کراچی کی سیاست کے ڈرامائی موڑ

کراچی کے سیاسی پانیوں میں تلاطم برپاہے۔عرصے سے ساکت ان پانیوں میںیک بیک نامعلوم سے ایک پتھرگراجسے اسٹیبلشمنٹ سے منسوب کیاگیااورجس نے اُس وقت ہلچل پیداکردی جب مصطفےٰ کمال کی پاک سرزمین پارٹی اوربعدازالطاف حسین کی ایم کیوایم (فاروق ستارمارکہ)نے انتخابی اتحاد کااعلان کردیا۔چونکادینے والے اس اتحا د میں یہ بیانیہ سامنے آیاکہ دونوں دھڑے آئندہ انتخابات میں ایک نئے نام،ایک نشان اورایک پرچم تلے الیکشن لڑیں گے۔پریس کلب کراچی میں ہونے والی ،مصطفےٰ کمال اورفاروق ستارکی یہ مشترکہ پریس کانفرنس سیاسی تجزیہ نگاروں کے لیے اس وقت معنی خیز ہوگئی تھی جب ایک موقع پرفاروق ستارنے کہاکہ وہ ’’بھائی‘‘کی عظمت کوبحال کریں گے۔صحافیوں کے استفسار پراُنہوں نے اپنی بات پرتہذیب کاغلاف چڑھا دیا۔یہ امرسبھی پرعیاں ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائدالطاف حسین کو’’بھائی‘‘کہاجاتاہے اوران کی ’’عظمت‘‘22۔اگست کواس وقت گہناگئی تھی جب انہوں نے پاکستان کے خلاف اول فول بکاتھا اورفارو ق ستار کوپارٹی بچائے رکھنے کے لیے الطاف حسین سے ناتاتوڑ کرایم کیوایم پاکستان کولندن سے علیحدہ کرناپڑاتھا،چنانچہ دورات قبل کی پریس کانفرنس میں ہونے والے اتحاد کے بارے میں جومقاصدسامنے رکھے گئے ،ان میں لفظ مہاجرسے جان چھڑانا،علاقائی ولسّانی سیاست کے بجائے ملکی سیاست کرنااورکراچی کے ووٹ بنک کوتقسیم ہونے سے بچاناتھا۔سیاسی ماہرین کے نزدیک اگرچہ ان مقاصد کاحصول ایم کیوایم کی بقا کے لیے ضروری تھا،لیکن یہ اتحادضرورت کی ایسی شادی دکھائی دے رہاتھاجس میں سیاسی نکاح ٹوٹنے کے امکانات بڑے نمایاں تھے ۔اورگزشتہ رات اس وقت اس نئے گٹھ بندھن کوسیاسی طلاق ہوگئی جب فاروق ستار نے اپنے گھرپربُلائی گئی ایک نئی پریس کانفرنس میں مصطفےٰ کمال کوتنقید کانشانہ بناتے ہوئے ایم کیوایم کوقائم رکھنے اورمہاجروں کے حقوق کی خاطرسیاسی جدوجہد کرتے رہنے کاعزم ظاہرکیا۔انہوں نے اپنی طویل پریس کانفرنس کے اختتام پرنہایت ڈرامائی انداز میں سیاست کوخیرباد کہنے کابھی پرنم آنکھوں کے ساتھ اعلان کیا۔یہ اعلان تاہم انہوں نے’’الطاف حسین اسٹائل‘‘میں کارکنوں کے’’اصرار‘‘اوراپنی والدہ کے حکم کی تعمیل میں واپس لے لیا۔

نظر ثانی کی درخواستوں پر فیصلہ

گزشتہ سے پیوستہ روز کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار اور پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے دونوں پارٹیوں کا سیاسی اور انتخابی اتحاد بنانے کا اعلان کیا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے کہا تھاکہ کراچی کے ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچانے اور شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم کراچی کی سیاست اور ان دونوں پارٹیوں کی وجہ تسمیہ جاننے والے لوگ سمجھ سکتے تھے کہ دو متحارب اور ایک دوسرے کو مہاجروں اور کراچی کے شہریوں کا دشمن قرار دینے والے دو گروہ اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر اتفاق رائے پیدا کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس طرح سال سے بھی کم مدت میں ہونے والے متوقع انتخابات سے پہلے یہ اشارے دیئے جارہے ہیں کہ اس بات کا فیصلہ صرف عوام کے ووٹ نہیں کریں گے کہ کون اسمبلیوں میں ان کی نمائیندگی کرے گا بلکہ اس کا فیصلہ ملک کے بعض با اختیار حلقے کریں گے جو کراچی یا دوسرے لفظوں میں ملک کا برا بھلا باقی سب سے زیادہ سمجھتے ہیں۔اسی لئے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو یہ کہنے کا موقع ملا تھا کہ یہ اتحاد اسٹیبلشمنٹ نے کروایا ہے اور اس کی حیثیت کچرے سے زیادہ نہیں ۔ الطاف حسین کے ملک دشمنی پر مبنی نعروں پر سامنے آنے والے رد عمل کی وجہ سے انہیں پاکستانی سیاست میں حاصل حیثیت سے محروم ہونا پڑا تھا۔ اس کے بعد ریاست نے تمام اختیار استعمال کرتے ہوئے الطاف حسین کو کراچی کی سیاست سے غیر متعلق کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔ اس مقصد کے لئے پہلے مصطفی کمال اور ان کے چند ساتھیوں کے ذریعے پاک سرزمین پارٹی کی داغ بیل ڈالی گئی اور جب یہ واضح ہو گیا کہ اس طرح ایم کیو ایم کی قوت کو توڑنا ممکن نہیں ہے تو الطاف حسین کی ایک تقریر کی بناء پر پاکستان میں پارٹی کی قیادت کو ایم کیو ایم پاکستان کے نام سے ایک نیا گروہ بنانے پر مجبور کیا گیا۔ اس طرح کراچی کی سیاست سے الطاف حسین کو بے دخل کرکے یہ کوشش کی گئی تھی کہ اب کراچی سے منتخب ہونے والے لوگ وہی زبان بولیں گے جو طاقت کے ایوانوں میں قابل قبول ہو سکتی ہے۔
کوئی باشعور اور محب وطن پاکستانی الطاف حسین کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، منفی سیاست اور کراچی میں اسلحہ اور تشدد کے زور پر عوام کو ہراساں کرنے کے ہتھکنڈوں کی حمایت نہیں کرسکتا، لیکن اس کے ساتھ ہی قانون کے تحت کسی بھی لیڈر کو اس کے جرائم کی سزا تو دی جا سکتی ہے لیکن عوام کو اس بات پر مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ملک میں طاقت کے بعض مراکز کے پسندیدہ امیدواروں کو ووٹ دیں۔ ترسوں شام ہونے والا اتحاد الطاف حسین کی تائید کرنے والے لوگوں کو تنہا کرنے کی ایسی ہی کوشش تھی جس کے منفی اثرات بھی سامنے آگئے ہیں۔
ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کا انتخابی اتحاد اسی طرف اٹھایا جانے والا قدم تھا ۔ یہ اندازہ کیا جا رہا تھا کہ یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ کر انتخابی کامیابی حاصلنہیں کرسکیں گے لیکن اگر ان میں اتحاد کروا دیا جائے تو یہ آئیندہ برس منعقد ہونے والا انتخابی معرکہ میں سرخرو ہو جائیں گے ۔ اس طرح یہ کہا جا سکے گا کہ الطاف حسین کراچی کی سیاست سے باہر ہو چکے ہیں اورعوم نے ان کی ملک دشمن سیاست کو مسترد کردیا ہے ۔ ملک کے عوام خواہ وہ کسی بھی خطے میں رہتے ہوں ، اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں لیکن ریاست کے جبر اور جمہوری انتظام میں مداخلت اور نگرانی کے باعث جب لوگ اپنے حقیقی نمائیندوں کے ذریعے اپنے مسائل حل کروانے میں ناکام رہتے ہیں تو مایوسی پیدا ہونا فطری بات ہے ۔ الطاف حسین جیسے لیڈر اس مایوسی کو اپنی مقبولیت اور غیر قانونی طاقت میں اضافہ کے لئے استعمال کرتے ہیں تاہم اب کراچی میں جو جعلی اتحاد قائم کروانے کی کوشش کی گئی تھی ، اس سے الطاف حسین کو ایک بار پھر کراچی میں پاؤں جمانے اور عوام کو یہ بتانے کا موقع مل جائے گا کہ انہیں کیوں پاکستان کی سیاست سے غیر متعلق کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ان حالات میں ان کی کھوئی ہوئی سیاسی قوت ایک بار پھر بحال ہو سکتی ہے ۔کراچی کے حوالے سے یہ اشارے بھی دیئے جاتے رہے ہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ کے تمام دھڑوں کو اکٹھا کرکے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو اس
کی سربراہی دے دی جائے ۔ ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے اعلان کے بعد پرویز مشرف نے آگے بڑھ کر اس کا خیر مقدم کیا ۔ اسی طرح ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی اس بات کو مسترد نہیں کیا تھا کہ پرویز مشرف کو نئے اتحاد یا اس کے نتیجہ میں بننے والی نئی پارٹی میں اہم رول دیا جا سکتا ہے ۔ اس قسم کی خبروں اور کوششوں سے یہ تاثر قوی ہوتا رہا کہ پرویز مشرف کو بدستور ملک کی فوج اور اس کے طاقتور اداروں کی تا ئید و حمایت حاصل ہے ۔ اور طاقت کے یہ مراکز بدستور یہ سمجھتے ہیں کہ پرویز مشرف بدستور ملک کے عوام میں مقبول ہیں، وہ نئی سیاسی بندر بانٹ میں ایک بار پھر ملک کی قیادت کی ذمہ داریاں سنبھال سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ بندی کرتے ہوئے یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ پرویز مشرف کو غداری اور نواب اکبر بگٹی اور بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمات کا سامنا ہے ۔ وہ فوج کے تعاون سے ہی ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے ۔اب نواز شریف کو اقتدار سے محروم کرنے اور سیاست میں ان کے لئے مشکلات کھڑی کرنے کے بعد یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ پرویز مشرف کی ملک میں واپسی کا راستہ ہموار ہو نے لگا ہے کیوں کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کے خلاف کی جانے والی کارروائی صرف نواز شریف کے ذاتی عناد اور ضد کا نتیجہ تھی، تاہم ایسی کوششوں سے جمہوریت سے زیادہ ملک کے اداروں پر لوگوں کا اعتبار مجروح ہو گا۔ نواز شریف اس وقت عدالتوں کو اپنے مسائل و مصائب کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں لیکن ان کو مسترد کرکے ایسے شخص کو سیاسی منظر نامہ میں جگہ دلوانے کی کوشش کی گئی جو ملک کے آئین کی خلاف ورزی کامرتکب ہو چکا ہے تو سیاسی بحران میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس قسم کی ‘ کنٹرولڈ جمہوریت’ مسائل حل کرنے کی بجائے مشکلات، بد اعتمادی اور تصادم پیدا کرنے کا سبب بنے گی۔

محکمہ ماحولیات،سموگ اورخادم پنجاب کی برہمی

وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کی زیرصدارت ایک اجلاس میں سموگ کی وجوہا ت اوراس سے نمٹنے کے لیے اٹھائے جانے والے احتیاطی اقدامات کے بارے میں محکمہ ماحولیات سمیت دیگرمتعلقہ محکموں کے ذمہ داروں کی گوشمالی کرتے ہوئے استفسار کیاکہ ایک برس گزرجانے کے باوجود انسدادی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے ۔انہوں نے اجلاس میں شریک افسروں اورمنصوبہ سازوں سے کہاکہ’’اب سرپرپڑی ہے توآپ جاگ اٹھے ہیں ،کیاسرکاری فرائض کی انجام دہی کا یہی طریقہ ہے‘‘؟انہوں نے ہدایت کی کہ سموگ کی پریشان کن صورتحال کی مسلسل مانیٹرنگ جاری رکھنے کے ساتھ انسدادی واحتیاطی اقدامات تیز کیے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے لاہور کے علاقے اسلام پورہ کے موٹرسائیکل سوار شہری کے گلے پرڈورپھرنے کابھی نوٹس لیتے ہوئے علاقہ کے ڈی ایس پی اورایس ایچ او کو ذمہ دارٹھہراتے ہوئے فوری معطل کردیا۔انہوں نے لاہور میں بڑھتی پتنگ بازی پربھی غم وغصے کااظہار کیااورپتنگ بازی پرپابندی کے قانون کی خلا ف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی ۔لندن میں ایک ہفتہ قیام کے دوران بھی وہ وڈیولنک کے ذریعے صوبائی انتظامیہ اورکابینہ ارکان کے ساتھ رابطے میں رہے اورامن وامان سمیت دیگر محکمانہ اقدامات کی لمحہ بہ لمحہ تفصیلات حاصل کرتے رہے جواس بات کاواضح ثبوت ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے اورساڑھے10کروڑعوام کے حقوق کے تحفظ کاانہیں شدت سے احساس ہے۔سموگ نے گزشتہ ایک ہفتے سے پورے صوبے کی فضاؤں کواپنی لپیٹ میں لے رکھاہے۔بڑی بڑی شاہراہوں ،موٹرویز اورمضافات میں زبردست دھند کے باعث جگہ جگہ ٹریفک حادثات کے باعث اب تک 50کے قریب انسان جان کی بازی ہارچکے ہیں جبکہ درجنوں زخمی ہوکر ہسپتالوں میں زیرعلاج پڑے ہیں۔سموگ کی وجہ سے شام کے بعدصورتحال مزید گھمبیرہوجاتی اورحدنگاہ صفرہوجاتی ہے جس سے آمدورفت شدیدمتاثر ،ٹریفک روانی مفلوج جبکہ کاروبارزندگی بری طرح رکاوٹوں ،مشکلات مسائل کی شکارہوچکی ہے ۔ٹریفک کی آمدورفت صرف سفری ضروریات ہی پوری نہیں کرتی بلکہ اشیائے خورونوش،کارخانوں ،فیکٹریوں اورصنعتی یونٹوں میں استعمال ہونے والے خام مال کی ترسیل متاثر،زخمیوں اوربیماروں کوہسپتالوں میں پہنچانے کے لیے ایمبولینس سروس بھی منجمد ہوکررہ گئی ہے۔موسمی حالات کتنے ہی خراب یاغیرموافق ہوں ،زندگی کاسفر اورضروریات توختم نہیں ہوتے۔سبزی وفروٹ منڈیوں میں پھلوں اورسبزیوں کی فراہمی ،شوگرملز کوگنے کی سپلائی اوردیگراشیائے ضروریہ کی پہنچ زبردست متاثرہونے سے گرانی بڑھنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔گزشتہ ماہ خادم پنجاب نے اربوں روپے کے اخراجات سے صوبے کے پانچ بڑے اضلاع میں ڈولفن فورس لانچ کی جبکہ لاہور میں کافی عرصہ پہلے سے یہ سڑکوں پرنظر آتی ہے۔ دوہزارسے زائدتربیت یافتہ اورانتہائی طاقتور موٹرسائیکلوں پرسوارنوجوان دن بھرلاہور،فیصل آباد،ملتان ،گوجرانوالہ،راولپنڈی جیسے شہروں میں شان بے نیازی کے ساتھ گھومتے نظرآتے ہیں۔بظاہر اس فورس کے قیام کامقصد شہروں کی مصروف شاہراہوں کے علاوہ رہائشی آبادیوں اورکمرشل علاقوں میں پٹرولنگ اورسماج دشمنوں ،سٹریٹ کرائم میں ملوث افراد،جرائم پیشہ اورگلیوں محلوں میں قفل شکنی یامنشیات فروشی میں ملوث افرادپرکڑی نظر رکھناہے مگر گہرائی سے دیکھاجائے تو ڈولفن فورس معاشرتی جرائم میں کمی اورعوام کے جان ومال کی حفاظت کی بجائے سفیدلائنوں والے کالے یونیفارم میں ملبوس ہوکرمحض اپنی ادائیں دکھاتے یاجرائم پیشہ افراد سے دیہاڑیاں بنانے میں مصروف نظرآتے ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی خزانے سے بھاری تنخواہیں اورموٹرسائیکلوں کے لیے پٹرول لینے والے ان ہزاروں نوجوانوں کو وقتی طورپر سموگ کے باعث ٹریفک روانی برقرار رکھنے کے لیے بڑ ی بڑی شاہراہوں پرفرائض سنبھالنے کی ہدایت کی جائے تاکہ مجبوری یاضرورت کے تحت سفرکرنے والے کار،موٹرسائیکل ،ویگن ،منی ٹرک،لانگ وہیکلز ،کوچز اوربسوں کی آمدورفت میںآسانی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیاجاسکے جبکہ دھند کی صورتحال بہتر ہونے پرڈولفن فورس کوسٹریٹ کرائم کنٹرول کرنے کے ساتھ پتنگ بازوں کی روک تھام کے لیے استعمال کیاجاسکتاہے۔امید ہے پنجاب حکومت اس طرف بھی توجہ دے گی۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
کراچی کی سیاست کے ڈرامائی موڑ
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں