اقلّیتی گروہوں پر سیاست کے نتائج اندوہناک ہوں گے

پاکستان کی ایک چھوٹی سی اقلیت کے خلاف مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی دھواں دار تقریر کسی مذہبی جذبہ کے تحت نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے لئے کی گئی ہے ورنہ خود بدعنوانی کے سنگین الزامات میں ملوث شخص کو اچانک احمدیوں کی طرف سے مملکت کو لاحق خطرات کا اندیشہ ناقابل فہم ہے ۔ انہیں تو خود پر لگنے والے الزامات کا جواب دینے کی تیاری کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے علاوہ اگر وہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اپنی عقیدت اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے آخری نبی کے فرمودات کے بارے میں اتنے ہی حساس اور جذباتی ہیں تو انہیں عدالتوں میں اپنی اہلیہ اور ان کے خاندان کے جرائم کی پردہ پوشی کی بجائے ، وہ ساری معلومات صدق دل سے سامنے لانے کی ضرورت ہے جو خاندان کے رکن کے طور پر ان کے علم میں ہیں تاکہ اگر نواز شریف اور دیگر اہل خاندان نے کوئی جرم کیا ہے یا بدعنوانی کے مرتکب ہوئے ہیں تو انہیں اپنے کئے کی سزا مل سکے ۔ اس کے برعکس کیپٹن صفدر جب سپریم کورٹ کی نگرانی میں بننے والی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تو انہوں نے خود کو فقیر منش، قانع اور دنیا سے بے غرض شخص کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔ البتہ وہ یہ بتانے سے قاصر رہے تھے کہ ان کے بچوں کی اعلیٰ تعلیم اور پرتعیش زندگی کے اخراجات کیسے پورے ہوتے ہیں۔ جو شخص اپنی اور اپنے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل نہیں ہے ، اب قومی اسمبلی میں تقریر کے ذریعے پوری قوم کو ایک ان دیکھی تباہی سے بچانے کا دعویٰ کرکے دراصل نفرت اور تعصب کے ایک ایسے طوفان کو دعوت دے رہا ہے جو ملک کے بحران کو مزید سنگین کرنے کا سبب بن سکتا ہے ۔ قومی اسمبلی 7ستمبر1974ء کومتفقہ طورپرقادیانیوں کوغیرمسلم قراردے چکی ہے۔اب وہ ایک غیرمسلم اقلیت کے طورپرپاکستان کے شہری ہیں اوراسی حوالے سے ان کے شہری حقوق بھی ہیں ۔اگرکوئی غیرمسلم اقلّیتی پاکستانی شہری کسی بھی شعبے میں قومی یابین الاقوامی سطح پر پاکستان کانام روشن کرنے کاباعث بنتاہے توآئین پاکستان کی رُوسے اُس کی خدمات کے اعتراف سے انکارنہیں کیاجاسکتا۔ڈاکٹرعبدالسلام بھی اس کی ایک مثال ہیں۔

پاکستان کی دفاعی ضروریات اورامریکہ پرانحصار

قومی اسمبلی کے رکن کے طور پر کل ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کیپٹن (ر)محمدصفدرنے فوج اور عدلیہ سمیت تمام شعبوں میں احمدی عقیدہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو برطرف کرنے اور عدلیہ کے اعلیٰ ججوں پر یہ لازم قرار دینے کا مطالبہ کیا کہ وہ ختم نبوت پر یقین کا حلف اٹھائیں۔ ان کے بقول احمدی پاکستان کے دشمن ہیں کیوں کہ وہ ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے ۔ عقیدہ کی بنیاد پر کسی شہری کی وفا داریوں کا تعین کرنے سے جو نتائج سامنے آ سکتے ہیں، اس کا اندازہ ملک میں پہلے سے جاری فرقہ وارانہ کشیدگی سے ہی کیا جا سکتا ہے ۔ ہر فرقہ، دوسرے عقائد کے بارے میں نہ صرف اختلاف رائے کا اظہار کرتا ہے بلکہ نہایت آسانی سے کسی کو بھی کافر قرار دینا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے ۔ اس مزاج اور رویہ کو راسخ کرنے کی وجہ سے ہی ملک کے توہین مذہب کے قوانین کے تحت عدالتوں کو فیصلہ کرنے کا نہ موقع ملتا ہے اور نہ ہی حوصلہ ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس اسلام کے شیدائی ہونے کے دعویدار اور حب رسول کے نعرے لگاتا ہجوم عام طور سے کسی شخص پر الزام بھی خود ہی عائد کرتا ہے اور پھر اس کی موت کا فیصلہ صادر کرکے اس پر عملدرآمد کرنے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے ۔
محلے گلیوں اور دیہات کی مساجد کے کوتاہ نظر اماموں کی اشتعال انگیزی کی وجہ سے گزشتہ چند برسوں میں معصوم انسانوں کو تشدد سے ہلاک کرنے کے متعدد واقعات رجسٹر کئے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے بعض انتہا پسند مذہبی گروہ ان قوانین کا سہارا لے کر فتوے بھی جاری کرتے ہیں اور مسلح گروہوں کے ذریعے لوگوں کی ہلاکت کا سبب بھی بنتے ہیں۔ ملک میں خاص طور سے احمدی عقیدہ اور شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو تواتر سے ایسے گروہوں نے اپنا نشانہ بنایا ہے ۔ ان واقعات پر حکومت کی طرف سے ہمیشہ مذمتی بیانات سامنے آتے ہیں لیکن عملی اقدامات دیکھنے کو نہیں ملتے جبکہ ملک کا مذہبی طبقہ اقلیتی عقائد یا مسلک سے تعلق کی بنا پر قتل و غارتگری کے واقعات پر عام طور سے چپ سادھ لیتا ہے ۔ علمائے دین کی اسی بے حسی اور معاشرتی بے گانگی کا نتیجہ ہے کہ مذہب کو محبت، ہم آہنگی ، وسیع المشربی اور بقائے باہمی کا ذریعہ بنانے کی بجائے تشدد، مار پیٹ اور نفرت و حقارت پھیلانے کا سبب بنا لیا گیا ہے ۔ دوسری طرف اگر سیاسی مفادات کا سوال درپیش ہو یا کسی معاملہ میں اہمیت جتانا مقصود ہو تو دین کے یہی ٹھیکیدار مذہب کی آن پر اپنی جان قربان کرنے کے نعرے لگاتے ، لوگوں کو گمراہ کرنے اور بہکانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ احمدیوں سمیت اقلیتی عقائد کے خلاف نفرت انگیز گفتگو کا چلن اسی لئے عام ہو رہا ہے کیوں کہ اسلام کے نام پر دکان چمکانے والوں نے مذہب و عقیدہ کو ذاتی تفہیم تک محدود کرنے کے علاوہ اس تفہیم کو دوسروں کے خلاف نفرت عام کرنے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے ۔ اس وقت ملک میں کوئی بھی اس پرتشدد طریقہ کار سے محفوظ نہیں ہے اور انتہا پسندی کا یہ رویہ خوں ریزی اور دہشت گردی میں اضافہ کے ذریعے ملک کے وجود کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے لیکن نہ دین کے رہنما اور شناور اس رجحان کے خلاف آواز بلند کرنے کا حوصلہ کرتے ہیں اور نہ سیاستدان اس مزاج کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے سے باز آتے ہیں۔
گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں انتخابی قواعد میں ترمیم کے قانون کی منظوری کے بعد یہ اعتراض کیاگیا کہ اس میں سے ختم نبوت پر ایمان رکھنے کا حلف نامہ نکال دیا گیا ہے ۔ ملک کے سارے سیاستدان اس معاملہ کو لے کر حکمران جماعت کو زیر کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہو گئے اور چھوٹے بڑے مذہبی گروہوں اور تنظیموں نے نواز شریف اور حکومت کے خلاف جلوسوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اسی صورتحال پر قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے وزیر داخلہ احسن اقبال نے یہ اعلان کیا تھا کہ اپنا عقیدہ ثابت کرنے کے لئے کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ملک میں کفر کے فتوؤں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے ۔ وزیر داخلہ کی بات اصولی طور پر بالکل درست ہے لیکن حکومت میں شامل ہونے کے باوجود احسن اقبال اس رجحان کو ختم کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنے سے قاصر ہیں۔ آج نواز شریف کے داماد اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن صفدر کا بیان وزیر داخلہ اور پوری حکومت کی کارکردگی کے علاوہ اس کی نیک نیتی پر بھی سوالیہ نشان ہے ۔ جو حکومت قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کو اپنا اولین مقصد قرار دیتی ہو اور جو ملک میں مختلف عقائد کے درمیان بھائی چارے کے فروغ کے لئے کام کرنے کا عزم رکھتی ہو، اسی پارٹی کا ایک اہم رکن اسمبلی کیوں کر عقیدہ کی بنیاد پر شہریوں کی وفاداری کے بارے میں شبہات کا اظہار کر سکتا ہے ۔وزیراعظم ، وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی اس معاملہ میں خاموشی سے صرف اس شبہ کو تقویت ملے گی کہ کیپٹن صفدر کا بیان کسی جذبہ ایمانی کا شاخسانہ نہیں ہے بلکہ اس کے درپردہ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایک مقصد کو انتخابی اصلاحات کے قانون پر اٹھنے والے الزامات کے نتیجہ میں خراب ہونے والی سیاسی ساکھ بحال کرنے کی کوشش ہے ۔ دوسرا مقصد فوج اور عدلیہ کو نشانہ بنانا ہے ۔ کیپٹن (ر) صفدر نے اپنی تقریر میں 1971 ء کے سقوط ڈھاکہ کی وجہ اعلیٰ فوجی عہدوں پر احمدی عقیدہ کے بعض افراد کی
تقرری کو قرار دیا ہے ۔ اور مطالبہ کیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج بھی ختم نبوت کے حلف نامہ پر دستخط کریں۔ اس طرح ان دونوں اداروں کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لئے یہ اوچھا ہتھکنڈا اختیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر سوموار کو اپنی اہلیہ مریم نواز کے ہمراہ وطن واپس آئے تھے ۔ ان پر نیب نے بدعنوانی کے ریفرنس دائر کئے ہوئے ہیں۔ ان مقدمات میں گرفتاری، پیشی اور ضمانت کے بعد آج وہ ختم نبوت کا مقدمہ لڑنے قومی اسمبلی پہنچ گئے ۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما جو اصول ملک کے احمدیوں پر نافذ کرنا چاہتے ہیں اگر برطانیہ اور دیگر ممالک کے حکام اور عوام وہی اصول مسلمانوں یا پاکستانیوں پر منطبق کرنا شروع کر دیں تو نہ تو نواز شریف کے صاحبزادگان برطانیہ میں اربوں کا کاروبار چلا سکیں گے اور نہ کیپٹن صفدر یا ان کے بچوں کو مختلف ممالک میں داخل ہونے اور وہاں پرتعیش زندگی گزارنے کا موقع مل سکے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کو مشتبہ قرار دیتے ہوئے بعض مسلمان ملکوں کے امریکہ داخلہ پر پابندی لگانے کا حکم جاری کیا تھا لیکن انہوں نے اسے مسلم عقیدہ کے خلاف اقدام قرار نہیں دیا تھا۔ اس کے باوجود دنیا بھر کے علاوہ امریکہ میں اس متعصبانہ فیصلہ کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا تھا۔ پاکستان میں سیاستدان مثالیں تو امریکہ اور برطانیہ کی دیتے ہیں لیکن ان معاشروں کی ترقی و عروج کا سبب بننے والے اعلیٰ انسانی اصولوں کی ترویج کے لئے کوئی کام کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
ملک کے سیاستدان اور علمائے دین اگر واقعی پاکستان کو ایک ایسا معاشرہ بنانا چاہتے ہیں جو نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اسوۃ کے مطابق سب کو انصاف اور سماجی قبولیت فراہم کرے گا تو ملک کے ہر کونے میں کیپٹن صفدر کے اشتعال انگیز، نفرت سے بھرپور اور جاہلانہ دعوؤں سے لبریز بیان کے خلاف احتجاج کی صدا بلند ہونی چاہئے تھی۔ ملک کی اقلیتوں کو بدنیت قرار دے کر ان سے زندگی کی سہولتیں اور بنیادی حقوق واپس لینے کی بات کرنے والا معاشرہ اس رسول کی تعلیمات پر کاربند نہیں ہو سکتا جس نے دوست دشمن سب کے لئے محبت اور امن کا پیغام دیا ہے ۔ اہل پاکستان اور مسلمان یہ بات سمجھ سکیں، تب ہی کھوئی ہوئی منزل پا سکیں گے ۔

سول ملٹری تعلقات میں بہتری کی علامتیں

پاکستان کے دفتر تعلقات عامہ نے وزیر دفاع خرم دستگیر خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایک تصویر جاری کی ہے جس میں دونوں خوشگوار موڈ میں ایک دوسرے سے محو گفتگو ہیں۔ تصویر کے ساتھ جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ وزیر دفاع نے جی ایچ کیو میں پاک فوج کے سربراہ سے ملاقات کی اور ملک میں سلامتی کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملاقات سے پہلے وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے ملٹری آپریشنز ڈایریکٹوریٹ کا دورہ کیا جہاں انہیں ملک کی سیکورٹی کی صورت حال کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ سول ملٹری قیادت کے درمیا ن دوری اور تصادم کی خبریں لانے والے حلقوں کے لئے یہ تصویر اور اعلامیہ کوئی اچھی خبر نہیں ہے اور نہ ہی اس میں قیاس آرائیوں کے لئے کوئی مصالحہ فراہم کیا گیا ہے ۔
لیکن اس کے برعکس ملک میں فوج کے ساتھ حکمران جماعت کے تصادم کی خبروں سے ہراساں عام لوگ اس خبر سے ضرور اطمینان اور خوشی محسوس کریں گے ۔پاکستان میں اس وقت شدید غیر یقینی کی صورت حال موجود ہے جس کی سب سے اہم وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ملک کی سیاسی حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات موجود ہیں اور یہ فاصلہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے ۔ جولائی میں سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو وزارت عظمی سے برطرف کردیا تھا ۔ اس وقت وہ اور ان کا خاندان سپریم کورٹ کے حکم کے تحت قائم ہونے والے نیب کے ریفرنسز کا سامنا کررہے ہیں۔ احتساب عدالت نے اعلان کیا ہے کہ جمعہ کو نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر پرفرد جرم عائد کی جائے گی۔ تاہم نواز شریف اس وقت اپنی اہلیہ کی علالت کے سلسلہ میں لندن میں ہیں ۔ وہ اگر جمعہ کو عدالت میں پیش نہیں ہوتے تو یہ فرد جرم عائد نہیں ہو سکے گی۔ اس حوالے سے شریف خاندان کا مؤقف ہے کہ یہ مقدمات ناانصافی پر مبنی ہیں اور انہیں عدالتوں سے انصاف کی امید نہیں ہے۔ مریم نواز نے کل احتساب عدالت میں پیش ہونے کے بعد یہ مؤقف دہرایا اور کہا کہ اگرچہ انہیں کسی انصاف کی امید نہیں ہے لیکن وہ اس نظام کا احترام کرتے ہوئے عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔
وزارت عظمیٰ سے معزولی کے بعد نواز شریف نے عدالتوں کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کیا ہے ۔ اپنی تقریروں میں وہ بین السطور فوج کو بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ نواز شریف اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کے ذریعے فوج کے اداروں نے سپریم کورٹ کو ایسی معلومات فراہم کی تھیں جو نواز شریف کے خلاف استعمال کی گئیں اور انہیں نااہل قرار دیاگیا۔ اس حوالہ سے یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کی جاتی رہی ہے کہ سپریم کورٹ ملک کی فوج کے اشارے کے بغیر کسی وزیر اعظم کے خلاف ایسا سنگین فیصلہ نہیں دے سکتی۔ اسی لئے اس فیصلہ کو جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے سیاسی طور پر اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ صرف نواز شریف کے حامی ہی عدالتی فیصلہ کا الزام فوج پر عائد نہیں کرتے بلکہ فوج کی حمایت کرنے والے تبصرہ نگار بھی یہ کہنے میں عار محسوس نہیں کرتے کہ فوج نواز شریف کی سیاست سے مطمئن نہیں ہے ۔
نواز شریف کی طرف سے تصادم (جو پاکستان میں فوج کے ساتھ اختلاف رائے یا اس کے خلاف احتجاج کا دوسرا نام بن چکا ہے ) کی خبروں کے ہجوم میں یہ معلومات بھی فراہم کی جاتی ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کے اہم لیڈر نواز شریف کو ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرنے سے باز رکھنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ دوسری طرف ‘اسکرپٹ اور اس کے لکھنے والوں’ کا زکر کرکے بھی اس تاثر کو قوی کیاجاتا ہے کہ اصل سیاسی فیصلے جی ایچ کیو میں ہوتے ہیں اور وہاں سے ہی ملک کے مختلف سیاسی لیڈروں کی ڈوریاں ہلائی جاتی ہیں۔ اس صورت حال میں ایک طرف ملک کا ہر عام و خاص اس بات پر یقین کئے بیٹھا ہے کہ فوج اقتدار پر قبضہ کرنے ہی والی ہے ۔
تاہم بعض کے نزدیک یہ جمہوریت کے لئے بری خبر ہوگی اور بعض اسے بدعنوانی کے خلاف عوام کی فتح کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کے وزیر خارجہ نے بھی یہ کہہ کر کہ وہ پاکستانی حکومت کے استحکام کے بارے میں تشویش رکھتے ہیں، صورت حال کی بے یقینی میں اضافہ کیا ہے ۔ان حالات میں ملک کے وزیر دفاع اور آرمی چیف کی ملاقات اور باہمی تبادلہ خیال کی خبر اور آئی ایس پی آر کی طرف سے اس کا اجرا ایک خوش آئیند واقعہ ہے ۔ اگرچہ یہ وقوعہ زیادہ خوشگوار ہو سکتا تھا اگر خبر یوں ہوتی کہ ‘ پاک فوج کے سربراہ نے وزارت دفاع میں وزیر دفاع سے ملاقات کی ہے ’۔ اس کے باوجود فاصلوں اور دوریوں کے ہجوم میں ملاقات اور بات چیت کی خبر سے غبار صاف کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ حکومت اور فوج کو تواتر سے ایسے کئی اشارے دینے کی ضرورت ہے ۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
اقلّیتی گروہوں پر سیاست کے نتائج اندوہناک ہوں گے
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں