علامہ اقبال کی نظم’’ذوق و شوق‘‘کو سمجھنے کے لیے

تحریر:پروفیسرفتح محمدملک

فنونِ لطیفہ میں ہنگامی اور آفاقی ، وقتی اور دوامی کے پُر اسرار تخلیقی رشتوں کا سُراغ پانے کے لیے اقبال کی نظم ’’ذوق و شوق‘‘کا مطالعہ کلیدی اہمیت کا حامل ہے ۔ نظم کا پہلا مصرع ہی اس بات کا اعلان ہے کہ اس نظم کا موضوع ’’قلب و نظر کی زندگی ہے ‘‘۔ ہر چند آفاقی جذبات اور دائمی حقائق کسی مقامی اور وقتی حوالے سے بے نیازہوا کرتے ہیں تاہم انہیں اپنے زمانی و مکانی تناظر میں سمجھنے کی ایک اپنی الگ اہمیت ہے ۔
یہ نظم ایک دلکش اور خیال انگیز منظر سے شروع ہوتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ ایک نعتیہ فریاد پر آ تمام ہوتی ہے ۔ یہ منظر پردۂ وجود کے چاک چاک ہو جانے کی بدولت حسنِ ازل کی بے حجابی اور قلب و نظر میں صبح کے سماں سے عبارت ہے ۔ گویا باطنی زندگی میں طلوعِ آفتاب سے گرد و پیش کی زندگی کے تمام تر خارجی مناظر نور کی ندیوں میں ڈوب کر کہیں دُور، بہت دُور غائب سے ہو گئے ہیں۔ اس نورانی منظر میں نواحِ کاظمہ کا ریگِ زار اور کوہِ اضم کا شفق زار یک بہ یک تحلیل ہو کر رہ جاتا ہے اور شاعر دیکھنے اور سوچنے لگتا ہے :
آگ بجھی ہوئی اِدھر، ٹوٹی ہوئی طباب اُدھر
کیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواں
تخیل اقبال کو ان گزرے ہوئے کاروانوں کا تعاقب کرتے کرتے زمانِ مصطفی میں لے جاتا ہے اور وہ یوں محسوس کرنے لگتے ہیں جیسے چند ہی ثانیوں میں وہ مدینۃ النبی میں پہنچنے والے ہیں۔ ایسے میں:
آئی صدائے جبرئیل تیرا مقام ہے یہی
اہلِ فراق کے لیے عیشِ دوام ہے یہی
چنانچہ اقبال کے تخیل کارہوار وہیں کا وہیں رُک جاتا ہے اور اقبال خیال ہی خیال میں آنحضورﷺ کے سامنے اپنا دِل کھول کر رکھ دیتے ہیں:
کس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیات
کُہنہ ہے بزمِ کائنات، تازہ ہیں میرے واردات
کیا نہیں اور غزنوی کارگہِ حیات میں
بیٹھے ہیں کب سے منتظر اہلِ حرم کے سومنات
ذکر عرب کے سوز میں، فکرِ عجم کے ساز میں
نے عربی مشاہدات، نے عجمی تخیلات
قافلۂ حجاز میں ایک حُسینؓ بھی نہیں
گرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات
یہ گویا اپنے زمانے کی ملتِ اسلامی کا تنقیدی

گجرات کی سیاست سے مسلمان بے نشان ہو گئے

محاکمہ ہے ۔ ان اشعار پر اگر ان کے تاریخی تناظر میں غور کیا جائے تو ان کا مفہوم بڑی وضاحت کے ساتھ سمجھ میں آ سکتا ہے ۔ اقبال پر یہ نظم سن 1931 میں قیامِ فلسطین کے دوران وارد ہونا شروع ہوئی تھی۔ اقبال فلسطین میں براستہ لندن پہنچے تھے ۔ لندن میں وہ دوسری گول میز کانفرنس (7 ستمبر تا یکم دسمبر1931) میں مسلمان مندوب کی حیثیت میں شریک ہوئے تھے یہ کانفرنس مستقبل کے آزاد ہندوستان کے لیے ایک وفاقی آئینی ڈھانچہ تعمیر کرنے کی غرض سے منعقد کی گئی تھی۔ کم و بیش ایک سال پہلے اقبال اپنے خطبۂ الہ آباد میں برصغیر ہند کے لیے زیرغور وفاقی آئین کے تصور کو رد کرکے برصغیر میں جداگانہ مسلمان مملکتوں کے قیام کا تصور پیش کر چکے تھے ،چنانچہ اس گول میز کانفرنس میں شامل بیشتر مسلمان مندوبین کا سرکار پرست اور برطانیہ نواز روّیہ بھانپ کر وہ کانفرنس کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور ہو گئے تھے ۔ (۱) مسلمان مندوبین کی ابن الوقتی کو سمجھنے کے لیے اقبال کے دو خطوط بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ اُن میں سے ایک سر آغا خان کے نام ہے اور دوسرا سیٹھ عبداللہ ہارون کے نام۔ سرآغا خان کے نام اپنے خط میں اقبال کانفرنس سے بائیکاٹ کا سبب بتاتے ہیں:

“It is with the greatest pain that I am writing this letter to you. I have watched the activities of our Muslim Delegation from the very beginning. Their secret rivarlies, the intrigues or even disloyalty of some of the members have pained me very much. Disgusted with such behaviour I am extremely sorry to inform you that from today I shall have nothing to do with what must be described as a shadow cabinet of Muslim Delegation.” (۲)

سیٹھ عبداللہ ہارون کے نام اپنے خط مورخہ
16 جنوری 1932 کو مسلمان سیاسی رہنماؤں پر اپنے عدمِ اعتماد کا اظہار کرتے وقت اقبال اپنے لہجے کی تلخی کو چھپانے میں ناکام نظر آتے ہیں:

“Thanks for your letter which I received a moment ago. I am sorry to tell you that I felt extremely pessimistic about Muslim demands in England and that state of mind still continues. Experience has taught me that very few men should be trusted.
As to your proposed deputation I do not wish to say anything for the present. As you know I shall be presiding over the deliberations of the coming conference at Lahore. I must, I think, reserve my views as to what the Muslims of India should do now that their demands have received practically no attention from the Premier.”(۳)

یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اقبال نے مذکورہ بالا خطبۂ صدارت میں برطانوی وزیراعظم کی ہندوستانی زندگی کے حقائق سے ناآشنائی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور گول میز کانفرنس کے مسلمان مندوبین کی سرکار پرستی کو بھی۔ انہوں نے اسلامیانِ ہند کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ ہر دو فریق کو اپنے اپنے حال پر چھوڑ کر ایک آزاد راستے کا انتخاب کریں۔ یہ وہی راستہ ہے جس کی نشاندہی وہ کم و بیش ایک سال پہلے اپنے خطبۂ الہ آباد میں کر چکے تھے ۔ یہ مسلمان اکثریت کے علاقوں میں جُداگانہ مسلمان مملکتوں کے قیام کی راہ تھی۔
گول میز کانفرنس کے بعد اُنہیں مؤتمر عالم اسلامی
کے فلسطین میں منعقد ہونے والے اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔ چنانچہ وہ فرانس میں برگساں اور لوئی مسینیوں اور اٹلی میں مسولینی اور افغانستان کے سابق بادشاہ امان اللہ خان سے ملاقات کے بعد 6 دسمبر کو بیت المقدس پہنچ گئے ۔ گول میز کانفرنس کی طرح مؤتمر عالم اسلامی کی کانفرنس سے بھی وہ کانفرنس کے اختتام سے پہلے ہی 15 دسمبر کو واپس چلے آئے ۔ اس 9 روزہ قیام کے دوران انہوں نے فلسطین کی سیر کے ساتھ ساتھ مؤتمر کے اجلاسوں میں مسلمان ملکوں کے حکمران طبقے کے اعلیٰ ترین نمائندوں سے ملاقات کی اور روانگی سے ایک روز پیشتر کانفرنس سے انگریزی میں خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں جہاں انہوں نے ملتِ اسلامی کو درپیش خطرات کی نشاندہی کی وہاں انہوں نے دُنیائے اسلام کے سیاسی اور تہذیبی رہنماؤں کو دِل سے مسلمان بننے کی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے خبردار کیا کہ:
’’اسلام کو اس وقت دو طرف سے خطرہ ہے ۔ ایک الحاد مادی کی طرف سے ہے اور دوسرا وطنی قومیت کی طرف سے ۔ ہمارا فرض ہے کہ ان دونوں خطروں کا مقابلہ کریں اور میرا یقین ہے کہ اسلام کی روح طاہر ان دونوں خطروں کوشکست دے سکتی ہے ۔ وطنی قومیت یا وطنیت بجائے خود بری چیز نہیں ہے لیکن اگر اس میں خاص اعتدال کو ملحوظ نہ رکھا جائے اور افراط و تفریط پیدا ہو جائے تو اس میں بھی دہریت اور مادہ پرستی پیدا کر دینے کے امکانات موجود ہیں۔ میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ آپ دل سے مسلمان بنیں۔ مجھے اسلام کے دشمنوں سے اندیشہ نہیں ہے لیکن خود مسلمانوں سے مجھے اندیشہ ہے ۔ میں تو جب بھی سوچتا ہوں شرم و ندامت سے میری گردن جھک جاتی ہے کہ کیا ہم مسلمان آج اس قابل ہیں کہ رسول اللہﷺ ہم پر فخر کریں ہاں! جب ہم اس نور کو اپنے دلوں میں زندہ کر لیں گے جو رسول اللہ ﷺ نے ہم میں داخل کیا تھا تو اس وقت اس قابل ہو سکیں گے کہ حضور ﷺہم پر فخر کریں۔‘‘ (۴)
اقبال کی اس گفتگو کی روشنی میں اگر ہم اوپر دیئے گئے اشعار کو ایک مرتبہ پھر پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس نظم کا فوری محرک وہ گہری مایوسی ہے جس نے لندن کی گول میز کانفرنس اور مؤتمر عالم اسلامی کے اجلاس کے دوران اقبال کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ یہاں اقبال کو دُنیائے اسلام کے سیاسی زعماء، علمائے دین اور دانشورانِ کرام سے بالمشافہ ملاقاتوں اور مؤتمر کے اجلاسوں میں اُن کے طرزِ فکر و اظہار سے براہِ راست شناسائی کا موقع ملا تھا۔ یہاں کی باتیں اور ملاقاتیں اُن کے لیے مایوس کن ثابت ہوئی تھیں۔ چنانچہ اُن کی تمامتر تخلیقی شخصیت ایک مقدس بے چینی سے عبارت ہو کر رہ گئی تھی۔ یہ احساس کہ دجلہ و فرات کے کنارے حق و باطل کے درمیان صف آرائی جوں کی توں موجود ہے مگر قافلۂ حجاز میں کوئی حسین نظر نہیں آتا۔ یوں کہئے کہ مسلمان حکمرانوں میں ایک سے ایک بڑھ کر شاہ حسین تو موجود ہے مگر امام حسینؓ بننے کو کوئی بھی تیار نہیں۔ علمائے دین اور مفتیان شرع متین کا حال حکمرانوں سے بھی بدتر ہے ۔ عشق کی آگ بجھ چکی ہے ۔ ملتِ اسلامیہ کی خاکستر یہاں وہاں اُڑتی پھرتی ہے اور شرع و دین خیالات کا بت کدہ بن کر رہ گئے ہیں:
عقل و دِل و نگاہ کا مرشدِ اوّلیں ہے عشق
عشق نہ ہو تو شرع و دین بت کدۂ تصورات
صدقِ خلیلؑ بھی ہے عشق، صبر حسینؓ بھی ہے عشق
معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق
مؤتمر سے اپنے الوداعی خطاب کی مانند اس نظم میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ ملتِ اسلامی اس وقت جس تہ در تہ تاریکی میں پڑی اونگھتی ہے اُسے صرف عشق ہی کی روشنی سے منور کیا جا سکتا ہے ۔ اس جدوجہد کا آغاز اہلِ حرم کے سومنات۔۔۔۔۔۔ خود مسلمانوں کے بت کدۂ تصورات کی تخریب و تباہی کے بغیر ناممکن ہے ۔ چنانچہ اقبال کے دِ ل سے یہ سوال اُٹھتا ہے کہ:
کیا نہیں اور غزنوی کارگہِ حیات میں
بیٹھے ہیں کب سے منتظر اہلِ حرم کے سومنات
یہ احساس کہ اقبال کے عہد کا ’’مسلمان اس قابل نہیں کہ رسول کریم ﷺ اس پر فخر کر سکیں‘‘۔ اقبال کو بصد عجز و ندامت بارگاہِ مصطفی میں لے جاتا ہے اور یوں نظم کا باقی ماندہ حصہ آنحضور ﷺ سے راز و نیاز بن کر رہ جاتا ہے ۔ ماضی مستقبل بننے کو بے چین ہو جاتا ہے :
تازہ مرے وجود میں معرکۂ کہن ہوا
عشق تمام مصطفی، عقل تمام بولہب
اس نظم کے فوری محرکات کی تلاش میں نکلیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دُنیائے اسلام کا حکمران طبقہ ابولہب کی پرستاری پر نازاں ہے ۔ ایک فارسی نظم میں اقبال نے عرب و عجم ہر دو خطہ ہائے زمین میں ابولہب کو ارزاں اور مصطفی کو نایاب بتایا ہے ۔ اپنی نظم: ‘‘انقلاب، اے انقلاب’’ میں وہ دنیائے اسلام کو خبردار کرتے ہیں کہ:
مصطفی از کعبہ ہجرت کرد با اُم الکتاب
انقلاب!
انقلاب، اے انقلاب!
نظم ’’ذوق و شوق‘‘محمد مصطفیﷺکی تلاش کی دین ہے ۔ اس تلاش کا نقطۂ آغاز مسلمانوں کے سیاسی اور دینی بتکدوں پر غزنوی بن کر ٹوٹ پڑنے سے عبارت ہے ۔ اقبال کی نظر میں مؤتمر عالم اسلامی بھی ایک ایسا ہی بتکدہ ہے ۔ جب دوسری مرتبہ اقبال کو مؤتمر کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تو انہوں نے یہ سوچ کر اس میں شرکت کرنے سے انکار کردیا کہ یہ تو فرنگی سامراج ہی کا ایک ادارہ ہے ۔
مؤتمر کے استعماری کردار کی یہ بات بیشتر مسلمانوں کو ناقابلِ یقین نظر آئے گی۔ اس لیے میں یہاں ڈاکٹر تاثیر کی ایک تحریر سے ایک طویل اقتباس پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں:
’’جس ملاقات کا میں ذکر کر رہا ہوں اس میں ایک اور بات بھی جو قابلِ ذکر ہے ہوئی تھی اس کا تعلق سیاسیاست سے بھی ہے اور علامہ اقبال کی اپنی ذات سے بھی۔ ڈاکٹر صاحب کو آکسفورڈ سے روڈز لیکچر دینے کی دعوت آئی۔ میں ان دنوں کیمرج میں تھا اور ڈاکٹر صاحب کو اصرار سے لکھا کہ وہ اس دعوت کو رد نہ فرمائیں۔ گول میز کانفرنس کے سلسلے میں ان کا سفر انگلستان سیاسی حیثیت رکھتا تھا۔ روڈز لیکچر کی علمی حیثیت تھی۔ انگلستان کے ادیب اور اہلِ علم لوگوں نے زمان و مکان کے مسئلے کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں معلوم کرنا چاہا۔ ڈاکٹر صاحب نے زمان و مکان کے اسلامی تصور پر لیکچر دینے کا ارادہ کر لیا تھا۔ میں نے انگلستان کے ادبی حلقوں میں ان لیکچروں کا پہلے سے چرچا کر رکھا تھا۔ ذاتی اور قومی فخر کے ساتھ اقبال کے ادبی مرتبہ کا ذکر کرتا رہتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک خط میں یقین دلایا کہ میں ضرور آؤں گا لیکن یکایک ان کا ایک اور خط آیا اور اس میں لکھا کہ انہوں نے ارادہ منسوخ کر دیا ہے ۔ مجھے اس کا بہت رنج ہوا ۔ اس ملاقات میں وہ راز بھی منکشف ہوا۔ روڈز لیکچر کی دعوت لارڈ لوتھین لارڈ لوتھین کے ذریعے آئی تھی۔ لارڈ لوتھین علامہ کا بہت مداح تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اس نے کیمرج میں ایک ملاقات کے دوران میں مجھ سے کہا تھا: ’’عالمِ اسلام ہی میں نہیں، تمام مشرق میں اقبال جیسا اثر انداز مفکر اور کوئی نہیں‘‘۔ یہ بھی کہا کہ: ’’اقبال کے افکار تاریخ عالم کا رُخ بدل دیں گے سیاسی لوگ نہیں جانتے کہ اقبال کی طرح کے شاعر کس قدر مؤثر ہو سکتے ہیں‘‘۔ اسی لوتھین نے علامہ سے وعدہ لیا تھا کہ وہ فلسطین آ کر مؤتمر اسلامی میں شریک ہوں اور اسلامی ممالک تک اپنا پیغام پہنچائیں۔
بظاہر یہ اچھی بات تھی۔ علامہ اقبال نے وعدہ کر لیا لیکن انہیں بہت جلد اس کا احساس ہوگیا کہ یہ مؤتمر برطانوی سامراج کی کرشمہ سازی کا نتیجہ تھی۔ اقبال برطانوی سامراج کا سخت دشمن تھا۔ روڈز لیکچر اور اس مؤتمر کی تاریخیں پاس پاس تھیں۔ ڈاکٹر صاحب مروت کے پتلے تھے ۔ وعدہ بھی کر رکھا تھا کہ ممکن ہوا تو مؤتمر میں شریک ہوں گے ۔ مؤتمر سے بچنے کا یہی طریقہ نظر آیا کہ آکسفورڈ نہ جائیں‘‘۔(۵)
جناب حمزہ فاروقی نے اپنی کتاب ‘‘سفر نامۂ اقبال’’ میں اس بات کا انکشاف بھی فرمایا ہے کہ عرب نوجوانوں میں مؤتمر کے انعقاد کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جا رہا تھا۔ برطانوی پارلیمنٹ میں لیبر پارٹی کے نمائندے بھی اس کے ممکنہ نتائج سے خوفزدہ تھے ۔ چنانچہ برطانوی پارلیمنٹ میں جب ایک رکن نے اپنی تقریر میں اس خدشے کا اظہار کیا کہ مجوزہ کانفرنس میں مسلمان مندوبین کی تقریروں سے ‘‘یہود و نصاریٰ کے خلاف مسلمانوں کے مذہبی جذبات مشتعل ہوں گے ’’۔ تو وزیر نو آبادیات سررابرٹ ہیملٹن نے جواب دیا تھا کہ:
’’مجھے اس قسم کا کوئی خطرہ نظر نہیں آتا کہ یہودیوں
اور عیسائیوں کے جذبات مشتعل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ہائی کمشنر سے تحقیقات کرنے پر مجھے علم ہوا ہے کہ مفتی اعظم کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے اور وہ کانگرس کی کارروائی ایسے طریق پر انجام دیں گے کہ برطانوی یا فلسطین کی حکومت کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی‘‘۔(۶)
مؤتمر کی افسردہ و مردہ قراردادوں سے بھی اس حقیقت کا سُراغ ملتا ہے کہ آج ہی نہیں بلکہ اپنے آغاز میں بھی یہ مؤتمر ایسی ہی بے جان اور پُرفریب تنظیم تھی۔ ینگ مین کرسچیئن ایسو سی ایشن کے عکس پر ینگ مین مسلم ایسوسی ایشنوں کے قیام سے لے کر جدید عربی لغت کی تیاری اور حجاز ریلوے تک اس کی قراردادوں میں کہیں بھی عشق کی آنچ محسوس نہیں ہوتی۔ اقبال نے بہت اچھا کیا کہ کانفرنس کی تکمیل سے پہلے ہی مندوبین کو اپنی آستینوں میں چھپائے ہوئے بتوں کو توڑنے کا مشورہ دے کر لاہور واپس آ گئے ۔ یہ ہے وہ تاریخی، سیاسی اورتہذیبی تناظر جس کے بغیر ’’ذوق و شوق‘‘کی تفہیم و تحسین ناممکن ہے ۔
جو لوگ مسلمان ممالک میں سیاہ و سفید کے مالک ہیں اُن میں سے کچھ جان بوجھ کر اور کچھ بے جانے بوجھے مغربی سامراج کے سیاسی آلۂ کار بنے بیٹھے ہیں۔ ایسے میں اقبال کی اُمیدوں کا مرکز وہ مسلمان نوجوان ہیں جن کا ذکر اُنہوں نے مؤتمر سے اپنے الوداعی خطاب میں رجائیت کے ساتھ کیا ہے اور جنہیں نظم ’’ذوق و شوق‘‘میں ’’ذرۂ ریگ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ اپنے زمانے کی دُنیائے اسلام کی بے آب و گیاہ، بنجر اور تہ در تہ تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی خارجی زندگی سے دلبرداشتہ ہو کر اقبال ’’قلب و نظر کی زندگی‘‘کا رُخ کرتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے غلام ماضی کی صدیوں کو پھلانگتے ہوئے واپس اسلام کے قرنِ اوّل میں جا پہنچتے ہیں اور رسولِ اکرم ﷺ کے حضور عرض گزارتے ہیں:
لوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب
گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
عالمِ آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ
ذرۂ ریگ کو دیا تُو نے طلوع آفتاب
تیرہ و تار ہے جہاں گردشِ آفتاب سے
طبعِ زمانہ تازہ کر گردشِ آفتاب سے !

Summary
Review Date
Reviewed Item
علامہ اقبال کی نظم’’ذوق و شوق‘‘کو سمجھنے کے لیے
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں