نظر ثانی کی درخواستوں پر فیصلہ

سابق وزیراعظم نواز شریف پر گزشتہ روز احتساب عدالت میں بدعنوانی کے تین مقدمات میں فرد جرم عائد کر دی گئی۔ نواز شریف نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے خلاف قائم کئے گئے مقدمات کو سیاسی قرار دیا ہے ۔ اس دوران گزشتہ روز سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے 28 جولائی کے فیصلہ کے خلاف نواز شریف کی طرف سے دائر نظرثانی کی درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا۔ اس بارے میں مختصر حکم نامہ میں ان درخواستوں کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ یہ حکم لاہور کے حلقہ این اے 120 میں ضمنی انتخاب سے دو روز پہلے 15 ستمبر کو جاری کیا گیا تھا۔ سیاسی اور قانون دان حلقوں میں نواز شریف کی چھوڑی ہوئی نشست پر ضمنی انتخاب سے عین پہلے نظر ثانی کی درخواستوں کو مسترد کرنے کے حکم کو معنی خیز انداز میں دیکھا گیا تھا۔ اب تفصیلی فیصلہ میں بھی سپریم کورٹ کے ججوں نے درشت اور سخت لب و لہجہ اختیار کرنا ضروری سمجھا ہے ۔ 23 صفحات پر مشتمل اس فیصلہ میں نہ صرف یہ کہ درخواست دہندگان کے تمام اعتراضات کو مسترد کر دیا گیا ہے بلکہ سابق وزیراعظم کو دھوکے باز قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’نواز شریف نے عوام اور عدالت کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی ہے ۔ لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہے ہیں کہ آپ کچھ لوگوں کو کچھ وقت کے لئے اور بعض لوگوں کو ہمیشہ کے لئے بے وقوف بنا سکتے ہیں لیکن سب لوگوں کو ہمیشہ بے وقوف نہیں بنا سکتے ‘‘۔ اس طرح نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دینے کے فیصلہ پر حتمی مہر ثبت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ایک ایسا فیصلہ جاری کیا ہے جسے ایک سیاسی بیان سے زیادہ حیثیت نہیں دی جا سکتی۔نواز شریف نے اس فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ججوں کا بغض اور عناد قرار دیا اور کہا کہ اس سے ان کا غصہ ظاہر ہوتا ہے ۔ سابق وزیراعظم نے احتساب عدالت میں پیشی کے بعد اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ’’ گزشتہ 70 برس میں ہماری عدلیہ نے کئی سیاہ اوراق لکھے ہیں۔

ایران کے ساتھ مراسم

جب بھی ملک میں آمریت آئی ایسے ہی فیصلے کئے گئے ۔ آج بھی جو فیصلہ آیا ہے ، وہ بھی تاریخ کا ایک سیاہ باب ثابت ہوگا‘‘۔ نواز شریف اور ان کی پارٹی کی طرف سے اس تفصیلی فیصلہ پر مایوسی اور ان کے سیاسی مخالفین کی طرف سے خوشی کے بھرپور خیر مقدمی بیانات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سپریم کورٹ اس وقت قانون کے نگران ادارے سے زیادہ سیاسی رہنمائی کرنے والے ادارے کی حیثیت اختیار کر چکی ہے ۔ یہ فیصلہ ایک بار پھر یہ سوال سامنے لاتا ہے کہ کیا ملک کی اعلیٰ ترین عدالت پارلیمنٹ کا احترام کرتے ہوئے ملک کے آئین اور مروجہ قوانین کے مطابق فیصلے کرنا ضروری سمجھتی ہے یا وہ ملک کے سیاسی فیصلوں میں اہم اور طاقت ور حصہ دار کے طور پر کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتی ہے ۔اس سے قبل فوج ملک کی سیاست میں مداخلت اور عدالت کے تعاون سے طویل مدت تک فوجی حکومتوں کے ذریعے یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ محض ملک کے دفاع اور حکومت کی قائم کردہ حدود کے اندر فرائض ادا کرنے کی پابند نہیں ہے بلکہ وہ نہ صرف خارجہ و سکیورٹی پالیسیوں میں اپنی رائے کو شامل کروانا چاہتی ہے بلکہ اس بات کی خواہشمند ہے کہ ملکی معاملات میں اسے حتمی فیصلہ کرنے والی قوت کے طور پر قبول کیا جائے ۔ ملک کی مختلف سیاسی قوتوں کی ہوس اقتدار اور دوسرے کا راستہ کاٹ کر خود حق حکمرانی حاصل کرنے کی خواہش اور کوششوں کی وجہ سے فوج کو کسی حد تک یہ حق حاصل بھی ہو چکا ہے ۔ اسی لئے ملک کی منتخب حکومت اور فوج کے ترجمان کو بار بار یقین دلانا پڑتا ہے کہ فوج آئین کی خلاف ورزی کرنے یا ملک میں جمہوریت کا راستہ روکنے کا ارادہ نہیں رکھتی لیکن اس کے باوجود ان بیانات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی اور یہ چہ میگوئیاں اور قیاس آرائیاں جاری رہتی ہیں کہ موجودہ جمہوری نظام کتنے دنوں کا مہمان ہے ۔ اس کے علاوہ فوج نے سیاسی فیصلوں پر مسلسل مداخلت کے ذریعے ’’قومی مفاد‘‘ اور ’’نظریہ پاکستان‘‘جیسی اصطلاحات کی خود ساختہ وضاحت کرنے اور اسے تسلیم کروانے کا اختیار بھی حاصل کر لیا ہے ۔ اس حوالے سے براہ راست بھی اظہار خیال ہوتا رہتا ہے لیکن عام طور سے مختلف مذہبی گروہوں کے ذریعے ان نعروں کو سامنے لانے اور سیاسی قوتوں کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے کا مجبور کیا جاتا ہے ۔
اب سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں فیصلہ اور نظر ثانی کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے سخت اور ذاتی کردار کشی پر مبنی الفاظ استعمال کرکے ایک نئی عدالتی روایت قائم کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ اسی مقصد کے لئے قانون کی حدود میں فیصلہ کرتے ہوئے خالص قانونی اور عدالتی زبان بھی استعمال کی جا سکتی تھی،تاہم جب سپریم کورٹ کے جج اپنے فیصلوں میں شعر و افسانہ کا حوالہ دیتے اور دیو مالائی کرداروں کی مثالیں پیش کرتے ہیں تو اس کا صرف ایک ہی مقصد سامنے آتا ہے کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلوں کے ذریعے کسی خاص معاملہ میں حکم صادر کرنے کے علاوہ اس حکم کو عوامی سطح پر مقبول بنانے کی کوشش بھی کر رہی ہے ۔ فیصلہ کی زبان اور لب و لہجہ یہ واضح کرتا ہے کہ فاضل جج حضرات صرف مقدمہ کے فریقین اور ان کے وکیلوں تک ہی مواصلت کے خواہاں نہیں ہیں بلکہ وہ ملک کے عام لوگوں کو مخاطب کرنے اور براہ راست انہیں بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے لیڈر بے ایمان، بدعنوان اور ناقابل اعتبار ہیں۔ کسی عدالت کی طرف سے اس قسم کی خواہش کا اظہار آئین کی مقررہ حدود سے تجاوز کرنے کے مترادف ہی ہو سکتا ہے کیونکہ ملک کا آئین فوج کی طرح عدالتوں کو بھی سیاست کرنے کا حق نہیں دیتا لیکن جس طرح فوج نے بار بار اپنی طاقت کا مظاہرہ کرکے سیاستدانوں کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ ان کی بات مانیں اور رہنمائی قبول کریں، اسی طرح اب سپریم کورٹ کے جج یہ اصرار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ بھی ایک منظم اور بااختیار ادارے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے سیاسی معاملات میں ان کی رائے اور موڈ کا بھی احترام ہونا چاہئے ۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ دور میں پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی کو برطرف کیا اور اب نواز شریف کے خلاف ویسا ہی فیصلہ کرکے ملکی سیاست پر اثرات مرتب کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یوسف رضا گیلانی کے خلاف فیصلہ کو سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے جوڈیشل ایکٹوازم اور سیاسی حرص سے تعبیر کیا گیا تھا لیکن موجودہ ججوں نے اسی رویہ کی تکرار کرکے یہ واضح کیا ہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین سیاسی عہدیداروں کے خلاف عدالت عظمیٰ کے فیصلے نہ کسی فرد کے وقتی جوش کا شاخسانہ ہیں اور نہ یہ ایک جج یا چند ججوں کا فیصلہ ہے بلکہ سپریم کورٹ بطور ادارہ سیاسی معاملات میں اپنی رائے تسلیم کروانے کے لئے اصرار کر رہا ہے ۔
حیرت انگیز طور پر فوج کی طرح سپریم کورٹ بھی اپنی ماضی کی غلطیوں کا ادراک کرنے اور ان سے سبق سیکھنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ فوج جمہوریت کے تسلسل اور آئین کے احترام کی بات تو کرتی ہے لیکن ماضی میں آئین شکنی کرنے والے کسی فوجی حکمران کے فیصلہ اور عمل کو مسترد کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ ایوب خان ہو یا یحییٰ خان، ضیا الحق ہو یا پرویز مشرف ، انہیں فوج کے سابق سربراہ کے طور پر عزت و احترام حاصل ہے ،حالانکہ فوج کو ان جرنیلوں کے غیر آئینی اقدامات کی تحقیقات کرتے ہوئے انہیں مسترد کرنے کی ضرورت تھی تاکہ مستقبل میں کوئی فوجی سربراہ اس بری مثال کو دہرانے کا حوصلہ نہ کرے ،لیکن فوج یہ آپشن بوجوہ اپنے ہاتھ میں رکھنے پر اصرار کرتی ہے ۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے ججوں نے مختلف حوالوں سے ’’نظریہ ضرورت‘‘دفن کرنے کی باتیں تو کی ہیں لیکن عملی طور پر نظریہ ضرورت ایجاد کرنے یا اس کے تحت آئین کا چہرہ مسخ کرنے والے اپنے پیش روؤں کے فیصلوں کو باطل قرار دینے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ سپریم کورٹ تو ذوالفقار علی بھٹو کو دی گئی پھانسی کی سزا کے حوالے سے کئے جانے والے خالصتاً سیاسی فیصلے پر نظر ثانی کرنے میں بھی ناکام رہی ہے حالانکہ یہ فیصلہ ملک کی عدلیہ کے چہرے پر بدنما داغ ہے ۔ حیرت انگیز طور پر سوموٹو اختیار کے تحت موجودہ سیاستدانوں کے خلاف سنگین ترین فیصلے صادر کرنا تو عین قانونی و آئینی
ٹھہرا ہے لیکن اس اختیار کو ماضی میں انسانی حقوق، عوامی استحقاق اور جمہوریت کا قتل کرنے والے ججوں کے خلاف استعمال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ منتخب وزیراعظم کو جھوٹا، گاڈ فادر اور مافیا کا سربراہ قرار دینا سہل ہے لیکن ملک کا آئین توڑنے اور عدالتوں کے ججوں کی توہین کا مرتکب ہونے والے فوجی سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو انصاف کے کٹہرے تک لانے کے لئے سپریم کورٹ کی خود مختاری اور انصاف پسندی خواب خوگوش کے مزے لینے لگتی ہے ۔فوج اور سپریم کورٹ کے ان رویوں کی وجہ سے ہی سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے تجویز پیش کی تھی کہ سیاستدانوں ، فوج اور عدلیہ کو باہمی تبادلہ خیال کے ذریعے آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنا چاہئے ۔ یہ تجویز ناقابل عمل بھی ہے اور ناقابل قبول بھی ہونی چاہئے کیونکہ اس پر عمل کرنے سے اس بات کو اصولی طور پر تسلیم کر لیا جائے گا کہ ریاست کا کوئی بھی ادارہ پارلیمنٹ کے اختیارات میں نقب لگا سکتا ہے ۔ ملک کے مضبوط آئینی اداروں کا غیر آئینی رویہ جمہوریت کی نشوونما اور ترویج کے لئے سنگین مسئلہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔
اس لئے یہ بات وجہ حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ پاکستان کے عوام میں جمہوریت پر بداعتمادی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ اس بارے میں صرف سیاستدانوں کی بے اعتدالیوں کی وجہ سے ہی لوگ مایوس ہوئے ہیں تاہم فوج اور سپریم کورٹ کو بوجوہ جو احترام، تقدس اور طاقت حاصل ہے ، اس کی وجہ سے اس کا سارا بوجھ سیاستدانوں پر ڈال دیا جاتا ہے ۔ اس حوالے سے ضرور سیاستدان بھی قصور وار ہیں کہ وہ آئین کے احترام کو یقینی بنانے کے لئے پارلیمنٹ کو موثر طریقے سے استعمال کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اور اقتدار کے شارٹ کٹ میں فوج اور سپریم کورٹ کو استعمال کرنے کی روایت قائم کرتے رہے ہیں۔ اسی روایت اور طرز عمل نے غیر جمہوری اداروں کو توانا اور سیاسی ہوس کا اسیر بنا دیا ہے ۔

سیاسی عمل کاخون نہ کیاجائے!

ا ن دنوں ایک طرف توالیکشن2018ء کاہرطرف بہت زیادہ چرچاہے او ردوسری طرف اس قسم کے خدشات بھی موجود ہیں کہ شاید2018ء کے انتخابات بروقت نہ ہوسکیں کیونکہ قومی سیاسی حلقوں میں ایک تونئی مردم شماری پربہت سے اختلافات پائے جاتے ہیں اوردوسری طرف اس قسم کے بیانات بھی شدومد کے ساتھ جاری ہیں کہ ملک میں سے کرپشن کاگندصاف کرنے سے لے کرقومی سلامتی کو درپیش معاشی اورمعاشرتی مسائل کے حل ہونے تک ملک میں ٹیکنوکریٹس حکومت قائم کی جارہی ہے۔پاکستان کے آئین میں اس قسم کی حکومت کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن اس کے باوجود سیاسی حلقوں میں اس قسم کی حکومت کی آمد کے حوالے سے خدشات موجود ہیں ۔کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ملک میں ٹیکنوکریٹ حکومت نہیں آسکتی ہے کیونکہ اس حوالے سے ملک کے وزیراعظم بہت واضح الفاظ میں اپنے خدشات کااظہارکرچکے ہیں حتیٰ کہ حکمران جماعت کے اہم لیڈراورملک کے سابق داخلہ چوہدری نثارعلی خان کووزیراعظم کی طرف سے ٹیکنوکریٹ حکومت کے خدشے کے اظہارپریہ کہناپڑا کہ انہیں اس قسم کی بات نہیں کرنی چاہیے تھی لیکن شاہدخاقان عباسی نے اس سلسلے میں لگی لپٹی سے کوئی کام نہیں لیا۔ان دنوں نئی حلقہ بندیوں کے لیے آئینی ترمیم پرحکومت اپوزیشن ڈیڈلاک برقرا رہے اورکوئی بریک تھرونہیں ہوسکا۔حکومت اپوزیشن کے تحفظات دورکرنے کی ہرچند بہت زیادہ مساعی کررہی ہے۔ایم کیوایم کے تحفظات بھی بلاجواز نظر نہیں آتے۔بہت حیرت کی بات ہے کہ کراچی کی آبادی بڑھنے کے بجائے کم ہوگئی ہے۔کراچی میں دہشت گردی اورایم کیوایم کی مسلسل غنڈہ گردی کے باعث بہت سے خاندانوں نے کراچی سے نقل مکانی کرلی ہے۔صوبہ پنجاب اورصوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے بہت سے گھرانوں نے ،کراچی کے پرآشوب حالات اورفیکٹریوں میں سینکڑوں افراد کوزندہ جلانے جیسے واقعات کے بعدکراچی کوچھوڑدیاہے اوراس طرح ایساتویقیناًہواہے کہ کراچی کے حالات نے بہت سی آباد ی کووہاں سے نکال باہر کیاہے لیکن اس کے باوجود کراچی کی آبادی میں 80لاکھ نفوس کی کمی کاہوجاناقرین قیاس نہیں تھا۔ایم کیوایم کاحلقہ بندیوں کے حوالے سے حکومت سے اختلاف اپنی جگہ ،پیپلزپارٹی بھی ڈیڈلاک کوبرقرار رکھے ہوئے ہیں ،حکومت کی طرف سے ایک بیان میں یہ توقع ظاہرکی گئی تھی کہ 2018ء میں قومی انتخابات کویقینی بنانے کے لیے پیپلزپارٹی اورپاکستان تحریک انصاف جیسی بڑی سیاسی جماعتوں کوانتخابی حلقہ بندیوں کے حوالے سے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بل کی منظوری کے لیے حکومت کا ساتھ دیناچا ہیے۔اس وقت جب یہ سطریں لکھی جارہی ہیں انتخابی حلقہ بندیوں پرحکومت اوراپوزیشن پارٹیوں میں قائم ڈیڈلاک برقراررہے۔پیپلزپارٹی اورمتحدہ دونوں کی طرف سے حکومتی بل کی حمایت سے صاف انکار کے علاوہ دیگرتمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے بشمول پی ٹی آئی ،اے این پی،جماعت اسلامی اورجمعیت علمائے اسلام،سب کی سب سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس خدشے کوبہرطورمحسوس کیاجارہاہے کہ2018ء کے الیکشن معرض التواء میں پڑسکتے ہیں ۔ایک توٹیکنوکریٹس کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی طرف سے قبل از وقت شروع کی گئی انتخابی مہم کے روکے جانے کااندیشہ محسوس کیاجارہاہے اوردوسرے نئی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیاں نہ ہونے کے حوالے سے بھی اندیشہ ہے کہ الیکشن کمیشن بروقت انتخابات نہیں کرواسکے گا۔پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے کہاجارہاہے کہ وہ نئی مردم شماری کوپس منظر میں رکھ کر آبادی کی پرانی فہرستوں پربھی انتخابات میں جانے کوتیار ہے۔انتخابات کوموخر ہونے سے بچانے کے لیے یااس خدشے سے نبردآزما ہونے کے لیے کہ ملک کی اسٹیبلشمنٹ ،ملک سے کرپشن کاگندصاف کرنے کے بہانے،حکومت کاآئینی وقت ختم ہونے پرسپریم کورٹ سے ملک کے وسیع ترمفاد میں ٹیکنوکریٹ حکومت قائم کرکے انتخابات کوسال ،دوسال کے لیے موخر کرسکتی ہے اگرچہ اس وقت شاید عدالت عظمٰی نظریہ ضرورت کے لیے کوئی فیصلہ نہ دے سکے اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کوبھی سوچ لیناچاہیے کہ ان کے روئیے پرحکومت انتخابات میں تاخیر کوقبول کرلینے کاعندیہ دے سکتی ہے کہ اس وقت برسراقتدار مسلم لیگ ن کوپارٹی کی مثبت خطوط پرشیرازہ بندی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اور2018ء میں آئندہ قومی انتخابات نہ ہوسکے تواس کاسب سے زیادہ نقصان پاکستان تحریک انصاف کوہوگا کہ کوئی مانے یانہ مانے یہ حقیقت ہے کہ اس وقت پاکستان تحریک انصا ف ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اورحکمران جماعت سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کی متعددنامی گرامی شخصیات ،2018ء کے انتخابات کاطبل بجتے ہی اپنی اپنی پارٹیوں کوچھوڑکرپاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم پرآن کھڑا ہونے کے لیے تیار ہیں۔قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایازصادق کی طرف سے اپوزیشن جماعتوں کو حکومتی بل کی حمایت پر آمادہ کرنے کی انتہائی پرخلوص مساعی کی جاچکی ہیں اورہمیں یقین ہے کہ وہ 2018ء کے انتخابات میں التواء اورکسی ان جانے اشارے پرقائم ہونے والی ممکنہ ٹیکنوکریٹ حکومت کاامکان ختم کرنے کے لیے اپنے اپنے اعتراضات کوبہت حد تک واپس لے لینے پرسیاسی جماعتوں کو رضامند کرلیں گے اوروہ اب اس سلسلہ میں ایک آخری اورغالباََمثبت پیش رفت کرنے والے ہیں ۔حکمرانوں اوراپوزیشن سیاسی پارٹیوں کوانتخابات کے التواء سے بچنے کے لیے عقل کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔اگرایک سال کے لیے بھی ٹیکنوکریٹ آگئی توملک کاموجود ہ سیاسی منظرنامہ بالکل تبدیل ہوسکتاہے او راس قسم کے حالات میں انتخابات 2018ء کاانعقاد سیاسی عمل کاخون کردینے کے مترادف ہوگا۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
نظر ثانی کی درخواستوں پر فیصلہ
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں