدلنے پر غور کررہے ہیں۔ ناسا کے مطابق اس سے انسانی جسموں پر بلند توانائی والے ذرات کے مضر اثرات مثلاً کینسر سے بچاؤ ممکن ہوسکے گا اور وہ دیگر امراض سے بھی محفوظ رہ سکیں گے ۔ناسا کے قائم قام چیف ٹیکنالوجسٹ ڈاکٹر ڈگلس ٹیریئر نے لندن میں ایک کانفرنس میں ان خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مرکب این ایم این کلینکل ٹرائلز میں شامل ہوگیا ہے جس نے تجربہ گاہ میں چوہوں پر بہت اچھے اثرات ظاہر کیے ہیں۔تاہم ناسا کے طبی ماہرین خلانوردوں کے ڈی این اے میں مزید مثبت تبدیلیاں کرنے کے خواہشمند ہیں جن میں ایپی جنیٹک موڈیفکیشن بھی شامل ہے ۔

انسان کی بار بار بیماری کا سبب بننے والی عادتیں

اس عمل میں ڈی این اے کوڈ تبدیل کئے بغیر جین پڑھنے کا طریقہ بدلا جاتا ہے ۔ اس سے مریخی خلانوردوں یا ‘مارسوناٹس’ ایک جینیاتی ہدایت کو بڑھانے اور دوسرے جین کو خاموش کرسکیں گے ۔ اس سے جسم میں مدافعت پیدا کرکے کینسر، ڈیمنیشا اور اشعاع سے وابستہ دیگر امراض سے بچا جاسکتا ہے ۔ ناسا کے چیف ٹیکنالوجسٹ نے بتایا کہ اس کے علاوہ بھی دیگر کئی اہم آپشنز پر غور کیا جارہا ہے ۔‘ان میں سے بعض طریقوں پر اخلاقی سوالیہ نشانات بھی ہیں اور ان پر ابھی سوچ بچار ہی کی جارہی ہے ،’ ڈاکٹر ڈگلس نے بتایا۔ خلا میں طاقتور کائناتی اشعاع (کاسمک ریز) کی بوچھاڑ ہوتی رہتی ہے جو انسانی جلد کو شدید نقصان پہنچا کر جسم کے اندر بھی گڑبڑ پیدا کرسکتی ہے ۔ زمین پر موجود قدرتی برقی مقناطیسی غلاف ہمیں ان خطرات سے محفوظ رکھتا ہے ۔دوسری جانب ناسا مریخی سفر کے لیے خلا نوردوں کی صحت کا خیال رکھنے والے کئی ایک نظاموں پر بھی کام کررہا ہے جن میں روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کے سسٹم شامل ہیں۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
مریخ تک سفر کے لیے خلانوردوں کے ڈی این اے تبدیل کرنے پر غور
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں