2018ء کے انتخابات کابروقت انتخاب !

چیف الیکشن کمشنریٹائرڈ جسٹس سردار محمدرضاخان نے زوردے کر کہاہے کہ انتخابات وقت پرہوں گے اوریقین دلایاہے کہ الیکشن کمیشن ایسی شفاف ووٹرلسٹیں بنائے گا کہ ان ووٹرلسٹوں پرکوئی جماعت اعتراض نہیں کرسکے گی اورتوقع ظاہرکی ہے کہ انتخابات کی تیاری کاتمام عمل بروقت مکمل ہوجائے گاا ورنہایت یقین کے ساتھ کہاہے کہ ملک میں انتخابات کے التواء کاکوئی امکان نہیں ہے۔شناختی کارڈ کے اجراء کے ساتھ ہی ،،ووٹرکااس کی مرضی کے مطابق جس حلقے میں وہ ووٹ درج کرواناچاہے گااندراج کرلیاجائے گا۔چیف الیکشن کمشنرنے نادرا کے نئے فا رم کے تحت ووٹرز کے اندراج کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں کہاکہ18سال کی عمر ہوجانے پرکوئی بھی شہری شناختی کارڈ بنواتے وقت مستقل یاعارضی طورپرووٹ کے اندراج کاخودانتخاب کریں گے ۔اس سلسلے میں نادراشہریوں کے کوائف الیکشن کمیشن کومہیاکرے گاتاکہ شہریوں کے ووٹوں کااندراج شہریوں کے منتخب کردہ پتوں پرہوسکے۔اب وقت آگیاہے کہ شہریوں کے ووٹوں کااندراج ان کی سہو لت کے پیش نظر ان کے مستقل یاعارضی پتہ کے مطابق کیاجاسکے گا۔چیف الیکشن کمشنرکی طرف سے بروقت انتخابات کے انعقاد کی یقین دہانی کے علاوہ،پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف کی سابق وزیراعظم میاں محمدنوازشریف کے ساتھ رائے ونڈ میں ون آ ن و ن ملاقات میں بھی یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ حکمران جماعت ملک میں عام انتخابات کوہرحال میں مقررہ وقت پریقینی بنائے گی اوردونوں ،ن لیگی لیڈروں نے اس عزم کااظہارکیاہے کہ ملک میں جمہوریت کے استحکام اورتحفظ کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیاجائے گا۔ملک میں گزشتہ عام انتخابات2013ء میں ہوئے تھے اوراس سے پہلے2008ء کے انتخابات کے نتیجے میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت اقتدار میں آئی تھی جس میں سیّدیوسف رضاگیلانی ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے اورانہوں نے اس وقت کے سربراہ مملکت جنرل پرویزمشرف کے ہاتھوں وزارت عظمیٰ کاحلف اٹھایا تھااوران کی حلف اٹھانے والی کابینہ میں مو جودہ حکمران پارٹی کے بھی18وزراء شامل تھے ۔

کلبھوشن یادیو اور پاک بھارت تعلقات

ان دنوں ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے قائدعمران خان کی طرف سے مکمل طورپر یہ کہاجارہاہے کہ ملک میں حکمرانوں کے خلاف پانامہ لیگ کی کرپشن کے الزامات سمیت،سیاسی طورپربے ضابطگیوں کے الزامات اس قدربڑھ گئے ہیں کہ اندیشہ ہے کہ موجودہ حکومت اپناآئینی دورانیہ پورانہیں کرسکے گی اوراس تناظر میں وہ یہ بات زور دے کرکہہ رہے ہیں کہ ملک میں عام انتخابات کاانعقاد یقینی بنانے کے لیے قبل از وقت انتخابات کاطبل بجادیاجائے اورجمہوریت کی بقاء کے لیے ملک کوکسی بھی ایڈونچرازم سے بچانے کے لیے جتنی جلدی ممکن ہوملک میں عام انتخابات کروالیے جائیں ۔پارلیمنٹ میں نئی مردم شماری کے حوالے سے نئی حلقہ بندیوں کامسئلہ ایک تنازعے کی شکل اختیار کرچکاہے کیونکہ ایم کیوایم کویہ مردم شماری قبول نہیں ہے جس کے باعث کراچی کی 70لاکھ آباد ی کم دکھائی گئی ہے۔وقت کے ساتھ کراچی کی آبادی میں بھی اضافہ ہوناناگزیرتھالیکن نئی مردم شماری میں ،کراچی میں آبادی کی شرح کم رہی ہے اورایم کیوایم کے علاوہ کراچی کی دوسری مہاجرقومیت کی سیاسی جماعت پاکستان سرزمین پارٹی کوبھی کراچی کی آبادی کم ہونے پرشدید تحفظات ہیں۔ایم کیوایم اورپاکستان پیپلزپارٹی دونوں نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے حکمران پارٹی کاپیش کردہ بل منظور کروانے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں اور2017ء کی مردم شماری کے بعد آئندہ عام انتخابات کے بروقت انعقاد کے لیے نئی حلقہ بندیوں کابل پارلیمنٹ سے منظورکرواناناگزیربن چکاہے اورپاکستان پیپلزپارٹی کو لاہور کی آبادی بڑھا نے اورکراچی کی آبادی کم کرنے پرشدیدتحفظات ہیں۔لاہورمیں شرح پیدائش کراچی کی نسبت زیادہ دکھائی جانے کی وجہ سے مردم شماری پرحکمران سیاسی جماعت کے اثرانداز ہونے کے حوالے سے چہ می گوئیاں ہورہی ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ آئندہ انتخابات کے بروقت انعقاد اورجمہوریت کاپہیہّ رواں رکھنے کے لیے چیف الیکشن کمشنرکی یقین دہانی اورحکمران جماعت کے سربراہ کے عزم کویقینی بنانے کے لیے نئی مردم شماری کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کابل منظور ہونابھی ضروری ہے ۔پیپلزپارٹی کے مرکزی لیڈر اورپاکستان کے سابق صدرآصف علی زرداری نے ایک بیان میں کہاہے کہ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے ہمیشہ اورہرالیکشن میں ووٹوں کے اندراج میں کمی بیشی سے فائدہ اٹھایااورانتخابات میں دھاندلی کے ذریعے مینڈیٹ چوری کرتے رہتے ہیں لیکن اس مرتبہ عام انتخابات کے انعقاد سے پہلے الیکشن کمیشن کوایک ایک ووٹ کااندراج کرنا یقینی بناناہوگا۔

پاکستان پیپلزپارٹی دوسرے بڑے صوبے میں حکمران پارٹی ہے اورسندھ کی حزب اختلاف ایم کیوایم بھی،2017ء کی مردم شماری کوتسلیم نہیں کررہی ان حالات میں الیکشن کمیشن کوملک میں عام انتخابات کابروقت کروانایقینی بناناہوگا کیونکہ اگر،خیبرپختونخواہ کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک،اپنے لیڈرعمران خان کے کہنے پرخیبرپختونخواہ اسمبلی توڑدیتے اورپاکستان پیپلزپارٹی سندھ اسمبلی کوچلتاکردینے کے علاوہ قومی اسمبلی سے اپنے ارکان کومستعفیٰ کروالیتی ہے توپاکستان تحریک انصاف توپہلے ہی قبل از انتخابات کے لیے آمادہ ہے ۔اگراس طرح ملک میں قبل ازوقت انتخابات کاطبل بج گیاتوالیکشن کمیشن اورحکمران جماعت دونوں کے لیے مشکلات پیش آسکتی ہیں۔حکمران پارٹی کے رائے ونڈ میں ہونے والے ایک اجلاس میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے وفاقی وزیرخارجہ خواجہ محمدآصف کومبینّہ طورپرپاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ سیاسی مفاہمت کی ایک کوشش اورکرنے کوکہاہے اورغالباََسابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے ملک کے معروف مذہبی اسکالر مولاناطارق جمیل کوجاتی امراء بلاکرپاکستان پیپلزپارٹی اورپاکستان تحریک انصاف کے لیڈروں کوجمہوریت کی بقاء کے لیے مفاہمت کی سیاست کے لیے حکمرانوں کی طرف سے بعض پیش کش کی ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ عدالتوں میں ،سابق وزیراعظم کاگھیراتنگ ہونے یاکسی ایک آدھ کیس میں انہیں سزاہوجانے سے جوافراتفری پیداہوگی اس کے نتیجے میں ملک کے اندر غیرآئینی ایڈونچرازم کوراہ مل سکتی ہے۔سابق وزیراعظم کے خلاف کرپشن کے الزامات کے حوالے سے پانامہ لیکس اور حدیبیہ ملز جیسے سنگین مقدمات نے سابق وزیراعظم کوٹکراؤکی جس پالیسی پرلگادیاہے غالباََاس کی وجہ سے خودسابق وزیراعظم کویہ پریشانی لاحق ہے کہ ملک میں کرپشن کاگندصاف کرنے اورپٹڑی سے اتری ہوئی قومی معیشت کو پٹڑی پرچڑھانے کے لیے ملک میں کسی ٹیکنوکریٹ حکومت کاانعقاد نہ کردیاجائے کہ ایساہوا توجمہوریت نہ معلوم کتنے عرصے کے لیے پٹڑی سے اُترجائے ۔پاکستان پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف سمیت ملک کی بیشترسیاسی جماعتیں ،ملک میں آئندہ انتخابات سے قبل،’’کسی ایڈونچر ازم‘‘ کے امکان کویکسرختم کرنے کے باہمی مشاورت اورالیکشن کمیشن کے تعاون سے عام انتخابات2018ء کابروقت انعقاد یقینی بنانے کے لیے حکمران جماعت کوہرممکن تعاون دیں تاکہ ملک میں آئندہ انتخابات کابروقت انعقاد یقینی بناکر غیرجمہوری قوتوں کوکسی بھی ممکنہ ایڈونچر ازم سے بازرکھاجا سکے۔

یہ اسٹیبلشمنٹ کون ہے !

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ساتھ انتخابی اور سیاسی اتحاد قائم کرنے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد الزام عائد کیا ہے کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان روابط اسٹیبلشمنٹ نے کروائے تھے اور ان کا آغاز ڈاکٹر فاروق ستار کی خواہش پر ہؤا تھا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے لیڈروں سے ملاقات بھی اسٹیبلشمنٹ کے ہاں ہوئی تھی لیکن فاروق ستار پہلے سے وہاں موجود تھے ۔ اس بیان سے مصطفی کمال واضح طور سے دو مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ ایک تو وہ اتحاد کی کوشش ناکام ہونے کا الزام ایم کیو ایم پر عائد کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی پارٹی اس اتحاد سے مطمئن نہیں تھی کیوں کہ ایم کیو ایم بدستور الطاف حسین کے زیر اثر ہے جو کہ ا ن کے بقول بھارتی ایجنسی ‘را’ کے ایجنٹ ہیں۔ دوسرے مصطفی کمال کی خواہش ہے کہ وہ اس ناکام کوشش کے بعد ایم کیو ایم پاکستان اور ڈاکٹر فاروق ستار کو اس کے حامیوں کی نظر میں گرا سکیں اور یہ بتائیں کہ وہ جس رہنما اور پارٹی کو نجات دہندہ سمجھتے ہیں وہ تو خفیہ اداروں کے ساتھ ملی ہوئی ہے ۔مصطفی کمال، فاروق ستار اور ایم کیو ایم کو کراچی کے عوام کی نگاہوں میں گرانا چاہتے ہیں کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی موجودگی میں پاک سرزمین پارٹی کو کراچی کے عوام میں قبولیت نصیب نہیں ہو سکتی۔ اس لحاظ سے یہ ہتھکنڈہ بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت بدھ کے روز پاک سرزمین پارٹی اور ایم کیو ایم کا اتحاد کروانے کی کوشش کی گئی تھی۔
تاہم اس اتحاد میں پہلی دراڑ خود مصطفی کمال نے ہی ڈال دی تھی جب انہوں نے کہا تھا کہ نئی پارٹی کا نام ایم کیو ایم نہیں ہو سکتا اور یہ کہ وہ صرف کراچی کے مہاجروں کے نمائندے نہیں ہیں۔ کراچی کے مہاجر وں تک یہ بات یوں پہنچی کہ مصطفی کمال ان کے حقوق کی بات کرنے اور ان کے مسائل کو حل کروانے کے لئے تیار نہیں ہیں لیکن ان کے ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پاک سرزمین پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان مہاجر ووٹ بنک تک ہی رسائی چاہتی ہیں لیکن مصطفی کمال کو غلط فہمی ہے کہ وہ الطاف حسین کو غدار قرار دے کر اور ایم کیو ایم کو مطعون کرکے یہ مقصد حاصل کرسکتے ہیں جبکہ فاروق ستار کے لئے یہ سوال پیدا ہو گیا تھا کہ اگر وہ مصطفی کمال کے ایجنڈے پر صاد کہتے ہیں تو ان کا ووٹر ان سے بھی ناراض ہو کر کسی تیسری سیاسی قوت کی طرف رخ کرسکتا تھا, اس لئے انہوں نے پہلے تو سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا پھر یک بیک واپس آکر پاک سرزمین پارٹی سے اتحاد ختم کرکے اپنی سیاست اور پارٹی کو سنبھالنے کی کوشش کی ۔
کراچی میں ہونے والے اس سیاسی تماشہ کا ڈراپ سین تو بہت جلد ہو گیا اور اب مصطفی کمال نے اس بات کی تصدیق بھی کردی ہے کہ یہ سارا ڈرامہ کس قوت کے کہنے پر رچایا گیا تھا۔ اگرمصطفی کمال یہ اقرار نہ بھی کرتے تو بھی یہ واضح تھا کہ کراچی کے دو مخالف سیاسی دھڑے یک بیک کیوں کر ایک ہونے اور دوبارہ مل کر سیاسی سفر کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا ایک واضح اشارہ پاک فوج کے سابق سربراہ اور ملک کے سابق فوجی حکمران نے اس وقتی سیاسی اتحاد کا فوری خیر مقدم کرتے ہوئے بھی دیا تھا۔ اور اتحاد کے خاتمہ کی خبر آتے ہی یہ کہنا بھی ضروری سمجھا کہ وہ ایک قومی لیڈر ہیں اور صرف کراچی کی پارٹی کی قیادت کرنا ان کی شان کے خلاف ہے ۔ سمجھنے والے ان دونوں بیانات سے پوری کہانی سمجھ گئے تھے کہ کس طرح ایک سیاسی ڈھونگ رچانے کی ناکام کوشش کی گئی تھی تاہم مصطفی کمال کا بیان اگرچہ ڈاکٹر فاروق ستار اور ایم کیو ایم کو ناقابل اعتبار ثابت کرنے کی کوشش ہے تاکہ ان پر سیاسی دباؤ برقرار رکھا جا سکے اور ایک بار پھر گھیر کر اسی بندھن میں باندھنے کی کوشش کی جائے جس سے وہ رسی تڑا کر بھاگنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن اس افراتفری میں وہ یہ اقرار کرنے پر مجبور ہوگئے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر سیاست کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کون ہے ۔ اس حوالے سے مریم نواز نے بھی آج اپنے ٹویٹ پیغامات میں اس پراسرار قوت کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ‘ ہر کوئی نواز شریف نہیں کہ وطن کی محبت میں اداروں کی پردہ داری کرتا رہے ’۔ مریم نواز کے دعوے اور مصطفی کمال کے بیان کی روشنی میں انہیں سے یہ پوچھنا مناسب ہوگا کہ وہ بتا دیں کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کون ہے کہ جس کے کہنے پر فاروق ستار ہو یا مصطفی کمال سر کے بل حاضر ہونے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ کیا اس کا کوئی نام بھی ہے یا یہ بے چہرہ لوگوں کا کوئی افسانوی کردار ہے ۔ مصطفی کمال جن لوگوں کے کہنے پر فاروق ستار سے ملنے گئے تھے ، وہ کون تھے اور یہ ملاقات کہاں طے ہوئی تھی۔ اگر وہ اپنی حب الوطنی کے ثبوت کے طور پر یہ بتانے پر آمادہ ہو سکیں تو پھر فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور سے یہ پوچھا جا سکے گا کہ یہ کون لوگ ہیں جو ملک میں سیاسی پارٹیوں کو متحد کروانے یا لڑوانے کا کھیل، کھیل رہے ہیں ۔ فوج تو کہتی ہے کہ وہ آئین کی پابند ہے اور سیاست سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
2018ء کے انتخابات کابروقت انتخاب !
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں