سینیٹ تماشہ

سینیٹ نے گزشتہ روز سینیٹر اعتزاز احسن کی پیش کردہ قرار داد منظور کرکے یہ واضح کیا ہے کہ ملک میں سیاسی تقسیم دراصل قوم و ملک کے مفاد کی لڑائی نہیں ہے بلکہ یہ ذاتی دشمنی نبھانے کی ایک صورت ہے اور فریقین ہر قیمت پر مخالف کو نیچا دکھا کر سیاسی برتری حاصل کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ سینیٹ ہفتہ عشرہ پہلے انتخابی اصلاحات کا بل منظورکر چکی تھی۔ یہ بل بعد میں قومی اسمبلی سے منظور ہو کر اب قانون کی شکل اختیار کرچکا ہے ۔ اسی قانون کے تحت گزشتہ ہفتہ کے دوران مسلم لیگ (ن) نے ایک بار پھر نواز شریف کو اپنا صدر منتخب کیا ہے ۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کی قرارداد کا مقصد نااہلی کے بعد سیاست میں نواز شریف کی عملی واپسی پر احتجاج سامنے لانا ہے لیکن اس مقصد کے لئے سینیٹ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرکے ملک کے اعلیٰ ترین ایوان کی حرمت کو پامال کیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ ملک کے معتبر حلقے موجودہ صورت حال کو جمہوریت کے لئے خطرناک سمجھ رہے ہیں لیکن سیاستدان اپنا رویہ تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ انتخابی اصلاحات کے قانون پر سینیٹ میں رائے شماری کے دوران حکومت کی غیر متوقع کامیابی حیران کن تھی۔ شاید سرکاری بنچوں کو بھی اس کی توقع نہیں تھی۔ تب بھی اعتزاز احسن نے یہ ترمیم پیش کی تھی جس کے تحت قومی اسمبلی کا رکن بننے سے نااہل قرار پانے والا کوئی شخص کسی سیاسی پارٹی کا لیڈر نہیں بن سکتا تھا لیکن ایوان میں اپوزیشن پارٹیوں کو اکثریت حاصل ہونے کے باوجود یہ مجوزہ ترمیم ایک ووٹ کی کمی سے کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ جماعت اسلامی اور دوسری پارٹیوں کے ایسے سینیٹرز نے اجلاس میں شرکت کرنا ضروری نہیں سمجھا جو اس ترمیم کو قانون میں شامل کروانے کے لئے ووٹ دے سکتے تھے اور حکمران مسلم لیگ (ن) شاید نواز شریف کو دوبارہ پارٹی صدر بنانے کی خواہش پوری نہ کرسکتی۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ مختلف تجزیہ کار اپوزیشن کی اس حکمت عملی کی مختلف وجوہات پیش کررہے ہیں لیکن عملی طور پر سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پیٹنے کے رویہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف نے عدالت میں اس نئے قانون کو چیلنج کردیا ہے کہ اسے آئین سے متصادم قرار دیا جائے اور اب پیپلز پارٹی نے اپنا غصہ نکالنے کے لئے اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سینیٹ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرنا ضروری سمجھا حالانکہ اس قرارداد کی کوئی عملی حیثیت نہیں ہے ۔ پاکستان میں حکومت تو دور کی بات ہے ، اپوزیشن کی کوئی سیاسی جماعت بھی اخلاقی ذمہ داری قبول نہیں کرتی۔

اقلّیتی گروہوں پر سیاست کے نتائج اندوہناک ہوں گے

جولائی میں وزارت عظمیٰ اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہوجانے کے بعد نواز شریف کے لئے سیاست میں اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے اور پارٹی پر کنٹرول قائم رکھنے کے لئے پارٹی کی صدارت کا عہدہ واپس حاصل کرنا ضروری تھا۔ اس اعتراض سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ مسلم لیگ (ن) نے انتخابی اصلاحات کے قانون میں ایک نااہل شخص کو پارٹی عہدہ کا اہل قرار دینے کی شق اسی لئے بحال کروائی تھی تاکہ نواز شریف دوبارہ پارٹی کی صدارت سنبھال کر سپریم کورٹ اور مقتدر حلقوں کو یہ پیغام دے سکیں کہ وہ مشکلات کے باوجود سیاست چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ۔ نواز شریف کے پاس سپریم کورٹ کے سخت گیر رویہ اور پے در پے تیزی سے قائم ہونے والے مقدمات کا سامنا کرنے کے لئے قانونی راستہ کافی نہیں ہے کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے ناجائز طریقے سے کسی خفیہ ایجنڈے کی وجہ سے انہیں وزارت عظمیٰ سے نااہل قرار دیا ہے ۔
اس حوالے سے بہت سے مبصر یہ بات کہنے میں بھی مضائقہ نہیں سمجھتے کہ اس فیصلہ کے پیچھے دراصل فوج کے طاقتور اداروں کا ہاتھ ہے ۔ سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف تحقیقات کرنے کے لئے جو جے آئی ٹی JIT بنائی تھی ، اس میں آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس کے عہدیداروں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ خبروں کے مطابق فوج سے تعلق رکھنے والے جے آئی ٹی کے ارکان نے ہی دراصل نواز شریف کے خلاف مقدمہ مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ حسین نواز کی پیشی کے دوران تصویر منظر عام پر لانے میں بھی ان ہی ارکان کا ہاتھ بتایا جاتا ہے ۔ اسی لئے ابھی تک یہ حقیقت سامنے نہیں لائی گئی کہ یہ تصویر سوشل میڈیا پر لگانے والا کون شخص تھا حالانکہ سپریم کورٹ اس حوالے سے حسین نواز کے اعتراض کو درست تسلیم کرچکی ہے ۔
نواز شریف کے پاس اس صورت حال میں ملک کے طاقتور اداروں کا سامنا کرنے کے لئے سیاسی پوزیشن مستحکم کرنا ضروری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی پارٹی کی قیادت سے محروم ہونا نہیں چاہتے ۔ اگرچہ نواز شریف کی اصل طاقت ان کی حمایت کرنے والے ووٹر ہیں اور ان کی پارٹی کے لیڈر بھی ان کی عوامی مقبولیت کی وجہ سے ہی بدستور ان کی حمایت کررہے ہیں لیکن انہیں یہ لگتا ہے کہ اگر انہوں نے پارٹی کا اختیار دوسرے لوگوں کے حوالے کردیا تو وہ بتدریج اپنی سیاسی قوت سے محروم ہوجائیں گے ۔ اسی لئے اس قوت کو برقرار رکھنے کے لئے وہ اپنے حامیوں کے ذریعے ہر ہتھکنڈہ اختیار کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف ملک میں پارلیمنٹ کے اختیار اور عوامی حاکمیت کے حوالے سے جو سوالات اور شبہات سامنے آرہے ہیں ، ان کا تقاضہ ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں باہمی اختلافات بھلا کر جمہوریت کے تحفظ کے لئے ایک آواز ہو جائیں ۔تاہم آصف زرادری اس موقع کو نواز شریف کے ساتھ رنجشیں دور کرنے کے لئے استعمال کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور عمران خان کو لگتا ہے کہ نواز شریف کو سیاست سے باہر رکھ کر ہی وہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اکثریت سے محروم اور فوج کی طرف سے براہ راست تعاون نہ ملنے کی وجہ سے یہ دونوں پارٹیاں شدید مایوسی کا شکار ہیں ۔ اس کا ایک اظہار کل سینیٹ کی قرارداد کی صورت میں سامنے آیا ہے ۔

اووربلنگ اوربجلی چوری کوجرم قراردینے کی تیاری

وفاقی وزیرتوانائی سرداراویس لغاری نے بجلی کے بلوں کی تیاری کے دوران اووربلنگ جبکہ چوری میں بھی سرکاری ملازمین کے ملوث ہونے کااعتراف کرتے ہوئے اسے بڑاقومی مسئلہ قراردیاہے۔قومی اسمبلی میں ایک تحریک التواء پر اظہارخیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وہ آئندہ اجلاس کے دوران ان دونوں اہم معاملات پر نہ صرف ایوان کواعتماد میں لیں گے بلکہ بجلی چوری کے ساتھ اووربلنگ کوقومی جرم قراردینے کے لیے قانون سازی کی جائے گی تاکہ کروڑوں صارفین کے ساتھ زیادتی کوروکنے کے ساتھ بجلی چوروں کے خلاف قانونی شکنجہ مزیدموثرہوسکے۔انہوں نے کہا کہ لائن لاسز سمیت متعددا نتظامی نااہلیوں پرقابو پایاجارہاہے جس کے بعدبجلی چوری کی موثرروک تھام یقینی بنانے پرتوجہ دی جائے گی۔جہاں تک بجلی چوری،صارفین سے سپلائی اوروصولیوں
میں فرق کو ایڈجسٹ کرنے کامعاملہ ہے توبرسوں سے اس بڑی عوامی شکایت پرقابو پانے کے لیے صرف خواہشات کااظہاریاسطحی اقدامات کئے جارہے ہیں ،معاملے کی گہرائی میں جاکر صارفین کی جائز شکایت اورمطالبے کاجائزہ لیاجائے توشایدپاکستان دنیاکاواحدملک ہے جہاں کسی کے جرم کی سزادوسرے کودے دی جاتی ہے ۔اس وقت ملک میں 18ہزارمیگاواٹ کے قریب بجلی پیداکی جارہی ہے جومختلف طریقوں اورلاگت کی حامل ہوتی ہے ۔ہائیڈل ،تھرمل،سولر،ایٹمی ،ونڈ ذرائع کے علاو ہ کوئلے سے تیارہونے والی بجلی واپڈاکومختلف قیمتوں پرفراہم کی جاتی ہے ۔تربیلااورمنگلاجیسے آبی ذخائر سے حاصل ہونیو الی ساڑھے چارہزارمیگاواٹ بجلی ڈیڑھ سے 2 روپے جبکہ گیس،ڈیزل اورفرنس آئل سے تیارہونے والی ساڑھے چھ ہزار میگاواٹ بارہ سے تیرہ روپے یونٹ پڑتی ہے ۔چشمہ اورکراچی کے نیوکلیئرپلانٹس سے 2ہزارمیگاواٹ کے قریب دستیاب انرجی ساڑھے سات جبکہ سولر ذرائع سے حاصل ہونے والی ایک ہزارمیگاواٹ بجلی 17سے18 روپے یونٹ خریدی جاتی ہے ۔چین کے تعاون سے اس وقت چھ کول پاورپلانٹ زیرتکمیل یاآپریشنل ہیں جوقومی گرڈسسٹم کوچار ہزارمیگاواٹ کے قریب بجلی فراہم کررہے ہیں۔کوئلے سے تیار ہونے والی بجلی تیرہ سے چودہ روپے یونٹ پڑتی ہے۔21کروڑانسانوں پرمشتمل پاکستانی قوم کی پانی اورخوراک کے بعدتیسری بڑی ضرورت بجلی ہے۔دنیابھر میں بجلی پیداکرنے کے لیے ریاستیں بھرپور اقدامات ،موثرمنصوبہ بندی اوراپنی ترجیحات مقررکرتی ہیں۔تیزی سے بڑھتی آبادی اورضروریات کے تحت بجلی کی ضروریات بڑھتی چلی جارہی ہیں مگرماضی میں موثرمنصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث پاکستان بدترین لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ہے ۔اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق ہرشہری کی یومیہ ضرورت 3یونٹ جبکہ یورپ کے خوشحال ممالک میںیہ شرح5یونٹ ہے اس کے مقابلے میں ہرپاکستانی کواوسطاََ صرف1یونٹ یومیہ دستیاب ہے جس میں گھریلو صارفین کے لیے محض 0.40یونٹ جبکہ صنعتی وتجارتی مقاصد کے لیے0.60یونٹ فراہم کیے جاتے ہیں ۔واپڈابجلی پیداکرنے کاادارہ جبکہ اسے تقسیم کرنے والی ملک کی آٹھ ڈسٹری بیوشن کمپنیاں ہیں۔محترمہ بے نظیربھٹو کے دورمیں بجلی کی پیداوار اورتقسیم کوالگ الگ انتظامی کنٹرول میں دینے کامقصد صرف یہی تھاکہ واپڈاجتنی بجلی فراہم کرے،اس کی قیمت اسے مل جائے تاکہ وہ اپنے آپریشنل پراجیکٹس کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ نئے جنریشن پلانٹس اورڈیم وغیرہ بناسکے۔ الیکٹریسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے قیام کے بعدا میدتھی کہ چوری ہونے والی بجلی کانقصان واپڈاپرنہ پڑے بلکہ یہ بجلی چور صارفین سے وصول کیاجائے مگر30برس گزرنے اورتقسیم کارکمپنیاں قائم ہونے کے باوجود بجلی چوری اور لائن لاسز کی 15سے20 فیصدشرح آج تک ختم نہیں ہوسکی۔بلوچستان،خیبرپختونخواہ اورکراچی سمیت سندھ کے متعدد اضلاع اورمقامات ایسے ہیں جہاں ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن تاروں پرڈائریکٹ کنڈے ڈال کربجلی چوری یاصنعتی ،تجارتی وگھریلوصارفین اپنے میٹروں میں گڑبڑ کرکے بڑی مقدار میں بجلی چوری کرلیتے ہیں ۔میاں نوازشریف کے پہلے دورِاقتدار میں بجلی چوری روکنے کاکام فوج کے سپرد کیاگیاجبکہ گھروں ،کارخانوں ،فیکٹریوں کے اندرنصب میٹرباہرلگائے گئے تاکہ بجلی چوری روکی جاسکے مگرآج تک یہ سلسلہ رک نہ سکا البتہ لائن لاسزاوربجلی چوری کی شرح کم ہوکر9سے15 فیصد تک ہوگئی۔اس طرح چوری شدہ بجلی کی قیمت بل اداکرنے والوں پر منتقل کردی جاتی ہیں اسی طرح آئی پی پیز کو ان کی مکمل پیداواری صلاحیت کے مطابق ادائیگی کے باوجود کم مقدار میں بجلی حاصل جبکہ بجلی پیداکیے بغیر کی جانیو الی ادائیگی کابوجھ بھی صارفین پرڈال دیاجاتاہے صرف یہی نہیں بجلی کے بلوں پرغورسے دیکھاجائے توآٹھ قسم کے اضافی اخراجات جبری طورپروصول کیے جارہے ہیں جن میں ٹی آرسرچارج،محصول،ٹی وی فیس،جنرل سیلز ٹیکس ،نیلم جہلم سرچارج،ایف پی اے ایکسائز ڈیوٹی شامل ہوتے ہیں ۔اس طرح چوری شدہ بجلی اورلائن لاسز ملاکرعام صارف کو60فیصد کے قریب بجلی کی اضافی قیمت اداکرنی پڑتی ہے۔بھارت ،چین اوربنگلہ دیش کے مقابلے میں ہماری بجلی کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے پیداواری لاگت زیادہ اورتیاریابرآمد کی جانے والی مصنوعات کہیں مہنگی ہوجاتی ہیں۔اس پرمستزادیہ کہ سرکاری وسائل اوراراضی پرقائم ہونے والے متعددجنریشن یونٹ بعدازاں پرائیویٹ یاحکومتی کنٹرول سے آزاد مالکان کوانتہائی سستے داموں بیچ کرقومی خزانے کونقصان پہنچایاجارہاہے جس کی تازہ ترین مثال جھنگ میں زیرتعمیر 1263میگاواٹ کے پاورجنریشن پلانٹ کے لیے استعمال ہونے والی 18ایکڑ اراضی جومحکمہ اوقاف کی ملکیت اوراربوں روپے کی تھی،صرف 19کروڑ میں بیچ دی گئی۔اس سے پہلے پنجاب حکومت اس سال کے آغاز میں قائداعظم سولرپاورپلانٹ جہاں سے1000میگاواٹ بجلی پیداکی جارہی ہے،ایک چینی سرمایہ کارکو برائے نام قیمت پرسینکڑوں ایکڑاراضی منتقل کرچکی ہے۔2015ء میں وفاقی حکومت بجلی چوروں کے خلاف بڑاآپریشن لانچ کرنے کے ساتھ پکڑے جانے والے قانون شکنوں کو بھاری جرمانے اورجیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجنے جیسا سخت اقدام کرچکی مگربجلی چوری نہ رک سکی۔ستمبرکے آخری ہفتے میں وزارت برقیات186ارب روپے کی بھاری رقم جوبجلی چور ی کی مد میں سامنے آئی،وہ بھی بجلی صارفین سے وصول کرنے کافیصلہ جبکہ کراچی کے سمندرمیں لنگرانداز ترکی کے ایک بحری جہاز میں قائم بجلی گھرکے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی پرحکومت پاکستان پرکئے جانے والے80کروڑ ڈالر بھی بجلی کے صارفین سے وصول کرنے کاحکم دے چکی ہے ۔فیول ایڈجسٹمنٹ بھی ایسا لیورہے جس کے ذریعے اوپن مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کابوجھ بجلی صارفین پرڈال دیاجاتاہے۔اویس لغاری بجلی چوروں کوقانون کے شکنجے میں لانے کے لیے بجلی چوری، اووربلنگ کوقومی جرم قراردلوانے کاقانون منظور کروانے کی طرح ہرسال جون اوردسمبر میں بجلی صارفین سے جبری طورپرایڈوانس رقوم وصول کرنے والی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے سرکاری ملازمین اورانتظامی افسروں کوقانون کے سامنے جوابدہ بنانے سے پہلے لاہور ہائیکورٹ کاوہ فیصلہ پڑھیں جس میں ایڈوانس وصولیوں کوجرم قراردیاجاچکا ہے ۔دسمبر2016ء میں بجلی صارفین سے 24ارب روپیہ ایڈوانس وصول کرنے والی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے خلاف آج تک کوئی ایکشن نہیں لیاجاسکا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ لیسکو،فیسکو،میسکو،حیسکو جیسی تقسیم کارکمپنیوں سے فراہم کی جانے والی بجلی کابل طے شدہ شرح سے وصول اورواپڈا کا اربوں روپے کا بل اداکروانے کے لیے وزارت خزانہ کوپابندبنائیں ۔بجلی چوروں کومجرم قراردینے سے نئی عدالتی جنگ شروع اورحکم امتناعی اورزیرسماعت مقدمات کے فیصلوں تک اربوں روپے کی ادائیگیاں پھرزیرالتواء رہیں گی۔صرف یہی نہیں بلکہ گیس چوری کے موثرسدباب کے لیے بھی موثرحکمت عملی کاآغاز وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ قومی وسائل کی چوری جیساگھناؤنا جرم ختم ہوسکے۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
سینیٹ تماشہ
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں