کلبھوشن یادیو اور پاک بھارت تعلقات

پاکستان نے انسانی بنیادوں پر پاکستان میں موت کی سزا پانے والے بھارتی نیوی افسر کلبھوشن یادیو کی بیوی کو ان سے ملاقات کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزارت خارجہ کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس بارے میں اسلام آباد میں بھارت کے ہائی کمیشن کو مطلع کردیا گیا ہے ۔ یہ ملاقات خالصتاٌ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کروانے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ ملاقات پاکستان میں کروائی جائے گی۔ پاکستان اس سے پہلے بھارت کی طرف سے کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دینے سے انکارکرچکا ہے ۔ پاکستان کی طرف سے اس اعلان کے بعد دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کی امید کی جا سکتی ہے تاہم طرفین کو مزید خیر سگالی کا مظاہرہ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ تصادم کی صورت حال کو ختم کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی۔ بھارت میں نریندر مودی نے حکومت سنبھالنے کے بعد پاکستان کے ساتھ ضد اور اشتعال انگیزی کی پالیسی اختیار کی ہے جو پورے خطے کے لئے خطرات اور اندیشوں کا سبب بنی ہوئی ہے ۔کلبھوشن یادیو مبینہ طور پر گرفتاری کے وقت بھارتی نیوی کے کمانڈر کے عہدے پر فائز تھے ، گزشتہ برس مارچ میں بلوچستان کے علاقے ماشخیل سے گرفتار کئے گئے تھے ۔ ان پر پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزام میں فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔

کراچی کی سیاست کے ڈرامائی موڑ

اس سال اپریل میں انہیں جاسوسی اور تخریب کاری کے الزام میں موت کی سزا دی گئی تھی جس کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تصدیق بھی کردی تھی، تاہم عالمی عدالت انصاف نے بھارت کی درخواست پر مداخلت کرتے ہوئے اس سزا پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیا تھا۔ عالمی عدالت نے پاکستان کا یہ مؤقف تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا کہ عدالت کو اس معاملہ پر غور کرنے یا کوئی فیصلہ صادر کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔ اب عالمی عدالت انصاف میں حتمی فیصلہ تک پاکستان کلبھوشن کی پھانسی کی سزا مؤخر رکھنے کا پابند ہے ۔بھارت اس بات سے انکار کرتا ہے کہ کلبھوشن یادیو پاکستان میں جاسوسی کے لئے گیا تھا یا اسے پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ یادیو ایران میں کاروباری سلسلہ میں مقیم تھا اور پاکستانی ایجنٹوں نے اسے وہاں سے اغوا کیا تھا۔ کلبھوشن کے قبضہ سے پاکستانی اہلکاروں کو جو پاسپورٹ ملا تھا اس پر اس کا نام حسین مبارک پٹیل لکھا تھا۔ اس طرح بھارت کا مؤقف اس حد تک کمزور ثابت ہوتا ہے کہ کلبھوشن ایک عام شہری تھا اور وہ پاکستان نہیں گیا تھا۔ بھارت کی طرف سے کلبھوشن یادیو کو موت کی سزا دینے پر سخت رد عمل ظاہر کیا گیا تھا اور وزیر خارجہ سشما سوراج نے یادیو کو ‘بھارت کا سپوت’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسے پھانسی دینے کی صورت میں پاکستان کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ اس کے علاوہ مختلف تنظیموں اور گروہوں نے بھی کلبھوشن کے معاملہ پر پاکستان کے خلاف مظاہرے کرنے اور الزام تراشی کا سلسلہ شروع کیا تھا۔
پاکستان کلبھوشن کی گرفتار ی کو اپنے اس مؤقف کے ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے کہ بھارت افغانستان کے راستے پاکستان میں تخریب کاری میں ملوث ہے اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان دشمن عناصر کو دہشت گردی کے لئے تیار کرتا ہے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کلبھوشن یادیو کی گرفتاری سے پہلے بھی کشیدہ تھے ۔ نریندر مودی کی حکومت متعدد بار مذاکرات شروع کرنے پر متفق ہو کر اس سے منحرف ہو چکی تھی تاہم کلبھوشن کی گرفتاری اور اسے موت کی سزا دیئے جانے کے بعد بھارت کا رویہ زیادہ درشت ہو گیا تھا۔ پاکستان نے بھی کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد اس معاملہ میں بھارت کو کوئی رعایت دینے سے انکار کیا تھا۔ اور بار بار درخواست کے باوجود بھارتی ہائی کمیشن کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی نہیں دی گئی تھی۔ پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ کلبھوشن پاکستان میں دہشت گردی منظم کروانے کے مقصد سے پاکستان آیا تھا کہ گرفتار ہو گیا۔ ایک اعترافی بیان میں کلبھوشن یادیو نے خود بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ بھارتی نیوی کا افسر ہے اور گرفتاری کے وقت ‘را ’ کے ایجنٹ کے طور پر پاکستان آیا ہؤا تھا۔
اس دوران مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کی تحریک کی وجہ سے بھارت نے لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی میں اضافہ کرکے پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کرنے کی کوششیں بھی کی ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے بھارت کو متعدد بار مذاکرات کی پیش کش کی ہے اور کشمیر کے معاملہ پر خاص طور سے بات چیت کرنے اور کوئی پر امن اور قابل قبول حل تلاش کرنے کی دعوت دی ہے لیکن مودی حکومت پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کرکے مذاکرات سے انکار کرتی رہی ہے ۔ اس کے برعکس پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت افغانستان میں پاکستان دشمن عناصر کو مالی امداد اور فوجی تربیت فراہم کرتا ہے اور پاکستان میں ہونے والی متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں اس کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ اس طرح دو طرفہ الزام تراشی کے ماحول میں ایٹمی صلاحیت کے حامل دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان کشیدگی اور الزام تراشی کی فضا میں اضافہ ہوتا رہا ہے ۔ان حالات میں پاکستان نے کلبھوشن کی اہلیہ کو ان سے ملاقات کی اجازت دے کر خیر سگالی اور انسانی ہمدردی کا خوش آئیند اقدام کیا ہے ۔ بھارت کو اس پیشکش کی بنیاد پر دونوں ملکوں کے درمیان حائل برف کو پگھلانے کے لئے خود بھی ایک قدم آگے بڑھانا چاہئے ۔ دنیا بھر کے ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کے ذریعے اپنے تنازعات حل کرنے چاہئیں تاہم بھاریت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے تصادم اور اشتعال کی صورت حال موجود رہی ہے ۔ برصغیر کے دو اہم ملکوں کے درمیان اس کشیدگی کا فائدہ دہشت گرد اور انتہا پسند عناصر اٹھاتے ہیں۔ اگر دونوں ممالک بات چیت پر آمادہ ہو سکیں تو ایک دوسرے کے خلاف سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے اپنے اپنے ملک میں انتہا پسند عناصر کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے ، پورے خطے میں قیام امن کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے ۔ اس کے لئے ضروری ہوگا کہ بھارت ہٹ دھرمی کی بجائے مفاہمت اور بات چیت کا راستہ اختیارکرنے پر آمادہ ہو۔

لبنان پر جنگ کے بادل

فرانس کے صدر ا مینیول میکراں نے اچانک سعودی عرب کا مختصر دورہ کیا ہے ۔ اس دورہ کو لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری کے اچانک استعفیٰ اور سعودی عرب کی طرف سے کئے جانے والے متعدد اقدامت کی روشنی میں اہم سمجھا جارہا ہے ۔ اس دورہ میں فرانسیسی صدر نے سعودی عرب کے طاقتور ولی عہد محمد بن سلمان سے تفصیلی بات چیت کی اور انہیں لبنان کا بحران ختم کرنے اور خطے میں تصادم کی روک تھام کے لئے اپنی خدمات پیش کیں، تاہم سعودی عرب پہنچنے سے پہلے صدر میکراں نے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف سعودی عرب کے الزامات سے متفق نہیں ہیں۔ ایک اہم یورپی ملک اور عالمی طاقت فرانس کے صدر کی سعودی عرب آمد اس بات کی نشاندہی ضرور کرتی ہے کہ عالمی دارالحکومتوں میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر شدید تشویش پائی جاتی ہے ۔ اس دوران لبنان کے صدر مشعل عون نے بیروت میں سعودی ناظم الامورولید بخاری کو مطلع کیا ہے کہ ریاض میں بیٹھ کر سعد حریری کی طرف سے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دینے کے اعلان کا طریقہ کار قابل قبول نہیں ہے ۔ سعودی اقدامات کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر مشروط حمایت حاصل ہے ۔ وہ ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدہ کو ختم کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں جبکہ فرانس کے صدر کے علاوہ متعدد یورپی لیڈر اس معاہدہ کے حامی بھی ہیں اور اسے جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے حوالے سے اہم قدم بھی سمجھتے ہیں۔ریاض میں لبنان کے مستعفیٰ وزیر اعظم نے متعدد مغربی سفیروں اور امریکی ناظم الامور سے ملاقات کی ہے اور ایران کی اشتعال انگیزی اور خطے میں بدامنی پھیلانے کے الزامات کو دہرایا ہے لیکن بعض سفارتی ذرائع نے اخبار نویسوں کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ سعد حریری آزادانہ گفتگو کرتے دکھائی نہیں دیتے اگرچہ انہوں نے اپنی گفتگو میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے سعودی عرب میں موجود ہیں اور ان پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے سعودی عرب میں رکے ہوئے ہیں، تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ سعد حریری کو ریاض طلب کرکے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا تھا۔ انہوں نے استعفیٰ دیتے ہوئے ایران پر علاقے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام لگانے کے علاوہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہیں اندیشہ ہے کہ انہیں بھی اپنے والد رفیق حریری کی طرح قتل کردیا جائے گا۔ اپنے ملک کی بجائے دوسرے ملک میں جاکر تیسرے ملک پر مداخلت کا الزام لگاتے ہوئے ایک وزیر اعظم کے استعفیٰ دینے سے شبہات اور اندیشے پیدا ہو رہے ہیں۔ ایران نے اس استعفیٰ کو سعودی عرب کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسے دوسرے ملکوں میں مداخلت کرنے کی بجائے اپنے اندرونی حالات درست کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے ۔
لبنان کی حکومت اور لبنان سپورٹ گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ سعد حریری لبنان واپس آئیں ۔ اس سپورٹ گروپ میں اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے علاوہ فرانس، برطانیہ، چین، روس، جرمنی ، اٹلی اور یورپین یونین شامل ہیں۔ عالمی تنظیموں اور ممالک کے اس کنسورشیم نے لبنان کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے مفاہمانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری کے اچانک استعفیٰ کے بعد یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر میزائل داغا تھا جسے ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی شاہ سلمان نے ولی عہد محمد بن سلمان کی سربراہی میں ایک احتساب کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا تھا جس نے فوری طور پر درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ ان میں متعدد شہزادے ، وزیر اور سرمایہ دار شامل ہیں ۔ مبصرین کے نزدیک اگرچہ یہ تینوں واقعات کا براہ راست ایک دوسرے سے تعلق نہیں ہے لیکن ان میں سعودی ولی عہد کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ گرفتار کئے گئے لوگوں میں متعدد ایسے شہزادے ہیں جو ولی عہد سے سیاسی اختلاف رکھتے تھے اور شاہ سلمان کے سوتیلے بھائیوں کے بیٹے ہیں جو شہزادہ محمد کی طاقت کے لئے خطرہ ہو سکتے تھے ۔ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو قطر اور ایران کے بارے میں ولی عہد کی شدت پسندانہ پالیسیوں کے بارے میں علیحدہ رائے رکھتے ہیں، اس لئے بدعنوانی کے نام پر پکڑے گئے لوگوں کے حوالے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اس طرح اقتدار پر شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنی گرفت مضبوط کی ہے ۔
یہ کہا جا رہا ہے کہ شہزادہ محمد یمن کی جنگ میں الجھے ہونے کی وجہ سے لبنان میں مداخلت کی کوشش نہیں کریں گے ، لیکن نوجوان اور پرجوش شہزادے کے ارادوں کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے ۔ سعودی عرب شام میں لبنانی شیعہ تنظیم حزب اللہ کی پیش رفت اور بڑھتی ہوئی قوت کے علاوہ یمن میں ایران کے اثر و رسوخ سے پریشان ہے اور اس پر حوثی قبائل کی حمایت کے ذریعے قانونی طور سے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کا الزام لگایا جاتا ہے ۔ سعودی شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھی مکمل اعانت حاصل ہے جو مشرق وسطیٰ میں ایران کا اثر محدود کرنے کے لئے سعودی عرب کی مکمل حمایت کررہے ہیں۔ سعودی عرب میں گرفتاریوں سے پہلے صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی ریاض آمد اور سعودی انتہائی اقدامات کے بعد ٹرمپ کی طرف سے شاہ سلمان کو فون کے ذریعے مکمل حمایت کی یقین دہانی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ داخلی اور خارجی محاذ پر سعودی عرب کے اقدامات کو امریکہ کی براہ راست تائید و حمایت حاصل ہے ۔سعودی عرب اور متعدد دوسرے عرب ملکوں نے گزشتہ روز اپنے شہریوں کو فوری طور پر لبنان چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔ اب فرانس کے صدر سعودی ولی عہد سے بات چیت میں یہ کوشش کرچکے ہیں کہ یہ خطہ ایک نئی جنگ سے محفوظ رہے ۔ اس دوران اسرائل نے واضح کیا ہے کہ وہ ایک نئی جنگ کے لئے تیار نہیں ہے لیکن ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ بعض اوقات نہ چاہتے ہوئے بھی عجلت میں اٹھائے ہوئے اقدامات کی وجہ سے جنگ شروع ہوجاتی ہے ۔ لبنان کو اس وقت ایسی ہی ہیجان انگیز صورت حال کا سامنا ہے ۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
کلبھوشن یادیو اور پاک بھارت تعلقات
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں