نئے این آر او کی تلاش

تحریر:پروفیسرفتح محمد ملک

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دو نااہل سیاستدان نواز شریف اور الطاف حسین لندن میں بیٹھے ایک نئے NRO کی تلاش میں امریکی حکومت کے دروازوں پر دستک دینے میں مصروف ہوں۔ ایسے میں مجھے پرانے نام نہاد قومی اتفاقِ رائے NRO کے باب میں بھارت کے نامور صحافی کلدیپ نیّر کا ایک پرانا کالم یاد آ رہا ہے ۔ امریکی خوشنودی اور شفاف جمہوریت کی تلاش کے راستے الگ الگ ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پرانا NRO امریکہ کی چاکری اور جنوبی ایشیا میں بھارت کی سامراجی بالادستی کے باب میں خاموش ہے ۔ جناب کلدیپ نیّر نے اپنے کالم بعنوان نئی راہِ عمل کا انتخاب (Charting a new course?, Dawn, June 5, 2006) میں اِس خاموشی کو توڑا تھا۔
کلدیپ نیّر نے اس کالم میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور محترم نواز شریف کے ساتھ لندن میں اپنی ملاقاتوں کی روشنی میں چند ایسے ناقابلِ یقین انکشافات کیے تھے جن پر آج کے حالات میں غوروفکر لازم ہے ۔ پہلا انکشاف تو یہ تھا کہ ہر دو رہنماؤں کی تمام تر تمناؤں اور اُمیدوں کا مرکز امریکہ ہے :

“They are pinning their hopes mostly on America which seems to have assured them on this count.”

دوسرا انکشاف یہ ہے کہ دونوں لیڈر برصغیر کی سیاسی وحدت اور یورپی یونین کے عکس پر جنوبی ایشیائی یونین کے بھارتی امریکی ایجنڈے کے فروغ کو اپنی سیاست کا محور و مرکز قرار دیتے ہیں:

“Although friendly off and on in the past, I have never found the two so keen to bury the hatchet with India as I did in London this time. Both advocate a “borderless” sub-continent without visas. They are in favour of a South Asian
common market on the lines of the European Union, with no restriction on travel, trade or business.”

بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تر اختلافات سے عملاً دستبردار ہو کر ، ویزا کی پابندیوں اور ملکی سرحدوں کے احترام کو بالائے طاق رکھ کر ایک ایسے برصغیر کا قیام جس میں سیر و سفر سے لے کر تجارت و کاروبار تک ہر طرح کی پابندیوں سے آزاد ہوں واقعتا ایک نئی راہِ عمل ہے ۔ اس نئی راہِ عمل کی آخری منزل اکھنڈ بھارت کا قیام ہے ۔ اکھنڈ بھارت کی اصطلاح کی ایک تاریخ ہے ۔ یہ تاریخ متحدہ ہندوستانی قومیت اور جداگانہ مسلمان قومیت کے درمیان نظریاتی کشمکش کی تاریخ ہے ۔ اس نظریاتی جنگ میں بالآخر جداگانہ مسلمان قومیت کو فتح نصیب ہوئی۔ نتیجہ یہ کہ جداگانہ مسلمان قومیت کے تصور سے جداگانہ مسلمان ریاست یعنی پاکستان کا جغرافیائی وجود بھی برآمد ہوا اور پاکستانی قومیت کے نظریاتی مسلک نے بھی ظہور پایا۔ اگر آج ہماری سیاست نے ’’ان سرحدوں کے برصغیر‘‘ اور ’’جنوبی ایشیا کی مشترک منڈی‘‘کی نئی اور پُرفریب اصطلاحات کے طلسم میں گرفتار ہو کر اکھنڈ بھارت کو واپسی کی راہِ عمل اختیار کرنے کی ٹھانی ہے تو اُسے سوچنا ہوگا کہ کیا اسلامیانِ پاکستان اُسے اِس کی اجازت دیں گے ۔ یہ راہِ اختیار کرنے کے بعد کیا وہ پاکستانی سیاستدان کہلا سکیں گے ۔

عوام سے بے ربط جمہوریت کے4عرس

اس حقیقت کو کبھی فراموش نہ کرنا چاہیے کہ عوامی رہنما وہی بن سکتا ہے جو عوام کی اُمیدوں اور تمناؤں کو زبان دیتا ہے اور عوام کی اجتماعی بصیرت سے روشنی لینے کا ہُنر جانتا ہے ۔ ہمارے سیاستدانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ عوام طاقت کا سرچشمہ بھی ہیں اور عقل کا سرچشمہ بھی۔ پاکستانی عوام امریکہ اور بھارت سے مانگے تانگے کی عقل کی بجائے اپنے جذبہ و احساس اور اپنے تجربات و مشاہدات سے عقل سیکھتے ہیں اور اسی عقل کی روشنی میں اپنا سیاسی، معاشرتی اور تہذیبی سفر جاری رکھنے کے خوگر ہیں۔ اس حقیقت کا سب سے بڑا ثبوت تحریکِ پاکستان کے عوامی جمہوری کردار میں پنہاں ہے ۔ تحریکِ پاکستان کے دوران خود کو عقلِ کُل سمجھنے والے اشتراکیت پسند اور اسلام پسند حلقے تحریکِ پاکستان کے خلاف سرگرمِ عمل رہے مگر مسلمان عوام نے اِن کی عقل پر بھروسہ کرنے کی بجائے زندگی کے ٹھوس حقائق سے پھوٹنے والی اپنی عوامی عقل سے کام لے کر تحریکِ پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ آج پھر ہمیں وہی صورتِ حال درپیش ہے ۔ انہی حلقہ ہائے فکر و احساس کی باقیات بھارت امریکہ نظریاتی یگانگت کے پسِ پردہ کارفرما حکمت عملی پر فریفتہ ہیں اور عوام اس نئی سامراجی حکمتِ عملی کے خلاف شمشیر بکف ہیں۔ اس نظریاتی جنگ میں بالآخر عوام ہی سرخرو ہوں گے ۔ تیسرا انکشاف یہ ہے کہ ہر دو لیڈروں نے اپنی اس لغزش پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ انہوں نے ’’میثاقِ جمہوریت‘‘میں پاکستان کی تاریخ کا بھارتی تصور اپنانے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
البتہ نواز شریف نے کلدیپ نیر کو یقین دلایا کہ وہ اس لغزش کی تلافی کی خاطر NRO کے مسودہ میں ایک ضمیمہ شامل کر دیں گے ۔ امریکہ اور بھارت کو یہ گلہ ہے کہ ہم اپنی تاریخ برصغیر میں مسلمانوں کی آمد سے کیوں شروع کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اپنی تاریخ اگر برصغیر میں اپنی آمد سے شروع نہ کریں تو پھر کہاں سے شروع کریں۔ برصغیر میں ہماری آمد سے پہلے کی تاریخ تو کسی اور کی تاریخ ہے ۔ ہم تو برصغیر میں اپنی وہ تاریخ و تہذیب لے کروارد ہوئے تھے جو ظہورِ اسلام سے شرو ع ہوئی تھی اورجس نے ہمیں ایک جدید روشن فکر اور انسان دوست سائنسی کلچر کاوارث بنا دیا تھا۔ ایک نامور ہندو سکالر، نراد سی چوہدری کے لفظوں میں ہم بھارت میں ایک شائستہ تر اور بالاتر تہذیب کا تحفہ لے کرآئے تھے ۔ ہم بھارت میں انقلابِ مسلسل کا ایک ایسا تصور لے کر وارد ہوئے تھے جو انسانی تاریخ میں پہلی بار مسلمانوں نے تخلیق کیا تھا (تفصیلات کے لیے دیکھیے چوہدری صاحب کی کتاب The Continent of Circle)۔)
ہمارے اسی برتر تاریخی اور حسین تر تہذیبی مسلک نے برصغیر میں ہمیں ایک منفرد ممتاز شناخت بخشی ہے ۔ اس شناخت کی ہزار سال پر پھیلی ہوئی تاریخ ہی ہماری تاریخ ہے ۔ انڈو امریکن لابی آج ہم سے یہ مطالبہ کررہی ہے کہ ہم اپنی تاریخ کو بھارت کی اُس تاریخ سے شروع کریں جس کی جانب علامہ اقبال نے اپنی عہد آفریں نظم ’’شکوہ‘‘ میں یوں اشارہ کیا ہے :
ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظر
کہیں معبود تھے پتھر کہیں مسجود شجر
خوگرِ پیکرِ محسوس تھی انساں کی نظر
مان لیتا کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکر
یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم ایمان بالغیب کی بلندیوں سے پیکرِ محسوس کی عبادت کی پستیوں کی جانب لوٹ جائیں۔ کیا ہم اسلام کی تاریخ ابوجہل اور ابولہب ۔۔۔ دورِ جاہلیت سے شروع کر سکتے ہیں۔ کیا ہم اللہ رب العالمین کی بجائے لات و منات و عزیٰ کی پرستش کو اپنا دینی مسلک بنا سکتے ہیں۔ ہر گز نہیں! ہماری تاریخ تو ردِ جاہلیت سے شروع ہوتی ہے ۔ چنانچہ آج بھی نئی جاہلیت کی تردید اور دینِ مصطفی کے اثبات ہی سے ہم پاکستان میں تحریکِ پاکستان کے خوابوں کو عملاً جلوہ گرد یکھ سکتے ہیں۔ جہاں تک پہلے NRO کا تعلق ہے محترمہ بے نظیر بھٹو نے اِس کے فریقِ اوّل جنرل پرویز مشرف کی حکم عدولی کرتے ہوئے پاکستان پہنچ کرعوامی جمہوری تحریک کی قیادت سنبھال لی تھی۔ نتیجہ یہ کہ کراچی میں اُن کے استقبالی جلوس کے دوران اُن پر پہلا قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔ حملہ ناکام ہوا، عوامی جمہوری تحریک مزید زور پکڑنے لگی اوربالآخرلیاقت باغ میں جلسۂ عام کے بعد اُنہیں دوسرے قاتلانہ حملے میں شہید کر دیا گیا تھا۔ ایک مدت بعد اب پھر نواز شریف اور پاکستان کی موت کے خواب دیکھنے والے الطاف حسین کے درمیان اتحادِ فکر و عمل کی بات چل پڑی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ تیسرا فریق یعنی ہماری موجودہ قیادت پرانی غلطی دُہرانے سے باز رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں