عدالتیں ‘ اسٹیبلشمنٹ اور ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادتیں

پاکستان پیپلز پارٹی کے حلقوں نے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی اس حقیقت بیانی پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے کہ زرداری کسی کو خوش کرنے کے لئے گالیاں دے رہے ہیں ‘ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم کو پاکستان پیپلز پارٹی نے بچایا تھا وہ مسلم لیگ ن کے دور اقتدار کو مختصر کرنا چاہتے تو سابق وزیر اعظم عدالت عظمیٰ کے حکم سے نااہل ہوئے بغیر تین برس پہلے اپنا بوریا بستر سمیٹ کر گھر جا چکے ہوتے۔ یہ درست ہے کہ جب تحریک انصاف اسلام آباد میں دھرنوں میں تھی اگر پیپلز پارٹی ‘ حزب اختلاف کی سب سے بڑی پارٹی ہوتے ہوئے بھی بر سر اقتدار مسلم لیگ ن کے اقتدار کو بچانے کے لئے اپنا کردار ادا نہ کرتی تو شاید پاکستان کی گزشتہ برسوں کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے لئے اب مل بیٹھنا مشکل ہو گیا ہے۔ سابق وزیر داخلہ رحمن ملک کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کے لئے کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ میں گئے اور اب آصف علی زرداری کے خلاف انگلی اٹھا کر سوال کر رہے ہیں کہ وہ کسی کو خوش کرنے کیلئے گالیاں دے رہے ہیں۔ سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے بھی کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو مشکل وقت میں آصف علی زرداری ہی یاد آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں وہ کسی کو گالیاں نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ نا اہل ہونے والے وزیر اعظم نے اپنے اقتدار کے تمام مواقع کے دوران پیپلز پارٹی کو گالیاں دیں۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنی تازہ ترین لندن یاترا کے دوران اخبار نویسوں کے ساتھ بات کر تے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سر براہ کیساتھ انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا اور عدالتوں سے کہا ہے کہ وہ ثابت کریں کہ انصاف ہو رہا ہے مسلم لیگ ن کے حلقوں سے سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز سمیت بعض لیڈروں کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ میاں نواز شریف کیساتھ انصاف نہیں ہو رہا ۔ مریم نواز کا کہنا ہے کہ اقامے پر نکال کر کرپشن کرنے کے الزامات میں مقدمات چلائے جارہے ہیں جو میاں نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف بلا جواز اور بغیر ثبوت مقدمات چلانے کے مترادف ہے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ اس وقت ملک میں ہر چند مسلم لیگ ن کی ہی حکومت ہے لیکن لگتا ہے کہ یا تو ان کی پالیسیوں کے مطابق حکومت نہیں ہو رہی اور کچھ ان دیکھی قوتیں ملک کو اپنے طریقے سے چلا رہی ہیں یا پھر موجودہ حکومت کو بیورو کریسی سنجیدگی سے نہیں لے رہی اور ملک میں حکومتی پارٹی کے پیرو ں کے نیچے سے ان کی پچ اکھڑ چکی ہے اور حکومتی افراد جیتنے کی اُمنگ چھوڑ کر واپس پاولین کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ یہ صورت حال ملک کے سیاسی و معاشی استحکام کیلئے درست نہیں ہے۔ مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کو بھی احتساب کیلئے واپس لایا جائے۔ ملک میں شریف خاندان کا احتساب ہو رہا ہے یا ‘ نیب عدالت میں جے آئی ٹی سپریم کورٹ کی رپورٹ ‘ میاں نواز شریف کے خلاف کسی انتقام کا شاخسانہ ہے۔

نوازشریف کی احتساب عدالت میں پیشی

عوام میں لوگوں کی رائے ہے کہ میاں نواز شریف عوام کے سب سے بڑے لیڈر ہیں اگر وہ کرپٹ تھے تو عوام ان کو اقتدار میں کیوں لاتے لیکن عوام کی اکثریت اب یہ باور کرچکی ہے کہ سابق وزیر اعظم کے نیب تک پہنچنے کی رسوائی سے ان کے متعلق نیب عدالت کے فیصلوں کو لازمی سامنے آنا چاہیے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ لازماً ہو جانا چاہیے کہ مسلم لیگ(ن) کی لیڈر شپ پر لگائے گئے الزامات کی حقیقت کیا ہے۔ نیب عدالت عمران خان کاجلسہ نہیں ہے کہ لگائی گئی فرد جرم کے مطابق سزا دے دے اگر سابق وزیر اعظم بار بار کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے کچھ نہیں کیا اور ان سے محض انتقام لیا جارہا ہے تو ایسا نہیں ہونا چاہیے اور پھر بد قسمتی سے جو اشارے کئے جارہے ہیں کھل کر ان کے مطابق کچھ بھی رد عمل سامنے نہیں لایا جارہا اور عدالت کو سنجیدگی کیساتھ الزامات کے مطابق سماعت کیلئے کوئی کام نہیں کرنے دیا جارہا ہے۔ ہم ذاتی طور پر سمجھتے ہیں کہ یہ بات زیادہ موزوں تر ہوتی کہ ان ریفرنسوں کو زیادہ تیزی کیساتھ چلایا جا سکتا تاکہ بر طرف وزیر اعظم کے متعلق 2018ء کے انتخابات سے پہلے ہی یہ فیصلہ سامنے آسکتا کہ ان پر لگنے والے الزامات کی حقیقت کیا ہے۔ اب جبکہ ملک کا مقبول ترین لیڈر احتساب کے کٹہرے میں آپہنچا ہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہو جانا چاہئے۔ مشرف کو احتساب کیلئے درمیان گھسیٹنے کی بات درست نہیں لگتی۔ اس سے نیب مقدمات کا فیصلہ مزید مؤخر ہو سکتا ہے۔ سابق صدر مشرف کیخلاف نہ تو پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے دور اقتدار میں کوئی سنجیدہ الزام لگایا اور نہ ہی مسلم لیگ(ن) ان کیخلاف کچھ ثابت کر سکی،البتہ مسلم لیگ (ن) یہ مطالبہ کر سکتی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو بھی ’’ کرپشن ‘‘ کے الزمات پر چھان بین کر کے نیب عدالتوں میں لایا جائے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی دونوں کی اعلیٰ لیڈر شپ میں نہ صرف اقتدار کی باری لگی رہی ہے بلکہ ایک دوسرے کی حکومت کو مطعون کرنے کا کلچر بھی بدرجہ اتم موجود رہا ہے اور یہ بات پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ نے اب میاں نواز شریف کے بیان پرکہ ’’ زرداری کس کے اشارے پر ان کو گالیاں دے رہے ہیں ‘‘ اپنے رد عمل میں نہ صرف واضح طور پر تسلیم کر لی ہے بلکہ پوری قوم پر بھی آشکار کر دی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ’’ مک مکا‘‘ سے ملک چلاتی رہی ہیں اور ایک دوسرے کی کرپشن کو چھپاتی رہی ہیں اور اب چونکہ تحریک انصاف نے ملک کے دو اہم صوبوں ‘ پنجاب اور خیبر پختونخواہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے قدم مکمل طور پر اکھاڑ دئیے ہیں ، لہٰذا اس امر کا امکان بہت واضح طور پر موجود ہے کہ آصف علی زرداری اب ان صوبوں میں تحریک انصاف کا مقابلہ کرنے کے لئے پیپلز پارٹی کے قدم جمانے کی دُھن میں اس امر کے خواہشمند ہیں کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف آئندہ عام انتخابات سے باہر ہو جائیں یا پاکستان مسلم لیگ ن ‘ مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو جائے۔ وہ اس سلسلے میں مسلم لیگ ق سے انتخابی اتحاد کو بھی قرین امکان قرار دے سکتی ہے تاکہ مسلم لیگ ن کا اگر شیرازہ بکھرتا ہے تو پاکستان پیپلز پارٹی کا براہ راست رخ نہ کرنے والوں کو مسلم لیگ ق کے پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کے ذریعے ماضی کی بڑی سیاسی جماعت کا پلیٹ فارم فراہم کر کے پاکستان تحریک انصاف کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکا جا سکے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ایوان بالا کے قائد ایوان ‘ بیرسٹر اعتزاز احسن یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ ملک میں آئندہ حکومت تحریک انصاف کی بنتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آئندہ صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں اپوزیشن کس کی ہوگی ۔ آصف علی زرداری بلا شبہ دھیمے مزاج کے زیرک سیاست دان ہیں اور اس امر کا بہت زیادہ امکان ہے کہ میاں نواز شریف ان کے متعلق اس نتیجے پر درست طور پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ کسی ان دیکھی قوت کے اشارے پر ن لیگ کے سربراہ کو بطور خاص ’’ بیل آؤٹ‘‘ کرنے میں کوئی کردار ادا کرنے کو تیار نہیں ہیں ‘ ہمارے ہاں سیاست میں ’’ مک مکا‘‘ کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے ، خصوصاً موجودہ بر سر اقتدار پارٹی کے سربراہ میاں نواز شریف کو بھی ان کی عوامی مقبولیت کے باوجود قسمت کے کھیل کا بہت زیادہ سامنا رہا ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو سے لندن میں ’’ میثاق جمہوریت ‘‘ پر دستخط کئے تھے اگر چہ میثاق جمہوریت سے زیادہ فائدہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ہی ہوا تھا۔ میاں نواز شریف کو فقط اس وقت میثاق جمہوریت کے ثمرات سے استفادہ ہوا تھا جب تحریک انصاف کے سربراہ کسی امپائر کی انگلی کے اٹھنے کی بات کر رہے تھے ۔ بظاہر انہوں نے یہ بات تفتن طبع کے لئے اپنی تقریر میں کرکٹ کا رنگ بھرنے کے لئے کہی تھی مگر اب لگتا ہے کہ اس وقت عمران خان کو آصف علی زرداری کی طرف سے کوئی اشارہ موجود تھا کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی تو میاں نواز شریف ہٹ وکٹ ہوجاتے لیکن زرداری نے ان کے ساتھ ہاتھ کیا اورمیثاق جمہوریت کے لئے رائے ونڈ چالیس ڈشوں کا کھانا تناول کرنے آگئے اور ان کے کردار نے ایمپائر کی انگلی کا کردار ادا نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ عمران خان اب سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی وکٹ اکھاڑ
کر آصف علی زرداری کو باؤنسر مار رہے ہیں حالانکہ ان کے لئے سیاسی مصلحت کا تقاضا بالکل بھی نہیں تھا کہ وہ اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم پر لائے بغیر پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو مختلف پہلوؤں سے چیلنج کئے جارہے ہیں۔ ہم ذاتی طور پر سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کا اقتدار ‘ جنرل پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کے ادوار سے ملک اور قوم کیلئے زیادہ بہتر تھا۔ یہ درست ہے کہ ملک اور قوم کی ترقی کیلئے تعلیم و صحت کو اولین ترجیح ہونا چاہیے تھا لیکن کیا ملک کے اندر سٹرکوں ‘ شاہراہوں اور ذرائع مواصلات کی اس قدر ترقی سے آنکھیں بند کی جا سکتی ہیں جو مسلم لیگ ن کے حالیہ دور اقتدار میں ہوئی ہیں یا ہو رہی ہیں۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے اقامہ اور پانامہ کے معاملات کو الگ رکھ کر ان کے دور میں ہونے والے ترقیاتی کاموں اور چائنا کے اشتراک سے سی پیک منصوبے کے مطابق پاکستان کی کایا پلٹ کی نوید ‘ مسلم لیگ ن کے ایسے کارنامے ہیں کہ انہیں مسلم لیگ ن ہی کے خصوصاً میاں نواز شریف کے ہاتھوں مکمل کئے جانے کی ضرورت ہے لہٰذا توقع کی جانی چاہیے کہ سابق وزیر اعظم کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ سمیت ملک کی اعلیٰ عدلیہ بھی ہرطرح سے انصاف کے رویوں کو آگے بڑھائے گی۔

’آزاد بلوچستان‘کے نعروں پر غصہ کیوں

دنیا بھر میں مخصوص علاقوں کے لوگ علیحدگی کی تحریکیں چلاتے رہتے ہیں۔ ان تحریکوں کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں۔ عام طور پر کسی مخصوص علاقے میں جب یہ احساس تقویت پکڑتا ہے کہ حکومت ان کے ساتھ انصاف کرنے اور ان کے حصے کے وسائل فراہم کرنے میں ناکام ہو رہی ہے تو یہ مؤقف اختیارکیا جاتا ہے کہ اس وفاقی انتظام سے علیحدگی اختیار کی جائے جس سے اس علاقے کے لوگوں کو شکایات ہوتی ہیں۔ پاکستان کے صوبے بلوچستان میں بھی اس قسم کا احساس موجود ہے ۔ یکے بعد دیگرے اقتدار سنبھالنے والی حکومتیں بلوچستان کے عوام کے مطالبات پر غور کرنے اور ان کی شکایات سن کر ان کا حل تلاش کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ملک کی ہر حکومت نے خواہ وہ سیاسی حکومت تھی یا فوجی ، بلوچستان میں وسائل کی دستیابی، سہولتوں کی فراہمی اور مقامی معاملات میں زیادہ خود مختاری کے مطالبات کو ‘غداری’ قرار دینے کی کوشش کی اور احتجاج کو طاقت کے زور پر دبانے کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ برس ہا برس کی سیاسی محرومی کی وجہ سے بعض عناصر نے مسلح تصادم کا راستہ بھی اختیار کیا ہے ۔
کسی بھی ملک کی طرح بلوچستان کے عوام کے ساتھ بھی مذاکرات کے ذریعے مسائل کا سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے تاہم پاکستانی سیاست دانوں نے اس مسئلہ کو سنجیدگی سے حل کرنے اور صوبے کے عوام کی بنیادی ضروریات پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس کی بجائے قبائیلی سرداروں کے ساتھ مفاہمت یا تصادم کی پالیسی کے سبب صوبے میں کشیدگی، بد اعتمادی اور بے یقینی میں اضافہ ہؤا ہے ۔ وفاقی حکومت ایک طرف صوبے میں سہولتیں فراہم کرنے ، مواصلاتی نظام کو بہتر بنانے ، تعلیم اور صحت کے انتظامات کرنے اور عوام کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے تو دوسری طرف صوبے میں امن و امان کی ذمہ داری عرصہ دراز سے فوج کے حوالے کی گئی ہے ۔ اس صورت میں بہت سی شکایات بھی سننے میں آتی ہیں اور فوج سے وابستہ ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے کے لئے بعض ایسے ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں کہ اس سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور عوام خوف کی فضا میں پاکستانی ریاست کے ساتھ اپنی وابستگی کے بارے میں شبہات کا شکار ہوجاتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں گوادر پورٹ کی ترقی اور اس کے ذریعے پاک چین اقتصادی راہداری کے مواصلاتی راستے تعمیر کرنے کے کام کا آغاز ہؤا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ اس طرح ملک بھر میں اقتصادی خوشحالی کا دور دورہ ہوجائے گا۔ 50 ارب ڈالر سے زائد اس منصوبہ کے لئے گوادر کی بندرگاہ اور بلوچستان بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے لیکن منصوبہ سازوں نے اس عظیم اقتصادی پراجیکٹ پر کام شروع کرنے سے پہلے بلوچستان کے عوام سے رائے لینے یا یہ واضح کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ اس کے نتیجے میں انہیں کیا فوائد حاصل ہوں گے ۔ یا صوبے کے عوام کیوں کر یہ باور کرلیں کہ اس منصوبہ سے حاصل ہونے والے فوائد کا ثمر صرف دوسرے علاقوں کو حاصل نہیں ہوگا اور بلوچستان بدستور پس ماندہ اور سہولتوں سے محروم نہیں رہے گا۔ اس صوبے کے عوام کو اس سے پہلے سوئی گیس کے حوالے سے تلخ تجربہ رہا ہے ۔ بلوچستان سے نکلنے والی گیس سے ملک بھر میں سہولتیں حاصل کی گئیں لیکن بلوچستان کے عوام اپنے گھروں میں ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کے لئے بھی یہ گیس حاصل کرنے سے محروم رہے ۔
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز ڈیر ہ بگٹی میں کچھی نہری منصوبہ کا افتتاح کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سوئی گیس کی بدولت ملک بھر میں ترقی ہوئی ہے ، اس لئے باقی صوبوں کے عوام کو بھی بلوچستان کی ترقی میں کردار ادا کرکے بلوچستان کے عوام کے اس احسان کا بدلہ چکانا ہے ۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گوادر منصوبہ کی وجہ سے بلوچستان ملک کا امیر ترین صوبہ بن جائے گا۔ ان سہانی باتوں اور وعدوں کے باوجود صوبے کے عوام محسوس کرتے ہیں کہ انہیں ترقی کے اس پروگرام کی منصوبہ بندی میں کیوں شامل نہیں کیا جاتا، انہیں ان تمام منصوبوں کی تفصیلات کیوں نہیں بتائی جاتیں جس میں ان کے علاقوں کو بروئے کار لاکر ترقیاتی پراجیکٹ تعمیر کئے جائیں گے اور سب سے بڑھ کر انہیں یہ دکھائی کیوں نہیں دیتا کہ حکومت صوبے میں انفرا اسٹرکچر کی تعمیر اور عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں دلچسپی لے رہی ہے ۔ اس عوامی بے چینی کو دور کرنے کے لئے صرف تقریریں کرنا کافی نہیں ہے ۔ اس کے لئے صوبے کے عوام کو اعتماد میں لینے ، ان کی ضرورتوں کو سمجھنے اور عوام کی زندگی میں تبدیلی لانے والے منصوبے شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔ان تمام اقدامات کی غیر موجودگی اور صوبے میں فوجی اداروں کی چیرہ دستیوں کی وجہ سے بے چینی اور بد اعتمادی میں اضافہ ہو رہاہے جسے صرف ایک تقریر یا ایک علاقے میں تعمیرات کے ذریعے بہتر نہیں بنایا جا سکتا۔ صوبے کے بعض عناصر علیحدگی کی باتیں کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ عناصر یورپی ملکوں میں قیام پذیر ہیں اور مختلف مواقع پر ‘آزاد بلوچستان ’ کا مطالبہ سامنے لانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے دو ماہ پہلے سوٹزرلینڈ میں بینر لگائے گئے تھے ۔ پاکستان نے اسے بھارتی لابی کی کارگزاری قرار دیا اور سوٹزرلینڈ سے اس بارے میں احتجاج کیا گیا تھا۔ اب سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو کو طلب کرکے لندن کی بسوں پر آزاد بلوچستان کے بینر چسپاں کرنے پر احتجاج کیا ہے اور اسے دہشت گرد گروہ کی کارستانی قرار دیا ہے ۔ یورپی ممالک کی طرف سے رائے کے اظہار کے خلاف کئے گئے احتجاج کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ پاکستانی حکومت کو بھی اس کا ادراک ہونا چاہئے ۔
حکومت اگر بلوچستان کی حالت بدلنے میں سنجیدہ ہو، اگر صوبے کے عوام کو بنیادی سہولتیں ملنا شروع ہو جائیں ، اگر وہاں اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے مواقع میسر آنے لگیں اور اگر آزادی کی بات کرنے پر لوگوں کو اٹھانے کا سلسلہ بند کردیاجائے تو ‘آزاد بلوچستان’ کے نعرے خود بخود دم توڑ دیں گے ۔ لیکن اگر بلوچستان کے عوام میں خوف اور بے چینی بڑھتی رہے گی تو وفاق سے علیحدہ ہونے کی خواہش بھی قوت پکڑتی رہے گی، اس لئے ‘آزاد بلوچستان’ کے نعرے یا بینر پر ناراض ہونے کی بجائے ان عوامل کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے کچھ لوگ ایسا سوچنے اور مطالبہ کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔
کسی ملک سے علیحدہ ہونے کی خوہش کرنا بجائے خود کوئی جرم نہیں ہو سکتا،البتہ اس مقصد کے لئے عسکری ہتھکنڈے اختیار کرنا ضرور ناقابل قبول ہوتا ہے لیکن دور اندیش اقوام یہ نوبت آنے سے پہلے ہی مسئلہ کو سمجھنے اور اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ پاکستانی حکومت ستر برس سے بلوچستان کے عوام کا اعتماد جیتنے میں ناکام ہو رہی ہے ۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
عدالتیں ‘ اسٹیبلشمنٹ اور ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادتیں
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں