ترقی ایسے نہیں ہوتی

تحریر:فیصل باری

جب بھی پاکستان میں ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوا تو اس کی بنیاد مادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری پر رہی ہے۔1960 ء کی دہائی میں معاشی وسعت کی بنیاد صنعتی اور زرعی پیداوار سے حاصل ہونے والے فوائد پر تھی۔ اگرچہ زرعی پیداوار میں اضافے سے ہمیں بہت سے فوائد حاصل ہوئے مگر ان کی بنیاد سائنسی تحقیق پر تھی جس کا بیشتر حصہ کہیں اور انجام پایا تھا۔1980 ء کی دہائی میں معاشی وسعت کے پیچھے بھی کچھ ایسے ہی عوامل کارفرما تھے ۔ 21ویں صدی کے اوائل میں معیشت کے دروازے کھلنے سے ہمیں قدرے فوائد ضرور حاصل ہوئے مگر اس مرتبہ بھی ایسے بیشتر فوائد کا تعلق خرچ و صرف سے تھا۔اب ہم ایک مرتبہ پھر یہ امید لگائے ہوئے ہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے ذریعے توانائی کے شعبے ، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق دوسرے منصوبہ جات میں سرمایہ کاری سے ہمیں مطلوبہ معاشی ترقی مل جائے گی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ سابقہ تمام مواقع پر معقول یا بلند شرح نمو فوری غائب ہو گئی تھی۔ ہم نے معقول ترقی کے آخری برس کم و بیش ایک دہائی پہلے دیکھے تھے ۔ اب یہ صورتحال ہے کہ پانچ یا چھ فیصد شرح نمو تک رسائی کے لیے بھی ہمیں کڑی مشکلات کا سامنا ہے ۔کمزور شرح نمو غربت سے نمٹنے اور ہر سال کام کی عمر کو پہنچنے والے لاکھوں نوجوانوں کے لیے اچھی نوکریوں کے مواقع پیدا کرنے کی ہماری صلاحیت محدود کیے دیتی ہے ۔بلند یا معقول شرح نمو برقرار نہ رکھ پانے کی وضاحت کے لیے بہت سے مفروضے پیشے کیے جا سکتے ہیں۔ بدعنوانی، ضابطہ کاری کی بھرمار، کمزور ادارے ، ناتواں ڈھانچہ، ریاستی نااہلی اور اداروں کی عدم استعداد اس ضمن میں متبادل وضاحتیں ہو سکتی ہیں۔بہت سے ایسے مواقع آئے جب ہم چند سال کے لیے اپنی شرح نمو میں اضافہ کر سکتے تھے مگر انسانی سرمایے کی عدم موجودگی میں ہم یہ شرح برقرار رکھنے یا اسے مزید بلند کرنے میں ناکام رہے مگر میری رائے میں انسانی سرمایے کی کمزور حالت اس کی اہم ترین وجہ ہے ۔

نیب کے نئے چیئرمین

میں سمجھتا ہوں کہ آج ہم جس مقام پر کھڑے ہیں اس میں یہ سبب خاص اہمیت کا حامل ہے ۔بہت سے ماہرین نے گزشتہ دو سے تین دہائیوں کے دوران پاکستان میں انسانی ترقی کے حوالے سے خراب صورت حال پر بہت سے تبصرے کیے ہیں۔ ان ماہرین نے اس جانب توجہ دلائی ہے کہ دوسرے ممالک سے انہی حالات میں موازنہ کیا جائے تو پاکستان انسانی ترقی کے شعبے میں بہت پیچھے ہے ۔یہی چیز ہماری شرح نمو اور آمدنی کے معیار پر اثرانداز ہوتی ہے ۔ حالانکہ تعلیم، صحت اور انسانی ترقی کے دوسرے اشاریوں میں ہم بہتر کارکردگی دکھا سکتے تھے اور دکھانا چاہیے تھی۔میری دلیل یہ ہے کہ ماضی میں بہت سے ایسے مواقع آئے جب ہم چند سال کے لیے اپنی شرح نمو میں اضافہ کر سکتے تھے مگر انسانی سرمایے کی عدم موجودگی میں ہم یہ شرح برقرار رکھنے یا اسے مزید بلند کرنے میں ناکام رہے ۔تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ہم نے کبھی اپنے لوگوں پر زیادہ خرچ نہیں کیا۔ جن ممالک نے اپنے لوگوں پر خرچ کیا وہاں کے حالات بھی ہمارے سامنے ہیں۔ جب مشرقی ایشیائی ممالک نے اپنے لوگوں پر سرمایہ کاری شروع کی تو اس وقت ان کی حالت وہی تھی جو آج پاکستان کی ہے ۔اب پاکستان کا ان ممالک سے موازنہ انتہائی ناجائز معلوم ہوتا ہے اور ان ملکوں میں انسانی سرمایے پر سالہا سال کی سرمایہ کاری اب رنگ دکھا رہی ہے ۔ تاہم 1950 ء کی دہائی میں حالات اتنے زیادہ مختلف نہیں تھے ۔اس سلسلے میں ہمارے پاس اپنے قریبی ممالک کی ہی عمدہ مثالیں موجود ہیں۔سری لنکا اپنے شہریوں پر خرچ کرنے والے ملک کی بہترین مثال ہے جو اب اس سرمایہ کاری کے ثمرات سے مستفید ہو رہا ہے ۔ عشروں کی خانہ جنگی کے باوجود سری لنکا میں اوسط عمر 77.9 برس ہے ، وہاں فی ہزار نومولود بچوں میں شرح اموات 8.5 فیصد جبکہ زچہ کی اموات کی شرح 0.39 فیصد ہے ۔سری لنکا میں مجموعی شرح خواندگی 92.5 فیصد جبکہ نوجوانوں میں شرح تعلیم 98 فیصد ہے ۔ مزید براں اس ملک میں 87.3 فیصد آبادی کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل ہے ۔آپ سری لنکا جائیں، وہاں شہریوں سے ملیں اور دیکھیں کہ تعلیم نے کام، زندگی اور تمناؤں کے حوالے سے ان کی سوچ پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں۔ آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ انسانی ترقی پر سرمایہ کاری کا کیا فائدہ ہوتا ہے مندرجہ بالا تمام اعدادوشمار سے ثابت ہوتا ہے کہ سری لنکا ہم سے کہیں آگے کھڑا ہے ۔ یہ اعدادوشمار ناقابل تردید ہیں۔ تاہم بعض ماہرین کا استدلال ہے کہ سری لنکا نے جی ڈی پی میں تنزلی کی قیمت پر انسانی ترقی کا ہدف حاصل کیا۔ انہوں نے وسائل کا رخ صحت، تعلیم اور انسانی ترقی کے دیگر شعبہ جات کی جانب موڑا جس کے نتیجے میں شرح نمو کمزور رہی۔تاہم اس حوالے سے دیکھا جائے تو 2005 ء کے بعد سری لنکا کی فی کس آمدنی دو گنا ہو چکی ہے ۔ وہاں غربت کی شرح محض 7.6 فیصد جبکہ بیروزگاری کی موجودہ شرح 4.9 فیصد ہے ۔مگر اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اگر سری لنکا میں شرح نمو قدرے سست رہی تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ کیا کسی ملک کی پالیسیوں کی کامیابی کا اندازہ لگانے کے لیے اس کے شہریوں کی اچھی زندگی کو درست معیار قرار نہیں دیا جا سکتا؟
لوگ تعلیم یافتہ اور صحت مں د ہیں اور ان کا معیار زندگی بھی معقول ہے تو اگر شرح نمو چین یا مشرقی ایشیا کے برابر نہیں تو کیا فرق پڑتا ہے ؟1945 میں سری لنکا نے تمام بچوں کے لیے ابتدائی نو برس کی تعلیم مفت کر دی تھی۔
ان کی موٹروے حال ہی میں بنی ہے اور وہ بھی چار لین پر مشتمل ہے (ہماری موٹر وے چھ لین ہے ) جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہمیں تمام بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کا اعلان کیے محض چھ برس ہی گزرے ہیں جبکہ ہمارے لیے اس اعلان پر ذمہ دارانہ طریقے سے عملدرآمد بھی ممکن نہیں۔آپ سری لنکا جائیں، وہاں شہریوں سے ملیں اور دیکھیں کہ تعلیم نے کام، زندگی اور تمناؤں کے حوالے سے ان کی سوچ پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں۔ آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ انسانی ترقی پر سرمایہ کاری کا کیا فائدہ ہوتا ہے ۔ کیا پاک چین اقتصادی راہداری ہمارے لیے بلند شرح نمو کی ضمانت ہے ؟ شاید ایسا ہی ہو۔ اگر اس منصوبے پر اتنی ہی سرمایہ کاری ہوتی ہے جس کا ذکر ہوتا رہا ہے تو ایسے میں شرح نمو یقیناً بلند ہو جائے گی۔ مگر ہم انسانی ترقی کے جس درجے پر موجود ہیں اسی پر رہتے ہوئے یہ شرح نمو کتنی دیر برقرار رہ پائے گی؟انسانی ترقی کے بغیر بلند شرح نمو برقرار رہنا ممکن ہی نہیں۔ کیا یہ راہداری اور مادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری ہمیں ترقی یافتہ معاشرہ بننے میں مدد دے سکتی ہے اور کیا اس سے ہمارے لوگ مزید تعلیم یافتہ اور صحت مند ہو جائیں گے ؟ممکنہ طور پر ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔ ترقی اور نمو کے ہمارے نمونے میں سنگین خامیاں ہیں۔ ہو سکتا ہے اس کی بدولت موجودہ حکومت چند انتخابات جیتنے میں کامیاب ہو جائے مگر اس سے پائیدار ترقی کی منزل حاصل نہیں ہو سکتی۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
ترقی ایسے نہیں ہوتی
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں