پاکستان کی دفاعی ضروریات اورامریکہ پرانحصار

وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے عرب نیوز کوانٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی اوردیگردفاعی ضروریات کے لیے پاکستان کاامریکہ پرانحصار باقی نہیں رہ گیا اورضرورت پڑنے پردیگر ذرائع کوبروئے کار لایاجائے گاپاکستان پرلگائی جانے والی پابندیاں نہ صرف دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ کونقصان پہنچائیں گی بلکہ اس سے خطے میں بھی عدم استحکام پیداہوگا۔پاکستانی فوج کے پاس ہتھیاروں کابڑانظام امریکی ہے مگرہم نے اسے متنوع بنالیاہے۔ہمارے پاس چینی اوریورپی نظام بھی موجود ہیں حال ہی میں پاکستان نے پہلی مرتبہ روسی لڑاکاہیلی کاپٹر بھی اپنے ڈیفنس سسٹم میں شامل کرلیے ہیں ۔وزیراعظم نے کہاکہ ہمارے لیے ایساکرنا ایک پیچیدہ کام تھا۔صرف دفاعی ضروریات ہی نہیں ،دہشتگردی ،توانائی کی قلت اورمعاشی وعلاقائی عدم استحکام جیسے چیلنجز کابھی سامنا تھا جن کامقابلہ پوری احتیاط کے ساتھ کیاجارہاہے ۔وزیراعظم نے کہاکہ ہردوسرے ملک کی طرح ہم امریکہ کے ساتھ بھی برابری کی بنیاد پر تعلقات اورشراکت داری چاہتے ہیں مگردوٹوک انداز میں کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے کسی کوکسی قسم کی پناہ گاہیں فراہم نہیں کیں آج ہمارا مشترکہ مقصد دہشتگردی کونیست ونابود کرناہے۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہم افغانستان کے بھی پارٹنر ہیں ۔افغانستان کے اندرامن کاجتناخواہاں پاکستان ہے،کوئی اورملک نہیں ہوسکتا۔بدقسمتی سے پاکستان کے ساتھ ملحقہ زیادہ ترافغان علاقے میں طالبان کاکنٹرول ہے۔آج ہم پاکستان کے اندرجن لوگوں کے ساتھ جنگ کررہے ہیں،ان کی پناہ گاہیں افغانستان کے اندراوران کی قیادتیں بھی وہیں ہیں ۔امریکہ کی طرف سے افغان معاملات میں بھارت کوشامل کرنے کی خواہش نقصاندہ ہوگی۔شاہدخاقان عباسی نے واضح کیا کہ افغانستان کے اندر بھارت کاکوئی کردار نہیں ہوناچاہیے وگرنہ صدرٹرمپ کی خواہش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔جہاں تک پاکستانی وزیراعظم کے محتاط نقطہ نظر کا تعلق ہے تو اسے وائٹ ہاؤس کوانتہائی سنجیدگی کے ساتھ سمجھناچاہیے پاکستان اوربھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں جواپنے مفادات کے حصول کے لیے کسی بھی وقت کوئی انتہائی اقدام اٹھاسکتے ہیں جس کے ہولناک نتائج سامنے آسکتے ہیں ۔جنوبی ایشیا کے متعلق امریکی صدر کے21اگست کے بیان اورنئی افغان پالیسی کے اعلان کی روشنی میں پاک امریکہ تعلقات کاکیامطلب ہوگا،مہذب اورامن چاہنے والی قوتوں کواس کا ادراک کرناہوگا۔افغانستان کے اندرموجود 8ہزارکے قریب اتحادی فوجیوں کی موجودگی اور40فیصد کے قریب افغان علاقے پرطالبان کے عملی قبضے کی روشنی میں ڈ ونلڈٹرمپ کوافغانستان کے اندراپنے مفادات دیکھنے کے ساتھ بھارت کاکندھا تھپتھپانے کاانجام ذہن میں رکھناچاہے۔اپنے قیام کے بعد پاکستان نے اپنی اسلحہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے امریکہ پرہی انحصار کیے رکھالیکن ہرمشکل وقت میں پینٹاگون نے بدعہدی وبے وفائی ہی کی۔71ء کی جنگ کے باعث مشرقی پاکستان میں پھنسی90ہزار سے زائدپاک فوج کونکالنے کے لیے اسلام آباد چھٹے امریکی بحری بیڑے کی بحرہند میں آمد کاانتظار ہی کرتارہ گیامگروہ نہ پہنچا۔محترمہ بے نظیربھٹو اورمیاں نوازشریف کے دور میں پاکستان کو اپناایٹمی پروگرام رول بیک کرنے پرمجبورکرنے کے لیے امریکی اقتصادی پابندیاں اورعالمی مالیاتی اداروں سے ملنے والے قرضے رکوانے والاامریکہ1998ء میں جوہری دھماکے کرنے پربھی جو مایوس کن کرداراداکرتارہا،اس سے ہرپاکستانی آگاہ ہے۔پاکستان نے اپنادفاع موثربنانے اوربھارتی جارحیت کامقابلہ کرنے کے لیے میزائل ٹیکنالوجی پرتوجہ دی تووائٹ ہاؤس اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتارہا۔پاکستان کی برّی ،فضائی اورنیول فورسز کوجس قسم کے دفاعی ہتھیاروں کی ضرورت ہوتی ہے ،اسے امریکہ بخوبی جانتاہے مگرہرمشکل وقت میں ’’اجنبی‘‘یاغیرجانبداربن کرہمیں بے یارومددگار چھوڑدیاگیا۔ذوالفقارعلی بھٹو نے پاکستان فضائیہ کوموثربنانے کے لیے امریکہ سے ایف 16طیارے خریدنے کا فیصلہ کیامگر معاہدہ طے پانے کے باوجود آدھے جنگی طیارے روک لیے گئے ۔اس سے بھی پہلے1976ء میں پاکستان نے فرانس سے ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ خریدنے کامعاہدہ کیا جسے واشنگٹن نے پیرس پردباؤڈال کرمنسوخ کروادیاتھا۔اپنی بحریہ کو جدیدعصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جس قسم کے فریگٹیس کی پاکستان کو ضرورت تھی،

احتساب بیورو کے نئے چیئرمین کاتقرر

وہ بھی دینے سے مسلسل انکارکیاجاتارہا۔آبدوزوں اورسمندروں کی کڑی نگرانی کے لیے اواکس طیارے،ہیلی کاپٹر اورراڈارسسٹم ہماری ضرورت تھی جوہمیشہ نظرانداز کیے جاتے رہے ۔40برس تک جاری رہنے والی امریکی بے اعتنائی کے باعث پاکستان نے چین سمیت دیگرممالک کی طرف دیکھناشروع کیا۔1989ء میں پاکستان نے فرانس سے آگسٹاآبدوزیں خریدنے کامعاہدہ کیاجبکہ سویڈن سے سکائی یاک طیارے حاصل کرنے پرتوجہ دی۔ایف 16طیاروں کے متبادل کے طورپرپاکستان نے چین کے اشتراک وتعاون سے جے ایف تھنڈر17جنگی طیارے خودبنانے شروع کیے جبکہ چین سے تین فریگیٹ خریدنے کابھی معاہدہ کیا۔آج پاکستان کی دفاعی پیداوار کی صنعت بھی نہ صرف کافی ایڈوانس ہوچکی بلکہ مشتاق طیارے،ڈرون اورایسے ہی دیگر طیارے ملک کے اندرتیارکیے جانے لگے ہیں ۔واہ آرڈیننس فیکٹری میں بہترین رائفلیں ،ریوالور اورگولیاں بنانے کے ساتھ ہیوی فورج اینڈ فیکٹری کامرہ میں الخالد،ضراراوردیگر سبک رفتار ٹینک،بکتربندگاڑیاں بھی تیارہونے لگی ہیں۔چین نے پاکستان کی دفاعی ضرورت پوری کرنے میں بھرپورتعاون کیاجبکہ روس اوربرطانیہ سے بھی پاکستان اپنی دفاعی ضروریات کاسامان خریدنے لگاہے جبکہ دوروزقبل چین کے سرکاری اخبارگلوبل ٹائمز میں چھپنے والی خبروں کے مطابق پاکستان نے چین سے بحری جہاز اورآٹھ آبدوزیں خریدنے کامعاہدہ کیاہے صرف یہی نہیں بلکہ چین دنیا میں اسلحہ فروخت کرنے والادنیا کاتیسرابڑاملک بن چکاہے ،خودکار رائفلوں سے لے کربکتر بندگاڑیاں ،ٹینک ،جنگی طیارے اورفریگیٹ اورآبدوزیں تک چین میں تیاراوردنیا کے مختلف ممالک کوفروخت کی جارہی ہیں۔امریکہ کے ایک جریدے نیشنل انٹریسٹ کی27ستمبر کی اشاعت سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چینی ہتھیاراب جرمنی،فرانس اوربرطانیہ کی بھی ضرورت بن رہے ہیں۔کل تک جنگی ہتھیاروں کی ڈیزائننگ اورٹیکنالوجی کے لیے دوسروں کی طرف دیکھنے والے چین کے پاس اب اپناآزاد مینوفیکچرنگ سسٹم موجود ہے جس کے باعث وہ ضرورتمند ملکوں کوآبدوزیں اورہوائی جہاز بڑی تعداد میں برآمد کرنے لگاہے۔جدیدٹیکنالوجی کے باعث اب جنگی طیارے جے20 کے علاوہ سٹیلتھ طیارے بھی چین میں بڑے پیمانے پرتیارہونے لگے ہیں ۔چینی وزارت دفاع کے مطابق یہ جنگی طیارے چوتھی نسل کے کادرمیانی اوردورمارجنگی صلاحیت کے حامل ہیں ۔پاکستان کی مسلح افواج اس و قت باقاعدہ ساڑھے پانچ لاکھ جبکہ بالواسطہ طورپرتین لاکھ نیم فوجی،رضاکاراورجنگی تربیت یافتہ اہلکاروں پر مشتمل ہیں۔ایٹمی ہتھیاروں اورمیزائلوں کے علاوہ ائر ڈیفنس راڈارسسٹم تک پاکستان خودتیار جبکہ اپنی ضرورت کادیگرسامان جرمنی،سویڈن،فرانس اورچین سے حاصل کرنے لگاہے جو امریکہ پرانحصار ختم ہونے کاواضح اشارہ ہے۔بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے پاس جدید بلکہ ایڈوانس ٹیکنالوجی کی موجودگی اورچین سے بڑی مقدار میں اپنی دفاعی ضرورت کاسازوسامان خریدنے کے باعث پینٹاگون کی بلیک میلنگ آہستہ آہستہ معدوم بلکہ قصہ پارینہ بنتی جارہی ہے ۔وزیراعظم عباسی کا امریکہ کو انتباہ بجائے خود 21کروڑ پاکستانیوں کے لیے ایک اچھی خبر اورجنگی ہتھیاروں کی ضروریات کے بارے میں امریکی انحصار سے بے نیاز ہونے کاموقع ہے جسے سراہاجاناچاہیے۔

پاکستان میں تباہی پھیلانے کابڑاغیرملکی منصوبہ؟

ایک نجی ٹی وی کی اطلاع کے مطابق حساس اداروں نے پاکستان میں بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے اوراہم سرکاری عمارتوں کواڑانے کے ایک خوفناک منصوبے کوناکام بناتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘اورافغان انٹیلی جنس ادارے این ڈی ایس کے لیے کام کرنے والے چنددہشتگردوں کوگرفتارکرلیا۔تخریبی کارروائیوں کے لیے کام کرنیو الے اس مشترکہ نیٹ ورک کی منصوبہ بندی افغان صوبے کنٹر میں کی گئی جس کے تحت افغانستان کے اندردہشتگردانہ کارروائیوں کی تربیت دے کر بڑی تعداد میں تخریب کاروں کوپاکستان بھجوایا جاناتھا۔حراست میں لیے گئے دوافراد سے 1200جعلی پاکستانی پاسپورٹ بھی برآمد کرلیے گئے ۔اس منصوبے کے تحت پاکستان سے ملحقہ افغان علاقوں میں قائم مختلف تربیتی مراکز میں سینکڑوں کی تعداد میں دہشتگردوں کوتیار کرکے طورخم اورچمن بارڈرز کے ذریعے پاکستان کے اندر بھجوایاجاناتھاجنہیں مختلف ٹارگٹ پورے کرنے کا مشن سونپا جاتا۔جعلی کاغذات ،دستاویزات اورشناختی علامتوں کے ذریعے یہاں پہنچنے والے افراد کوسہولت کاروں کے ذریعے اسلحہ ،تباہی پھیلانے والامواد،خودکش جیکٹس،ریموٹ کنٹرول ڈیوائسز اورٹرانسپورٹ فراہم کی جانی تھی تاکہ پاکستان کے اندرمختلف اہم سرکاری مقامات کونشانہ بنایاجاسکے تاہم حساس اداروں نے موبائل فون پرہونے والی گفتگو کی روشنی میں بڑی احتیاط کے ساتھ اس سازش کے تانے بانے ملاکرملزموں کوگھیرے میں لے کرقابو کرلیا۔صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان کے اندرقانون نافذکرنے والے اداروں کوآگاہ کرنے کے ساتھ سکیورٹی انتظامات مزیدسخت کردئیے ہیں۔بھارت گزشتہ تین برس سے پاک افغان سرحد کے قریب قائم اپنے قونصل خانوں اوربااثرافغان اہلکاروں کے تعاون سے جس گھناؤنے مشن پرعمل کررہاہے،اس میں سی پیک منصوبے کوسبوتاژ کرنے ،سکیورٹی مقاصد کے لیے قائم فوجی چوکیوں،چیک پوسٹوں اورناکہ بندیوں کوناکام بناناشامل ہے ۔چندروز قبل امریکی وزیردفاع جیمز میٹس کااقتصادی راہداری منصوبے کی مخالفت میں سامنے آنے والابیان اس بات کاغماز ہے کہ بھارت ترقی وخوشحالی کے اس عظیم منصوبے کرہرحالت میں ناکام بنانے کے لیے متحرک ہوچکا ہے۔آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کے گزشتہ روز پی اے ایف اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پربیان کوبھی اسی تناظر میں لیاجائے توبھارت کے مکروہ عزائم سامنے آجاتے ہیں۔پاکستانی سپہ سالار کایہ کہناکہ دشمن چھوٹاہوبڑا،مہم جوئی سے باز نہ آیا تواسے ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ان کایہ کہناکہ کسی کوبھی اپنے ایکشن کی غلط تشریح نہیں کرنے دیں گے بھی دراصل سازشی عناصر کوانتباہ تھا۔گرفتار افراد سے ملنے والے جعلی پاسپورٹوں کے بعد اب اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہ گیا کہ بھارت ہرصورت پاکستان کوعدم استحکام کاشکارکرکے عالمی سطح پرجہاں دہشتگردی کے ٹھکانے اورتخریب کار پاکستان کے اندر ہونے کاتاثردیناچاہتاہے ،وہیں سی پیک کی بروقت تکمیل میں رکاوٹیں ڈالناچاہتاہے۔وقت آگیاہے کہ پاکستان بھارتی ریشہ دوانیوں اورسازشی منصوبوں کوبے نقاب کرنے کے لیے اسلا م آباد میں علاقائی ممالک کی ایک سربراہی کانفرنس بلاکر اس منصوبے کے لیے کام کرنے والے دہشتگرد وہاں پیش کرکے اورتفتیشی مراحل کے دوران ان کے اعترافات پرمشتمل بیانات منظرعام پرلائے ۔افغان صدراشرف غنی نے چندروز قبل پاکستان کودہشتگردی کے خاتمے کے لیے بھرپورتعاون کی جوپیشکش کی تھی،اس پراپنا اخلاص ثابت کرنے کے لیے تحریک طالبان پاکستان کے ملّافضل اللہ کی افغانستان کے اندرسرگرمیوں اوراین ڈی ایس کے تعاون سے تیارکیے جانے والے دہشتگردوں کے متعلق اپنافرض پوراکرے وگرنہ پاک افغان تعلقات میں پگھلنے والی حالیہ برف پھرمنجمد ہوجائے گی۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
پاکستان کی دفاعی ضروریات اورامریکہ پرانحصار
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں