حوثیوں نے اپنے حلیف سے دوسرااہم ترین کیمپ چھین لیا

حوثی باغیوں نے ضبوی کیمپ پر مکمل طور پر قبضہ کرلیا ،معزول صدرکی ری پبلیکن گارڈزکی گفتگو
صنعاء:یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے اپنے حلیف مں حرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کے زیرانتظام صنعاء میں ایک اہم کیمپ پر قبضہ کر لیا ہے۔ جنوبی صنعاء میں واقع ’ضبوی‘ کیمپ سابق صدر کی وفادار ری پبلیکن گارڈز کا دوسرا اہم ترین مرکز سمجھا جاتا تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یمنی ذرائع نے بتایا کہ حوثی باغیوں نے ضبوی کیمپ پر مکمل طور پر قبضہ کرلیا ہے۔ یہ کیمپ علی صالح کی وفادار ملیشیا کا صنعاء میں دوسرا اہم ترین مرکز رہ چکا ہے۔ حوثیوں نے اس کیمپ میں اپنا کمانڈر تعینات کیا ہے۔ اس سے قبل علی صالح کا وفادار بریگیڈیئر علی محمد المسعودی اس کیمپ کا کمانڈر تھا جسے حوثیوں نے ایک ماہ قبل اغواء کرلیا تھا۔

مزید پڑھیں :افغانستان کوعالمی دہشتگردی کی پناہ گاہ نہیں بننےدیں گے،نیٹو

یمن کی اخباری ویب سائیٹس کی رپورٹس میں ری پبلیکن گارڈز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حوثیوں نے کیمپ کے دسیوں افسروں اور فوجیوں کو ایک ماہ کی چھٹی پر بھیج دیا تھا۔ کیمپ میں افرادی قوت کم ہونے کے بعد حوثیوں نے اس پر قبضہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق حوثیوں نے اس کیمپ پر 24 اگست کو اپنی توجہ اس وقت مرکوز کی تھی جب پیپلز کانگریس کے علی صالح کے دھڑے نے جماعت کی تاسیسی سرگرمیاں شروع کیں تو حوثیوں نے اس پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔ پیپلز کانگریس کے دھڑے کی تاسیسی تقریبات پر حوثی باغیوں اور علی صالح کی وفادار ملیشیا کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی تھی اور انہوں نے ضبوی کیمپ پر چڑھائی کرتے ہوئے کیمپ کے سابق کمانڈر کو اغواء کرلیا تھا۔ذرائع کے مطابق ملیشیا کی طرف سے مں حرف لیڈر علی عبداللہ صالح کو ضبوی کیمپ پر حوثیوں کی چڑھائی کے بارے میں مطلع کیا جاتا رہا ہے مگر انہوں نے اس معاملے کو مسلسل نظرانداز کیا جس کے نتیجے میں حوثیوں کو کیمپ پر قبضے کا موقع ملا ہے۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
حوثیوں نے اپنے حلیف سے دوسرااہم ترین کیمپ چھین لیا
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں