احتساب سے انتقام تک

( آزادی ایک پہاڑ ہے جسے پیٹھ پر اُٹھا کر چلنا پڑتا ہے ۔ آزادی کی متعدد قسمیں ہیں ۔ ان میں سے سب سے اہم ضمیر اور اظہار کی آزا دی ہے ۔ اظہار کی آزادی پر۔۔۔ قدغن لگانا چاہتی ہے اور ایک صحافی کا ٹیسٹ کیس حال ہی میں سامنے آیا ہے ، جو ایک ٹی وی چینل کے پروگرام کے میزبان ہیں ۔اُن کے بعد کس کس کی باری ہے ، خُدا ہی جانے ۔ یہ صورتِ حال تشویش ناک اور قابلِ مذمت ہے ) پیغمبروں کی کتابوں میں لکھا ہے کہ انسان اپنے اعمال کا قیدی ہے ۔ جو وہ کرتا ہے اُس کا پورا بدلہ یا معاوضہ اُسے ملتا ہے ۔ نیک اعمال نیک نامی اور خوش بختی کا پھل لاتے ہیں اور بد اعمال کا حاصل رُسوائی ، توہین ، ذلّت اور نا اہلی کی سزا ہے ۔ یہ فطرت کے قوانین ہیں کہ جو بویا جاتا ہے وہی کاٹا جاتا ہے ۔

AS YOU SOW,SO SHALL YOU REAP.

چنانچہ جو گندم بوتا ہے ، وہ گندم کاٹتا ہے ، جَو بونے والے جَو کاٹتا ہے اور آندھیاں بونے والا بگولے کاٹتا ہے ۔ کتاب کہتی ہے کہ کسی پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اُس کے اعمال کے سبب سے آتی ہے جبکہ فضل و رحمت و برکت اللہ کی طرف سے ہے ۔ ہم پاکستانی ا لاصل لوگ ، دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ہیں ، کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مابعد اثرات میں مبتلا ہیں ۔

تاج محل بھی پاکستان بھجوا دیں!

یہ ایک عذاب ہے جس کا نشانہ ایک قوم کے غریب اور مظلوم عوام بنے ہوئے ہیں اور جن حکمرانوں کو کرپشن ، زراندوزی اور منی لانڈرنگ کے الزامات درپیش ہیں ، وہ انہیں الزامات کے بجائے انتقامی کارروائی سے تعبیر کر رہے ہیں اور سب سے دل چسپ بات یہ ہے کہ اس فلسفہ ٗ انتقام کا سر چشمہ سابق نا اہل وزیرِ اعظم کی بیٹی مریم صفدر ہیں جو کسی منصب پر نہ ہوتے ہوئے بھی منصب دار ہیں ۔ وہ کسی بھی اسمبلی کی رُکن نہ ہوتے ہوئے پوری قومی اسمبلی کی ترجمان ہیں ۔ وہ اس وقت نہ صرف اپنے والد کی بلکہ پوری نون لیگی حکومت کی نقیب ہیں ۔ وہ ایک ایسی عقلِ کُل بن کر بولتی ہیں جس کا ہاتھ پورے بین الاقوامی سیاسی نظام کی نبض پر ہو ۔ وہ رائے نہیں دیتیں بلکہ بڑے تحکمانہ انداز میں فتوے اور فیصلے دیتی ہیں اور اپنی ہر بات کو لوہے پر لکیر سمجھتی ہیں ۔ اور وہ ایسا کرنے میں حق بجانب ہیں کیونکہ وہ دولت و ثروت کی جس شہ نشین پر بیٹھی ہیں ، وہاں سے اس قسم کی گفتگو پنجابی کی اُس کہاوت کے مصداق ہے ، جس میں کہا گیا ہے :
جیہدے گھر دانے ، اوس دے کملے وی سیانے
یعنی مالدار آدمی جو بولتا ہے وہ عین علم و حکمت کی بات ہے ۔
اس نقطے کا مطلب واضح اور صاف ہے کہ دانے دار خاندان کے لوگ طاقت کی منطق میں سیانے ہی ہوتے ہیں۔ اگر اُنہیں احتساب دولت کی عینک سے انتقام نظر آتا ہے تو اس کو رد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ طاقت ور کے فلسفے میں سات ضرب بیس سو ہوتا ہے ۔ کون نہیں جانتا کہ دولت وہ ارضی طاقت ہے جو نہ صرف افراد بلکہ قوموں کے مقدر کے فیصلے بھی کرتی ہے ۔ دولت کی طاقت سے کفر اسلام اور نا انصافی انصاف بن جاتی ہے ۔ ہم نے اپنے عہد میں دیکھا ہے کہ امریکہ نے کس طرح اسلام کے فلسفہ ٗ جہاد پر سرمایہ کاری کی اور پورے عالمِ اسلام کو جہاد کے ڈینگی وائرس میں مبتلا کردیا تھا ۔ پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ اُس ڈینگی بُخار کے مرضوں نے کس طرح متعدد اسلامی ممالک کو بیمارستان میں تبدیل کر دیا ہواہے ، جہاں قتل و غارت گری کرنے والے دہشت گردی کے مچھر دندناتے پھرتے ہیں اور وہ اس قدر طاقت ور ہیں کہ اب اُن کا خالق امریکہ بھی اپنی اس منحوس مخلوق کو کنٹرول نہیں کر سکتا ۔ دہشت گردی کی بیماری کو اس خطے میں پھیلانے کے لیے ڈالروں کی بارش کی گئی اور جگہ جگہ عسکری تنظیموں کے مصنوعی جوہڑ بن گئے جہاں ان مچھروں کی افزائش ہوئی اور اب ہر مچھر ایسا مست ہاتھی بن گیا ہے جسے کوئی مہاوت سنبھال نہیں سکتا ۔
یہ بات دہشت گردی کی تاریخ میں جلی حروف سے رقم ہے کہ سن اسی کی دہائی میں عسکری حکمرانوں کو دھمکی کی بندوق کی نوک پر ڈالر رکھ کر خریدا گیا او ر ایک اسلامی فتوے کے غلط استعمال سے عالمِ اسلام کو اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کی پوزیشن میں لا کھڑا کیا گیا اور یہ منظر چشمِ فلک نے انتہائی نا پسندیدگی سے دیکھا ۔ دولت کی یہی طاقت آج عدالتی نظام کو غیر موثر بنا کر اسلام کی عدل و انصاف کی اعلیٰ قدروں کو ملیا میٹ کردینا چاہتی ہے ۔ کتنی افسوس ناک بات ہے کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے اسلحے سے لیس ، پاکستان کے سیاستدانطبقے غریب ووٹروں کو خریدنے کے لیے پوری شد و مد سے منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔ وہ اگلے برس پھر سے جمہوریت کے نام پر لوگوں کے گلے میں سیاسی غلامی کا طوق ڈالنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے پاکستان میں سیاست کو ووٹ کی منڈی میں تبدیل کر دیا ہے ۔ ان سیاسی فن کاروں نے عوام کی منڈی سے سستا ووٹ خرید کر اسے منی لانڈرنگ کی سونے کی کان میں تبدیل کرنے کی سیاسی کیمیا گری سیکھ لی ہے ۔ یہ صورتِ حال جمہوریت کے نام پر غلامی کی جدید شکل ہے ، جس میں عوام کو امن اور خوشحالی کی جنت کے وعدوں کے شیشے میں اُتارا جاتا ہے اور اُن سے ووٹ لوٹ لیا جاتا ہے ۔ یہ انتخابی سسٹم ووٹ بالجبر کا پھندا ہے ، جسے ڈال کر لوگوں کو پھانسا جاتا ہے لیکن سو دن لُٹیرے کا اور ایک دن احتساب کا ۔ بالآخر صیاد اپنے دام میں آپ ہی آ گیا ہے۔احتساب کا یہ فیصلہ آسمان کا فیصلہ ہے ۔ مگر اس فیصلے کو مان کر بھی نہیں مانا جا رہا اور اب اسے احتساب کے بجائے انتقام قرار دیا جا رہا ہے ۔ حالانکہ احتساب بھی تو ایک گونہ انتقام ہی ہے جو ملزم خود اپنی ذات سے لیتا ہے ۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
احتساب سے انتقام تک
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں