پاکستان میں سیاسی تلاطم اور معیشت

تحریر:افتخاربھٹہ

پاکستان کے سیاسی، معاشی اور ثقافتی منظر نامے میں عجیب سی کیفیات دکھائی دے رہی ہیں۔ حکمران طبقات کی لڑائی میں فوج اور عدلیہ کے کردارپر تنقیدکی جا رہی ہے ۔ پاکستان کا موجودہ سیاسی بحران دراصل نیو ورلڈ آرڈر اور سسٹم کی کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے ۔ پاکستان کے حکمران طبقات کے درمیان اتنا شدید تصادم ستر سالہ تاریخ میں پہلے نہیں آیا۔ بحران اتنا شدید ہو چکا ہے جس سے عوام ہیجانی صورتحال سے دو چار ہیں۔ حکمران طبقات کی روایتی جماعت مسلم لیگ جو دراصل انہی اداروں کی پروان کردہ ہے ، میاں محمد نواز شریف کی نااہلی کی وجہ سے ریاستی اداروں کے خلاف شدید تنقید اور محاذ آرائی میں مصروف ہیں جب کہ اس جماعت کے اندر اراکین اس محاذ آرائی کے خلاف ہیں۔ وہ درمیانی اور مصالحتی رویہ اختیار کرنے کی اپیل کر رہے ہیں تاکہ پارٹی کسی ممکنہ انتشار سے دو چار نہ ہو۔ میاں نواز شریف نے اپنے عہد اقتدار میں ہر دفعہ محاذ آرائی اختیار کرنے کی کوشش کی ہے ۔ نواز شریف کا صدر اسحاق خان کے خلاف پہلا تضاد اس وقت ابھرا تھا جب پاکستان کے حکمران طبقات کے درمیان سپلائی کے ٹھیکے دینے پر اختلاف ہوا تھا۔ نواز شریف نے اقتدار میں آنے کے بعد ہمیشہ اپنے حواریوں کو نوازنے کیلئے سرکاری خزانے کو لٹایا جس کی وجہ سے ریاست پر قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہوا۔ اندرونی اور بیرونی ممالک سے حاصل کیے جانے والے قرضے زیادہ تر غیر ترقیاتی اور غیر منافع بخش پروجیکٹس پر لگائے گئے ۔ ملک کو دیوالیہ پن سے بچانے کیلئے عالمی مالیاتی اداروں کی ہدایت پر جنرل مشرف نے 1999ء میں اقتدار سنبھال لیا۔ معیشت کی بحالی اور کرپشن کے خلاف اقدامات کرنے کا اعلان کیا جس کا زیادہ تر نشانہ سیاست دان بنے ۔ احتساب ایکٹ کے تحت بلیک میلنگ کے ذریعہ کئی اراکین اسمبلی کو جمالی حکومت کو اعتماد کا ووٹ دینے پر مجبور کیا گیا۔ نواز شریف فیملی کے خلاف بھی مقدمات قائم ہوئے جو کہ مشرف کے ساتھ معاہدہ اور سعودی عرب جانے کے بعد فائلوں میں بند ہو گئے ۔

اقبال اور معاشی انصاف کی تلاش۔۔۔(1)

نواز شریف نے 2013 ء میں بر سر اقتدار آنے کے بعد ہائی کورٹ کے فیصلے کے ذریعے حدیبہ پیپر ملز کے کیس کو بند کرا دیا۔ مشرف نے واپڈا کے نادہندگان سے بلوں کی وصولی کیلئے فوج کے ادارے کو استعمال کیا اور ملک کی معیشت کو دستاویزی بنانے کیلئے کام شروع کیا جو کہ کاروباری اور صنعتی لوگوں کے دباؤ پر روک دیا گیاجس سے ملک میں محاصل وصول کرنے کے نظام کی بہتری کو دھچکا لگا۔ اب حدیبیہ پیپر ملز کے دوبارہ کھولے جانے کے بعد سپریم کورٹ نیب کے کیس کی سماعت کرے گی۔ اس کے بارے میں فیصلہ نواز شریف خاندان کے سیاسی مستقبل کا تعین کرے گا۔ دوسری طرف کراچی میں ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی کے درمیان اتحاد کا ڈرامہ چوبیس گھنٹے سے زیادہ نہیں چل سکا ہے جس کا سبب یہ ہے کہ ایم کیو ایم مہاجر کارڈ کے ذریعے اپنے ووٹ بینک کو قائم رکھنا چاہتی ہے ۔ اور اندرونی طور پر اس کے قائد الطاف حسین کے بارے میں نرم گوشتہ رکھتی ہے ۔ پارٹی سمجھتی ہے کہ تمام ووٹ الطاف بھائی کی لیڈر شپ کا مرہون منت ہے ۔ ایم کیو ایم کے سربراہ فاروق ستار ہمیشہ اس بات کا شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ مہاجروں اور ایم کیو ایم کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے ۔ مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ تیس سال تک ایم کیو ایم نے وہاں پر بسنے والے پختونوں، سندھیوں، بلوچیوں کے ساتھ کونسا ستم روا نہیں رکھا۔ کتنے لوگوں کو اغوا کیا گیا، بوری بند لاشیں برآمد ہوئیں، تجارتی اور صنعتی کمیونٹی کو بلیک میل کرکے بھتہ وصول کیا گیا۔ ایم کیو ایم کے سیکٹرز انچارجوں نے کس طرح گسٹاپو کی طرز کی تنظیمیں قائم کرکے تمام علاقوں کو یر غمال بنائے رکھا ۔ نو گو ایریا قائم کئے گئے ۔
حالات کی خرابی کی وجہ سے بے شمار صنعت پنجاب اور دیگر صوبوں اور بنگلہ دیش میں منتقل ہو گئی۔ اب دس منٹ کے ہڑتال کے نوٹس پر شہر کو بند رکھنا ممکن نہیں رہا۔ شہر کی رونقیں لوٹ رہی ہیں مگر کراچی میں صاف پانی کی فراہمی، سیوریج سسٹم، ٹریفک کی روانی، سرکلر ماس ریلوے اور لیاری ایکسپریس کے مسائل جلد حل طلب ہیں۔ اگر تیس سال کراچی میں طویل بد امنی نہ رہتی تو آج یہ شہر بلندیوں کو چھو رہا ہوتا۔ شہر کے دانشوروں، سماجی شخصیات، فنکاروں اور سوشل سو سائٹی کے راہنماؤں کو قتل کروایا گیا۔ ہمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شکریہ ادا کرنا چاہیے جنہوں نے کراچی کے لوگوں کو سیاسی حبس بے جا اور یرغمال سے آزاد کرایا۔ دوسری طرف مصطفی کمال جو طویل عرصہ تک ایم کیو ایم کے کار خیر میں حصہ ڈالتے رہے ہیں مگر اب بڑی جرات کے ساتھ الطاف قیادت اور ایم کیو ایم سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے ۔ مہاجر سیاست کی بجائے کراچی اور حیدر آباد میں تمام بسنے والی قومیتوں کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ یہی بنیادی وجہ ہے کہ پگاڑا لیگ اور پی ٹی آئی اور سندھ کی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد میں شاید پاک سرزمین پارٹی شامل ہو جائے مگر ماضی میں ایسے ہونے والے اتحاد سندھ کی انتخابی سیاست میں کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کر سکے ہیں۔
دوسری طرف چند مذہبی جماعتوں کی طرف سے متحدہ مجلس عمل کو بحال کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے جس میں جماعت اسلامی مولانا سمیع الحق، اور مولانا فضل الرحمن اور ایک مخصوص مسلک سے تعلق رکھنے والے گروپ شامل ہوں گے ۔ مسلم لیگ نون بھی چند دنوں تک عوامی رابطہ مہم چلانے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ آصف علی زرداری انگوروں کے پیڑ سے گچھے گرنے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے مختلف ذرائع سے الیکٹ ایبلز کو اپنی پارٹی میں شامل کروانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں ۔ گزشتہ چند دنوں میں جنوبی پنجاب اور ایم کیو ایم کے منتخب اراکین اسمبلی سے ملاقاتیں کی ہیں۔ اس ساری صورتحال سے معلوم ہوتا ہے کہ ساری سیاسی جماعتوں کے اتحاد منظر عام پر جلد آ جائیں گے جبکہ سب سے اہم تبدیلی کراچی کے سیاسی منظر نامے میں دیکھی جا رہی ہے ۔ جہاں پر سندھ کی تمام پارٹیوں کے لیڈران نے گزشتہ دنوں ایک تنظیم کی طرف سے ہونے والے سیمینار میں نئی ہونے والی مردم شماری کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ مقررین کے بقول شہر کی آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ بتائی گئی ہے جسے مسترد کر دیا گیا ہے ۔ ان کے مطابق آبادی دو کروڑ پچاس لاکھ ہے اور کچھ علاقوں میں سیمپل مردم شماری کا مطالبہ کیا ہے ۔
پاکستانی معیشت کے بارے میں حکمرانوں کی طرف سے ہمیشہ خوش آئند بیانات آتے رہتے ہیں اور وہ اپنی کامیابیوں کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔ وہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا اعلان کر رہے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ لوگوں کو اس کی کیا قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے ۔ بجلی کی مد میں حکومت نے چھ سو ارب روپے کے ٹیکس وصول کیے ہیں جس کو اگر آٹھ کروڑ گھرانوں میں تقسیم کیا جائے تو فی گھر تیس ہزار سالانہ بجلی پر ٹیکس ادا کر رہا ہے ۔ حکومت نے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کیلئے سات سو اشیا پر ٹیکس لگا دیئے ہیں۔ اس طرح پاکستان کا شمار دنیا کے دس مہنگے ترین خوراک والے ممالک میں ہورہا ہے ۔ سبزیاں اور دالیں جو کہ غریب عوام کی خوراک تھی کوئی بھی سو روپے فی کلو سے کم پر دستیاب نہیں ہے ۔ ماضی میں لوگ اپنی آمدنی کا پندرہ فیصد حصہ خوراک پر خرچ کرتے تھے ، اب پچاس فیصد میں بچوں کا پیٹ نہیں بھر سکتا۔ زرعی اجناس اور سبزیوں کی وافر پیدا وار کے باوجود سستی نہیں ہیں۔ بعض زرعی ماہرین کے بقول کھاد، بیج، تیل اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس کی دوسری وجہ شہروں کے ارد گرد کھیتوں کا خاتمہ، ہاؤسنگ سو سائٹیز کی تعمیر بھی ہے ۔ سبزی کے کاشت کار مخصوص قومیت سے تعلق رکھتے تھے مگر اب انہوں نے اس زرعی رقبے کو بیچ دیا ہے ۔ جبکہ جاگیر دار زیادہ تر چاول، کپاس ، اور گندم ہی کاشت کرتے ہیں بلکہ ان کو حکومت بھی سپورٹ کرتی ہے ۔ جاگیر داری نظام زرعی پید اوار بالخصوص سبزیوں کی کاشت میں کمی کا سب سے زیادہ ذمہ دار ہے ۔ صنعتیں بند ہو رہی ہیں جس سے لاکھوں لوگ بیروز گار ہو چکے ہیں۔ تشویش کی یہ بات ہے کہ نیب، ایف آئی آر، اسٹیٹ بینک اور ایف آئی اے ملک سے کرپشن، ٹیکس چوری اور سرمایہ کی باہر منتقلی کو روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ باہر جانے والا سرمایہ زیادہ تر غیر قانونی کاروبار اور ٹیکس چوری کے ذریعے حاصل ہوتا ہے جس میں منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی طور پر لوگوں کو بیرون ملک اسمگل کرنا، سٹے بازی، اغوا برائے تاوان وغیرہ شامل ہیں۔
سب سے زیادہ اسکینڈل پنجاب میں صاف پانی کی کمپنی کی طرف سے سامنے آیا جس کے کار مختار عوام کو صاف پانی تو مہیا نہیں کر سکے مگر اربوں روپے لے اڑے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ 42ہزار کی سطح پر آ گئی ہے ۔ حکومت کون چلا رہا ہے ، کون اپوزیشن میں ہے ، کسی کو پتہ نہیں چلتا۔ آرمی چیف ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کیلئے دورے کر رہے ہیں۔ ان سے درخواست ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کو یقینی بنائیں تاکہ عوام اور صنعتوں کو سستی بجلی اور ایندھن فراہم کرکے اس بحران سے نجات حاصل کی جا سکے ۔کراچی اسٹیل مل کو چلانے کیلئے روس یا چین سے معاونت حاصل کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کو قومی مفاد کی خاطر سی پیک منصوبے میں شامل کرنا چاہیے ۔ پاکستان کے تمام وفاقی صوبائی اور عسکری اداروں کے باہمی تعاون اور منصوبہ بندی کے ذریعے سیاسی اور معاشی بحرانی کیفیات سے ملک کو نکالا جا سکتا ہے اور غریب عوام کی ریلیف کیلئے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
پاکستان میں سیاسی تلاطم اور معیشت
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں