جمہوریت: ہم انڈیا سے پیچھے کیوں ہیں؟

تحریر:اوون بینٹ جونز

اقوام متحدہ کے رکن ممالک یا دنیا میں باقاعدہ ملکوں کی تعداد 193 ہے ۔ یہ تعداد اتنی کم ہے کہ سیاسی ماہرین کو طرز حکومت کی بابت اپنی تحقیق میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست کے میدان میں مختلف ممالک کے طرز عمل بارے زیادہ یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پاکستان اور انڈیا میں جمہوری سفر بھی ایسا ہی معاملہ ہے ۔1947 ء میں دونوں ممالک میں بہت کچھ مشترک تھا۔ مشترکہ نوآبادیاتی تجربے کے بعد دونوں نے بیک وقت آزادی حاصل کی۔ نیا سیاسی نظام تشکیل دیتے وقت دونوں ممالک میں واحد جماعتوں کی حکومت تھی جنہوں نے برطانوی راج کی مخالفت کر کے نئے ملک بنائے تھے کانگریس اور مسلم لیگ کو ایک جیسے مسائل کا سامنا تھا، دونوں نے نئے آئین بنانا تھے اور اپنے اپنے ملک میں پسماندہ آبادی کو متحد کرنا تھا تاہم دونوں ممالک نے ان مقاصد کے لیے بالکل مختلف راہ اختیار کی۔آخر پاکستان میں جمہوری پیش رفت کو انڈیا کے مقابلے میں زیادہ مسائل کا سامنا کیوں ہوا؟دونوں ممالک نے آگے بڑھنے کے لیے مختلف راستے کیوں اختیار کیے ؟بعض لوگ محمد علی جناح کی جانب سے وائسرائے کے اختیارات کا مالک بننے اور پھر ان کی جلد وفات کو اس کا سبب قرار دیتے ہیں۔

فلائٹ ففٹین سے ٹکرانے والے کچھ زمینی فرشتے

ان کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد یا تو اختیارات کو ایک جگہ مرتکز رکھنے کے بجائے تقسیم کر دینا چاہیے تھا یا پھر جناح جیسی کرشماتی شخصیت کا زیادہ عرصہ تک حیات رہنا نئے ملک کے لیے مفید ہو سکتا تھا۔ وہی قومی تعمیر کی راہ میں درپیش مسائل پر قابو پا سکتے تھے ، مگر بدقسمتی سے ان کا جلد انتقال ہو گیا۔اپنے قانونی پس منظر کے باوجود جناح نے اختیارات کی تقسیم میں دلچسپی نہ لی۔ اس سے برعکس نہرو ان سے زیادہ لبرل ثابت ہوئے ۔ایان ٹالبوٹ، کرسٹوف جیفرلاٹ، مایا ٹوڈور، کیتھرائن ایڈینے اور اینڈریو ویٹ نے سالہا سال تحقیق کر کے انڈٰیا اور پاکستان میں جمہوری پیش رفت کے پس منظر کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے ۔ ان محققین کی تحقیق کے نتائج کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ ان میں ایک وہ ہیں جن کا تعلق آزادی سے پہلے کے دور سے ہے اور دوسرے نتائج 1947 میں آزادی کے بعد والے دور سے متعلق ہیں۔تقسیم سے پہلے انڈیا کی مسلم آبادی کا جمہوریت سے بدظن ہونا سمجھ میں آتا ہے ۔ اقلیت کی حیثیت سے اسے خوف تھا کہ برطانیہ نے انتخابات کرائے تو وہ ہار جائیں گے ۔ پاکستان میں آنے والے بہت سے علاقے معاشی کے بجائے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر برطانوی راج کا حصہ بنائے گئے تھے ۔ نتیجتاً نوآبادیاتی دور میں وہاں عوام کی نمائندہ حکومت کا تجربہ نہ ہونے کے برابر تھاملک میں ہندوؤں کی اکثریت تھی اور ان کی نمائندہ جماعت کانگریس متوسط طبقے کے ہندوستانیوں کی خواہشات کی ترجمانی کرتی تھی۔ مسلم لیگ پر جاگیرداروں کا رسوخ تھا جو مغلیہ دور کا استحقاق واپس لینے اور اسے برقرار رکھنے کے خواہش مند تھے ۔ ان میں بہت سے طاقتور خاندان آج بھی اسی طرح مضبوط ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ دونوں ممالک میں جمہوری پیش رفت کے حوالے سے طبقاتی سیاست نے اہم کردار ادا کیا۔ایک اور اہم بات یہ ہے کہ برصغیر کے مختلف حصوں کے حوالے سے برطانیہ کی سوچ بھی مختلف تھی۔ پاکستان میں آنے والے بہت سے علاقے معاشی کے بجائے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر برطانوی راج کا حصہ بنائے گئے تھے ۔ نتیجتاً نوآبادیاتی دور میں وہاں عوام کی نمائندہ حکومت کا تجربہ نہ ہونے کے برابر تھا۔دونوں ممالک میں جمہوری پیش رفت کے حوالے سے دیگر محرکات کا آغاز آزادی کے بعد ہوا۔
تقسیم میں پاکستان کے ساتھ اچھا سلوک نہ ہوا اور اسے اپنا حکومتی ڈھانچہ نئے سرے سے تخلیق کرنا پڑا جس میں بہت سے مسائل آڑے آئے ۔ دوسری جانب انڈیا کو ایسی صورتحال کا سامنا نہیں ہوا تھا۔نئے پاکستان کو فوج کھڑی کرنے کی بھی فکر تھی کیونکہ اسے خوف تھا کہ انڈیا تقسیم ختم کر کے برصغیر کو دوبارہ ایک ملک بنانے کی کوشش کر سکتا ہے ، چنانچہ ایسی فوج تشکیل دینے کی ضرورت تھی جو ملکی دفاع کی اہل ہو۔ نتیجتاً ابتدا ہی سے سرکاری اخراجات کا نصف سے زیادہ فوج کے لیے مختص کرنا پڑا اور پھر یہ ملک میں سب سے بڑی طاقت بن گئی۔بعض لوگ پاکستان میں نسلی، لسانی وعلاقائی تنوع کو جمہوری پیش رفت میں رکاوٹ کا سبب قرار دیتے ہیں جس کے نتیجے میں ایک متحد و مستحکم قوم کی تشکیل مشکل ہو گئی۔
اس دلیل کی مخالفت میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ انڈیا نسلی و علاقائی اعتبار سے پاکستان کی نسبت کہیں زیادہ متنوع ہے تاہم وہاں جمہوریت چلتی رہی۔پاکستان دو حصوں پر مشتمل تھا جن کے درمیان بہت بڑا فاصلہ تھا۔ چنانچہ مشرقی پاکستان کو ساتھ رکھنے اور اسے کھونے کے خوف نے ملک کی سیاسی ترقی کو بری طرح متاثر کیا۔ مغربی مورخین پاکستان میں سیاسی پیش رفت کا تجزیہ کرتے ہوئے مذہب کے کردار کو نظرانداز کر جاتے ہیں جسے مدنظر رکھنا ضروری ہے ۔ نائن الیون کے بعد یہ بات زیادہ زوروشور سے کہی جانے لگی ہے کہ اسلام جمہوریت کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ اس مسئلے پر اب بہت سا تحقیقی کام ہو چکا ہے مگر مختصراً ہم کہہ سکتے ہیں کہ تیونس، انڈونیشیا اور مشرقی ایشیا کے کچھ ملکوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات قرین قیاس نہیں لگتی کہ اسلام اور جمہوریت لازمی طور سے اک دوسرے کی ضد ہیں۔جہاں تک پاکستان کا معاملہ ہے تو غیرمذہبی سیاسی حقائق سے ملک میں جمہوری سفر کھوٹا ہونے کی وجوہات سمجھی جا سکتی ہیں۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
جمہوریت: ہم انڈیا سے پیچھے کیوں ہیں؟
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں