الیکشن۔۔۔۔۔۔2018ء سیاسی منظرنامہ کیاکہتاہے؟

اس وقت ملک کے سیاسی ماحول میں زبردست ارتحال کی صورتحال ہے۔ایک طرف سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی وزارت عظمٰی سے علیحدگی کے بعدجاتی امراء کی سیاست میں خوفناک حدتک ردِ عمل سامنے آچکاہے اورمسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت سمیت اس کے وفاقی اورصوبائی وزیروں کی طرف سے اعلیٰ عدالتوں کے فاضل ججوں کے خلاف ہرقسم کی طنزوتشفیع سے لگتاہے کہ شایدحکمران پارٹی قومی عدلیہ پرچڑھائی کے لیے پرتول رہی ہے۔سپریم کورٹ سے سابق وزیراعظم کی معزولی کے فیصلے پرنظرثانی کی اپیل کاسپریم کورٹ سے جوفیصلہ آیاہے وہ انتہائی تلخ لب ولہجے میں بیان کیاگیاہے اورمعزولی وزیراعظم میاں نوازشریف کے موجودہ طرزسیاست کاکھلاجواب ہے ۔مسلم لیگ ن کی قیادت نے جس لب ولہجہ سے یہ سوال اٹھایاتھا کہ ’’مجھے کیوں نکالاگیا‘‘اس کاجواب دیگرسیاسی جماعتوں کی طرف سے اپنے اپنے انداز میں دیاجاتارہاہے لیکن اب نظرثانی کی اپیل کے فیصلے نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی جی ٹی روڈ سیاست کاجواب جن سخت الفاظ میں دیاہے،اس کے باعث حکمران پارٹی شدیدمشکلات کاشکار نظرآتی ہے۔سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے اگرچہ پانامہ کیس میں وزارت عظمیٰ کے عہدے سے معزولی کوقبول کرتے ہوئے خود کووزارت عظمیٰ سے ہٹالیاتھا اوروہ سمجھتے تھے کہ انہیں اس فیصلہ پرنظرثانی کی اپیل کرنی چاہیے توانہیں ’’مجھے کیوں نکالاگیا؟‘‘ جیساسخت لب ولہجہ اختیارنہیں کرناچاہیے تھا ۔اگرانہوں نے سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کے فیصلے کو پانچ لوگوں کافیصلہ قراردے کر ان فاضل ججوں کو عوامی مینڈیٹ کی توہین کرنے والوں کی فہرست میں کھڑا کرناتھاتوپھرخودعدالتوں میں اپیلیں کرنا بالکل بھی غیردانشمندانہ بات تھی اوراب وہ جس طرح نظرثانی اپیل کے فیصلے پرتنقید کا کلہاڑہ چلارہے ہیں اس پرخود وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کوانہیں کہناپڑاہے کہ وہ عدالت عظمیٰ کے حوالے سے اپنی تنقید کالب ولہجہ عدالت عظمیٰ کے ججوں کے احترام سے الگ نہ کریں ،اس وقت مسلم لیگی سینئر قیادت میں سے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف اورسابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خاں جس طرح نہایت شائستگی اورتحمل سے سیاست کررہے ہیں اگرعدالتوں کے اندرمقدمات کی پیشیوں اورزیرسماعت مقدمات میں میاں شہبازشریف اورچوہدری نثارعلی خاں جیسے لب ولہجہ سے مقدمات کاسامناکیا جاتا توہم سمجھتے ہیں کہ ان عدالتوں میں بیٹھے ہوئے ججوں کواپنے فیصلوں کے الفا ظ میں تلخی وترشی کے رنگ بھرنے کی بالکل بھی ضرور ت پیش نہ آتی،عدالت عظمیٰ نے نیب میں جے آئی ٹی کی رپورٹس کے مطابق چلنے والے ریفرنسوں کوسابق وزیراعظم کی نااہلی کاجواز نہیں بنایاتھا اوریہ معاملہ حتمی طورپر ٹرائل کورٹ یعنی نیب پر چھوڑدیاتھا لیکن نیب میں ہرپیشی کے وقت حکمران پارٹی ،سابق وزیراعظم کی سکیورٹی کے نام پر اورسابق وزیراعظم کے ساتھ اپنی اخوت وحمائت کاجس طرح اظہار کررہی ہے اس سے حکمران پارٹی کی بے پناہ عوامی مقبولیت بھی متاثرہورہی ہے ۔

2018ء کے انتخابات کابروقت انتخاب !

رہی حدیبیہ ریفرنس کی بات توحکمرانوں کوسپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے سربراہ کی تبدیلی کے لیے جانے کی ضرورت نہیں تھی۔بنچ کے دوسرے دونوں رکن،سپریم کورٹ کے وہ معز زرکن ہیں جوپانامہ کیس کی سماعت کرنے والے بنچ کاحصہ نہیں تھے اوراگر جسٹس آصف کھوسہ ان کے خیال میں سابق وزیراعظم میاں محمدنوازشریف کواپنے پہلے فیصلے میں ’’گاڈفادر‘‘قراردے چکے ہیں تواس مرتبہ حدیبیہ ریفرنس پراکثریتی فیصلہ ،بنچ کے سربراہ سے مختلف ہوسکتاہے۔یہ پہلوبھی ملحوظ خاطر رہناچاہیے کہ جسٹس آصف کھوسہ ملک کے آئندہ چیف جسٹس بھی ہوں گے اوراگران کی چیف جسٹس کے منصب پرتقرری کومتنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی توملک میں حکمرانوں کوبہت زیادہ ہی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ جسٹس آصف علی کھوسہ جس مقام مرتبہ کے جج ہیں ،انہیں خودحدیبیہ کیس کے لیے بنائے گئے بنچ سے علیحدہ ہوجاناچاہیے اوریہ سربراہی چیف جسٹس میاں ثاقب کوخودسنبھال لینی چاہیے۔حدیبیہ کانفرنس کوکھولنے کاریفرنس ایک مشکل مقدمہ ہے اوراس میں بنچ کاسربراہ چیف جسٹس یاسپریم کورٹ کے سینئر جج کوہی ہوناچاہیے تھا۔ایک سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی طرف سے اعلیٰ عدلیہ سمیت دیگراداروں کے ساتھ تصادم کی پالیسی اوردوسری طرف نیب عدالت میں زیرسماعت ریفرنس کے ملزم کووفاقی وزارتِ خزانہ سے ہٹائے بغیر ان عدالتوں کو ملزموں کے خلاف وارنٹ جاری کرنے پرمجبورکرنے سے بھی حکومتی سیاست کاغیرمفاہمانہ طرز سیاست انتہائی فکرانگیز ہے اورملک میں جمہوری عمل کوکمزوربنانے کے متراد ف ہے۔امرواقعی یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاست دانوں اورسیاسی جماعتوں میں سیاسی اخلاقیات کابہت زیادہ فقدان ہے۔حکمران جماعت مسلم لیگ ن سمیت ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعتوں میں بھی بے بنیادالزام تراشی اورایک دوسرے پرکیچڑاچھالنے کی روش ان سب جماعتوں کی قیاد ت اورکارکنوں میں دکھائی دے ر ہی ہے جس سے ایک طرف وقت سے پہلے انتخابات کروانے کامطالبہ پیش کیاجارہاہے اوردوسری طرف اس قسم کے اندیشے بھی ظاہر کیے جارہے ہیں کہ شاید2018ء میں آئندہ انتخابات کاطبل نہ بج سکے اوردرمیاں میں سپریم کورٹ یاکسی دوسرے بڑے ادارے کی مداخلت سے ایک یادوسال کے عرصے کے لیے ٹیکنوکریٹس کی حکومت آجائے۔کراچی کی سیاست میں سرگرم عمل، سیاسی پارٹیوں میں سے ایم کیوایم اورپاک سرزمین پارٹی میں اتحاد کی کوشش کے بعد جس قسم کی سیاسی محاذ آرائی پیداہوچکی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ ایم کیوایم میں الطاف حسین کو چاہنے اوراس کی پس پردہ قیادت میں رہ کرسیاست کرنے والوں کوالطاف بھائی لابی کے مقابلے میں فوقیت حاصل ہے ۔ڈاکٹرفارو ق ستار نے ایم کیوایم کونیانام دے کرایم کیوایم پرسے الطاف حسین بھائی کاتاثرمٹانے کی کوشش کی تھی توانہیں اپنے موقف پرقائم رہناچاہیے تھا تاکہ کراچی کی سیاست سے الطاف حسین کی خفیہ لابی کو سامنے لاکر کیفرکردارتک پہنچایاجاسکتا۔سیاسی جماعتوں میں حصول اقتدار کی کشمکش اگرچہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔عملی سیاست کابنیادی مقصد بھی اقتدار کے ذریعے ملک وقوم کی خدمت کرناہوتاہے۔اس بنیاد پرہمیشہ سے سیاسی جماعتیں قومی وعلاقائی سطح پر اپنے مخصوص ایجنڈے اورمنشورکے تحت عوام سے رابطے میں رہنے کے لیے مختلف سیاسی ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں اورمختلف سیاسی اتحادبناتی ہیں جیساکہ دوبئی میں بیٹھ کرآئندہ ملک میں برسراقتدار آنے کی آرزو رکھنے والے سابق صدر پرویز مشرف نے،ایم کیوایم اورپاک سرزمین میں اتحاد کے ذریعے اورازاں بعد انہیں آل پاکستان مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پراپنی قیادت میں اکٹھاکرنے کی کوشش کی ،اس سلسلہ میں مسلم لیگ فنگشنل کے سربراہ پیرپگاڑا نے بھی،ڈاکٹرفاروق ستاراورمصطفی کمال پرکام کیا لیکن ایم کیوایم پرڈاکٹرفاروق ستارکی کمزورگرفت ہونے کے باعث یہ سب کچھ رائیگاں ہوگیا۔جنرل پرویز مشرف نے پاکستان مسلم لیگ ق کوبھی اپنی پارٹی کے ساتھ اتحاد کی دعوت دے رکھی ہے ۔چوہدری شجاعت حسین بظاہر پاپولرسیاسی لیڈر نہیں ہیں لیکن میدان سیاست کے وہ انتہائی زیرک سیاست دان ہیں اورہمیشہ سیاست میں ایسے کارڈکھیلتے ہیں کہ کامیابی کے بہت قریب پہنچ جاتے ہیں ۔وہ سیاست میں جوڑتوڑ کے ماہرسمجھے جاتے ہیں اوراس وقت ان کی نظریں مسلم لیگ ن کے پارلیمنٹ اورصوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ان متوالوں پرلگی ہوئی ہیں جوسابق وزیراعظم میاں محمدنوازشریف کے نیب کے مقدمات میں ٹرائل اوراب حدیبیہ ریفرنس کے نتیجے میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کے خلاف نیب میں ریفرنس کھلنے پرلگی ہوئی ہیں اوروہ ماڈل ٹاؤن سانحہ پرجسٹس باقرنقوی کی رپورٹ پرلاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کوبھی دیکھ رہے ہیں اورسابق وزیراعظم کے بعدوزیراعلیٰ پنجاب بھی کسی قانونی گرفت میں آگئے توموجودہ حکمران پارٹی کاشیرازہ بکھرسکتاہے اوراس صورت میں سب سے زیادہ فائدہ مسلم لیگ ق کوہوگا اورمسلم لیگ ق کی لیڈرشپ پارٹی کے چیئرمین یاصدر کے طورپر جنرل پرویز مشرف کوامپورٹ کرنے کی طرف آجائے تویہ پارٹی آئندہ انتخابات میں پہلی یادوسری بڑی سیاسی جماعت بن کرابھر سکتی ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی ،صوبہ سندھ سے باہرآئندہ انتخابات میں کوئی زیادہ کامیابی حاصل نہیں کرسکے گی اورآئندہ انتخابات میں پنجاب میں ہونیوالے انتخابی معرکے بہرحال پی ٹی آئی اورپاکستان مسلم لیگ کے مابین ہوں گے۔اگرسابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے مسلم لیگ ق کواپنی پارٹی میں یامسلم لیگ ن کو مسلم لیگ ق میں ضم کرنے کی کوئی سیاسی چال چل لی تویہ ایک بہت زبردست اقدام ہوگا اورایسامریم نواز کومتحدہ مسلم لیگ کی چیئرپرسن اورچوہدری پرویزالہٰی کومتحدہ مسلم لیگ پنجاب کاصدربنانے کی صور ت میں ہوگاکیونکہ نیب کے مقدمے میں مریم نواز کی بریتّ کے امکانات بہت زیادہ روشن ہیں جبکہ میاں نوازشریف اورمیاں شہبازشریف پانامہ ریفرنسز ،حدیبیہ ریفرنس اورسانحہ ماڈل ٹاؤن کے تحت متوقع نئے مقدمات میں سے کسی نہ کسی کی زد میں آسکتے ہیں۔ملک کابڑاسیاسی اتحاد ،ماضی میں سیاست میں انتہائی فعال کرداراداکرنے والی متحدہ مجلس عمل کی بحالی کی صورت میں ،دینی حلقوں کی ایک الگ سیاسی قوت کی صورت میں سامنے آچکاہے اورمجلس عمل کی اس بحالی کے نتیجے میں ایک طرف جمعیت علمائے اسلام(ف) وفاقی حکومت سے الگ ہوجائے گی اوردوسر ی طرف جماعت اسلامی،صوبہ خیبرپختونخواہ ،کی حکومت سے الگ ہوکروہاں پی ٹی آئی کی حکومت کوختم کرنے کاباعث بن سکتی ہے۔متحدہ مجلس عمل میں شامل سیاسی قوتوں کی خیبرپختونخواہ اسمبلی میں اچھی خاصی نشستیں ہیں اوراب کوئی ایسی صورتحال پیداہوئی توپاکستان مسلم لیگ ن بھی متحدہ مجلس عمل کاساتھ دے گی اوراس طرح خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم بھی ہوسکتی ہے لیکن ایسااس لیے نہیں ہوگاکہ اس قسم کی صورتحال پیداہوئی تووزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ ،صوبائی اسمبلی کوقبل ازوقت گھربھجوا دینے کااپناآئینی اختیار استعمال کرسکتے ہیں اورایسااگرایک صوبے میں ہوگیاتوملک کے اقتدارکانقشہ کسی بھی سمت میں تبدیل ہوسکتاہے۔متحدہ مجلس عمل کی بحالی بجائے خودایک بڑاکام ہے لیکن2002ء کے عام انتخابات سے لے کر2018ء کے متوقع انتخابات میں وقت بہت زیادہ بتدیل ہوچکاہے۔متحدہ مجلس عمل کے زیادہ ترروٹس صوبہ خیبرپختونخواہ میں ہی ہیں اوراب اس صوبے میں مولانافضل الرحمن کی سیاست سے کہیں زیادہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی مقبولیت کاسکہ چلنے لگاہے اورپی ٹی آئی گزشتہ چاربرسوں میں ہونے والے متعدد انتخابات میںیہ ثابت کرچکی ہے کہ وہ ہرقسم کے مخالف سیاسی اتحادوں پربھاری ہے۔جماعت اسلامی کوبھی اب قاضی حسین احمد جیسی کوئی قدآورقیادت حاصل نہیں ہے او رسب جانتے ہیں کہ اگرپی ٹی آئی نے جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق کوسینٹ کارکن منتخب کروانے میں اپناکوئی کردار ادانہ کیاہوتا تووہ اس وقت سینیٹرسراج الحق کے بجائے خیبرپختونخواہ اسمبلی کے رکن ہی ہوتے۔2018ء آئندہ انتخابات کاسال ہے اوراسپیکرقومی اسمبلی ایازصادق کی طرف سے سب سیاسی جماعتوں کوملک میں ہونیو الی 2017ء کی مردم شماری کے مطابق قومی اورصوبائی اسمبلی کی نئی حلقہ بندی پرآمادہ کرنے کی جوکوششیں ہورہی ہیں،وسیع تر جمہوری مفاد میں اپوزیشن جماعتیں ،اس سلسلہ میں حکومتی بل کومنظورکروانے پرآمادہ ہوسکتی ہیں اورآئندہ انتخابات 2018ء میںیقینی طورپر منعقد کروانے کے لیے اس بل کی منظوری بہت زیادہ ضروری ہے ۔ملک کاسیاسی منظرنامہ اس وقت بظاہر بہت زیادہ اچھانہیں ہے اوریہ اندازہ لگانا چنداں ممکن نہیں ہے کہ کیاہونے جارہاہے لیکن2018ء کاسورج طلوع ہونے سے پہلے اس سلسلہ میں بہت کچھ واضح ہوجائے گا۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
الیکشن۔۔۔۔۔۔2018ء سیاسی منظرنامہ کیاکہتاہے؟
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں