ایران کے ساتھ مراسم

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس وقت ایران کے سہ روزہ دورہ پر ہیں۔ اس دورہ کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے کے علاوہ علاقے میں دہشت گردی کی روک تھام کے لئے تعاون کو بڑھانا بھی ہے ۔ اس دورہ میں جنرل باجوہ نے ایرانی فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل محمد بغیری اور وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل امیر حاتمی سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے صدر روحانی اور وزیر خارجہ جاوید ظریف کے ساتھ ملاقات میں بھی باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ آرمی چیف ایک ایسے وقت میں یہ دورہ کررہے ہیں جب افغانستان میں قیام امن کے لئے امریکہ پرجوش اقدامات کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ محاذ آرائی کا اعلان کرتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ میں انتہا پسندی کے فروغ کا سبب قرار دے چکے ہیں۔ اس دوران لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری کے اچانک استعفیٰ اور سعودی عرب میں کرپشن کے الزام میں متعدد شہزادوں ، وزیروں ، سابقہ وزیروں اور سرمایہ کاروں کی گرفتاری سے پورے خطے میں تشویشناک صورت حال پیدا ہوئی ہے ۔پاکستان روائیتی طور پر امریکہ کا حلیف رہا ہے ۔ اسی طرح سعودی عرب سے پاکستان کے برادرانہ تعلقات کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے ،تاہم امریکی صدر ٹرمپ کی تیزی سے تبدیل ہوتی پالیسی اور پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان کو علاقائی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ پاکستانی حکومت اور فوج اس حوالے سے واضح مؤقف رکھتے ہیں ۔ افغانستان کے بعد آرمی چیف کا ایران کا دورہ پاکستان کی طرف سے نئے حالات میں ہمسایہ ملکوں کے ساتھ براہ راست مواصلت بڑھا کر حالات کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے ۔

سعودی اقدامات: مشرق وسطیٰ میں نئی تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں

پاک فوج کے سربراہ نے افغانستان کے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کو بھی یقین دلایا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر اپنے کسی ہمسایہ ملک کے خلاف سرگرم گروہوں کو پناہ نہیں دے گا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پاکستان نے امریکہ کو بھی یہی پیغام دیا ہے لیکن امریکہ نے افغانستان میں گزشتہ سولہ سترہ برس میں متعدد غلطیاں کی ہیں اور وہ اس جنگ میں مکمل کامیابی حاصل کرنے کے قابل بھی نہیں ہے ، اس لئے پاکستان پر الزام تراشی کے ذریعے امریکی حکومت خود اپنے عوام کے سامنے سرخرو ہونا چاہتی ہے ۔اسی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا تھا کہ امریکی صدر ان جرنیلوں کے مشورہ پر افغان پالیسی استوار نہ کریں جو یہ جنگ جیتنے میں ناکام رہے ہیں اور اب اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے پاکستان کے خلاف الزام تراشی کو امریکی پالیسی کا حصہ بنوانے کی کوشش کررہے ہیں۔ خواجہ آصف نے امریکہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ یہ تسلیم کرے کہ افغانستان کا مسئلہ جنگ سے حل نہیں کیا جاسکتا اور اس کے سیاسی حل کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ اسی طرح پاک فوج نے بھی واضح کیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ کی ہے ۔ اب پاکستان سے ‘ڈو مور’ کا مطالبہ کرنے کی بجائے امریکہ اور دیگر ملکوں کو اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاہم امریکہ کے متکبرانہ اور عاقبت نااندیشانہ رویہ کی روشنی میں پاکستان کے لئے ضروری تھا کہ افغانستان کے علاوہ ایران کے ساتھ مراسم کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے ۔
افغانستان براہ راست امریکہ اور بھارت کے دباؤ میں ہے ۔ وہ خود مختارانہ طریقہ سے کوئی فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا لیکن ایران ایک طاقتور اور امریکی اثر و رسوخ سے آزاد ملک ہے ۔ پاکستان کے ساتھ اس کی سرحدیں ملتی ہیں۔ دونوں کو کسی حد تک افغانستان میں پروان چڑھنے والی انتہا پسند تنظیموں سے خطرہ لاحق رہتا ہے ۔ اس لئے ایران کے ساتھ پاکستان کو تعلقات بہتر بنانے اور اسے علاقہ میں امن کے عمل میں حصہ دار بنانے کا براہ راست فائدہ ہو سکتا ہے ۔پاکستان کو ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالہ سے امریکہ کی ایران مخالف پالیسی کے علاوہ سعودی عرب کی ایران دشمنی کی وجہ سے بھی مشکلات حائل رہی ہیں۔ اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ سعودی عرب نے لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری پر دباؤ ڈال کر استعفیٰ دینے پر مجبور کیا تھا تاکہ لبنان میں حالات کشیدہ ہوں اور حزب اللہ کے خلاف کسی نہ کسی قسم کی کارروائی کا امکان پیدا کیاجا سکے ۔ سعودی عرب میں اس وقت اعلیٰ عہدوں پر فائز متعدد شخصیات کی گرفتاری سے اندرون ملک اقتدار کی جس رسہ کشی کا اشارہ ملتا ہے ، اس کا تعلق بھی سعودی عرب کے مشرق وسطیٰ میں عزائم اور ایران کے خلاف گھیر ا تنگ کرنے کی پالیسی سے ہے ۔ یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ، ان میں سے بیشتر قطر اور یمن کے بارے میں ولی عہد کی پالیسیوں سے میں اختلاف رائے رکھتے تھے ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے جس گرمجوشی سے سعودی عرب میں ہونے والے اقدامات کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور فوری طور پر جس طرح شاہ سلمان کو فون کرنے اپنی مکمل اعانت کا یقین دلایا ہے ، اس سے بھی یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سعودی عرب، امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف محاذ بنانے میں سرگرم ہے ۔
ان حالات میں پاکستان کو خارجہ پالیسی اور علاقائی سلامتی کی صورت حال میں شدید مشکلات کا سامنا ہو گا۔ امریکہ کے علاوہ سعودی عرب بھی پاکستان کو ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون سے روکنے کے لئے ہر ممکن دباؤ ڈالنے کو کوشش کرے گا۔ ا س حوالے سے سعودی عرب میں کام کرنے والے پندرہ سے بیس لاکھ پاکستانی کارکنوں اور ماہرین کو بھی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے، اس لئے پاکستانی حکام کو نہایت احتیاط اور دانشمندی سے قدم بڑھانے اور سعودی عرب کے ساتھ کوئی بڑا اختلاف پیدا کئے بغیر ایران کے ساتھ مراسم بہتر بنانے کی کوششیں جاری رکھنا ہوں گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان کے مسئلہ کے حل کے لئے ایران کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اسلام آباد کے حکام اگر صرف پاکستان کے مفاد کو پیش نظر رکھ کر آگے بڑھیں گے اور وقتی مسائل سے گھبرا کر مختلف ملکوں کا دباؤ قبول کرنے سے گریز کریں گے تو مستقبل میں پاکستان میں امن بحال کرنے کی کوششیں بھی کامیاب ہوں گی اور اسے ایک باثر اور اپنے فیصلے خود کرنے والے ملک سے عزت و احترام بھی حاصل ہوگا۔ تاہم اگر ایران کے ساتھ مراسم کے بارے میں دباؤ کو قبول کرلیا گیا تو پاکستان ایک ایسی دلدل میں پھنس سکتا ہے جو طویل عرصہ تک اس پورے علاقے میں عدم استحکام اور کشیدگی کا سبب بنے گی۔

پاکستان میں کرپشن کاخاتمہ کس حد تک ممکن ہے!

اس وقت ملک کے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف ،وفاقی وزیرخزانہ اسحق ڈار ،میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اوران کے دونوں صاحبزادے حسن نوازاورحسین نواز کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر ہیں اوراحتساب عدالت میں ان سب کاٹرائل ہورہاہے اورنئے چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاویداقبال کے نیب کاسربراہ مقررہونے سے بظاہرلگتاہے کہ نیب میں ملک کی قدآورشخصیات کے خلاف ٹرائل میں بھی عدالت ان شخصیات سے متاثرنہیں ہوں گے اورہونے والے ٹرائل حق وانصاف کے مطابق ہوں گے۔ سابق وزیراعظم میاں محمدنوازشریف اورمریم نواز اوران کے شوہرکپٹن محمدصفدرعدالت میں پیش ہوچکے ہیں جبکہ ان کے دونوں صاحبزادے حسن نوازاورحسین نواز دونوں برطانیہ میں بیٹھے ہیں اورعدالت انہیں ،نیب عدالت میں ان کے خلاف چلنے والے مقدمات میں اشتہاری قراردینے جارہی ہے ۔یہی صورتحال وفاقی وزیرخزانہ اسحق ڈار اوران کے صاحبزادوں کے حوالے سے ہے۔جناب وزیرخزانہ خودتواحتساب عدالت میں پیش ہوچکے ہیں لیکن اب بیماری کی وجہ سے لندن میں علاج کی وجہ سے غیرحاضر ہوئے ہیں جبکہ ان کے بیٹے بھی آج تک نیب عدالت میں پیش ہونے کے لیے نہیں آئے ۔نئے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی طرف سے نیب کوانتہائی فعال بنانے کے عزم کااظہار کیاجاچکاہے اوراس کاثبوت یہ بھی ہے کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لیے نئے چیئرمین نے نیب میں زیرالتواء مقدمات کوبھی نیب عدالت میں زیرسماعت لانے کاسلسلہ شروع کردیاہے سابق و زیراعظم چوہدری شجاعت حسین اورسابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی آمدن سے زیادہ اثاثہ جات کیس میں قومی احتساب بیورولاہور کے روبرو پیش ہوگئے ہیں ا وراکاؤنٹس اوراثاثہ جات کی دستاویزات کاجائزہ لے کرنیب حکام نے ان کے خلاف پیٹیشن دائر کرنے کے لیے معاملات کاجائزہ مکمل کرلیاہے ۔چوہدری برادران پربداعمالی میں ملوث ہونے کاالزام ہے ۔ چوہدری شجاعت حسین اورپرویز الہٰی کے احتساب بیورو میں پیش ہوجانے کے بعد اب لگتاہے کہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کوبھی نیب میں ان کے خلاف موجود مقدمات کاسامناکرناپڑے گا۔احتساب بیورو کے ذرائع کے مطابق اربابِ عالمگیر اورعاصمہ ارباب کے خلاف بھی بہت جلدتحقیقات مکمل ہونے والی ہیں۔پاکستان میں ملک کے طاقت ورترین لوگوں کوبھی احتساب کے لیے عدالتوں میں پیش ہوناپڑے گا،ایساکسی نے کبھی نہیں سوچاتھا۔جن کو لاتعداد خلا ف قانون کارروائیوں کے حوالے سے گاڈفادر سمجھااورکہاجاتاہے ان کی عدالت میں پیشی اوراپنے خلاف دائر ہونے والے ریفرنسزکی سماعت کاسامنا ایک طرح نیب کی بہت بڑی کامیابی ہے اورغیرجانبداری کے ساتھ ادارے کے طورپراپناکردار اداکرنا گویا وفاقی حکومت کی ہی بہت بڑی کامیابی ہے اوراگراب ہمارے یہ سیاست دان نیب عدالت کی کارروائی کوہرپیشی پرآگے بڑھانے کے لیے عدالت سے تعاون کرتے ہیں تویہ مقدمات آئندہ عام انتخابات سے پہلے ختم بھی ہوسکتے ہیں۔سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کواحتساب عدالت میں پیش ہونے پربہت زیادہ پریشانی نہیں ہے البتہ ان کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ سپریم کورٹ نے نیب میں زیرسماعت ان کے ریفرنسز کے خلاف نگرانی کاحق اپنے پاس رکھاہے اوران کاموقف ہے کہ جب سپریم کورٹ کی نگرانی تلواربن کرنیب عدالت کے سرپرلٹک رہی ہو گی توپھر نیب عدالت میں ہونے والی عدالتی کارروائی کو کس حد تک غیر جانبدارانہ کہا جاسکتا ہے۔سپریم کورٹ نے یہ نگرانی تو یقیناًاپنے پاس رکھی ہے لیکن اب تک دیکھنے میں آیاہے کہ اس نگرانی کے مقدمات کی سماعت پرکسی قسم کے تحفظات سامنے نہیں آئے اورنیب عدالت بلاکسی دباؤ اورگھیراؤ کے اپنے دائرہ کار کے مطابق مقدمات کوخودچلارہی ہے لہٰذا ہم نہیں سمجھتے کہ نیب عدالت کسی قسم کے دباؤ کی وجہ سے انصاف فراہم نہیں کرسکے گی۔نیب عدالت کوجے آئی ٹی سپریم کورٹ کے مطابق چھان بین کرنے کااختیار دیاگیاہے اورنیب عدالت کی طرف سے پانامہ ریفرنس کے ملزمان کو عدالتوں سے ضمانتوں پر رہائی ایک طرح سے بہت آزادانہ طرز عمل ہے کہ اگرسپریم کورٹ کی جے آئی ٹی کے ملزمان کو ئی عام لوگ ہوتے توشاید ضمانتوں پرآزاد نہ ہوتے۔سپریم کورٹ میں دائر مقدمے میں پانچ میں سے دوججوں کے فیصلے پرخود سابق وزیراعظم میاں محمدنوازشریف عدالت میں گئے تھے اوراس کے بعد پانچ رکنی لارجربنچ کاجوفیصلہ سامنے آیا اس میں لارجربنچ کے تین رکنی بنچ نے سابق وزیراعظم میاں محمدنوازشریف کواقامہ رکھنے اوردبئی کی کمپنی کے سربراہ ہونے کے معاملہ کومخفی رکھنے کے جرم میں نااہل قرار دیاہے جبکہ لارجربنچ کے دوارکان انہیں پہلے ہی کرپشن اورمنی لانڈرنگ کامجرم ٹھہراکروزارت عظمیٰ سے الگ ہوجانے کاکہہ چکے تھے ۔تین ججوں کی طرف سے سابق وزیراعظم کوکرپشن کامجرم قرارنہیں دیاگیا تھابلکہ مقدمے کی سماعت زیادہ شفاف بنانے کے لیے جے آئی ٹی مقررکردی گئی تھی اوریہ جے آئی ٹی کی ہنگامہ خیز رپورٹ ہے جس میں سے سابق وزیراعظم کے خلاف متعددریفرنس عدالت میں ابھر کرسماعت کے لیے سامنے آئے ہیں گویاپانچ رکنی بنچ کے اکثریتی تین ججوں نے جے آئی ٹی کی رپورٹ میں لگائے گئے الزامات کی چھان بین کے لیے نیب عدالت کوحکم کرکے اس مقدمے کوگویاٹرائل کورٹ کے حوالے کردیا کہ وہ جے آئی ٹی رپورٹ پرانصاف پرمبنی فیصلہ کرے ۔ماضی میں بھی قومی احتساب بیوروکے اثاثوں کی چھان بین ہوتی رہی ہے اوراس چھان بین کے لیے بھی جے آئی ٹی بنتی رہی ہیں۔جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور میں 200سے زائد سیاست دانوں ،جنرلوں اوربیوروکریٹس کے خلاف آف شوراثاثوں کاسراغ لگانے کے لیے باقاعدہ ایک بین الاقوامی آف شورکمپنی کی خدمات حاصل کی تھیں لیکن بدقسمتی سے سابق صدرپرویز مشرف نے تحقیقات کرنے والی آف شورکمپنی سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق نیب میں مقدمات چلانے کی بجائے اپنے دورکے آف شوریوں سے معاملات طے کر کے ان کی آف شورکمپنیوں کے اثاثوں کامعاملہ نظرانداز کردیاتھا۔تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں جن لوگوں کے ہاتھ میں انسانوں کی تقدیر کے فیصلوں کی زمام کار آتی رہی ہے دولت واقتدار کانشہ ان میں سے اکثر کی عقل وخرد کوچھین لیتارہاہے ۔مشرف نے فوج کے ذریعے ملک کااقتدارچھینااوربظاہرملک میں خود کرپشن کاکوئی ارتکاب نہیں کیالیکن آف شورکمپنیوں کے متعلق تحقیقات میں احتساب بیور و کے ذریعے کرپشن مافیاکوختم کرنے کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔جن کے نام غیرقانونی طورپرپیسہ بنانے اورملک سے باہرلے جانے والوں میں شامل تھے ،ان سے اپنے معاملات نپٹائے اوراس طرح وہ لوگ مشرف کی ضرورتیں پوری کرکے بچ نکلے۔ان پرپاکستانیوں کوڈالروں کے عوض امریکہ کے حوالے کرنے کے بھی الزامات تھے۔آصف علی زرداری سے بھی کرپشن مافیا کی سرپرستی کے سوالات ملک کی سیاسی فضا میں بکھرے ہوئے ہیں۔ اب پانامہ لیکس نے پاکستان میں حکمرانوں کی کرپشن کے خلاف شعوربڑھایا ہے اورابھی پانامہ لیکس کے حوالے سے سامنے آنے والے منی لانڈرنگ اورسیاست دانوں کی آمدنی سے زیادہ سامنے آنے والے ان کے اثاثہ جات کی چھان بین کے مقدمات فیصلوں تک نہیں پہنچے کہ اب صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم آئی سی آئی جے نے پیراڈائرلیکس جاری کردی ہیں جس میں پاکستان کے سابق وزیرخزانہ ووزیراعظم شوکت عزیزاورامریکہ وبرطانیہ سمیت 47ممالک کی اہم ترین شخصیات کے نام سامنے آگئے ہیں ۔پیراڈائز لیکس نے دنیا کے بیشترممالک میں تہلکہ مچا دیاہے اورپاکستان سمیت دنیا کے بیشترغریب اورترقی پذیرممالک کے عوام پرعیاں ہوگیاہے کہ ان کے مصائب اورمفلوک الحالی کی وجہ خودان کے حکمران ہیں ۔دنیاکاکوئی بھی ملک ایسانہیں ہے جس کے حاکم اورمقتدرلو گ بدعنوانی کے کیچڑ میں لتھڑے ہوئے نہیں ہیں حتیٰ کہ سعودی عرب جیسے ملک میں بھی پانامہ لیکس اورپیراڈائز لیکس نے پنجے گاڑرکھے ہیں اوروہاں اب کرپشن کاانسداد مذہبی فریضہ بنادیاگیاہے اورغالباََ یہی وجہ ہے کہ ا س مرتبہ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کوسعودی عرب کے اپنے دور ے سے عمرہ اورروضہ رسولؐ پرحاضری کی سعادتوں اوراپنے حق میں گڑگڑا کر دعائیں کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ملالہٰذا اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے جن اربابِ اختیار کے ہاتھوں میں کرپشن مافیاکے خلاف کرداراداکرنے کی ذمہ داری ہے وہ کسی قسم کے دباؤ،لالچ اورذاتی منفعت ومنافقت کے معاملات میں الجھے بغیراللہ اوررسولؐ کے نام پر اورپاکستان کے آئین کے مطابق اٹھائے گئے اپنے اپنے حلفوں کی مکمل پاسداری کے مطابق فیصلے کرکے پاکستان میں کرپشن میں ملوث افراد کومکمل طورپر کیفرکردارتک پہنچادیں۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
ایران کے ساتھ مراسم
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں