نئی حلقہ بندیوں کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت

ترجمان الیکشن کمیشن آف پاکستان نے واضح کیا کہ اگرنئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے آئینی ترمیم میں10نومبر سے ایک روز کی بھی تاخیر ہوئی توالیکشن 2018ء کابروقت انعقاد مشکل ہوجائے گا۔ایک نجی نیوزچینل سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن کوانتخابی تیاریوں کے لیے متعلقہ محکموں کوچارماہ قبل آگاہ کرناضروری ہے۔22اکتوبر کوسیکرٹری الیکشن کمیشن کے اجلاس میں سیکرٹری شماریات ڈویژن اورسیکرٹری لاء اینڈجسٹس بھی موجودتھے جس میں اہم فیصلوں اورآئینی وغیرقانونی ذمہ داریوں کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کے بعد یعقوب بابرنے واضح کیاتھاکہ الیکشن کمیشن کی تیاریاں مکمل ہیں صرف ووٹر لسٹوں میں نئے ناموں کااندراج اورحلقہ بندیوں کے متعلق آئینی تقاضاپوراہوناباقی ہے ۔سیکرٹری شماریات اورسیکرٹری لاء اینڈجسٹس کودستوری ترمیم اورحتمی ووٹر لسٹوں میں نئے ناموں کے اندراج کی منظوری کے حوالے سے 7روز کاوقت دیاگیاتھا۔اس حوالے سے10نومبرتک تمام انتظامات کرناضروری ہیں وگرنہ مارچ تک الیکشن کمیشن کے لیے وفاقی حکومت کے کسی بھی فیصلے یعنی انتخابی شیڈول کے اجراء کے متعلق ہدایت پرعمل کرنامشکل ہوگا۔جہاں تک آئندہ عام انتخابات کے لیے تیاریوں کاتعلق ہے توگزشتہ عام انتخابات 11مئی2013ء کومنعقد ہوئے جس کی روشنی میں 3جون کو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ پرامن انتقال اقتدار عمل میں آیااورمیاں نواز شریف نے تیسری مرتبہ بطوروزیراعظم حکومت سنبھالی تھی۔موجودہ اسمبلی کاپہلااجلاس یکم جون2013ء کوبلایاگیاجس میں خواتین اوراقلیتوں سمیت مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے ارکان قومی اسمبلی نے حلف اٹھانے کے ساتھ سپیکر،ڈپٹی سپیکر کاانتخاب کیاجن کی موجودگی میں نئے وزیراعظم کے لیے ووٹنگ عمل میں لائی گئی۔آئین کے مطابق اسمبلی تحلیل کردی جائے تو90روز میں نیاانتخاب ضرور ی ہے اوراس عرصے میں نگران وزیراعظم اورنگران وزرائے اعلیٰ وفاق اورصوبوں میں اختیارات سنبھال لیتے ہیں پاکستان میں پانچویں مردم شماری1998 ء میں کروائی گئی جس کے مطابق ملکی آبادی 13کروڑ70لاکھ تھی۔جنرل پرویزمشرف نے 12اکتوبر1999ء کواقتدار پرقبضہ کیاتوقومی وصوبائی اسمبلیاں پہلے معطل اورپھرتحلیل کردی گئیں جس کے بعدتین سال تک ملک ایک عبوری آئین اورانتظام کے تحت چلتا رہاتاہم2002ء میں1973ء کے آئین کی بحالی اورآئینی ترمیم کے بعد قومی اورصوبائی اسمبلیوں میں خواتین اوراقلیتوں کی مخصوص نشستیں جنرل نشستوں کے تناسب سے 30فیصد کردی گئیں۔272جنرل نشستوں کے ساتھ70مخصوص نشستیں ملاکر قومی اسمبلی کاایوان 342ارکان پرمشتمل ہوتاہے ۔رواں سال اپریل میں کروائی جانے والی چھٹی مردم شماری کے باعث ملکی آبادی بڑھ کر20کروڑ77لاکھ ہوگئی ۔ا سطرح پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں نشستیں بڑھانے کے لیے آئینی ترمیم لازمی تھی تاہم چندروزقبل وفاقی کابینہ نے پارلیمان کی نشستوں میں اضافے کی بجائے موجودہ تعداد ہی برقرار رکھنے کافیصلہ کرتے ہوئے 3نومبر تک نیابل قومی اسمبلی میں لانے کااعلان کیا تاہم بعدازاں 7نومبر تک مسودہ پیش کرنے پراتفاق کرلیاگیا۔ملکی آبادی میں اضافے کے باعث آئندہ قومی اسمبلی کاممبر7لاکھ 80ہزار ووٹروں کے ذریعے منتخب ہوگاجبکہ صو بائی اسمبلی کاممبرتین لاکھ90ہزارووٹروں کی نمائندگی کرے گا۔نئے انتخابی قوانین کے مطابق قومی اسمبلی کے ممبر کو 25جبکہ صوبائی اسمبلی کے ممبر کو 15لاکھ روپے انتخابی عمل پر خرچ کرنے کی اجازت ہوگی۔مسلم لیگ (ن) کی حکومت انتخابی اصلاحاتی بل کے بعد اب نیااحتساب بل بھی اسی ایوان سے منظور کروانے کی راہ پر گامز ن ہے جس کے ذریعے موجودہ احتساب بیوروکی جگہ نیاادارہ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ سپیکرقومی اسمبلی سردارایاز صادق کی سربراہی میں قائم کمیٹی اس بل کے لیے حکومت،اس کی اتحادی اوراپوزیشن جماعتوں پرمشتمل پارلیمانی پارٹی کے اجلاسوں میں نئے مسودے پر وسیع تر مشاورت کرچکی جس میں فوج اورعدلیہ کواحتسابی عمل سے باہررکھنے پراتفاق رائے کرنے کی کوششیں آخری مراحل میں ہیں۔سینٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی اکثریت کے باعث امکان ہے کہ وزیراعظم شاہدخاقان عباسی پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس بلاکر یہ بھاری پتھر اٹھانے کاراستہ بھی اختیارکرسکتے ہیں۔اگرچہ الیکشن بل کے ذریعے12اکتوبر2017ء کومسلم لیگی حکومت نااہل قرار دیئے جانے والے وزیراعظم نوازشریف کونئے سرے سے حکمران مسلم لیگ ن کاصدربنانے کاراستہ ہموار کر چکی اوراب نئے احتسابی ادارہ کے قیام کے لیے پوری تندہی وکوشش کے ساتھ دن رات کوشاں ہے مگردیکھنے کی بات یہ ہے کہ ایک اہم آئینی ترمیم کے متعلق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی خودمتحرک ہونے کی بجائے سابق وزیراعظم نوازشریف اوران کے فیملی ممبروں کے احتساب عدالت میں زیرسماعت کرپشن مقدمات میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں یاشریف برادران میں پیداہونے والی کشیدگی رفع دفع کروانے کے لیے سرگرم نظر آتے ہیں۔30اکتوبر کواچانک لندن روانگی اوروہاں میاں نوازشریف کی زیرصدارت مے فئیرفلیٹس میں منعقدہونے والے انتہائی اہم اجلاس میں شرکت کے صرف تین روز بعدپھراچانک وہاں پہنچ چکے ہیں۔بظاہران کی برطانیہ آمدکامقصدسرمایہ کاری کے بارے میں ایک عالمی کانفرنس میں شرکت بتائی جاتی ہے لیکن اس بات کے اشارے بھی مل رہے ہیں کہ محترم شاہدخاقان عباسی وہاں موجودوزیراعلیٰ پنجاب میاں
شہبازشریف اوران کے بڑے بھائی میں پیداشدہ شکررنجی دُدر کرنے میں مصروف ہیں ۔وقت آگیاہے کہ وفاقی حکومت کوئی لمحہ ضائع کیے بغیرانتخابی عمل کوبروقت شروع کرنے میں حائل رکاوٹوں پرتوجہ دے اورآئندہ الیکشن کے بروقت انعقاد کویقینی بنانے کے لیے خودکووقف کرے تاکہ کسی خفیہ ہاتھ یاقوت کوالیکشن2018ء میں رکاوٹ پیداکرنے کاموقع نہ مل سکے۔
ٹیکنوکریٹ حکومت کے خلاف سپیکراورچیئرمین سینٹ کی وضاحتیں ؟
سپیکرقومی اسمبلی ایازصادق کے بعدچیئرمین سینٹ میاں رضاربانی نے بھی ملک میں کسی غیرآئینی وغیرقانونی حکومتی سیٹ اپ کے امکانات کومسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دستور میں کسی ٹیکنوکریٹ حکومت یاعبوری نظام کی گنجائش موجود ہے نہ اس کے کوئی امکانات ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ دوماہ سے پھیلنے والی افواہوں کے باعث مختلف اخبارات اورنیوزچینلوں میں حکومت ،عدلیہ اوراسٹیبلشمنٹ کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کوکسی ہنگامی یاآئین سے ماوراء انتظامی سیٹ اپ کے قیام کی باتیں عام ہوتی جارہی ہیں۔سابق وزیراعظم نوازشریف نے سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کی طرف سے اپنی نااہلی اوراقتدارسے محرومی کے بعدجس طرح اپنے خلاف زیرتفتیش وزیرسماعت کرپشن مقدمات کوسازش قراردے کر آئینی اداروں کے خلاف محاذ آرائی یاتصادم کی راہ اپنارکھی ہے ،اس کے تناظر میں عوام کوئی بھی غیردستوری صورتحال پیداہونے پرکچھ کچھ یقین بھی کرتے نظر آتے ہیں ۔ایک ہفتہ قبل احتساب عدالت کے باہرمیڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے محترمہ مریم نواز نے ’’اپنی حکومت‘‘کے سوال پر جس طرح طنزیہ اندازاپنایا،وہ بھی ان کی ناراضگی یاغم وغصے کاکھلا اظہار تھا۔لندن میں صحافیوں کے سوالات پرمیاں نواز شریف اپنے خلاف زیرسماعت کرپشن مقدمات پرتنقید کرچکے ہیں،وہ بھی21کروڑ پاکستانیوں کے لیے انتہائی پریشان کن بلکہ سیدھی سیدھی لڑائی کے مترادف ہے ۔3نومبر کواحتساب عدالت کے باہران کابیان بھی آئینی وقانونی ماہرین کے ساتھ جمہوری حلقوں میں وسوسے اورکوئی غیرمعمولی صورتحال سامنے آنے کی نشاندہی کرتاہے۔پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اورسابق صدرآصف علی زرداری سے رابطے اورملاقات کی کوششیں بھی اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ میاں نوازشریف خود کو احتسابی شکنجے میں جکڑا ہواسمجھنے لگے ہیں اورآئین وقانون میں ترمیم کرکے موجودہ احتسابی قوانین میں تبدیلی اوراپنی بریت کاکوئی دستوری راستہ تلاش کرنے کی کوششوں میں ہیں۔پاک فوج کے سپہ سالار متعدد مرتبہ براہ راست یااشاروں کنائیوں میں کسی غیردستوری صورتحال پیداکرنے سے انکارکرچکے جبکہ اعلیٰ عدلیہ کے حلقوں میں بھی حکمران خاندان کے خلاف کرپشن مقدمات کوانتقامی یاامتیازی سلوک سمجھنے سے انکار کرچکے ہیں ۔حدیہ کہ خودحکمران مسلم لیگ ن میں بھی اس معاملے پر منقسم رائے پائی جاتی ہے ۔وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ اورپنجاب اسمبلی کے چند مسلم لیگی ارکان بھی اسٹیبلشمنٹ یاعدلیہ سے محاذ آرائی کوملک ،قوم اورجمہوریت کے لیے نقصاندہ قراردے چکے ہیں۔ایسے حالات میں سپیکرقومی اسمبلی ایازصادق کالاہور میںیہ بیان کہ ملک میں کوئی ٹیکنوکریٹ حکومت قائم ہورہی ہے نہ اس کاکوئی امکان ہے ،بجائے خود خدشات کاکھلا اظہارہے ۔گزشتہ روز چیئرمین سینٹ رضاربانی نے بھی ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کوغیردستوری جبکہ اس قسم کے حالات یاامکانات کو جمہوری نظام کوڈی ریل کرنے کے مترادف قراردے کر مسترد کردیا۔گہرائی سے دیکھاجائے توملک میں فی الحال ایسی کوئی صورتحال نظرآتی ہے نہ قوم کی بھاری اکثریت کسی ماورائے دستوراقدام کی حمایت کرے گی۔میاں نوازشریف کایہ کہناکہ مسلم لیگ ن نظریہ ضرورت والی عدلیہ کوقبول نہیں کرے گی اپنی جگہ درست مگرموجودہ اورسابق چیف جسٹس آف پاکستان متعد دمرتبہ آئین وقانون کی حکمرانی کی کھل کرحمایت کرچکے ہیں۔ماضی میں ایوب خان اورجنرل ضیاء الحق کے مارشل لاؤں کوجائز قراردینے والے ججز نظریہ ضرورت کے حق میں نظرآئے مگر2007ء میں آزاد عدلیہ کے لیے چلائی جانے والی وکلاء کی تحریک کے بعدسپریم کورٹ اورہائیکورٹس کے ججز بھی فوجی طالع آزماؤں کے طرفداربن سکیں گے نہ کسی غاصب کوجمہوریت پر شب خون مارنے کی اجازت دینے کے حق میں نظر آتے ہیں۔میاں نوازشریف احتساب عدالتوں میں اپنی پیشیوں کوجس نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں ،اس سے آزاد عدلیہ کے بارے میں عوام میں غلط فہمیاں توپیداہوسکتی ہیں ،آئینی اداروں میں مفاہمت فروغ نہیں پاسکتی۔ چیئرمین سینٹ کایہ کہنا کہ ادارے اپنی حدودمیں رہیں بھی دراصل حکمران مسلم لیگ ن ،تحریک انصاف ،پیپلزپارٹی کے قائدین وپارلیمنٹرینز کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔بہتریہی ہے کہ سابق وزیراعظم اقتدار کواپنی منزل یااپنامطمح نظر قرار دینے کی بجائے رول آف لاء اورآئینی اداروں کی بالادستی کومقدم سمجھیں ۔اقتدارملے یا نہ ملے ،انہیں مستقبل میں بالادست وبااثرپارلیمنٹ کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ایسی طاقتورپارلیمنٹ جووزیراعظم سمیت تمام منتخب عوامی نمائندوں اورریاستی اداروں کے سربراہوں ،قومی خزانے سے تنخواہیں اورمراعات لینے والوں کاحقیقی محاسبہ اورکرپٹ عناصر کونکیل ڈال سکے۔فردواحد کے لیے دستوری وقانونی ترامیم کسی ایک شخص یاگروہ کوتوفائدہ دے سکتی ہیں ،پارلیمان کو مقتدریاباوقار اوربلندمقام ہرگز نہیں دے سکیں گی۔ماضی میں جب بھی جمہوری حکومتیں ختم یاجمہوریت ڈی ریل ہوئی،اس کی وجہ مفادپرست سیاستدان ہی تھے یاپھروہ مفادپرست اورچڑھتے سورج کے پجاری جومارشل لاء لگنے پرمٹھائیاں بانٹتے یاحلوے پکاتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں