چیلنج ا ورٹکراؤکی پالیسی سے اجتناب کیاجائے!

عمران خان نے ایک بیان میں کہاہے کہ میاں نواز شریف قومی سیاست سے مائنس ہوچکے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے متعدد اہم لیڈروں نے گزشتہ روز جاتی امراء رائے ونڈ میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے ساتھ ملاقات کی ہے اوراس ملاقات میں فیصلہ کیاگیا ہے کہ پارٹی کوفی الفورمتحرک کرنے کے علاوہ حکمران جماعت میں سے گروپ بندی ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ انتخابات میں پارٹی اپنے لیڈر محمدنوازشریف کے پیچھے متحد ہو۔عمران خان کاموقف یہ ہے کہ نوازشریف کوسپریم کورٹ قومی سیاست سے آؤٹ کرچکی ہے لہٰذا وہ آئندہ ا نتخابات کے لے پارٹی کی انتخابی مہم نہیں چلاسکتے جبکہ جاتی امراء میں ہونے والی میٹنگ کے دوران فیصلہ کیاگیاہے کہ سابق وزیراعظم بہت جلد عوامی رابطہ مہم شروع کریں گے ۔اس سلسلے میں حکمران جماعت نے سب سے پہلاانتخابی جلسہ صوبہ خیبرپختونخواہ کے شہر ایبٹ آباد میں کرنے کااعلان کردیاہے۔عمران خان پرامید ہیں کہ ملک میں آئندہ حکومت تحریک انصاف کی ہوگی۔کوئی سیاسی جماعت یاسیاسی عناصر ان کاراستہ نہیں روک سکیں گے جبکہ سپیکرقومی اسمبلی ایازصادق نے کہاہے کہ ووٹ کے ذریعے اقتدار میں نہ آنے والے عناصر،عام انتخابات سے ہٹ کر غیرجمہوری طریقوں سے اقتدار میں آناچاہتے ہیں لیکن انہیں باورکرلیناچاہیے کہ ملک میں کوئی ٹیکنوکریٹ حکومت نہیں آرہی ہے اوراس طریقے سے اقتدار میں آنے والوں کے سلے سلائے سوٹ اوراچکنیں ان کے کسی کام نہیں آئیں گی۔ہم ذاتی طورپر سمجھتے ہیں کہ انتخابات ہی ملک میں اقتدار کی تبدیلی کاسب سے اہم ذریعہ ہیں اورہماری نظر میں عمران خان کوانتخابات سے پہلے اپنے اقتدار میں آنے کی بات نہیں کرنی چاہیے کہ تحریک انصاف اپنی مقبولیت کے باوجود ابھی سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی نمبرون سیاسی مقبولیت کوکم نہیں کرسکی ہے اورسپریم کورٹ سے میاں نواز شریف کی نااہلی کے باوجود جی ٹی روڈ پر ان کے شکوے’’مجھے کیوں نکالا‘‘اور اسلام آباد سے لاہورتک کے سفرنے مسلم لیگ ن کوپھرسیاسی جماعت کے طورپرزندہ کردیاہے ۔

عدالتیں ‘ اسٹیبلشمنٹ اور ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادتیں

میاں نوازشریف اگرسپریم کورٹ سے نااہل ہوکرخاموشی سے جاتی امراء پہنچ کرگھربیٹھ جاتے تومسلم لیگ ن اب تک مختلف حصوں میں بٹ چکی ہوتی۔میاں نوازشریف کے جارحانہ لب ولہجے اورتصادم کی پالیسی نے ان کوسیاسی افق پرزندہ رکھنے کے لیے کلیدی کرداراداکیا اوران کی بیٹی مریم نواز نے حلقہ این اے120میں اپنی بیماروالدہ کی انتخابی مہم جس طرح ولولہ انگیز انداز اوراداروں کے خلاف کھلی تنقید کے لب ولہجے میں چلائی اس نے ثابت کردیاکہ وہ مستقبل میں مسلم لیگ ن کوعوام میں زندہ رکھنے کاکردار اداکرنے کی بھرپورصلاحیت رکھتی ہیں اورشاید 2018ء کے انتخابات کے لیے پارٹی کوعوام میں لیڈکرنے کے لیے خود میاں نوازشریف سے زیادہ اچھا چوائس ہوسکتی ہیں ۔یہ بات اس لیے بھی درست اورزیادہ موزوں ہے کہ میاں نواز شریف کوعوامی جلسوں کے دوران ،اقامہ اورپانامہ کے تابڑتوڑحملوں کا سامناپیش آسکتاہے ،مریم نواز ایک نئے اورتروتازہ لب ولہجہ میں سامنے آسکیں گی۔جس طرح محترمہ بے نظیربھٹو مرحومہ نے شروع میں آصف علی زرداری کو محض شوہرہونے تک محدو د رکھاتھا،یہ بات مسلم لیگ ن کے زیادہ مفاد میں ہوگی کہ اگرمریم نواز نے اپنے والدگرامی کامتبادل بن کرسامنے آناہے توایک طرف توخود سابق وزیراعظم نواز شریف خود کو پارٹی کی ڈرائیونگ سیٹ پرسے پچھلی سیٹ پرمنتقل کرلیں اوردوسرے کیپٹن صفدر نامی مہمان اداکار کوملک کاآئندہ آصف علی زرداری بنانے کی پالیسی مکمل طورپرختم کردی جائے ۔ مریم نواز کوسیاست میں میاں نوازشریف کی جگہ لینی ہے توکیپٹن صفدر کونیب عدالت بھگت کرکے باربارجاتی امراء میں آنے سے روک کرایبٹ آباد میں ان کے خاندانی گھر میں بندکردیاجائے ۔چوہدری نثارعلی خاں مسلم لیگ ن میں میاں نوازشریف کے بعددوسرابڑاذہن ہیں لگتاہے انہوں نے پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت کے لیے سابق وزیراعظم کی بجائے مریم نواز کے متحرک کردارکوتسلیم کرلیاہے ،یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہاہے کہ چونکہ ڈان لیکس کی رپورٹ میں مریم نواز کاکوئی نام نہیں لہٰذاحکومت اس رپورٹ کوپبلک میں عام کردے غالباََ انہیںیقین ہے کہ نیب عدالت بھی مریم نواز کے خلاف کچھ ثابت نہیں کرسکے گی انہوں نے اپنے لیڈرمیاں نوازشریف کی بریت کے حوالے سے کچھ نہیں کہالیکن اس عزم کااعادہ ضرورکیاہے کہ وہ اپنی پارٹی کے ساتھ ہیں اورحکومتی پارٹی کے اہم کارکن ہونے کے ناطے حکومتی کاموں پرتنقید نہیں کرسکیں گے ،تاہم انہوں نے یہ بات زوردے کرکہی ہے کہ ان کاپارٹی قیادت کویہ مشورہ ہے کہ وہ عدالتی فیصلوں پرمکمل عمل کریں ،قومی اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی درست نہیں اورمحاذ آرائی کی سیاست بندہونی چاہیے ۔چوہدری نثارعلی خاں نے کہاکہ اگران سے مشاورت کی گئی توملک سے افواہیں ختم ہوجائیں گی ۔ہم سمجھتے ہیں کہ چوہدری نثارعلی خاں کی ایک ملاقات،شریفانہ سیاست کے موجودہ ’’ٹرائیکا‘‘کے ساتھ تفصیل کے ساتھ کروادی جائے تومسلم لیگ ن آئندہ انتخابات میں اپنی سمت درست رکھتے ہوئے عدلیہ اوراسٹبلشمنٹ سے ٹکراؤ سے ہٹ کر،نہایت کامیابی کے نتائج سامنے لاسکتی ہے ۔سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کواب مسلم لیگ ن کے اقتدار میں آنے کی صورت میں صاف اورواضح الفاظ میں مریم نوازشریف کووزیراعظم لانے کافیصلہ کرتے ہوئے وزیراعظم کوپس منظر میں رکھنے کے علاوہ میاں شہبازشریف کوبھی حسب سابق پارٹی کی دوسری اہم شخصیت تک محدود رکھناچاہیے کہ وہ بھی مستقبل قریب میں متعدد مقدمات میں ملوث قراردیئے گئے توعدالتوں کے سامنے جانے پر مجبورکیے جاسکتے ہیں۔
اس وقت ملک کے اندر افواہوں کاجوبازارگرم ہے ،اس پرپچاس فیصد بھی یقین کرلیاجائے تواگلے سال پوری ہونے والی موجودہ حکومت کی جمہوری وآئینی مدت کے خاتمے کے لیے کسی ان دیکھے امپائر کی انگلی اوپراُٹھ سکتی ہے ملک کو کسی بھی غیرجمہوری حکومتی سیٹ اپ کی نذرکیاجاسکتاہے۔جمہوریت کی بقاء اورآئندہ انتخابات کے یقینی انعقاد کے لیے ضروری ہے کہ میاں نوازشریف ،سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ،خودکوپارٹی کاچیئرمین بنانے کے لیے کی گئی ترمیم کے مطابق اپنی سیاسی سرگرمیوں کاآئینی جواز نہ بنائیں ،پارٹی کی قیادت کے لیے مریم نواز کونامز دکرکے آئندہ انتخابات کی انتخابی مہم کاپرچم بھی مریم نواز کے ہاتھوں میں تھمادیں اورسابق وزیرخارجہ چوہدری نثارعلی خاں کوان کے ساتھ لگادیں تاکہ وہ زیادہ نہیں توتھوڑی بہت حد تک اداروں کے ساتھ مفاہمت پرمبنی انتخابی خطابات تک محدود رکھ سکیں ۔میاں نوازشریف نے اگراسلام آبادسے ا پنے معزول ہونے کے بعد جی ٹی روڈ والے طرزتخاطب پرپارٹی کی رابطہ مہم کاآغاز کیاتوخدانخواستہ مسلم لیگ ن کاقومی سیاست سے رابطہ باقی نہیں رہے گا۔جاتی امراء سکول آف تھاٹ کواداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی ترک کرکے آئندہ نتخابی مہم چلاناہوگی اورعدالتی عمل میں رکاوٹیں ڈالنے سے اجتناب کرناہوگااسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ بھی حکمران پارٹی کے لیے ہی سب سے زیادہ نقصان دہ ہوسکتاہے۔

فیصل آباد میں بھی ریسکیو1122 کی موٹربائیک سروس

لاہور کے بعد ابتدائی طبی امدا د کی ریسکیو1122موٹربائیک ایمبولینس سروس7نومبر سے فیصل آباد میں بھی سروس کاآغاز کررہی ہے۔اس طرح آئندہ ہفتے پنجاب کے دوسرے بڑے ضلع فیصل آباد میں بھی کسی ایمرجنسی کی صورتحال سے نمٹنے ،روڈپرایکسیڈنٹ ،کسی قدرتی آفت یاآتشزدگی کی صورت میں فوری طبی امداد فراہم کرنے کاادارہ متحرک ہوجائے گا۔ابتدائی طورپر موٹربائیک ایمبولینس سروس کے 95اہلکارفیصل آباد پہنچ چکے ہیں جبکہ ان کے استعمال میں آنے والی 100موٹرسائیکلیں بھی5نومبر تک انہیں فراہم کردی جائیں گی ۔48کروڑروپے سے شروع ہونے والی اس سروس کے لیے سردست شہر کے اندر50ڈیوٹی پوائنٹس بنائے گئے ہیں جن میں ریلوے اسٹیشن ،چناب چوک ،ڈی گراؤنڈ ،جڑانوالہ روڈ،کینال روڈ،سوساں روڈ ،بیرون جھنگ بازار،ائرپورٹ چوک،غلام محمدآباد اورسرگودھاروڈ خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ریسکیو1122موٹر بائیک کے نوجوانوں کے پاس امدادی کٹ،طبی امداد کاسامان،مرہم پٹی،ادویات اورآگ بجھانے کے آلات بھی موجود ہوں گے اوروہ کسی بھی اربن ایریا سے ملنے والی پہلی کال پرجائے حادثہ پرپہنچ کر اپناکام شروع کریں گے اورمعاملہ سنگین ہونے کی صورت میں ایمبولینس طلب کی جائے گی۔موٹرسائیکل سواروں کی مانیٹرنگ کے لیے ریسکیو1122ہیڈکوارٹر کے کنٹرول روم میں تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں ۔وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے صوبے کے عوام کے لیے کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں فوری طبی امداد یقینی بنانے کاانتظام کرکے کم خرچ اورتنگ وتاریک گلیوں ،بازاروں ،راستوں تک فوری رسائی اورانسانی زندگیوں کے تحفظ کے جس انقلابی آئیڈیا کومتعارف کردیاہے،وہ نہ صرف قابل تعریف ،وقت کی اہم ضرورت ،عصری تقاضابلکہ جدت پسندی کاشاہکار بھی قراردیاجاسکتاہے۔پاکستان جیسے غریب وپسماندہ ملک میں جہاں بیشترعوام خط غربت سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں،ان کے لیے موٹربائیک ایمبولینس سروس ایک نعمت ثابت ہوگی۔آج بھی شہر کی بیشترپرانی آبادیوں میں ایسی تنگ وتاریک گزرگاہیں ہیں جہاں ریسکیو1122کی ایمبولینس گاڑ ی نہیں پہنچ سکتی ایسی صورت میں موٹرسائیکل سوارنوجوان انتہائی سبک رفتاری کے ساتھ فسٹ ایڈفراہم کرسکیں گے ۔جدید جمہوری ومہذب ممالک میں ریاستیں صرف بنیادی انفراسٹرکچر اورسماجی ضروریات ہی پوری نہیں کرتیں بلکہ عوام کے جان ومال کی حفاظت اورحادثات سے بچاؤ بھی ان کے فرائض میں شامل ہوتاہے۔ امیدہے اس سروس سے فیصل آباد شہر کے32لاکھ انسانوں کوکسی ایمرجنسی صورتحال میں فوری طبی امداد بلامعاوضہ مل سکے گی۔میاں شہبازشریف کی یہ کاوش لائق تحسین قراردی جاسکتی ہے۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
چیلنج ا ورٹکراؤکی پالیسی سے اجتناب کیاجائے!
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں